قارئین کی فرمائش پر

نعمان صاحب نے میری تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ سوال اُٹھائے تھے ۔ میں دوسرے کاموں میں کافی مصروف تھا اسلئے جلدی میں جواب لکھا تھا جو کہ جامع نہ تھا ۔ کئی قارئین نے اصرار کیا کہ اسے میں سرِورق پر شائع کروں اور مکمل جواب لکھوں ۔ اب جواب مکمل کرنے کوشش کی ہے اور جوابات کی ترتیب سوالات کی ترتیب کے مطابق کر دی ہے

نعمان صاحب کا تبصرہ
قصہ مختصر صرف یہ لکھ دیتے کہ بھٹو فیملی ولن اور ضیا اور ان کی باقیات پاکستان کی تاریخ کے ہیرو ہیں۔ اس تاریخ میں‌سے آپ کئی شاندار کارنامے جان بوجھ کر نظر انداز کرگئے۔ جیسے

1 ۔ پاکستان کے ایٹمی منصوبے کا آغاز اور امریکہ کی مخالفت کے باوجود اس پر کام جاری رکھنا۔
2 ۔ قوم کو ایک متفقہ آئین دینا۔
3 ۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کی بنیاد رکھنا۔
4 ۔ بڑے صنعتی اداروں‌ جیسے اسٹیل مل، ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا، بن قاسم بندرگاہ وغیرہ کا آغاز کرنا
5 ۔ ضیاالحق کے کارنامے جیسے امریکہ سے پیسے بٹور کر مجاہد تیار کرنا اور امریکہ کی فتح کے لئے سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنا۔ پاکستان کو ہیروئن اور کلاشنکوف کا گڑھ بنانا اور ایجنسیوں‌کو سیاستدانوں‌کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرنا وغیرہ۔
6 ۔ قرض‌اتارو ملک سنوارو کے اربوں روپے کے گھپلے،
7 ۔ راؤنڈ اسٹیٹ کے بھارت کے ساتھ چینی اور پیاز کی تجارت سے کروڑوں‌ روپے کے منافعے۔ وغیرہ وغیرہ

میرا جواب
1 ۔ میں کسی طرح پروگرام کے شروع میں منسلک رہا تھا ۔ صرف اتنا بتا دوں کہ واویلہ بہت ہے لیکن سوائے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پاکستان آنے کے اور کچھ نہیں ہوا تھا ۔ کام 1977ء کے آخر میں شروع ہوا ۔ آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے کچھ دیا بھی ہے ۔ میری اُن سے سیاسی مخالفت کے باوجود اُنہوں نے مجھے دو قومی سطح کے اہم پروجیکٹس سونپے تھے اور اللہ کے فضل سے میں اُن کے اعتماد پر پورا اُترا ۔ اگر آپ پوچھیں گے کہ کام کیا تھا تو میں نہیں بتاؤں گا

2 ۔ متفقہ آئین وقت کی مجبوری بن گیا تھا کیونکہ 1970ء میں مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کا ووٹ بنک 33 فیصد سے کم رہا تھا ۔ آئین منظور ہوتے ہی بھٹو صاحب نے سات ترمیمات کر کے جو متفقہ آئین کا حشر کر دیا تھا وہ آپ کو کسی نے نہیں بتایا ؟

3 ۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کی بنیاد بھٹو صاحب نے نہیں ضیاء الحق نے جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر رکھی تھی ۔ اور مکمل کامیابی نواز شریف کے دوسرے دور میں ہوئی

4 ۔ سٹیل مل کو بغیر متعلقہ صنعتوں کے لگانا حماقت تھی جو ناجانے کس کے مشورہ پر بھٹو صاحب نے کیا وہ آدمی تو ذہین تھے پھر نامعلوم کیا مجبوری تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک سٹیل مل نقصان میں جا رہی ہے ۔ بعد میں سٹیل مل کی تباہی میں ایم کیو ایم کا کردار اہم ہے جس کے 2400 کارکُن ہر ماہ ایک دن کیلئے صرف تنخواہ لینے سٹیل مل جاتے تھے ۔ ان کو 1992ء کے بعد لیفٹیننٹ جنرل صبیح قمرالزمان نے فارغ کیا تھا جب جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف تھے ۔ بن قاسم پورٹ سے میرا کوئی واسطہ نہیں رہا اسلئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا [ایچ آئی ٹی] کی منصوبہ بندی یحیٰ خان کے دور میں ہوئی لیکن قومی دفاعی ضرورتوں نے پی او ایف کی توسیع پر مجبور کیا اسلئے تاخیر ہوئی ۔ تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایچ ایم سی اور ایچ ایف ایف میں سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے وہ خسارے میں جا رہی تھیں اسلئے فوج کا سربراہ ایچ آئی ٹی میں سیاسی بھرتیوں کے خلاف تھا ۔ جہاں تک میرا خیال ہے ایچ آئی ٹی پر کام ضیاء الحق کے دور میں ہوا

5 ۔ ضیاء الحق کی خامیاں بطور فوجی ڈکٹیٹر وہی تھیں جو باقی سب ڈکٹیٹرز کی تھیں اور اُن کو اتنا مشتہر کیا جا چکا ہے کہ میرےبتانے کی ضرورت نہیں رہی البتہ اُس پر چند الزامات صرف بُغز کی بنا پر ہیں ۔ پاکستان میں بندوق کلچر کی ابتداء ایف ایس ایف [Federal Security Force] سے شروع ہوئی جسے بھٹو صاحب نے پولیس اور رینجرز کے مقابلے میں آوارہ قسم کے جیالے اور دوسرے مجرم پیشہ جوانوں کو بھرتی کر کے تیار کیا تھا اور جس کے ایک جتھے نے احمد رضا قصوری کو ہلاک کرنے کیلئے فائرنگ کی تھی اور ہلاک اُس کا باپ ہوا ۔ اسی کو بہانا بنا کر بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تھی ۔ ضیاء الحق نے امریکہ کو براہِ راست پاکستان تو کیا افغانستان میں بھی مداخلت نہ کرنے دی جس کا مالی اور سیاسی فائدہ پاکستان کو ہواتھا ۔ ہوسکتا ہے کہ راستے [pipe line] میں کچھ فوجیوں نے بھی جیبیں بھری ہوں ۔ہیروئین کس نے اور کیوں بنائی میں بہت پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اگر آپ درست کہتے ہیں تو یہ بتائیں ہیروئین اس وقت افغانستان میں کیوں سب سے زیادہ پیدا کی جا رہی ہے جبکہ افغانستان میں مْلا عمر کے دور میں بالکل بند ہو گئی تھی اور اب پاکستان میں نام نہاد طالبان ہونے کے باوجود اس کی پیداوار نہیں ہے ؟ سیاستدانوں‌کو بلیک میل کرنے کے لئے ایجنسیوں‌کا استعمال ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا تھا اور پھر بڑھتا ہی گیا ۔ بھٹو کے حُکم پر اس کے کئی شکار ہوئے جن میں غلام مصطفٰے کھر اور افتخار کھاری مشہور ہیں

6 ۔ قرض‌ اتارو ملک سنوارو کے سلسلہ میں اربوں روپے جمع ہی نہیں ہوئے تھے ۔ اس نعرے کا تعلق میاں نواز شریف سے ہے اگر گھپلا ہوا ہوتا تو بینظیر اور پرویز مشرف نے اتنے جھوٹے مقدمے نواز شریف کے خلاف بنائے تھے ایک سچا بنا کر اُس پر فتح حاصل کر لیتے

7 ۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور شروع ہوا تو بازار میں پیاز ایک روپے کا 2 کلو ملتا تھا ۔ ایک سال بعد پیاز 5 روپے فی کلو ہو گیا ۔ لوگ کہتے تھے “واہ بھٹو ۔ سچ کہا تھا جب میری حکومت آئے گی تو کوئی غریب مزور پیاز سے روٹی نہیں کھائے گا “۔ [بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران ٹیکسلا میں ہونے والے جلسہ میں یہ کہا تھا] ۔ ہر سال پیاز کی فصل مڈل مین پیشگی بہت سستے داموں خرید لیتے ۔ فصل ہونے پر گوداموں میں ڈال دیتے اور دس گُنا قیمت پر بیچتے ۔ جو پیاز بچ جاتا اُسے نالوں میں پھینک دیا جاتا ۔ چینی ۔ گھی ۔ وغیرہ کا حال پیاز سے صرف اتنا مختلف تھا انہیں پھینکا نہیں سرحد پار بیچا جاتا تھا ۔ ضیاالحق کے زمانہ میں پیاز اور چینی پہلے سے کم داموں پر بکتی رہی ۔ دکانداروں کی منافع خوری روکنے کیلئے جمعہ بازار شروع کئے جہاں صرف کاشتکاروں اور آڑھتیوں کو اجازت تھی کہ سبزیاں ۔ پھل اور دوسری اشیاء بیچیں جس سے چیزیں سستی دستیاب ہونے لگیں ۔ بھارت سے آلو کی درآمد بینظیر بھٹو کے دور میں ہوئی جس پر جیالوں نے مال بنایا ۔ نئی فصل کی قیمت پر خریدا ہوا پرانا آلو بہت جلد خراب ہو گیا اور نقصان یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو برداشت کرنا پڑا ۔ اسی طرح بینظیر بھٹو کے کارندوں نے مہنگے داموں گھی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو دیا ۔ عوام نے شور کیا تو بینظیر بھٹو نے کم قیمت پر بیچنے کا حُکم دیا ۔ یہ نقصان بھی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو برداشت کرنا پڑا ۔ وہ دن اور آج کا دن اس ادارے کی حالت پتلی ہے

نعمان صاحب کی بلاگ پر بھی میرے تبصرے پڑھ لیجئے

This entry was posted in روز و شب, یادیں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

11 thoughts on “قارئین کی فرمائش پر

  1. ڈفر

    ضیاء کے متعلق پہلی دفعہ کوئی مثبت خبر ملی ہے کہ ”اس نے امریکہ کو براہِ راست پاکستان تو کیا افغانستان میں بھی مداخلت نہ کرنے دی“۔ لیکن یہ تو بتائیں کہ کیا پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی جگہ انگلی کر کے کتنا ٹھیک کیا؟
    اور آج جن اسلامی و جہادی پھلوں کے پکے خوشے لٹک لٹک کر گرنے کو ہیں ( بلکہ گر رہے ہیں) کیا ان کی بیجائی ضیا کے کھاتے میں نہیں ڈالی جائے گی؟
    ہمارے سب حکمرانوں نے غلطیاں کیں، نا بڑی نا چھوٹی۔ کسی کی غلطی کا پھل پکنے میں عشرے لگے اور کسی کے چند سال۔ لیکن فروٹ ایک سے بڑھ کر ایک ملا، جب بھی پکا قوم کو ہی کھانا پڑا۔ کوئی ۔۔۔ حکمران یہ فصل کاٹنے کو موجود تھا نا تیار۔
    اور ہاں انکل جی لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا پی پی پی کے کریڈٹ پر کوئی ایسی بات ہے جو پی پی پی کے کالے کرتوتوں سے نظر ہٹانے کے لئے کام آ سکے؟

  2. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ڈفر کا کہنا ہے کہ:
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا پی پی پی کے کریڈٹ پر کوئی ایسی بات ہے جو پی پی پی کے کالے کرتوتوں سے نظر ہٹانے کے لئے کام آ سکے؟۔ ۔ ۔ ۔

    ڈفر بھائی!
    فی الحال تو پی پی پی کے لئیے تو ۔ایک زرداری۔سب پہ بھاری۔ ہی کافی ہے۔ :wink:

    (پی پی پی والوں سے معذرت کے ساتھ)

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    مندرجہ ذیل تبصرہ ۔۔کراچی کے طالبان 3 ۔۔ پہ کسی چوہدری حشمت نامی صاحب کے تبصرے کے جواب میں ہے ۔ وہاں بھی یہ ہی تبصر ہ ہے اور اسی تبصرے کو لفظ بہ لفظ یہاں نقل کر رہا ہوں کہ تا کہ اگر چوہدری موصوف ۔ ۔ ۔ کراچی کے طالبان3 ۔ ۔ ۔ پرانی پوسٹ ہونے کی وجہ سے وہاں نہ پڑھ سکیں۔ تو یہاں سے پڑھ لیں۔ امید ہے اس پہ کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
    یارو!
    یہ چوہدری حشممت تو مجھے کوئی فرضی کردار لگتا ہے نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح کے لب و لہجہ میں یہ صاحب کسی دوسرے نام سے بھی لکھتے آئے ہیں۔

    جناب چوہدری صاحب!
    نہ تو ہمیں ایم کیو ایم سے دشمنی ہے اور نہ ہی کراچی کے کسی طبقے سے خار ہے۔ اور نہ ہی ہم کراچی کے مہاجرین کی پاکستان میں پیدا ہوئی آل اولاد یا اہل اردو سے مخاصمت ہے۔ اور ہم تہہ دل سے کراچی اور حیدر آباد کے اہلِ مہاجرین کی اور پاکستان کے تمام طبقوں کی عزت کرتے ہیں۔ اور نہ ہی کبھی کسی عقلمند پنجابی یا پٹھان یا کسی اور طبقے نے اہلِ اردو یا ایم کیو ایم کوحضرات کو سمندر میں دھکیلنے کی بات کی ہے۔ جو بھی اس طرح کی بات کرے گا وہ پاکستان سے غداری کا مرتکب ہوگا۔ اور نہ ہی کراچی میں جاری قتل و غارت اور غنڈہ گردی کی کبھی حمایت کی ہے۔ خواہ اُس میں مارے جانے والے پنجابی، پٹھان، سندھی یا مہاجر یا کوئی اور ہو۔ اسکور برابر کرنا بے غیرت اور بزدل لوگوں کا کام ہے ۔ اور معذرت کے ساتھ اسطرح کی باتیں وہ ہی کر سکتا ہے جو واقعتاً پاکستان میں فتنہ اور فساد دیکھنا چاہے ۔ اور اس طرح کے آدمی کی سوچ بھارت و اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے تابع تو ہوسکتی ہے اور پاکستان سے غداری کے زمرے میں آتی ہے مگر ایک اچھے سچے اور حقیقی پاکستانی کی نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ پنجابی ہو ۔ پٹھان ہو ۔ مہاجر ہو یا اس کا تعلق کسی اور طبقے سے ہو۔

    میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یا کسی کو بھی اگر ایک کیو ایم کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تو محض انکی لیڈر شپ کے کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں سے ہیں کہ وہ پاکستان کے دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ۔ اور ایم کیو ایم کے بارے میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اسکی لیڈر شپ نے اس جماعت کی پرورش اپنے ذاتی مفادات کی خاطر خالص لسانی بنیادوں پہ کی ہے۔ اور دوسرے غیر لسانی طبقوں کے خلاف نفرت کی بے جا آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔جس طرح موصوف آج کل بیرونی اشاروں پر طالبان طالبان کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں ۔ اور خالص لسانی بنیادوں پہ مافیا طرز پہ بھرتی کیے گئیے غنڈوں سے کراچی میں امن و عامہ کو بگاڑ کے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر کے موصوف اور اُن کے چند چیلے اسے طالبان کی کاروائیاں قرار دے کر پاکستان دشمنوں کی کی پاکستان کے خلاف موجودہ منصوبہ بندی میں اپنا سا حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جس شاخ پہ بیٹھے ہے اسی کو کاٹنے کی فکر میں ہیں۔

    ہمارا یہ بھی کہنا ہے کو جو لوگ اپنی فہم و فراست سے دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھتے ہیں وہ لوگ پاکستان کی حفاظت کرنے والے انشاءاللہ پاکستان کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ اور ان میں مہاجر، پنجابی ، بلوچی ، مکرانی ، سرائیکی۔ پٹھان، سندھی سبھی یک جان شامل ہیں۔ اور اس میں کسی لسانی گروہ کی تخصیص نہیں۔ اور خود ایم کیو ایم کے جھانسے یا دھونس میں آنے والے عام عوام بھی یہ بات سمجھ رہے ہیں کہ خود تو یوروپ میں بسنے والی برطانوی شہریت کے حامل لوگوں کا کیا جائے گا ۔ انکا کیا بگڑے گا۔ جبکہ خون اگر بہا تو وہ کراچی یا پاکستان میں بہے گا ۔ نقصان اگر کوئی ہوا تو وہ کراچی یا پاکستان میں بسنے والے عام پاکستانیوں کا ہوگا خوا ہ وہ کسی بھی صوبے یا لسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔

    چوہدری حشمت صاحب!
    آپ کے لہجے سے مہاجر پنجابی یا پٹھان مہاجر وغیرہ کی تقسیم کی بُؤ آتی ہے۔ اور جو بھی اس طرح کی بات کر گا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈِفر صاحب
    ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو میں یہ خوبی تھی کہ وہ سرکاری ملازمین کی ترقی کے وقت فائلز خود دیکھتے تھے اور جو اُنہیں اچھے لگیں اُن کو ترقی دیتے تھے ۔ ان میں کچھ تو اُن کی ضرورت ہوتے تھے باقی اپنی قابلیت کے مطابق ترقی پاتے تھے ۔
    پی پی پی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے پیرو کار پکے ہیں لیکن پی یی پی کے لیڈروں کی حرکات کی وجہ سے اب بہت سے بد دل ہو چکے ہیں اس کے باوجود پی پی پی کو نہیں چھوڑا
    ایک بات آپ بھول رہے ہیں طالبان ضیا کا نہیں نصیر اللہ باب کا لگایا ہوا ہے پودا ہیں لیکن پاکستانی طالبان را یا سی آئی اے کا لگایا ہوا پودا ہے ۔
    ضیاء نے دو حماقتیں ایسی کیں کہ اس کے کئے دھرے پر پانی پھر گیا ۔ ایک جونیجو کی حکومت کو امریکہ کی ایماء پر توڑ دیا ۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ کیونکہ اوجڑی کیمپ کا واقعہ امریکی ایجنسی کا کام تھا ۔ دوسرا ایک فضول قسم کا ریفرنڈم کرا کر پانچ سال کیلئے حکمران بن بیھٹا ۔

  5. راشد کامران

    71 کی جنگ کے بعد بھٹو نے پاکستانی قوم کا مورال بلند کرنے میں‌اہم کردار ادا کیا ہے۔۔ 73 کا آئین بے شک بھٹو کی مجبوری بن گیا ہو لیکن اس کے باوجود ایک متفقہ آئین وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں کسی کارنامے سے کم نہیں۔۔ اسکے بعد اس سے جو سلوک بھٹو نے خود اور بعد کے حکمرانوں نے کیا وہ تو ایک اور ہی داستان ہے۔ سب بڑھ کر بھٹو کی خوبی آپ یہ دیکھیں گے کہ بین الاقوامی فورمز پر کبھی بھی معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنایا اور اسلامی کانفرنس تنظیم کو اس وقت فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں یہی کچھ باتیں “فرینڈز آف پاکستان” کو زیادہ پسند نہیں‌ آئیں جس کا خمیازہ بھٹو کو بگھتنا پڑا۔۔ طالبان کو نہ جانے کیوں لوگ ضیاء سے جوڑتے ہیں حالانکہ یہ پی پی حکومت کا سعودی تعاون سے لگایا گیا پودا ہے جو ایران اور بھارت کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے رسوخ کا توڑ کرنے کے لیے اس وقت اسٹریٹجک نوعیت کا اقدام تھا جو اب پاکستان کے اپنے گلے کا پھندا بن گیا ہے۔ القائدہ کے ہاتھوں یرغمال بن جانا طالبان کے اپنے حق میں بہتر نہیں‌ ہوا یہی وجہ ہے اسلامی دنیا میں بھی طالبان حکومت کو کہیں بھی پذیرائی نہیں مل سکی غالبا پاکستان، سعودی عرب اور عرب امارت کے علاوہ کسی اسلامی ملک نے بھی ان کی حکومت کو تسلیم نہیں‌ کیا۔۔آپ پاکستانی طالبان کو سی آئی اے اور را کا لگایا ہوا پودا قرار دیتے ہیں‌ لیکن ساتھ ساتھ اس کی مسلح جدوجہد کی حمایت بھی کرتے ہیں یہ آکسی موران میری سمجھ سے باہر ہے۔ جہاں تک ضیاء الحق کا تعلق ہے اس نے فرقہ پرستی، مسلح جہاد اور فوجی کرپشن کو جس نہج پر پہنچادیا ہے اس سے چھٹکارا پانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔۔ اگر آپ اچھے اور برے کاموں کا تقابلی جائزہ لکھیں تو ضیاء‌الحق کا دور حقیقی طور پر ضیاع الحق کہلانے کا حقدار ہے۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے پچھلی پانچ دہائیوں میں دیکھا ہے ہماری قوم کی اکثریت کی مورال بُوسٹنگ صرف نعرے بازی سے ہوتی ہے ۔ آئین کے متعلق جو بات عام طور پر کہی نہیں جاتی یہ ہے کہ آئین کا مسؤدہ صدارتی نظام کے حساب سے تیار کیا گیا تھا جس کی مخالفت پیپلز پارٹی کے اندر ہی سے ہو گئی تو اسے پارلیمانی میں تبدیل کیا گیا ۔ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو جو کہ صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی تھے نے اسمبلی کے اراکین کی بات مان کر جمہوری روائت قائم کی ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 1956ء کا آئین بھی متفقہ تھا اور 1973ء کے آئین سے بہتر تھا جسے سکندر مرزا نے معطل کیا اور ایوب خان نے ختم کر دیا ۔ درست ہے کہ بھٹو نے بین الاقوامی سطح پر معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنایا لیکن ایسا کسی حکمران نے اُن سے پہلے نہیں کیا تھا اور اُس کے بعد ضیاء الحق اور نواز شریف نے بھی ایسا نہیں کیا ۔ یہ ریت بینظیر نے ڈالی اور اسے انتہاء تک پرویز مشرف نے پہنچایا اور موجودہ صدر پرویز مشرف کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔ پہلی اسلامی کانفرنس یحیٰ خان نے منعقد کرائی تھی ۔ اسلامی کانفرنس پاکستان میں بھٹو صاحب نے منعقد کرائی جس کے نمائندوں کو خوش کرنے کیلئے سڑک پر لوک ناچ کرائے گئے جن میں کالج کی لڑکیاں بھی شامل تھیں ۔ سعودی عرب کا بادشاہ اور کئی دوسرے سربراہ ناراض ہو گئے ۔ اسلام آباد میں فیصل مسجد اور ایک اسلامی یونیورسٹی سعودی عرب کے پیسے سے بننا شروع ہو چکی تھیں جن کیلئے سعودی عرب نے مزید فنڈز دینا بند کر دیئے ۔ پھر منت سماجت اختیار کی گئی جس کے نتیجہ میں سعودی عرب نے فنڈز پاکستان کو دینے کی بجائے سعودی سفارت خانے کی نگرانی میں فیصل مسجد کی تعمیر شروع کی ۔ اسلامی کانفرنس سے بھٹو صاحب نے جو فائدہ حاصل کیا وہ بنگلہ دیش کی منظوری تھی جبکہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی اکثریت نے بنگلہ دیش منظور کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔

    طالبان کے متعلق آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔ پاکستانی طالبان کی میں نے کبھی حمائت نہیں کی میں تو ان کو جائز ہی نہیں سمجھتا ۔ مجھے پریشانی فوجی کاروائی سے مرنے والے اور بے گھر ہونے والے بیگناہ خاندانوں کی ہے ۔

    فوجی کرپشن نے یحیٰ خان کے دور کے آخر میں سر نکالا ۔ بھٹو کے دور میں پلتی رہی کیونکہ اپنی جان بچانے کیلئے اُس نے ریٹائر کئے گئے جرنیلوں کو سول عہدوں پر بلا جواز فائز کیا تھا ۔ ضیاء الحق کے دور میں فوج کے افسروں نے لُوٹ مار کی اور وہ اتنا نااہل تھا کہ کچھ نہ کیا ۔ یہ کرپشن پرویز مشرف کے دور میں انتہاء کو پہنچ گئی ۔ فرقہ پرستی ضیاء الحق کا بچہ نہیں ہے ۔ اُس کے دور میں شیعہ اور سُنی کو قریب لانے کیلئے کافی کام کیا گیا تھا ۔

  7. چودھری حشمت

    محترم گوندل صاحب۔
    آپکے براہ راست مجھ سے مخاطب ہونےاور اپنی محفل میں شامل ہونے دینے کا شکریہ۔ اور میں شکرگزار ہوں جناب محترم افتخار اجمل صاحب کا جنہوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ یہ محفل سجائی ہوئی ہے۔
    مجھےایک بارپھراس بات کی وضاحت کی ضرورت تو نہیں کیونکہ اب تک آپ نے اس بات کی تصدیق کرلی ہوگی کہ یہ میل کہاں اور کس مشین اسے بھیجا گیا ہے۔ اگر یقین اجائے تومیری پہلی تحریرکی خود ہی تصدیق کردینا۔ :smile:
    ” اور معذرت کے ساتھ اسطرح کی باتیں وہ ہی کر سکتا ہے جو واقعتاً پاکستان میں فتنہ اور فساد دیکھنا چاہے ۔ اور اس طرح کے آدمی کی سوچ بھارت و اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے تابع تو ہوسکتی ہے اور پاکستان سے غداری کے زمرے میں آتی ہے مگر ایک اچھے سچے اور حقیقی پاکستانی کی نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ پنجابی ہو ۔ پٹھان ہو ۔ مہاجر ہو یا اس کا تعلق کسی اور طبقے سے ہو”۔
    شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ “کچھ باتییں خود کی جائیں تو اتنا اثر نیہں رکھتی جتنی کسی دوسرے کے قلم سے۔”
    رہی بات ایم کیوایم کی ملک دشمنی کی تے یاروں کبھی “نعمان دی گلاں نو ٹھنڈے دل نال بھی پڑھ یا کرو”
    ویسے مجھے خوشی ہے کہ آپ کئی بلاک پابندی سے پڑھتے ہو۔
    اب آپ میرے چند سوالات کے جواب پوری ایمان داری کے ساتھ دینا۔
    1۔ تواڈای زمین طے میں کلاشنکوف لے کرجوگی پاواں۔۔ اودے بعد تسی کی کرنا ہے۔
    2۔ آپ کو 1976 میں نوکری دیتے ہوئے یہ سوال کیا گیا ہوکہ “آپ کو کتنی زبان اتی ہے” جس کی سمجھ آپ کو 1982 میں آئے تے اس ویلے تسی کی کرنا ہے۔
    ابھی اور بھی بہت سے سوالات نے لیکن آئندہ۔
    یاروں ذیادی، ذیادی ہوندی ہے پاویں کسی دے نال کریے۔

  8. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محترم چوہدری صاحب!
    عزت افزائی کا شکریہ۔ آپکے سوالات اپنی جگہ معرفت میں لپٹے بہت سے معانی رکھتے ہیں۔اگر آپ انھیں مزید تفضل سے بیان کر دیں تو نوازش ہوگی تا کہ غلطی کا امکان نہیں رہے۔
    آپ کا فرمان ہے کہ ۔۔ کہ مجھےایک بارپھراس بات کی وضاحت کی ضرورت تو نہیں کیونکہ اب تک آپ نے اس بات کی تصدیق کرلی ہوگی کہ یہ میل کہاں اور کس مشین اسے بھیجا گیا ہے۔ ۔۔

    ایسا بندوبست تو میرے پاس بھی ہے کہ پتہ چلایا جان بہت آسان ہے کہ کون کہاں سے انٹرنیٹ پہ مصروف ہے ۔ وغیرہ مگر میں اس کا مجاز نہیں ہوں۔ جسیا کہ آپ نے بجا فرمایا یہ محفل اجمل صاحب نے سجا رکھی ہے۔ اور یہ بلاگ جناب محترم اجمل صاحب کاہے۔ اور یقینا ان کے پاس کوئی ایسا ۔ ۔ ٹول ۔ ۔ ہوگا جس سے انھیں بھی اپنے بلاگ پہ ہونے والی ٹریفک کا پتہ چلتا رہتا ہوگا۔

    نیک دعاؤں کے ساتھ

  9. چودھری حشمت

    جناب گوندل صاحب۔
    ایک دن میں ایک مذہبی جماعت کی انتہائی اہم میٹنگ میں تھا، اہم اس طرح کہ وہاں انکے چیدا چیدا رہنما تو نہیں تھے بلکہ وہ رہنما موجود تھے جن کی سنی جاتی تھی۔ میرے اک دوست نے جوکہ رکن ہیں مجھے بھی مدعو کیا کہ شاید ان پالیسی سازوں کومیں اپنی زبان میں کچھ سمجھا سکوں۔
    میں نےاس وقت انہیںبڑا سمجھایا کہ آپ اپنا طریقہ بدلو ورنہ ایک بڑا شہر آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا ادھر کے لوگوں کی نفسیات سمجھو، ادھر پکے کھلاڑی نہیں بلکہ ادھر کے ہی نچلی سطح سے آئے ہوئے نوجوانوں کو موقع دو۔ اورادھر کےلوگوں کی اصل تکلیف پر ہاتھ رکھو۔
    انکے اکابرئین سب کے سب میری بات سے متفق تھے مگر”او کی کہندے نے چئیرمین دے لٹھے” کہنے لگے کہ جی یہ پارٹی پالیسی دے مطابق نہیں۔ “خیرہے، نا مننو، اپ ہی بھگتوکے” ۔
    اورپھر وہی ہوا جس کا مجھے اور میرے دوست کو ڈر تھا۔
    میرے بھائی بہت سے سوالات کھل کر نہیں کئے جاتے” بقول شیخ رشید کہ میں جس سے بات کررہا ہوں وہ بھی عقل مند ہے۔
    جب آپ غلطیاں کرو گےتو رزلٹ بھی ویسا ہی ملےگا ۔ اسی لئے میں نے کہا کہ“نعمان دی گلاں نو ٹھنڈے دل نال بھی پڑھ یا کرو”
    ایک سونچنے کی بات اورمشورہ ہے اچھا لگے تو آئندہ اس پر بات کریں گے۔
    پنجاب میں اب سیاسی خلاء آچکا ہے اسکو کس نے پر کرنا ہے۔
    کیا اب بھی ہماری ، تمھاری اور غریباں دی باری نہیں یا ابھی بھی یہی سننا ہے “یہ پارٹی پالیسی دے مطابق نہیں” اور پھر سنتے ہی رہنا کہ پنجابی کہا گئے، پنجابی کہا گئے، ساڈی غربت کسی نو نظرنہیں اندی۔
    اس لیے کسی غریب کو آگے آنے دو، اسے اسمبلیوں تک پہنچاؤ ، تاکہ وہ سچی بات کرے ، نہ اپنا حق چھوڑے نہ دوسرے کا مارے، نہ محلاں وچ رہے نہ پجیرو اور لینڈ کروزر وچ گھومے۔
    بقول اجمل صاحب اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ، ورنہ تے پھر بہت دیر ہوجانی ہے۔
    آپکی دعاؤں کا ممنون۔
    چوھدری حشمت۔

  10. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محترم چوہدری صاحب!
    اللہ آپ کو خوش رکھے آپ کی باتوں سے درد چھلکتا ہے ۔ اللہ سبحان و تعالٰی کی ایک شان ۔بے نیازی۔ بھی ہے۔ اسے ہماری نمازوں ۔ ہمارے روزوں سے بھی تب ہی سروکار ہوگا جب ہماری نیتیں بھی درست اور اعمال اچھے ہونگے۔ پاکستان کی مسلمانوں کو ساٹھ سے زائد عرصہ چھوٹ ملی مگر ہم نہ سدھرنا تھا نہ سدھرے۔ ابھی بھی اللہ سبحان و تعالٰی کی طرف سے مہلت ختم نہیں ہوئی۔

    خدا خود کبھی اپنے ھاتھ سے کچھ نہیں کرتا۔ اللہ میاں کو جو کرنا ہوتا ہے وہ اس کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور باقی کام ہم آپ خود بخود ہی کر ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں جو بے چینی اور اسباب پیدا ہو رہے ہیں ۔۔ میری رائے میں۔ یہ حالات آخر کار بہتری کی طرف لے جائیں گے۔ خواہ حالات وہ اصلاحات کے تحت درست یا انقلاب کے ذرئیعے ۔ کیونکہ جن نذاموں کے تحت پاکستان اور قوم نے ساٹھ باسٹھ سال گزارے ہیں یہ غیر فطری نظام تھے۔ تین نسلیں اس ملک میں جوان ہوئیں اور بجائے بہتری کے اب تو قوم کو دال روٹی جیسی دنیا کی بنیادی ترین ضرورت جو جنگل میں پیدا ہونے والے بھی روز اول سے تلاش کرتے ہیں ۔ جستجو کرتے ہیں۔ وہ ناگزیر ضرورت تک پوری نہیں ہو پارہی ۔ قوم کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں ۔ اب اس سے آگے جان دینا باقی ہے اور آپ اس سے اتفاق کریں گے جہاں عزت نفس، بنیادی ضرورتیں، انصاف اور دیگر معاملات زندگی پورے نہ ہوں ۔ درست نہ رہیں وہاں تبدیلی ناگزیر نہ بھی سمجھی جائے وہ خود بخود آجاتی ہے ۔ تبدیلی جو انقلاب کا۔ اصلاحات کا دوسرا نام ہے ۔خود بخود آجاتی ہے ۔ یہ ایک فطری تقاضہ ہے۔ جیسے گارمی سے برف پگھلتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)