What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 2nd, 2009

نادرا ۔ نا اہلی اور دہشتگردی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 02 May 2009

نادرا حکام نے انکشاف کیا ہے کہ مختلف طریقوں سے بنوائے گئے ساڑھے دس لاکھ جعلی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیئے گئے ہیں جبکہ مزید 1 لاکھ 4 ہزار جعلی کمپیوٹرائزڈ کارڈز کا پتہ لگایا گیا ہے جو اب بھی شہریوں کے زیراستعمال ہیں ۔ ان میں سے لاکھوں کارڈز 2005 میں ہونے والے بلدیاتی اور 2008 میں عام انتخابات میں بھی استعمال ہوئے۔ اب بھی ایک لاکھ سے زائد غیرقانونی ذرائع سے بنوائے گئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ شہریوں کے زیراستعمال ہیں جو بینک اکاؤنٹس کھلوانے، موبائل فون کی سمز کے اجراء اور پاسپورٹس اور دیگر اہم دستاویزات بنوانے میں بھی استعمال ہو رہے ہیں ۔ دہری شناخت کے حامل ان شناختی کارڈز کے بارے میں جدید نظام کے ذریعے شناخت ہو چکی ہے اور ان افراد کو یہ شناختی کارڈ واپس کرنے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے ورنہ ان کے خلاف ریاست کے خلاف جرم کے الزام میں مقدمات قائم کئے جائیں گے اور اگر اس میں نادرا کے عملے کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو ایسے افراد کو نہ صرف نوکری سے فارغ بلکہ قانونی کارروائی بھی کی جا ئے گی۔

کچھ سوال
کیا یہ سراسر نااہلی نہیں ہے ؟
جعلی کارڈوں کی واپسی کیلئے مزید تین ماہ کیوں دیئے گئے ہیں ؟
ایسے لوگوں کے خلاف قانون فوری طور پر کیوں حرکت میں نہیں لایا جا رہا ؟
کیا ایسا کسی خاص مقصد کیلئے کیا گیا تھا جو ابھی پوری طرح حاصل نہیں ہوا ؟
کیا نادرا دہشتگردی کے فروغ میں مددگار نہیں ؟

زمرہ : خبر | 4 تبصرے »