میرے وطن کا جنت نظیر علاقہ جو آگ اور خُون کا دریا بن چکا ہے وہاں سے اپنے سر کے سائے اور اپنے جگر گوشوں کے لاشے چھوڑ کر نکلنے والے پندرہ لاکھ کے قریب بے خانماں میرے ہموطن میں سے ہر ایک کہہ رہا ہے ۔ کاش کہ مقتدر ایوانوں میں اس کی گُونج پہنچے
ملی خاک میں عزت ۔ اُجڑا میرا ہے گھرانہ
جو تھی آج تک حقیقت وہی بن گئی فسانہ
یہ بہار کیسی آئی ۔ جو خزاں بھی ساتھ لائی
میں کہاں رہوں وطن میں نہیں کوئی ٹھکانہ
اس گولے مردم کُش سے کوئی آکے تو پوچھے
کریں اپنوں کے ٹکڑے ۔ کس کاہے شاخسانہ