Daily Archives: April 25, 2009

یہ میں نہیں کہتا

جو کچھ وطنِ عزیز کے قبائلی علاقوں میں ہوتا آیا ہے اُس کے متعلق میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہوں اور اِن شاء اللہ جلد پوری صورتِ حال کا مختصر جائزہ اپنے مشاہدات کی روشنی میں لکھوں گا ۔ جو بات میری سمجھ میں نہیں آتی یہ ہے کہ الطاف حسین اور اُس کے چیلوں کو صوبہ سرحد اور پنجاب کی فکر کھائے جا رہی ہے لیکن جہاں اُس کا ایک چیلا گورنر اور باقی چیلے وزراء ہیں اور رہائش پذیر ہین وہا حالات ابتر ہیں ۔ اور کراچی کو طالبان نے گھیر لیا کا شور مچا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ کسی نے نہ دیکھا اور نہ سُنا ۔

یہ میں نہیں کہتا ۔ کل سارے کراچی میں شور تھا جو میرے کانوں تک بھی پہنچا جس کا خلاصہ یہ ہے

سہیل ظاہر خٹک جمعہ کی شام گاڑی کھاتہ کے علاقے میں واقع ایک پرنٹنگ پریس کے باہر بیٹھا ہوا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اُسے فوری طور پر سول اسپتال لے جایا گیا جہاں بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اسپتال کے سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑکے مطابق مقتول کے سر میں گولی لگی تھی۔ مرحوم سلطان آباد کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق سہیل پر حملے کی خبر پھیلتے ہی تقریباً 3 سے 4 سو افراد سول اسپتال پہنچ گئے جنہوں نے وہاں شدید توڑ پھوڑ کی۔ ڈاکٹرز کو مارا پیٹا جس سے وہ خوفزدہ ہو کر ایمرجنسی وارڈ چھوڑ چلے گئے

پی ایس ایف کے مذکورہ کارکن کی ہلاکت کے بعد لیاری، لی مارکیٹ، کھارادر، کھڈا مارکیٹ، سلطان آباد، آرام باغ، ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، مائی کلاچی، روڈ، سلطان آباد اور دیگر علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع کر دیا، فائرنگ کی زد میں آکر بہار کالونی میں حمید اللہ، رنچھوڑ لائن میں حبیب اور کھڈا مارکیٹ میں مستان شاہ نامی شخص زخمی ہوگئے۔ جبکہ ہنگامے کے سبب متاثرہ علاقوں میں رات گئے تک کھلنے والے بازار اور دکانیں بند ہوگئیں۔ جبکہ لوگ خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

طارق راحیل صاحب متوجہ ہوں

جب بھی میں آپ کے بلاگ پر اوپن آئی ڈی منتخب کر کے اپنے بلاگ کا یو آر ایل لکھ کر تبصرہ شائع کرتا ہوں تو مندرجہ ذیل لکھا آتا ہے

We’re sorry, but we were unable to complete your request.
When reporting this error to Blogger Support or on the Blogger Help Group, please:
Describe what you were doing when you got this error.
Provide the following error code and additional information.
bX-5q5qoz

میں ایک بار اپنی بہت پرانی گوگل کی آئی ڈی کے ساتھ اور ایک بار گوگل کے بعد والی مگر پھر بھی پرانی آئی ڈی کے ساتھ تبصرہ کر چکا ہوں ۔ میں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ متعلقہ خرابی دور کر دیں مگر ۔ ۔ ۔
کل میں نے گوگل اور ورڈ پریس دونوں کے ساتھ کوشش کی تو لکھا آیا ۔

This is not your ID

قدراداں کہاں ؟

یہ گیت چار پانچ دہائیاں قبل لکھا گیا تھا مگر جتنا آج ہمارے معاشرے پر چُست ہوتا ہے اتنا اُن دنوں نہ تھا

محبتوں کے قدر داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں
حقیقتوں کے پاسباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

کِیا کئے تمام عُمر ۔ ہم وفا کی آرزُو
ملے دِلوں کے راز داں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

زمین و زر کے حُکمراں ۔ ملے ہمیں گلی گلی
مگر دِلوں کے حُکمراں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں

بَن کے جو صدائے دِل ۔ زندگی سنوار دے
وہ اِک نگاہِ مہرباں ۔ نہ شہر میں نہ گاؤں میں