کراچی کے طالبان ۔ 3

بروز بُدھ بتاریخ 29 اپریل
نارتھ کراچی میں زرینہ کالونی میں صبح دو گروپوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے لوگ مورچہ بند ہوگئے اور ایک دوسرے پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے رہے ۔ فائرنگ کے باعث علاقہ خوفناک آوازوں سے گو نجتا رہا ۔ زرینہ کالونی میں دو طرفہ فائرنگ سے محمد شاہد ۔ محمد خلیل۔ جمعہ خان اور دوست علی ہلاک ہوگئے ۔ ان ہلاکتوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا اور نامعلوم مسلح افراد نے موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر رکشے والوں ۔ ٹھیلے والوں اور د کانداروں کو گولیوں کا نشانہ بنایا ۔

نامعلوم مسلح افرا د کی فائرنگ سے سچل رینجرز کا صوبیدار ذوالفقار ڈوگی ۔ خواجہ اجمیر نگری کا سب انسپکٹر معین الرحمن اور پی سی سجاد زخمی ہوگئے جبکہ خواجہ اجمیر نگری کے علاقے میں فائرنگ سے سوہنی خاتون ۔ یاسر ۔ رحیم ۔ عامر ۔ محمد سلیم ۔ محمد امیش ۔ 12 سا لہ اقراء اور 5 سا لہ مقصود زخمی ہوگئے ۔ شرپسندوں نے شا ہ فیصل کالونی میں محمد دین کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا جو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ اس پر لوگوں نے علاقے کی دکانیں بند کرادیں اور گاڑیوں پر پتھراؤں کیا ۔ گلستان جوہر میں نامعلوم افراد نے منی بس کے ڈرائیور راج ولی کو گاڑی سے اتا ر کر گولی مار کر ہلاک کردیا اور منی بس کو نذرآتش کردیا اور پرفیوم چوک پر ایک ہوٹل کو آگ لگادی ۔ اس و قت فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا ۔ مختلف فلیٹوں کی چھتوں سے بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔

نیو کراچی صنعتی ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے دو رکشوں کو روک کر ڈرائیوروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ نارتھ ناظم آباد جے بلاک میں مکئی کے دانے فروخت کرنے والے نو جوان کو موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا جو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ سرجانی ٹاؤن میں نامعلوم افرادنے فائرنگ کرکے وحید اللہ ۔ سلیم خان ا ور پھل فروش زمرد خان کو زخمی کردیا ۔ نامعلوم مسلح افراد نے پھل فروشوں کی دکانوں کو نذرآتش کردیا ۔ سرسید ٹاؤن کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے منی بس پر فا ئرنگ کی جس سے ڈرائیور ہلاک ہوگیا ۔ گاڑی کو آگ لگادی گئی ۔ اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے ہوائی فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلادیا اور فائرنگ کی جس سے 5 افراد فتح جان ۔ خیر خان ۔ رکشا ڈ رائیور آدم خان اور ایک راہگذر زخمی ہوگیا ۔ کئی ٹھیلوں کو نامعلوم مسلح افرا د نے آگ لگادی ۔

عباسی شہید اسپتال میں فائرنگ سے ہلا ک کئے جا نے والوں کی 13 اور جناح اسپتال میں12 لاشیں لائی گئیں جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر افر اد کی لاشیں مختلف اسپتالوں میں لائی گئیں ۔ مختلف علاقوں میں خدا بخش ۔ شا ہ خا لد ۔ ظہور شاہ ۔ انور، موسیٰ خان ۔ ز ر گل ۔ 9 سالہ تعاون خان ہلاک ہو ئے ۔ پیالہ ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 30 سالہ شخص ہلا ک ہوگیا ۔ کورنگی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے طوری خان کو زخمی کردیا اور موٹر سائیکل چھین لی ۔

سرجانی ۔ نیو کراچی ۔ نارتھ ناظم آباد ۔ اورنگی ٹاؤن ۔ پیر آباد ۔ کورنگی ۔ حیدری ۔ ناظم آباد ۔ کورنگی ۔ گلستان جوہر ۔ گلشن اقبال ۔ پاک کالونی ۔ بفرزون ۔ لیاقت آباد ۔ سائٹ ۔ شاہ فیصل کالونی ۔ اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے بسوں ۔ منی بسوں ۔ ٹرکوں ۔ سوزوکیوں ۔ موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا ۔

بُدھ 29 اپریل اور جمعرات 30 اپریل کی درمیانی رات

کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا ۔ کراچی میں مختلف علاقوں میں رات گئے آتشزدگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں ۔ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے منگھوپیر میں واقع فیکٹری ۔ گلشن اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب دکان ۔ شاہ فیصل کالونی میں رنگ ساز کی دکان اورگارڈن فوارہ چوک پر ایک مسافر بس کو آگ لگا دی

نامعلوم = یہ اُس گروہ کے لوگ ہیں کہ اگر اخبار والے اس کی نشاندہی کر دیں تو اُن کا دفتر اور اپنی جانیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں ۔ ان کی کچھ تشریح اس ضرب المثل سے ہوتی ہے “بغل میں چھُری ۔ منہ میں رام رام ”

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “کراچی کے طالبان ۔ 3

  1. shaper

    آپ کے پروپگنڈے سے لگتا ھے کے آپ سرکارئ ملازم رھے ھئں

  2. نعمان

    اس قدر بے سروپا الزامات؟‌

    میں‌ اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں‌ کہ کراچی میں‌ پختونوں‌ اور اردو بولنے والوں‌ کو لڑانے کی سازش ہورہی ہے۔ لیکن آپ تو اس کا الزام متحدہ کو ہی دیں‌ گے۔ جیسے آپ دنیا کہ تمام برائیوں‌ کا ذمہ دار یہودیوں‌ کو ٹہراتے ہیں۔

    اگر آپ صرف ہلاک ہونے والوں‌ کے ناموں‌ پر ہی غور کریں‌ تو معلوم ہوجائیگا کہ کس لسانی گروہ کے افراد زیادہ ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرجانی ۔ نیو کراچی ۔ نارتھ ناظم آباد ۔ اورنگی ٹاؤن ۔ پیر آباد ۔ کورنگی ۔ حیدری ۔ ناظم آباد ۔ کورنگی ۔ گلستان جوہر ۔ گلشن اقبال ۔ پاک کالونی ۔ بفرزون ۔ لیاقت آباد ۔ سائٹ ۔ شاہ فیصل کالونی ۔ اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے بسوں ۔ منی بسوں ۔ ٹرکوں ۔ سوزوکیوں ۔ موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا ۔

    ان میں‌ سے اکثر علاقوں‌ میں‌ اردو بولنے والے رہتے ہیں۔ ایم کیو ایم اپنے ہی ووٹروں‌پر فائرنگ کررہی تھی؟‌

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    میں آپ سے پہلے بھی درخواست کر چکا ہوں کہ مطالعہ کے بغیر نہ لکھا کریں ۔ آپ کی اطلاع کیلئے میں نے یہودیوں کے خلاف کبھی نہیں لکھا ۔ آپ میرے انگریزی کے بلاگ پر نوم چومسکی کے مضامین سے اقتباسات دیکھ سکتے ہیں اور نوم چومسکی کٹڑ یہودی ہے ۔ میں نے بنی اسرائیل کی تاریخ لکھی جو قرآن شریف میں موجود ہے ۔ صیہونیوں کی تاریخ لکھی جو اظہر من الشمس ہے ۔ اگر ان پر آپ کو اعتراض ہے تو کرتے رہیئے ۔ میں یا آپ حقائق کو نہیں چھُٹلا سکتے ۔
    جہاں تک کس علاقے میں کون رہتا ہے کی بات ہے تو آپ کا یہ استدلال ہے کہ جس علاقے میں ایم کیو ایم کی بھاری اکثریت ہے وہاں ایم کیو ایم والے مریں گے ۔ وہاں جا کر اُن کو مارنے کی جرءت کون کرے گا ۔ اس مین کوئی شک نہین کہ فساد دو گروہوں نے برپا کیا جن میں ایک طرف ایم کیو ایم کے مجاہد اور دوسری طرف کہیں پختون اور کہیں دوسے تھے ۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی دارلحکومت ہے صوبہ سندھ کا اور صوبے میں حکومت ہے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی اور گورنر ایم کیو ایم کا ایسا لیڈر ہے جو الطاف حسین کے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ کراچی شہر میں ایم کیو ایم کی حکومت ہے ۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے ایسے واقعات ہوتے ہی کیوں ہین ۔ اتنا خون طالبان نے سوات اور دوسرے قبائلی علاقوں میں نہیں بہایا جتنا حکومت کی ناک کے نیچے صرف کراچی میں ایک ماہ میں بہا دیا گیا ہے اور پھر آپ لٹھ لئے طالبان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ میں نے یہ تحاریر لکھی ہی آپ کراچی والوں کو حقیقت دکھانے کیلئے ہین ۔ خود ننگا ہو اور دوسرے کو کہے کہ تم قمیض نہیں پہنتے ۔ عقلمندی نہیں ہے

  4. منیر عباسی

    یہ بہت پرانی عادت ہے ان لوگوں کی۔ دوسروں کو مار کر پھر خود ہی نوح خوانی شروع کر دیتے ہیں۔

    کیا پاکستان میں صرف ایک نصیراللہ بابر پیدا ہوا ہے؟

  5. چودھری حشمت

    السلام علیکم۔
    اگرچہ کہ اپ کے کالم پہلے بھی پڑھتا رہا ہوں، مگر پہلی دفع اپنا تبصرہ شامل کررہا ہوں۔ اپکی باتیں اپنی جگہ مگر دل کو لگتی باتیں خاوردی ہیں۔
    اپ لوگ اخر ایم کیو ایم سے اتنا پرشان کیوں ہو۔ ان کی حیثیت ہی کیا ہے۔ کیا پنجاب میں وہ داخل ہوسکتے ہیں ۔ یارو ہم نے کیا کبھی ان کو یا ان کے کسی نماندے کو ووٹ دینے ہیں ۔
    رہی مار کاٹ تو ہم جب چاہیں گے انہیں سمندر میں دھکیل دیں گے ویسے بھی کراچی کی اب ساری پھاڑیوں پر ہمارا قبضہ ہے اور پورا کراچی ہماری نوک پر ہے۔ پرشان ہونے کی کوئ ضرورت نہیں۔ جب ضرورت ہوئی انا نوں پس کہ رکھ دیں گے ۔ حالی کروڑاں نصراللہ بابرباقی نے۔

  6. چودھری حشمت

    جناب اجمل صاحب اور نعمان صاحب۔
    میرا اوپر کا پہلا تبصرہ خالصتا ایک خاص سونچ سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ میں ایسا ہی سنتا رہتاں ہوں کہ کراچی میں ہمارے ہی لوگ مارے جاتے ہیں صرف پنجابی اور پٹھان (انسان) ۔ مگر نعمان صاحب کی تحریر سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں کیڑے مکوڑے بھی مرتے ہیں ، ویسے کیڑے مکوڑوں کی اتنی حثیت نہیں ہونی چاہیے کہ ان پرواہ کی جائے۔
    یہ ہے میری سچی سونچ جسے ہم بلاوجہ چھپا کر ادھر اودھر کا واویلا کرتے ہیں۔ شاید ہوسکتا ہے کہ اس دفع ہمارا اسکور کچھ کم رہ گیا ہو، کوئی بات نہیں اگلی دفع برابر کر لے گیں۔ انسان کی حثیت کیا ہے، یہ سب نمبر گیم ہے۔ دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس سیاسی قد کم کرنے کا۔ کسی کے باپ، بھائی یا بیٹے کے مرنے سے ہمیں کیا فرق پڑنے والا۔ ویسے بھی نصیر اللہ بابر نے ایک ایک گھر کے چار چار بیٹے اسکی ماں اور بہنوں کے سامنے مروائے تھے ظاہر ہے کہ ہمارا ھیرو تو وہی ہوسکتا ہے۔ ویسے اور تھوڑے دنوں کی بات ہے قبرمیںتو اس بھی جانا ہے۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    چوہدری حشمت صاحب
    تبصرہ کا شکریہ ۔
    یہ تحاریر لکھنے کا صرف ایک مقصد تھا کہ صوبہ سرحد کے قبائلیوں کے پیچھے سب ہاتھ دھو کر پڑے ہیں کہ مار گئے مار گئے جبکہ کراچی جیسے تعلیم یافتہ شہر میں طُلم کو روکنے والا کوئی نہیں ۔
    رہا نصراللہ بابر تو وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل تھا اور کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور ان کے ساتھی ایم کیو ایم والے ہیں

  8. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    یارو!
    یہ چوہدری حشممت تو مجھے کوئی فرضی کردار لگتا ہے نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح کے لب و لہجہ میں یہ صاحب کسی دوسرے نام سے بھی لکھتے آئے ہیں۔

    جناب چوہدری صاحب!
    نہ تو ہمیں ایم کیو ایم سے دشمنی ہے اور نہ ہی کراچی کے کسی طبقے سے خار ہے۔ اور نہ ہی ہم کراچی کے مہاجرین کی پاکستان میں پیدا ہوئی آل اولاد یا اہل اردو سے مخاصمت ہے۔ اور ہم تہہ دل سے کراچی اور حیدر آباد کے اہلِ مہاجرین کی اور پاکستان کے تمام طبقوں کی عزت کرتے ہیں۔ اور نہ ہی کبھی کسی عقلمند پنجابی یا پٹھان یا کسی اور طبقے نے اہلِ اردو یا ایم کیو ایم کوحضرات کو سمندر میں دھکیلنے کی بات کی ہے۔ جو بھی اس طرح کی بات کرے گا وہ پاکستان سے غداری کا مرتکب ہوگا۔ اور نہ ہی کراچی میں جاری قتل و غارت اور غنڈہ گردی کی کبھی حمایت کی ہے۔ خواہ اُس میں مارے جانے والے پنجابی، پٹھان، سندھی یا مہاجر یا کوئی اور ہو۔ اسکور برابر کرنا بے غیرت اور بزدل لوگوں کا کام ہے ۔ اور معذرت کے ساتھ اسطرح کی باتیں وہ ہی کر سکتا ہے جو واقعتاً پاکستان میں فتنہ اور فساد دیکھنا چاہے ۔ اور اس طرح کے آدمی کی سوچ بھارت و اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے تابع تو ہوسکتی ہے اور پاکستان سے غداری کے زمرے میں آتی ہے مگر ایک اچھے سچے اور حقیقی پاکستانی کی نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ پنجابی ہو ۔ پٹھان ہو ۔ مہاجر ہو یا اس کا تعلق کسی اور طبقے سے ہو۔

    میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یا کسی کو بھی اگر ایک کیو ایم کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تو محض انکی لیڈر شپ کے کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں سے ہیں کہ وہ پاکستان کے دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ۔ اور ایم کیو ایم کے بارے میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اسکی لیڈر شپ نے اس جماعت کی پرورش اپنے ذاتی مفادات کی خاطر خالص لسانی بنیادوں پہ کی ہے۔ اور دوسرے غیر لسانی طبقوں کے خلاف نفرت کی بے جا آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔جس طرح موصوف آج کل بیرونی اشاروں پر طالبان طالبان کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں ۔ اور خالص لسانی بنیادوں پہ مافیا طرز پہ بھرتی کیے گئیے غنڈوں سے کراچی میں امن و عامہ کو بگاڑ کے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر کے موصوف اور اُن کے چند چیلے اسے طالبان کی کاروائیاں قرار دے کر پاکستان دشمنوں کی کی پاکستان کے خلاف موجودہ منصوبہ بندی میں اپنا سا حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جس شاخ پہ بیٹھے ہے اسی کو کاٹنے کی فکر میں ہیں۔

    ہمارا یہ بھی کہنا ہے کو جو لوگ اپنی فہم و فراست سے دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھتے ہیں وہ لوگ پاکستان کی حفاظت کرنے والے انشاءاللہ پاکستان کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ اور ان میں مہاجر، پنجابی ، بلوچی ، مکرانی ، سرائیکی۔ پٹھان، سندھی سبھی یک جان شامل ہیں۔ اور اس میں کسی لسانی گروہ کی تخصیص نہیں۔ اور خود ایم کیو ایم کے جھانسے یا دھونس میں آنے والے عام عوام بھی یہ بات سمجھ رہے ہیں کہ خود تو یوروپ میں بسنے والی برطانوی شہریت کے حامل لوگوں کا کیا جائے گا ۔ انکا کیا بگڑے گا۔ جبکہ خون اگر بہا تو وہ کراچی یا پاکستان میں بہے گا ۔ نقصان اگر کوئی ہوا تو وہ کراچی یا پاکستان میں بسنے والے عام پاکستانیوں کا ہوگا خوا ہ وہ کسی بھی صوبے یا لسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔

    چوہدری حشمت صاحب!
    آپ کے لہجے سے مہاجر پنجابی یا پٹھان مہاجر وغیرہ کی تقسیم کی بُؤ آتی ہے۔ اور جو بھی اس طرح کی بات کر گا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)