منزِل اپنی دُور

میں بچپن ہی سے مووی فلمیں دیکھنا خاص پسند نہ کرتا تھا ۔ مجھ سے چھوٹا بھائی مووی فلمیں دیکھنے کا بہت رسیا تھا ۔ اُس نے کہا تو میں نے سوچا کہ نہ کی تو کہے گا پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا ۔ سو دیکھنے چلا گیا ۔ مووی کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہا اُس کا ایک گانا بڑا ذو معنی تھا جو اپنے مُلک کے دورِ حاضر پر درست بیٹھتا ہے

منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور
لیکن اپنی جیون گاڑی ہے چلنے پر مجبور
گھائل من ہے سانس ہے باقی ۔ پِیا مِلن کی آس
آنکھوں میں برسات ہے پھر بھی بُجھی نہ من کی پیاس
پیار کی خاطر اس دنیا میں سب کچھ ہے منظور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

تیرا پیار ہے سچا بندے ۔ آنسو نہ چھلکا
گھُٹ گھُٹ کر مر جا تو پگلے ۔ بات نہ من پر لا
دھِیرے دھِیرے رِستے رہنا ۔ زخموں کا دستور
منزل اپنی دُور او ساتھی منزل اپنی دُور

ہماری نااہلیوں کی وجہ سے منزل دور ہی ہوتی جا رہی ہے

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

11 thoughts on “منزِل اپنی دُور

  1. جعفر

    گانا ایسا ہے کہ پڑھ کے ہی نیند آنی شروع ہوگئی ۔۔۔۔
    :grin:
    آپ نے لکھا کہ ”ہماری نااھلیوں“ اس سے مراد عوام ہے کہ حکمران طبقہ؟؟؟
    وضاحت کردیں‌ تو نوازش ہوگی۔۔۔۔

  2. چوھدری حشمت

    بھائی جعفر۔
    حکمران بھی تو عوام میں سے آتے ہیں ، بلکہ جدید نظام میں تو ہم خود ہی انہیں لاتے ہیں، اگرچہ کہ میں اس سے متفق نہیں ۔ ہاں البتہ اللہ کے اس کلام سے ضرور متفق ہوں کہ ” تم پرویسے ہی لوگ مسلط کئے جائیں گے جیسے تمھارے اعمال ہوں گے۔” (مفہوم میں کمی بیشی کے لیے معزرت)

  3. جعفر

    چوہدری صاحب۔۔ ہمارے حکمران طبقے کا عوام سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا
    اور نہ ہی آج تک عوام نے کسی کو اقتدار دیا ہے
    اقتدار لینے کے لئے یہ لوگ جوتے چاٹتے ہیں
    امریکہ کے اور فوج کے

  4. چوھدری حشمت

    محترم جعفر صاحب۔
    چلیں آپ نے تو ہماری صدا میں صدا ملائی، کہتے ہیں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ اللہ نے چاہا توہم جلداپنے حکمران منتخب کریں گے۔

  5. مسٹر کنفیوز

    جناب برا کا کرنے سے میری مراد کوئی گناہ کبیرہ نہیں ہے میں ایک دفعہ ایک بزرگ سے سے ملا جن کا بہت نام تھا اور اپنے علاقے میں مشہور تھے اپنی بزرگی کے لیے ان سے باتیں جاری تھیں کہ اس دوران انہوں نے اپنی بغل میں رکھا تکیہ اٹھایا اور ایک سیگرٹ نکال کر کہا کھبی کبھی انسان کا غلط کام بھی کرنا چاہے۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. مسٹر کنفیوز

    چلیں چھوڑیں جناب آپ کو نئے پی فور سسٹم کی مبارکباد قبول ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)