سرکاری تابعداری یا غداری

حسرت موہانی صاحب نے کم از کم چھ سات دہائیاں قبل کہا تھا

خِرد کا نام جنُوں رکھ دیا ۔ جنُوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ليکن اُن کی وفات [1951ء] کے دو دہائیاں بعد “وفا” کے معنی “خودغرضی” اور سرکاری احکام کی پاسداری کو افسر کی تابعداری سمجھ کر ميرے ہموطنوں نے تنزل کی طرف جو دوڑ لگائی وہ تھمنے میں نہیں آ رہی ۔ دورِ حاضر میں قوم و مُلک کے مفاد کی جگہ ذاتی مفاد اور خود غرضی نے لے لی ہے ۔ وقت سے 8 سال قبل ریٹائرمنٹ مانگنے پر جو لوگ مجھے کہتے تھے کہ میں نے عقلمندی نہیں کی وہی کچھ سال بعد مجھے دُور اندیش بتانے اور کہنے لگے کہ “آپ بہت اچھے وقت چلے گئے تھے ۔ اب تو حال بہت خراب ہو گیا ہے”۔ میری ملازمت کے دوران جو حال تھا اُس کے فقط دو نمونے ملاحظہ ہوں

میں ستمبر 1988ء سے بطور سربراہ ایم آئی ایس [Management Information Systems] کام کر رہا تھا ۔ فروری 1991ء میں کچھ مال آرڈر کرنے کا ایک کیس ادارے کے چیئرمین صاحب کی طرف سے میرے پاس سفارش کیلئے آیا ۔ مطالع اور ماتحت عہدیداروں سے مشورہ کے بعد سودا ناقص ، مہنگا اور محکمہ کی ضروریات پوری نہ کرنے والا ہونے کی وجہ سے میں نے سفارش نہ کی اور کیس واپس چیئرمین صاحب کو بھيج دیا ۔ مارچ 1991ء میں والد صاحب کے شدید علیل ہونے کی وجہ سے میں نے اچانک چھٹی لے لی ۔ دو تین ہفتے بعد کسی کام سے دفتر گیا تو جس جنرل منیجر کو میں قائم مقام سربراہ بنا آیا تھا اُس نے بتايا کہ متذکرہ بالا کیس والا مال آرڈر ہو گيا ہے”۔ میں نے اُسے کہا “بغیر آپ کی سفارش کے ؟” تو کہنے لگے “کیس دوبارہ آیا تھا تو میں نے سفارش کر دی”۔ میں نے کہا “جو کچھ میں نے فائل پر لکھا تھا وہ آپ کا نظریہ بھی تھا پھر ناقص مال کی آپ نے سفارش کیوں کر دی ؟” وہ صاحب بولے “چیئرمین صاحب نے مجھے بُلا کر کہا کہ یہ کر دو تو میں نے کر دیا”۔ اس پر مجھے غُصہ آگیا اور میں نے کہا ” آپ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں ۔ کیا آپ کو نماز یہی سکھاتی ہے کہ آپ وطن یا ادارے کے لئے مُضر چیز کی سفارش کر دیں اور وہ بھی مہنگے داموں پر ؟” وہ صاحب بولے “بڑے افسر سے متفق نہ ہونا بہت مشکل کام ہے ۔ آپ کر لیتے ہیں ۔ آپ کی اور بات ہے”

میں نے پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں یکم مئی 1963ء کو ملازمت شروع کی ۔ اگست 1966ء میں ایک پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور بالیدگی [planning & development] سے فارغ ہوتے ہی وسط 1966ء میں مجھے ایک اور پروجیکٹ دے دیا گیا ۔ میں دوسرے پروجیکٹ کی ابتدائی منصوبہ بندی کر چکا تھا کہ 10 اکتوبر 1966ء کو اچانک دوسری فیکٹری کے ایک بہت سینئر عہدیرار کو جو اعلٰی عہدیداروں کا منظورِ نظر تھا میرا باس [boss] بنا دیا گیا جبکہ اُسے متعلقہ کام کا کوئی تجربہ نہ تھا ۔ ہفتہ عشرہ بعد میں اپنے دفتر میں پراجیکٹ کی مفصل منصوبہ بندی میں منہمک تھا کہ وہ صاحب میرے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئے اور انگریزی میں گویا ہوئے “مسٹر بھوپال ۔ ملازمت میں وفاداری اہم حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کو باس کا وفا دار ہونا چاہیئے [Mr Bhopal! Loyalty to service is important. You should be loyal to your boss]”

میں نے آہستگی سے سر اُٹھا کر باس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “جی [Pardon!] ؟” باس بولے “میں کہتا ہوں تمہیں اپنے باس کا وفا دار ہونا چاہیئے [I say, you should be loyal to your boss]”۔ میری کیفیت ایسی تھی کہ بات مغز میں نہیں گھُسی ۔ میں نے لمحہ بھر اپنے ذہن کو مجتمع کیا ۔ پھر میرے پیارے اللہ نے میرے منہ سے بڑے پُر وقار طریقہ سے یہ الفاظ نکلوائے

“میں سب سے پہلے اپنے دین اسلام کا وفادار ہوں ۔ پھر اپنے وطن پاکستان کا وفادار ہوں ۔ پھر میں اس ادارے پاکستان آرڈننس فیکٹریز کا وفادار ہوں کہ میری روزی کا بندوبست اس میں ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ بھی اسی میں شامل ہیں ۔ اگر نہیں تو میں معذرت خواہ ہوں[I am loyal first to my religion “Islam”, then to my country “Pakistan”, and then to this organization “Pakistan Ordnance Factories” that is the source of my livelihood, and I think that you are fully covered, if not, then I am sorry] ”
میرے باس میز پر مُکا مار کر بلند آواز میں بولے “نہیں ۔ سب سے پہلے تمہیں اپنے باس کا وفادار ہونا چاہیئے [No, you should first be loyal to your boss]”

میں نے ایک نظر اپنے باس کی طرف دیکھا اور اُردو میں مؤدبانہ کہا “کیا میں نے کوئی گُستاخی کی ہے یا ایسی کوئی بات آپ کے عِلم میں آئی ہے جس کے باعث آپ یہ کہہ رہے ہیں؟”
میرے باس اُٹھ کر چلے گئے اور میں اپنے کام میں مشغول ہو گیا

میرے کچھ ساتھیوں نے اسے میری بیوقوفی قرار دیا تھا لیکن جو کچھ میں نے اپنے باس سے کہا تھا اور جو میرا ہمیشہ اصول رہا وہ حکومت پاکستان کی ملازمت کے اُن دِنوں رائج قوانین کے عین مطابق تھا ۔ ان کے متعلق میں 14 مارچ 2009ء کو تحریر کر چکا ہوں ۔ یہ قوانین قائد اعظم کی 25 مارچ 1948ء کی سرکاری ملازمین کو ہدائت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے تھے

اُس دن کے بعد میرے باس کے ریٹائر ہونے [1981ء] تک میرے باس نے مجھے ہر طرح سے زِک پہنچانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی ۔ میرے باس کی مہربانیوں سے میری ترقی اسسٹنٹ ورکس منیجر سے ورکس منیجر ایک سال تا خیر کے ساتھ یکم جولائی 1969ء سے ہوئی جبکہ میں پونے تين سال سے قائم مقام ورکس منیجر کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ شاید اور تاخیر ہوتی لیکن اتفاق سے میرے باس کا باس وہ شخص بن گیا تھا کہ ماضی میں جس کے ماتحت میں چھ ماہ کام کر چکا تھا ۔ اتفاق سے میری تعناتی لیبیا میں بطور “خبیر [Advisor]” ہو گئی جہاں میں مئی 1976ء سے مارچ 1983ء تک رہا ۔ میرے جانے کے بعد کچھ اعلٰی عہدیدار ملک سے باہر چلے جانے کی وجہ سے میرا متذکرہ باس ٹیکنیکل چیف بن گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میرے لبیا ہونے کے دوران اِن صاحب کے 1981ء میں ریٹائر ہونے تک مجھ سے جونیئر 14 افسروں کو جنرل منیجر بنا دیا گیا اور پروموشن بورڈ میں میرے متعلق لکھا جاتا رہا کہ جب واپس آئے گا تو دیکھا جائے گا جو کہ قوانین کی صریح خلاف ورزی تھی اور کمال یہ کہ ہمارے ساتھ ایک اسسٹنٹ منیجر گیا تھا جو وہیں ہوتے ہوئے پہلے منیجر اور پھر جنرل منیجر بن گیا

میرے اُن باس کی ریٹائرمنٹ کے بعد اتفاق سے اُن کے بہترین دوست ٹیکنيکل چيف اور میرے باس بنے ۔ يہ دوسرے باس جب کسی کو ملتے تو لمبا چار لفظی سلام کرتے کہ جيسے اُن جيسا مُسلمان کوئی نہ ہو ۔ اوائل 1984ء میں جب میں پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹوٹ تھا نئے تعلیمی نصاب مرتب کر کے منظوری کیلئے دوسرے باس صاحب کے پاس لے گیا ۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ کھیلوں کے 40 اور سوشل ورک کے 20 نمبر بھی شامل کروں ۔ اس طرح 1160 نمبر بنتے تھے ۔ میں نے 1200 پورے کرنے کیلئے 40 نمبر ایسے طالب علم کیلئے رکھ دیئے جو حافظِ قرآن اور قومی سطح کا قاری ہو ۔ دوسرے باس صاحب دیکھتے ہی بولے “ابھی سے ان کو مکّاری سِکھا دو”

قصہ کوتاہ ۔ متذکرہ حضرات کی پوری کوششوں کے باوجود گو تاخیر سے لیکن میری ترقی ہوتی رہی ۔ 1976ء کی بجائے 1981ء میں مجھے جنرل منیجر (گریڈ 19) بنایا گیا ۔ 1983ء کی بجائے 1987ء میں مجھے گریڈ 20 ملا اور 1988ء میں ایم آئی ایس کا سربراہ بنا دیا گیا ۔ ترقی میں تاخیر کے نتیجہ میں مالی پریشانی ہوتی رہی لیکن اللہ کی کرم نوازی رہی کہ روکھی سوکھی کھا کر چلتے رہے ۔ الحمدللہ ۔ اللہ نے ہمیشہ میرے دل کو مطمئن رکھا اور باوقار اور باعزت زندگی عطا کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرا ضمیر مجروح نہ ہوا ۔ میں 4 اگست 1992ء سے يعنی مقررہ وقت سے 7 سال قبل اپنی مرضی سے ريٹائر ہوا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی کرم نوازی ہے کہ جب بھی میں پاکستان آرڈننس فيکٹریز جاتا ہوں تو لوگ مجھے بہت تپاک اور احترام سے ملتے ہیں

حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ھوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ

This entry was posted in آپ بيتی, ذمہ دارياں, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “سرکاری تابعداری یا غداری

  1. میرا پاکستان

    1988 کی بات ہے ہمارا باس ورکس مینجر ناصر شاہ تھا جو فورمین رشید کا دوست تھا۔ سروسز ڈیپارٹمنت کا ڈائریکٹر ان کا دوست اور باس تھا۔ تینوں مہا کے چور اچکے تھے۔ ان تینوں نے ہمیں چار سال بیکار بٹھائے رکھا حتی کہ ہم پی او ایف چھوڑ‌کر باہر چلے گئے۔ ان لوگوں‌نے ایماندار ورکس مینجر انور صاحب کو بھی خوب تنگ کیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان کی بدمعاشیاں رنگ لائیں اور بعد میں‌ دونوں کو ذلیل کر کے زبردستی ریٹائر کر دیا گیا۔
    آپ کے اکھڑ پن اور صاف گوئی کے چرچے ہم بھی سنا کرتے تھے۔ یہ واقعی سچ ہے آپ جیسے لوگوں ‌کی اکثریت اب اقلیت میں‌بدل چکی ہے۔

  2. محمد وارث

    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیں اجمل صاحب، آپ ایسے افراد ہی سے ہمارے کاروان کی تاریک راتوں میں روشنی ہے۔

    ایک استدعا یہ کہ حسرت کا شعر شاید کچھ یوں‌ ہے (پہلا مصرع)
    خرد کا نام جنوں‌ رکھ دیا، جنوں‌ کا خرد

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    افضل صاحب
    میرے عِلم یہ تو تھا کہ آپ ٹیکسلا کمپس میں پڑھتے تھے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ آپ پی او ایف میں بھی تھے ۔ آپ شاید عبدالمعید ۔ ناصر حسن شاہ اور کالے رشید کی بات کر رہے ہیں ۔
    انہین لیفٹینٹ جنرل صبیح قمرالزماں نے راستہ دکھایا تھا ۔ صبیح کو سٹیل مِل نہ بھیجا جاتا تو پی او ایف میں کافی صفائی ہو جاتی ۔ ایسے لوگوں کو شروع مین میرے باسِ اول اور اس کے گروہ نے پالا اور بعد میں طلعت مسعود کی پشت پناہی حاصل ہوئی ۔ ناصر بطور اسسٹنٹ منیجر میرے ماتحت ویپنز فیکٹری میں تھا مگر کام کرتا رہا ۔ ویسے پی آر رکھنے والا آدمی تھا ۔ بعد میں عبدالمعید کی ماتحتی میں جا کر لفنگا بن گیا ۔
    ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو بچانے والے بہت ہیں ان لوگوں کو گروپ کیپٹن شاہد حامد جو اپنی پی آر کی بدولت ایئر مارشل ہو کر ريٹائر ہوا اور پھر آلٹرنیٹِو انرجی سورسز کا چیئرمین بنا دیا گیا نے ايئر ویپنز کمپلیکس میں رکھ لیا تھا
    انور حسین کام کا ماہر ۔ دیانتدار اور محنتی آدمی تھا ۔ اُسے بھی بہت خوار کیا گیا تھا

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    وارث صاحب
    میرے لئے دعا کرنے کا شکریہ ۔و جزاک اللہ خیرٌ
    اور غلطی یاد دلانے کا بھی شکریہ ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔کہ کچھ دنوں سے ذہن میں کچھ ہوتا ہے اور اُنگلیاں کچھ ٹائپ کر دیتی ہیں ۔ میں تو ویسے ہی پڑھتا ہوں جیسے آپ نے لکھا ہے ۔ مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ میں نے غلط لکھا دیا ۔ میں لکھ کر اور شائع کر کے سودا لینے ہفتہ وار بازار چلا گیا تھا ۔ کچھ دیر قبل واپس آیا ہوں

  5. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محترم اجمل صاحب!

    ہمارے ایک جاننے والے ہیں۔ انکے ایک دوست یوروپ میں غلط دہندوں کی وجہ سے ، ایک یوروپی ملک میں گرفتار بلا ہوئے اور کافی سال سزا پائی۔شنیدن ہے ، اُن صاحب نے پاکستان اور ادہر ادھر کے ممالک میں کافی جائداد بنائی۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں پوش علاقوں میں کھوٹیاں خریدیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

    جب پکڑے گئے گئے اور سزایافتہ ہوئے تو لمبی سزا کے دوران جیل میں وقت کاٹنے کو مطالعہ کا شوق ہوا۔ یوروپی جیلوں میں سابقہ قیدی بہت سی کتابیب اور بعض اوقات نادر کتابیں چھوڑ آتے ہیں۔ اُن صاحب نے صوم و صلواۃ کے ساتھ ساتھ دینی کتب کا گہہرا مطالعہ کیا۔ ایک دن اپنے دوست کو لکھا ،

    ” لمبے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں۔ یہ جتنی جائداد اور کروڑوں ، اربوں روپیہ جو میں نے کالے دہندوں سے کمایا ہے۔ اگر میں صحیح رستہ اپناتا تو بھی اللہ تعالٰی مجھے برکت دیتے اور میں درست اور جائز بزنس سے بھی اسقدر کما لیتا۔ یہ روپیہ پیسہ اور جائداد وغیرہ میرے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔مگر میرا طریقہ کار غلط تھا ۔اگر درست طریقہ اپناتا تو دولت کے ساتھ عزت بھی میرے پاس ہوتی۔”

    الغرض خدا نے جو جس کے نصیب میں لکھ دیا ہے ، وہ اسے مل کر رہتا ، مگر محنت شرط ہے۔ آج بھی پاکستان میں بہت سوں ہیں جو رات کو کلاشنکوف سے کسی چوک کا پہرا دیتے ہیں ۔ راہگیروں کو لوٹتے ہیں ۔ مگر ان کے گھر کی بتی روشن نہیں ہوتی۔ اور ایک وہ ہیں، جو رہزنوں کی کمائی سے کئی گنا بڑھ کر اپنی حلال کی کمائی ، غریبوں اور مستحق لوگوں پہ لٹا دیتے ہیں اور اللہ تعالٰی انھیں مزید برکت دیتے ہیں۔ اور وہ مطمئین ہیں۔

    برسبیل تذکرہ۔ایسے لوگوں کو جو قومی اداروں سے لمبی چوڑی مراعات اور تنخواہیں پاتے ہیں۔ مگر اپنے منصب سے پورا پورا انصاف کرنے کی بجائے ،صرف ذاتی اغراض و مقاصد کے لئیے، الٹا اسے نقصان پہنچاتے ہیں، ایسے لوگ (قوم کی بے خبری میں) پوری قوم کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں ایسے لوگوں اور عہدیداروں کے لئیے پاکستان میں ایسی قانون سازی کی اشد ضرورت ہے ۔ جس قوانین کے تحت ایسے عہدیداروں پہ پاکستان سے غداری کے مقدمات چلائے جاسکیں۔ اور ایسے لوگوں کی تحقیات پولیس سے نہیں ججوں یا ریتائرڈ ججوں سے کروائیں جائیں۔

  6. مسٹر کنفیوز

    جناب افتخار صاحب میں آپ کو اور آپکی سچائی وفاداری ایمانداری صبر حسن سلوک کو سلام پیش کرتا ہوں اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو آخری دم تک اس پر قائم رکھے۔ بے شک رزق حلال عین عبادت ہے ۔

  7. سعود

    میں بھی کنفیوز بھائی کا ہم آواز ہوں۔
    میرے ایک خالو کا قصہ بھی انکل اجمل آپ جیسا ہی ہے۔ انہیں بھی رشوت لے کر گھٹیامال استعمال نہ کرنے پر ترقی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ قریب 10سال پہلے۔ تاہم 4 یا 5 سال کی اپیلوں اور تفتیش کے بعد انہیں ان کا حق، بفضلِ خدا، مل ہی گیا۔

  8. باذوق

    “میں سب سے پہلے اپنے دین اسلام کا وفادار ہوں ۔ پھر اپنے وطن پاکستان کا وفادار ہوں ۔ پھر میں اس ادارے پاکستان آرڈننس فیکٹریز کا وفادار ہوں کہ میری روزی کا بندوبست اس میں ہے ۔”

    آپ کا درج بالا مکالمہ دورِ حاضر کی تاریخ میں یقیناَ سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
    جزاک اللہ خیر ۔

  9. چوھدری حشمت

    محترم اجمل صاحب۔
    جزاک اللہ خیر، اصل بات تو ایمان کامل کی ہے جوکہ مومن کی میراث ہے، جس نے اس کوپالیا اس نے دنیاوآخرت کو پالیا۔ ایک دفع بزرگوں کی صحبت میسرآئی اورکلام کی نرمی دل میں اترتی گئی ، کہنے لگے ” ہم یونہی اپنے رزق کے لیے پرشان ہوتے رہتے ہیں، اس بات کے لیے جس کا واعدہ اللہ نے کیا ہےجس بات کے لیے پرشان ہونا چائیے وہاں خاموشی ، اصل بات تو ایمان کامل کی ہے۔”

    اللہ آپ کے اور ہم سب کے ایمان میں مذید اضافہ فرمائے اورہم سب کواس دنیا سے بحثیت مومن اٹھائے۔

    آپ نے جوکچھ کہا وہ بقول باذوق کے ” دورِ حاضر کی تاریخ میں یقیناَ سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہے” مگر میرے خیال میں ہمیں اس سے ایک قدم اور اگےبڑھنا ہوگا، اور وہ ہے نیکی کی طرف بلانا اور برائی سے منع کرنا۔

    آپ کی طرح جیساکہ اوپر مثالیں بھی دی گئیں بہت سے لوگ اپنے ایمان کو بچانے میں کامیاب رہے ہیں مگربحثیت قوم ہمارا گراف نیچے کی طرف ہے۔

    شاید ہمارا یہ قلمی جہاد اور عملی مثالیں اس قوم میں ایمان کی صحیح روح پھوکنے میں کچھ حصہ ڈال سکیں۔ اللہ ہم سب کو ایمان کی اصل دولت سے مالامال کرے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)