What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May, 2009

مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 27 May 2009

یہ کوئی شاعرانہ فقرہ نہیں ہے جیسا کہ عام تاثر لیا جاتا ہے بلکہ یہ فلسفیانہ مقولہ ہے ۔ اگر کسی عارضہ کی درست تشخیص کئے بغیر عام طور طریقہ سے اُس کا علاج شروع کر دیا جائے تو عارضہ بڑھتا جاتا ہے ۔ میں نے “عارضہ” کا لفظ استعمال کیا ہے کہ اس کا مطلب جسمانی یا ذہنی یا نفسیاتی بیماری بھی ہو سکتا ہے اور دکھ یا تکلیف یا پریشانی بھی

ہمارے مُلک کے سابقہ حُکمرانوں نے اپنے آقاؤں کے حُکم کی اندھا دھند بجا آوری کی جس کے نتیجہ میں مُلک کو طالبان کا عارضہ ہو گیا ۔ وہ تو اپنی نوکری پوری کر کے رُخصت ہوئے اور مُلک میں جمہوریت نام کی چیز نافذ ہوئی جس میں سارے اختیارات فرد واحد کے پاس مجتمع ہیں ۔ مغرب سے پھر پُکار اُٹھی اور جن کا قبلہ کعبہ نہیں مغرب ہے نے ہاہاکار مچا دی کہ ” مُلک کو طالبان ہو گیا ہے ۔ اگر جلد آپریشن کر کے اسے نیست و نابود نہ کیا گیا تو یہ پھیل کر پورے مُلک کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور خدا نخواستہ ملک ختم ہو جائے گا”

طب کا طور طریقہ [Medical procedure] ہے کہ کوئی مریض خطرناک مرض میں مبتلا ہو تو اطِباء کا اجلاس [Medical board] بُلایا جاتا ہے ۔ معمل [laboratory] سے رجوع کر کے مرض کے عوامل معلوم کرنے [diagnosis] کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہسپتال کا سربراہ فوری طور پر جراحی [surgery] کا حُکم صادر کر دے کیونکہ جراحی خواہ کتنی بھی سادہ ہو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

ہمارے مُلک کا مسیحا جس کے ہاتھ میں مُلک کے تمام اختیارات ہیں نے پہلے آپریشن کا حُکم صادر کر دیا اور جب آپریشن شروع ہو گیا تو اطباء کا اجلاس بُلا کر اپنی مرضی کی سفارش [report] حاصل کر لی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی حکومتی جراح آپریشن میں پھنسے ہوئے تھے کہ سرطان کی طرح بڑھتے ہوئے 26 لاکھ متاءثرین مُلک کے میں پھیلنے شروع ہو گئے جسے سنبھالنا مسیحانِ مُلک کی پہنچ سے بہت باہر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ایک ہفتہ کی تگ و دو اور پوری دنیا کے حکومتی مسیحاؤں کی امداد کے باوجود حکومتی مسیحا 27 لاکھ متاءچرین میں سے 2 لاکھ کی بھی دیکھ بھال نہیں کر پا رہے

چند سو یا چند ہزار نفوس پر مشتمل طالبان تو ابھی مہینوں تک قابو میں آتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ اگر متاءثرین کے ساتھ حکومتی برتاؤ اسی طرح جار ی و ساری رہا تو کوئی عجب نہیں کہ 27 لاکھ متاءثرین جو گذرتے وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں طالبان کا روپ دھار لیں پھر اس عارضہ کا علاج سوائے مکمل تباہی کے کچھ نہ ہو گا

کیا حُکمران صرف بیانات دینے کیلئے ہوتے ہیں ؟ عوام کی گاڑھے پسینے کی کمائی پر پلنے والے ان حکمرانوں پر عوام کے کوئی حقوق نہیں ؟

زمرہ : روز و شب | 4 تبصرے »

خودمختاری فروخت ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 May 2009

صوبہ سرحد کی حکومت نے جو کرتب دکھایا ہے وہ دوسرے لفظوں میں مُلک کی خودمختاری بیچنا کہا جا سکتا ہے ۔ ہمارے ان ناعاقبت اندیش سیاستدانوں کا خاصہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ذاتی فائدوں کی خاطر قوم کو داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ شائد اسی لئے ایک امریکی صحافی نے پرویز مشرف کے دور میں کہا تھا کہ پاکستانی اپنی ماں کو بھی بیچ ڈالتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو صحافت کا 22 سالہ تجربہ رکھنے والی انجم نیاز کے مضمون سے اقتباس

The government of NWFP in other words has signed away its sovereign rights to the UN agencies, allowing them unhindered access to the militants. The lines below were slyly slipped in the press release thereby authorising the UN to infiltrate and penetrate into the sensitive security issues which currently are no-go areas for even the media. A handful of civilians from NWFP went to Geneva, courtesy the HD with the help of Ambassador Zamir Akram and some would see this as a slight on Pakistan’s sovereignty.

“The HD Centre was able to provide a unique environment for participants to discuss the safe delivery of humanitarian assistance and the security of humanitarian personnel. Participants were able to reach a consensus that effective humanitarian delivery depends on a transparent and structured dialogue with militant actors by humanitarian agencies with the full knowledge, support and agreement of the government.”

پورا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »

آستین کے سانپ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 May 2009

افغانستان کے راستے سے پاکستان میں آکر نفاذ شریعت کے نام پر قتل عام کرنے والوں کو بھارتی اسلحہ اور روپیہ دیا جارہا ہے اور اس کھیل میں کراچی کے کچھ بڑے سیٹھ بھی ملوث ہیں ۔ ہمارے حکمران مولانا فضل اللہ کو تو کوستے ہیں لیکن بھارت کے بارے میں خاموش ہیں ۔ کچھ دانشور بھی اُچھل اُچھل کر کہتے ہیں کہ طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان میں آگ لگانے والے طالبان کو بارود اور روپیہ کون دے رہا ہے ؟ تو یہ دانشور کھسیانی بلی بن جاتے ہیں

راولپنڈی سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی تین بیٹیاں ہیں ۔ ایک دن اسلحہ بردار اس کے گھر پہنچے اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تینوں بیٹیوں کا نکاح ان نام نہاد مجاہدین کے ساتھ کردے ۔ اس شخص نے حکمت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اسے شادی کی تیاری کیلئے ایک دن دیا جائے ۔ اسلحہ بردار دوبارہ شادی کیلئے آئے تو ان کی تاک میں بیٹھے ہوئے مقامی لوگوں نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا ۔ مولانا فضل اللہ ان غنڈوں کے سامنے بے بس تھے یا پھر ان کی ملی بھگت سے یہ سب ہو رہا تھا ؟

پاکستان کے آئین سے انکار کرنے والے طالبان ہمارے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں لیکن ہمیں ایسے دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں ۔ کیا امریکی ڈرون حملے ریاست کے آئین اور ریاستی عملداری کیلئے خطرہ نہیں ؟ ان دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے ماضی کو کریدیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے تانے بانے بھی دہلی کے ساتھ ملتے ہیں

یہ شواہد بھی سامنے آنے لگے کہ یہ غیر مقامی اسلحہ بردار باجوڑ کے ہمسائے میں واقع افغان صوبے کنڑ سے رقم اور افرادی قوت حاصل کرتے ہیں اور مولانا فضل اللہ نے انہی عناصر کے دباؤ پر مولانا صوفی محمد اور سرحد حکومت کے درمیان امن معاہدے کو ناکام بنایا ۔ دوسری طرف افغان طالبان کے رہنما مُلّا محمد عمر نے خوست کے راستے سے شمالی وزیرستان کے عسکریت پسندوں کو حال ہی میں پیغام بھیجا کہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنا جہاد نہیں ہے اگر انہیں لڑنا ہے تو افغانستان آکر امریکی فوج سے لڑیں ۔ القاعدہ کی حکمت عملی بھی یہی ہے کہ پاکستان میں لڑنے کی بجائے افغانستان پر توجہ دی جائے

یہ کھیل 1947ء سے جاری ہے ۔ 1947ء میں نفاذ شریعت کیلئے فقیر ایپی کا نام استعمال ہوا اور 2009ء میں مولانا فضل اللہ کا نام استعمال ہوا ۔ دونوں مرتبہ فساد کی جڑ بھارت ہے ۔ تقسیم ہند کے فوری بعد بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت شروع کردی تھی ۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کی طرف سے کچھ قبائلی عمائدین کے ذریعے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے ہیرو فقیر ایپی کیساتھ رابطہ قائم کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نہ چہرے پر داڑھی ہے اور نہ اسلام کے بارے میں کچھ جانتے ہیں لہٰذا آپ وزیرستان کو افغانستان میں ضم کردیں یا علیحدہ ریاست کے قیام کا اعلان کردیں

دوسری طرف 17 اپریل 1948ء کو پشاور میں قبائلی علاقوں کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قبائل کشمیر کی آزادی کیلئے جہاد کریں گے۔ اس جرگے میں قائد اعظم سے درخواست کی گئی کہ قبائلی علاقوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے تابع رکھا جائے ۔ قائد اعظم نے یہ درخواست تسلیم کرلی ۔ اس دوران بنوں میں فقیر ایپی کے نام سے یہ پمفلٹ تقسیم ہوا کہ جہاد کشمیر حرام ہے بلکہ قائد اعظم کے خلاف جہاد کیا جائے جنہوں نے پاکستان میں شریعت نافذ نہیں کی

اس کے بعد 29 جون 1948ء کو پاکستانی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ایک 35 سالہ قبائلی اول حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو فقیر ایپی کے نام پنڈت نہرو کا ایک خطہ دہلی سے لا رہا تھا۔ گیارہ ستمبر 1948ء کو قائد اعظم وفات پا گئے ۔ نہرو کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ میں ٹوٹ جائے گا

یہ اقتباس ہے حامد میر کی تحریر قلم کمان سے جو یہاں کلک کر کے پوری پڑھی جا سکتی ہے
بشکریہ ۔ جنگ

زمرہ : تجزیہ | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

حُکمرانوں کی مجبوریاں کب تک ہمیں ستائیں گی ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 May 2009

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 22 مئی کے اجلاس میں کافی گرما گرم بحچ کے بعد الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2005 میں شوکت عزیز نے کراچی میریٹ ہوٹل سے ملحقہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زائد مالیت کی 21 ایکڑ اراضی امریکی قونصل خانے کی تعمیر کیلئے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے میں 99 سال کی لیز پر دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس اراضی کے 5 ایکڑ رقبے پر وزارت خوراک و زراعت کے زیر انتظام پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی لیبارٹریز اور دفاتر قائم تھے۔ یہ زمین 1950 سے 2000 تک وزارت خوراک و زراعت کے پاس لیز پر تھی جسے وزیراعظم شوکت عزیز کے حکم پر 2005 میں 99 سال کی لیز پر امریکی سفارتخانے کو دے دیا گیا تھا۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی مربع گز تھی مگر امریکی حکومت نے اس قیمتی زمین کی قیمت 9 ہزار روپے فی مربع گز ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔ وزیراعظم نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے 15 ہزار روپے فی مربع گزکے حساب امریکیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

موجودہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو حکومت نے اس اراضی کی فروخت اور ڈیل سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ پیش کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2008 میں یہ معاملہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو فیصلے کیلئے بھجوایا گیا۔ یوسف رضا گیلانی نے شوکت عزیز کے 19 مئی 2005 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوکت عزیز کے طے کردہ نرخوں پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 21 ایکڑ اراضی امریکی سفارت خانے کو دینے کی منظوری دی۔

وزارت خوراک و زراعت کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کے دفاتر کے قیام کیلئے مزید فنڈز کی فراہمی کی نئی تجویز منظوری کیلئے پیش کی جائے

بشکریہ ۔ جنگ

زمرہ : خبر | 6 تبصرے »

چور اُچکا چوہدری تے لُنڈی رن پردھان

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 May 2009

یہ پنجابی کا مقولہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر چور حکمران ہو تو جرائم پیشی کو فیصلے دینے پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اب پڑھیئے حالِ وطن

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ترلائی کا دفتر ہفتے کی صبح خلاف ورزی کرنے والے بااثر افراد کو نوٹس جاری کرنے کیلئے تیار تھا لیکن اسے اعلٰی حکام کی جانب سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ۔ اسکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چک شہزاد کے فارم ہاؤسز کو فراہم کئے گئے تمام کنکشنز کی جانچ پڑتال کرنے کیلئے ایک ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جس شخص کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا، وہ وہی شخص ہے جس سے اس بات کی تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ سب کچھ اس کی ناک کے نیچے ہونے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مطابق متعلقہ ایس ای ٹیم کی قیادت کریگا۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ گھریلو صارفین کو زرعی ٹیرف دے کر غلط استعمال اور چک شہزاد میں بجلی کی چوری اسی ایس ای سیف اللہ جان، متعلقہ ایکس ای این رشید خٹک اور ایس ڈی او میاں جمیل کی نگرانی میں کئی برسوں سے جاری ہے۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے کسی با اختیار اور غیر جانبدار ٹیم کے تقرر کی بجائے وہ لوگ جن سے تفتیش کرنے کی ضرورت تھی ان کو اپنے جرائم کیلئے تفتیش کار، جج اور جیوری مقرر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف بھی ایک فارم ہاؤس کے مالک ہیں اور اس کا بہت زیادہ تجارتی استعمال ہوتا ہے جیسے شادی کی تقریبات کیلئے شادی ہال کرائے پر دینا۔ ذرائع نے کہا کہ اگر تمام فارم ہاؤسز کے کنکشن اور بلز کے ریکارڈ کی فزیکل سروے کے بعد چھان بین کی جائے تو یہ کہیں زیادہ بڑا اسکینڈل ہو سکتا ہے۔ تاہم اتھارٹیز معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ کسی خود مختار تفتیش کا مقصد نہ صرف ماضی کے بلکہ موجودہ حکومت کے بھی بااثر ترین افراد کو سزا دینا ہوگا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں فوج کی قیادت میں واپڈا نے بجلی چوری کرنے کیخلاف مہم شروع کی تھی اور جب کہنہ مشق سیاستدان عابدہ حسین پر بجلی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا تو یہ اخبارات کی سرخیاں بن گیا تھا۔

تحریر انصار عباسی ۔ بشکریہ ۔ جنگ

زمرہ : خبر | 5 تبصرے »