حُکمرانوں کی مجبوریاں کب تک ہمیں ستائیں گی ؟

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 22 مئی کے اجلاس میں کافی گرما گرم بحچ کے بعد الزام عائد کیا گیا تھا کہ 2005 میں شوکت عزیز نے کراچی میریٹ ہوٹل سے ملحقہ ڈیڑھ کھرب روپے سے زائد مالیت کی 21 ایکڑ اراضی امریکی قونصل خانے کی تعمیر کیلئے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے میں 99 سال کی لیز پر دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس اراضی کے 5 ایکڑ رقبے پر وزارت خوراک و زراعت کے زیر انتظام پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی لیبارٹریز اور دفاتر قائم تھے۔ یہ زمین 1950 سے 2000 تک وزارت خوراک و زراعت کے پاس لیز پر تھی جسے وزیراعظم شوکت عزیز کے حکم پر 2005 میں 99 سال کی لیز پر امریکی سفارتخانے کو دے دیا گیا تھا۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی مربع گز تھی مگر امریکی حکومت نے اس قیمتی زمین کی قیمت 9 ہزار روپے فی مربع گز ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔ وزیراعظم نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے 15 ہزار روپے فی مربع گزکے حساب امریکیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

موجودہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو حکومت نے اس اراضی کی فروخت اور ڈیل سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ پیش کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی 2008 میں یہ معاملہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو فیصلے کیلئے بھجوایا گیا۔ یوسف رضا گیلانی نے شوکت عزیز کے 19 مئی 2005 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوکت عزیز کے طے کردہ نرخوں پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 21 ایکڑ اراضی امریکی سفارت خانے کو دینے کی منظوری دی۔

وزارت خوراک و زراعت کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ سینٹرل کاٹن کمیٹی کے دفاتر کے قیام کیلئے مزید فنڈز کی فراہمی کی نئی تجویز منظوری کیلئے پیش کی جائے

بشکریہ ۔ جنگ

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “حُکمرانوں کی مجبوریاں کب تک ہمیں ستائیں گی ؟

  1. یاسر عمران مرزا

    میں نے خبریں پڑھنا ہی چھوڑ دیا، ٹی وی بھی نہیں دیکھتا اب
    اسے آپ کبوتر کی طرح بلی دیکھ کے آنکھ بند کرنا کہیں یا کچھ اور
    مگر حقیقت یہ یہ ہے کہ ساری خبریں دل جلانے والی ہیں
    مشرف نے 65 ارب ڈالر کی تانبے کی کان 21 ارب روپے میں آسٹریلوی فرم کو بیچ دی تو وہ دندناتا پھر رہا ہے ، کوئی کچھ نہیں کرتا نہ کچھ بولتا ہے اسی طرح اب بھی کچھ نہیں ہو گا، بھارت نے سارے دریائوں پر قفضہ کر لیا بھر بھی کوئی کچھ نہیں کرتا
    بے وقوف پاکستانیوں‌نے زرداری کو صدر منتخب کرلیا اب وہ پاکستان بیچ کر ہی دم لے گا، مگر پاکستان بھی کتنا ڈھیٹ ہے ، ختم ہی نہیں‌ہوتا ، 1947 سے بیچ رہے ہیں لیڈران مگر ابھی تک باقی ہے

  2. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    یہ ملک صرف چھ ماہ میں درست سمت پکڑ سکتا ہے۔ بشرطیکہ پوری قوم نیک نیتی سے نیک نیت لوگوں کو دریافت کر لے، چن لے اور پھر یہ لوگ توپ کا فی گولہ چھ کس رکھ دیں ۔

    ایک + چھ لٹیرے = ھزاروں کا پاکستان سے فرار ، لاکھوں کی عبرت اور کروڑوں کی خیرخواہی۔
    صرف ایک گو ۔ ۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاوید گوندل صاحب
    میں تو کہتا ہون صرف ایک لوٹنے والے کو عبرت کا نشان بنا دیں پھر دیکھیں کتنی جلدی قوم سدھرتی ہے
    ویسے میاں شریف مرحوم کے بیٹوں نے جو کام شروع کیا ہے اس سے اِن شاء اللہ بہتری پیدا ہو گی

  4. چوھدری حشمت

    محترم اجمل صاحب۔
    وہ کیا محاورہ ہے ۔۔ “ایک حمام میں سارے ہی ننگے” سر آپ خام خیالی میں نہ رہیں ، ہراک اس ملک میں ملکوں ، شریفوں تے ذرداریوں کی طرح ایک ہی کام میں لگا ہے ، میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اس عمر میں مزید دھچکے لگیں۔
    فوٹو سیشن اور گل ہے تے عمر اور عمر ثانی بننا اور گل۔ تسی اتنی امیداں نہ رکھو کہ بعد دے وچ افسوس ہوئے۔

  5. چوھدری حشمت

    “آپ کو لگتا ہے اسے پاکستانیوں نے‌صدر منتخب کیا؟”

    گوندل صاحب۔
    اللہ ہیاتی دے ” ہماری بھولی بھالی تے سادی قوم نو یہ پندرہ بیس سال بعد سمجھ اتا ہے”
    پاکستا ن کے آگے 1970 کے الیکشن کے بعد سلیکشن تھرو پروپر چینل لکھ دیا گیا ہے۔
    ہر سلیکشن سے کم از کم دو سال پہلے اس پر ہوم ورک ہوتا اور پھر ہم ہا ہا کر کے ووٹ ڈالتے ہیں ۔ رزلٹ مطلب کے مطابق رہا تو ٹھیک ورنہ اسے ٹھیک کردیا جاتا ہے۔
    مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم بھی خوش تے وہ بھی خوش۔
    مانو یا نہ مانو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)