What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 31st, 2009

منزِل اپنی دُور

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 31 May 2009

میں بچپن ہی سے مووی فلمیں دیکھنا خاص پسند نہ کرتا تھا ۔ مجھ سے چھوٹا بھائی مووی فلمیں دیکھنے کا بہت رسیا تھا ۔ اُس نے کہا تو میں نے سوچا کہ نہ کی تو کہے گا پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا ۔ سو دیکھنے چلا گیا ۔ مووی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہا اُس کا ایک گانا بڑا ذو معنی تھا جو اپنے مُلک کے دورِ حاضر پر درست بیٹھتا ہے

منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور
لیکن اپنی جیون گاڑی ہے چلنے پر مجبور
گھائل من ہے سانس ہے باقی ۔ پِیا مِلن کی آس
آنکھوں میں برسات ہے پھر بھی بُجھی نہ من کی پیاس
پیار کی خاطر اس دنیا میں سب کچھ ہے منظور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

تیرا پیار ہے سچا بندے ۔ آنسو نہ چھلکا
گھُٹ گھُٹ کر مر جا تو پگلے ۔ بات نہ من پر لا
دھِیرے دھِیرے رِستے رہنا ۔ زخموں کو دستور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

ہماری نااہلیوں کی وجہ سے منزل دور ہی ہوتی جا رہی ہے

زمرہ : روز و شب | 11 تبصرے »