قومی تعلیمی پالیسی اور لفافہ

لفافہ چِٹھی یا اجناس ڈالنے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور از خود اسے خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی ۔ اصل اہمیت اس چِٹھی یا جنس کی ہوتی ہے جو لفافے کے اندر ہوتی ہے ۔ اسی لئے بے عِلم یا بے عمل آدمی کو بھی لفافہ کہا جاتا ہے ۔ ہماری بار بار عوام دوست اور ترقی پسند ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت ایک لفافہ قسم کی قومی تعلیمی پالیسی وضح کر کے قوم کے بچوں کو لفافہ ہی بنانا چاہتی ہے

موجودہ حکومت نے دس سالہ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کا مسؤدہ تیار کیا ہے جو بُدھ 8 اپریل 2009ء کو کابینہ کے سامنے منظوری کیلئے پیش ہونا تھی لیکن پیش نہ ہو سکی کیونکہ کئی وزراء اس کا مطالعہ کر کے نہیں آئے تھے ۔ اب اسے کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔

قومی تعلیمی پالیسی 1999ء کی جو شِقات مجوزہ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے مسؤدہ میں موجود نہیں ہیں
قومی تعلیمی پالیسی 1999ء کا باب نمبر 3 جو خالصتاً اسلامی تعلیم کیلئے مختص ہے

قومی تعلیمی پالیسی 1999 ء میں ” اغراض و مقاصد“ کی دفعات جس کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے ریاست پوری کوشش کریگی کہ
الف ۔ قرآن کریم اور اسلامیات کو لازمی کرےا
ب ۔ عربی زبان سیکھنے کیلئے سہولت فراہم کرے اور حوصلہ افزائی کرے
ج ۔ قرآن کریم کی بالکل ٹھیک اور درست اشاعت و طباعت کرنے کا بندوبست کرے
د ۔ اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابندی اور اتحاد کو فروغ دنے کا بندوبست کرے

قومی تعلیمی پالیسی 2009 ء کے مسؤدہ میں سے 1999ء کی پالیسی کی جو اولین بات غائب ہے

قرآنی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کو نصاب کا جزلاینفک بنانا کہ [الف] قرآن کریم کے پیغام کو تعلیم و تربیت کے عمل میں فروغ دیا جا سکے [ب] پاکستان کی مستقبل کی نسلوں کی ایک سچے باعمل مسلمان کے طور پر تعلیم و تربیت کی جائے ۔ تاکہ وہ نئے ہزاریئے [millennium] میں حوصلے ۔ اعتماد ۔ دانش اور متحمل ہو کر داخل ہو سکیں

قومی تعلیمی پالیسی کا باب 3 جو قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے مسودے سے مکمل طور پر غائب ہے وہ اسلامی تعلیم کیلئے مختص تھا ۔ اس حذف کئے جانے والے باب میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے لہٰذا ملک کی تعلیمی پالیسی میں اسلامی نظریئے ۔ قرآن و سنت کی تعلیم کو محفوظ بنانا اور فروغ دیا جانا چاہیئے

قومی تعلیمی پالیسی 1999ء کم از کم 45 شقوں پر مشتمل ہے جس میں تفصیل سے اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ
الف ۔ پاکستان کے مسلمان کو کس طرح تعلیم دی جائے کہ وہ باعمل مسلمان بن سکیں اور اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں
ب ۔ پاکستان سیکولر ریاست نہیں ہے لہذا اس کا تعلیمی نظام لازمی طور پر اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیئے

اسی باب میں جو 2009ء کی قومی تعلیمی پالیسی کے مسؤدہ سے حذف کر دیا گیا ہے اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ طالب علم کو کس طرح قرآن کی تعلیم دی جائے گی اور اس کے لئے حکمت عملی بھی تجویز کی گئی ہے

موجودہ وزارت تعلیم کے ترجمان کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2009 ء کے مسؤدے پر بنیادی کام جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت میں اس پر ایک مرتبہ وفاقی اور تین صوبوں کے وزراء تعلیم نے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ [پنجاب کے وزیر تعلیم جو اس وقت صوبے میں موجود تھے کو مدعو نہیں کیا گیا تھا] ۔ ترجمان کے مطابق ان تین صوبوں نے اسلامی شقوں اور قومی تعلیمی پالیسی 1999ء سے اسلامی تعلیم کے مکمل باب کو نکالنے پر اعتراض نہیں کیا تھا

قومی تعلیمی پالیسی 1999ء درست اسلامی تعلیم کی راہ متعین کرنے والی تمام شِقات حذف کر کے مجوزہ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے باب نمبر 2 ” انتہائی اہم چیلنجز اور ان کا جواب “ میں ایک اسلامی شق شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” قومی تعلیمی پالیسی اسلامی اقدار کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور اس سلسلے میں اتفاق کئے گئے اصولوں پر کاربند ہے ۔ پالیسی میں تمام تر مداخلت 1973 ء کے آئین پاکستان کی دفعہ 29، 30، 33، 36، 37 اور 40 میں طے کردہ پالیسی کے اصولوں کے دائرہ کار کے اندر ہی رہے گی ۔ اس میں مسلمان بچوں کیلئے اسلامیات میں ہدایات فراہم کرنے کی ضرروت بھی شامل ہے تا کہ انہیں خود کو اچھا مسلمان بننے کے قابل بنایا جا سکے ۔ اسی طرح اقلیتوں کو بھی ان کے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں“

مجوزہ پالیسی میں اس تکلّف کی ضرورت بھی کیا تھی ؟ کون کرے گا ؟ کس طرح کرے گا ؟ کہاں کرے گا ؟ یہ کون بتائے گا ؟
ہر وہ شخص جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے اتنا تو جانتا ہے کہ اُسے اسلامیات پڑھنا ہے لیکن آج تک جو مسئلہ ہموطنوں کو درپیش ہے وہ قرآن شریف کی درست تعلیم اور مسلمان ہونے کی حیثیت میں درست تربیت کا ہے جس کا بندوبست پورے ملک میں کہیں نظر نہیں آتا

قومی تعلیمی پالیسی 1999ء [جس میں تعلیمی طریقہ کار کو پاکستان کے آئین میں دی گئی دفعات کے تحت ترتیب دیا گیا تھا] پر نواز شریف حکومت نے عمل شروع کر دیا تھا ۔ تاہم زیادہ پیش رفت نہ ہوسکی تھی کیونکہ 12 اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے مارشل لاء لگا کر اس پر عمل روک دیا تھا ۔ پھر امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے روشن خیال اعتدال پسندی [Enlightened Moderation] کے نام سے نئی تعلیمی پالیسی تیار کروائی تھی جس کی منظوری سے قبل ہی سالہا سال سے مروج اسلامیات کی کُتب سے جہاد اور یہود و نصاریٰ کے متعلق آیات حذف کر دی گئی تھیں ۔ اس پر والدین کی طرف سے شدید احتجاج کے باعث پرویزمشرف کی مجوزہ پالیسی منظوری کیلئے کابینہ کو پیش نہ کی گئی تھی سو اب موجودہ حکومے یہ سہرا اپنے سر پر سجانے کیلئے تیار ہے

Reality is Often Bitter – – http://iabhopal.wordpress.com

– – حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے

This entry was posted in خبر, ذمہ دارياں, سیاست, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)