<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: عاشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلیئر پروگرام</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/comment-page-1/#comment-17842</link>
		<dc:creator>مئی 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2009 06:09:23 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2210#comment-17842</guid>
		<description>[...] پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟ (فرحت کیانی) عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام (افتخار اجمل بھوپال) یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہیے؟ (فرحت کیانی) عشق کا انتقام اور ہمارا نیوکلئیر پروگرام (افتخار اجمل بھوپال) یہ نقدِ جاں ہے اِسے سود پر نہیں [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/comment-page-1/#comment-17732</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 02 Jun 2009 12:15:52 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2210#comment-17732</guid>
		<description>نعمان صاحب
 آپ کی اس تحریر نے میرے لکھے کو سچ ثابت کر دیا ہے اب مزید مجھے کچھ نہیں کہنا ہے 
رہی نیوکلیئر پروگرام کے متعلق عوام کی بے خبری توآپ کے استدلال نے ثابت کیا ہے کہ آپ دوسروں کو کم علم سمجھتے ہیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان صاحب<br />
 آپ کی اس تحریر نے میرے لکھے کو سچ ثابت کر دیا ہے اب مزید مجھے کچھ نہیں کہنا ہے<br />
رہی نیوکلیئر پروگرام کے متعلق عوام کی بے خبری توآپ کے استدلال نے ثابت کیا ہے کہ آپ دوسروں کو کم علم سمجھتے ہیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/comment-page-1/#comment-17716</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 31 May 2009 11:53:14 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2210#comment-17716</guid>
		<description>آپ بھی مجھے براہ راست نام لے کر مخاطب کیا کریں مجھے خوشی ہوگی۔ اور میرے خیال میں آپ کا اس بات پر اعتراض کرنا کہ میں آپ کو نام لیکر مخاطب کرتا ہوں بلاجواز ہے۔ میری آپ سے کوئی رشتہ داری نہیں تو خواہ مخواہ میں کیوں بلاوجہ کی رشتہ داری بنائی جائے۔ احترام کی جہاں تک بات ہے تو میں کوشش کرتا ہوں تہذیب کے دائرے میں رہوں۔ مجھے یاد نہیں میں نے آپ سے کبھی بدتہذیبی سے بات کی ہو۔ اگر ایسا کبھی ہوا ہے یا آپ کو لگا ہو کہ ایسا ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ 


بہت شکریہ آپ کے اس شکوے کا کہ میں اکثر دوسرے لوگوں کو کم علم سمجھتا ہوں۔ مجھے قریبا یہی شکوہ آپ سے ہے۔ کہ آپ سمجھتے ہیں جو بھی اختلاف کرے وہ جاہل ہے۔ آپ اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں اور اختلاف رائے عموما آپ کو فرسٹریٹ کردیتا ہے۔ 

اچھا اب آتے ہیں نیوکلئر پروگرام کی طرف میرے تبصرے کا محض ایک ہی پہلو تھا کہ ہمارے ملک کی عوام میں نیوکلئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے صرف یہی تفاخر پایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس‌ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ عوام میں اس بارے میں بھی آگاہی پھیلائی جانی چاہئے کہ ہم نیوکلئر ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں بھی کافی ترقی یافتہ ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ بھی مجھے براہ راست نام لے کر مخاطب کیا کریں مجھے خوشی ہوگی۔ اور میرے خیال میں آپ کا اس بات پر اعتراض کرنا کہ میں آپ کو نام لیکر مخاطب کرتا ہوں بلاجواز ہے۔ میری آپ سے کوئی رشتہ داری نہیں تو خواہ مخواہ میں کیوں بلاوجہ کی رشتہ داری بنائی جائے۔ احترام کی جہاں تک بات ہے تو میں کوشش کرتا ہوں تہذیب کے دائرے میں رہوں۔ مجھے یاد نہیں میں نے آپ سے کبھی بدتہذیبی سے بات کی ہو۔ اگر ایسا کبھی ہوا ہے یا آپ کو لگا ہو کہ ایسا ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ </p>
<p>بہت شکریہ آپ کے اس شکوے کا کہ میں اکثر دوسرے لوگوں کو کم علم سمجھتا ہوں۔ مجھے قریبا یہی شکوہ آپ سے ہے۔ کہ آپ سمجھتے ہیں جو بھی اختلاف کرے وہ جاہل ہے۔ آپ اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں اور اختلاف رائے عموما آپ کو فرسٹریٹ کردیتا ہے۔ </p>
<p>اچھا اب آتے ہیں نیوکلئر پروگرام کی طرف میرے تبصرے کا محض ایک ہی پہلو تھا کہ ہمارے ملک کی عوام میں نیوکلئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے صرف یہی تفاخر پایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس‌ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ عوام میں اس بارے میں بھی آگاہی پھیلائی جانی چاہئے کہ ہم نیوکلئر ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں بھی کافی ترقی یافتہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/comment-page-1/#comment-17704</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 30 May 2009 02:39:47 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2210#comment-17704</guid>
		<description>نعمان صاحب
ہمیں ایک نہیں ہر خُوبی پر فخر کرنا چاہیئے ۔ تکبر نہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی خوبیوں میں کھو کر مزید ترقی نہ کریں ۔ میرے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ۔ عبدالمجید ۔ سلطان بشیر الدین محمود اور دوسرے آٹھ مایہ ناز انجنیئر ہمیشہ سے محترم رہے ہیں جنہیں ملک و قوم کے دُشمن پرویز مشرف نے قید میں ڈالا تھا ۔ ان کے علاوہ بھی درجنوں لوگ ہیں جو میرے لئے قابلِ احترام ہیں ۔ میں ان سب کے نام لکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ یہ بات نیوکلیئر فیلڈ کی ہو رہی ہے ایٹم بم کی نہیں ۔ دوسری بھی کئی فیلڈز ہیں جن میں قوم کے درجنوں فرزندوں نے مایہ ناز کام کئے ہیں اور ان کے نام صرف متعلقہ لوگ ہی جانتے ہیں ۔ 
 
آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے اسی طرح بے تکلف بات کروں جس طرح آپ کی عادت ہے ۔ میں آپ کی تحاریر اور مختلف بلاگز پر تبصرے پڑھتا رہتا ہوں ۔ آپ کے اکثر تبصروں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ جس کی تحریر پر آپ تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں وہ آپ سے کم علم یا تجربہ رکھتا ہے ۔ اسلئے تبصرہ کرتے ہوئے آپ کو احساس نہیں رہتا کہ آپ غلط جواز پیش کر رہے ہیں ۔

دیگر  آپ کی عادت جسے آپ اپنے سٹائل کا نام دے چکے ہیں اُسے آپ بدلنے کو تیار نہیں ۔ صوفی محمد کے داماد فضل اللہ کا بھی ایک سٹائل ہے اور وہ اسے بدلنے کو تیار نہیں ۔ اس لحاظ سے آپ میں اور فضل اللہ میں کوئی فرق نہیں ۔ 

آپ کیلئے بہتر ہو گا کہ آپ جب بھی بات کریں تو یہ سمجھ کر کریں کہ دوسرا شخص آپ سے زیادہ جانتا ہے اور آپ نے اُس سے سیکھنا ہے ۔ میں حالیہ مثال دیتا ہوں آپ نے میرے نہیں کسی اور بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ &quot;تمہاری پیدائش سے پہلے بھی کراچی میں سلِیو لَیس قمیضیں پہنی جاتی تھیں اور مثال پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی دی تھی&quot;۔ اس مثال سے آپ کی کم علمی اور معاشرے سے بے خبری کا ثبوت ملتا ہے 

آپ کی مادری زبان اُردو ہے ۔ میرے بزرگوں کی رہائش آگرہ ۔ حیدرآباد دکن ۔ بھوپال ۔ مصر ۔ فلسطین ۔ جموں کشمیر ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں رہی ہے ۔ ہمارے گھر میں اپنے سے چھوٹے کو بھی آپ کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ اور جن علاقوں کا میں نے نام لکھا ہے ان میں اپنے سے دس پندرہ سال بڑے کو کوئی بھی نام سے مخاطب نہیں کرتا بلکہ نام کے ساتھ بھائی صاحب ۔ چچا ۔ وغیرہ لگا لیتا ہے ۔ میرے علم میں ہندوستان یا پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں اپنے سے دس سال یا زیادہ بڑے کو نام سے مخاطب کیا جاتا ہو ۔ سوائے آپ کے ۔ اس سلسلہ میں میں نے آپ کو صرف آپ کی خاطر سمجھانے کی کوشش کی ۔ اور آپ کے کچھ ہم عمروں نے آپ کو سمجھایا مگر آپ اپنی ضد پر قائم ہیں ۔ 

جب آپ اپنی کسی بُری عادت کو نہیں بدل سکتے تو پھر آپ دوسروں بشمول پاکستانی طالبان کی بُرائیاں گننے کا کیا حق رکھتے ہیں ؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان صاحب<br />
ہمیں ایک نہیں ہر خُوبی پر فخر کرنا چاہیئے ۔ تکبر نہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی خوبیوں میں کھو کر مزید ترقی نہ کریں ۔ میرے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ۔ عبدالمجید ۔ سلطان بشیر الدین محمود اور دوسرے آٹھ مایہ ناز انجنیئر ہمیشہ سے محترم رہے ہیں جنہیں ملک و قوم کے دُشمن پرویز مشرف نے قید میں ڈالا تھا ۔ ان کے علاوہ بھی درجنوں لوگ ہیں جو میرے لئے قابلِ احترام ہیں ۔ میں ان سب کے نام لکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ یہ بات نیوکلیئر فیلڈ کی ہو رہی ہے ایٹم بم کی نہیں ۔ دوسری بھی کئی فیلڈز ہیں جن میں قوم کے درجنوں فرزندوں نے مایہ ناز کام کئے ہیں اور ان کے نام صرف متعلقہ لوگ ہی جانتے ہیں ۔ </p>
<p>آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے اسی طرح بے تکلف بات کروں جس طرح آپ کی عادت ہے ۔ میں آپ کی تحاریر اور مختلف بلاگز پر تبصرے پڑھتا رہتا ہوں ۔ آپ کے اکثر تبصروں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ جس کی تحریر پر آپ تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں وہ آپ سے کم علم یا تجربہ رکھتا ہے ۔ اسلئے تبصرہ کرتے ہوئے آپ کو احساس نہیں رہتا کہ آپ غلط جواز پیش کر رہے ہیں ۔</p>
<p>دیگر  آپ کی عادت جسے آپ اپنے سٹائل کا نام دے چکے ہیں اُسے آپ بدلنے کو تیار نہیں ۔ صوفی محمد کے داماد فضل اللہ کا بھی ایک سٹائل ہے اور وہ اسے بدلنے کو تیار نہیں ۔ اس لحاظ سے آپ میں اور فضل اللہ میں کوئی فرق نہیں ۔ </p>
<p>آپ کیلئے بہتر ہو گا کہ آپ جب بھی بات کریں تو یہ سمجھ کر کریں کہ دوسرا شخص آپ سے زیادہ جانتا ہے اور آپ نے اُس سے سیکھنا ہے ۔ میں حالیہ مثال دیتا ہوں آپ نے میرے نہیں کسی اور بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ &#8220;تمہاری پیدائش سے پہلے بھی کراچی میں سلِیو لَیس قمیضیں پہنی جاتی تھیں اور مثال پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی دی تھی&#8221;۔ اس مثال سے آپ کی کم علمی اور معاشرے سے بے خبری کا ثبوت ملتا ہے </p>
<p>آپ کی مادری زبان اُردو ہے ۔ میرے بزرگوں کی رہائش آگرہ ۔ حیدرآباد دکن ۔ بھوپال ۔ مصر ۔ فلسطین ۔ جموں کشمیر ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں رہی ہے ۔ ہمارے گھر میں اپنے سے چھوٹے کو بھی آپ کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ اور جن علاقوں کا میں نے نام لکھا ہے ان میں اپنے سے دس پندرہ سال بڑے کو کوئی بھی نام سے مخاطب نہیں کرتا بلکہ نام کے ساتھ بھائی صاحب ۔ چچا ۔ وغیرہ لگا لیتا ہے ۔ میرے علم میں ہندوستان یا پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں اپنے سے دس سال یا زیادہ بڑے کو نام سے مخاطب کیا جاتا ہو ۔ سوائے آپ کے ۔ اس سلسلہ میں میں نے آپ کو صرف آپ کی خاطر سمجھانے کی کوشش کی ۔ اور آپ کے کچھ ہم عمروں نے آپ کو سمجھایا مگر آپ اپنی ضد پر قائم ہیں ۔ </p>
<p>جب آپ اپنی کسی بُری عادت کو نہیں بدل سکتے تو پھر آپ دوسروں بشمول پاکستانی طالبان کی بُرائیاں گننے کا کیا حق رکھتے ہیں ؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/05/%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%da%a9%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af/comment-page-1/#comment-17703</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 30 May 2009 01:29:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2210#comment-17703</guid>
		<description>محبِ پاکستان صاحب
میں آپ کی دعا پر آمین کہتا ہوں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محبِ پاکستان صاحب<br />
میں آپ کی دعا پر آمین کہتا ہوں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

