بقیہ ۔ بنیادی مجرم کون ؟

ہند کے مسلمانوں کی اکثریت کسی کا بھی غلام بننے پر نفسیاتی طور پر تیار ہو چکی تھی کہ مولانا الطاف حسین حالی کو فکر ہوئی اور اُنہوں نے عرضداشت شروع کی ۔ مسلمانوں نے انگڑائی لی مگر جاگ نہ پائے ۔ پھر مولانا شوکت علی نے یہ جھنڈا اُٹھایا جس کے بعد اُن کے چھوٹے بھائی محمد علی جوہر اور فرزندِ سیالکوٹ محمد اقبال نے اپنے خطوط ۔ تقاریر اور کردار سے قوم کو جاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اُن دونوں نے ہند میں کانگرس کی سیاست سے تنگ آ کر برطانیہ واپس گئے ہوئے محمد علی جناح کو قائل کیا کہ آپ کی ہند کے مسلمانوں کو ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے واپس آ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور اپنی بے لوث انتھک محنت سے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی

پاکستان بنا تو سب پاکستانی سینہ تان کر چلتے ۔ اپنے مُلک پر فخر کرتے اور اس کی ترقی کیلئے محنت سے کام کرتے تھے ۔ اِن میں مقامی بھی شامل تھے اور وہ بھی جو اپنا گھربار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے ۔ قائداعظم کی وفات کا قوم کو جھٹکا تو لگا مگر محنت اور حُب الوطنی میں فرق نہ آیا ۔ پھر پہلے وزیرِاعظم کے قتل کے بعد قوم ابھی سنبھل نہ پائی تھی کہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی منتخب کردہ اسمبلی غلام محمد نے توڑ دی ۔ غلام محمد اور اس کے بعد سکندر مرزا کے پُتلی تماشہ سے تنگ آ کر 1958ء میں ایک پختون عبدالقیوم خان نے قوم کو پکارا ۔ سوجھ رکھنے والے اہلِ وطن نے لبیک کہا اور عبدالقیوم خان نے پشاور سے لاہور تک 6 میل لمبا جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پشاور سے جلوس روانہ ہوا اور جہلم پہنچنے سے پہلے ہی 20 میل سے زائد لمبا ہو گیا ۔ سکندر مرزا گھبراگیا اور مارشل لاء لگا دیا

اس مارشل لاء کے دوران معاشی حالات 1965ء کے آخر تک ٹھیک رہے ۔ لوگوں کو آسانی سے دو وقت کی روٹی ملنے لگی ۔ پیٹ بھر گئے تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جگڑنے لگے ۔ آپریشن جبرالٹر کی غلط معلومات پر مبنی تشہیر نے عوام میں غلط جذبات کو جنم دیا اور ناکامی کے نتیجہ میں لوگ حکومت پر اعتماد کھو بیٹھے اور چینی کی قیمت میں 9 فیصد اضافے کی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے ۔ مارشل لاء پھر آ گیا

عوامی دور آیا اور پرچی ایجاد ہوئی اور معاملہ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” تک پہنچ گیا ۔ صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے اور وہاں حُکمران جماعت کے کارکنوں کی بھرتی کے نتیجہ میں صنعتکار اپنا پیسہ مُلک سے باہر لے گئے اور عوام روزگار کی تلاش میں مُلک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ دساور سے کمایا پیسہ معیشت کیلئے بہت کم استعمال ہوا ۔ زیادہ تر فضولیات میں اُڑا دیا گیا جن میں وی سی آر ۔ میوزک ڈیک اور دوسری دکھاوے کی اشیاء کے علاوہ شادی کی کئی کئی دن بڑی بڑی دعوتیں شامل ہیں ۔ کچھ لوگ امیر اور مُلک غریب ہو گیا ۔ 1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کو گولی کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی ۔ دو تین روز کی کاروائی کے بعد لاہور پولیس کی حُب الوطنی جاگ اُٹھی اور اُس نے کاروائی سے انکار کیا ۔ فوج بلائی گئی جس کی صرف ایک کاروائی کے بعد کاروائی کے سربراہ بریگیڈیئر نے کور کمانڈر کے سامنے اپنے بِلے اور پیٹی رکھتے ہوئے کہا “میں اپنے بھائیوں کی حفاظت کیلئے بھرتی ہوا تھا ۔ اُن کے قتل کیلئے نہیں”
دوسرے شہریوں کو دیکھتے ہوئے فوجیوں نے بھی مال بنانا شروع کیا اور وہ منہ زور ہو گئے ۔ عدالتوں کو لیٹرل اَینٹری [lateral entry] کی کھاد پہلے ہی پڑ چکی تھی ۔ معاشرے کی درستگی کرنے والے ناپید ہو گئے ۔ سیاستدانوں کے جھوٹے نعروں اور دوغلے کردار نے “سونے پر سہاگہ” یا زیادہ موزوں ہو گا ” ایک کریلہ دوسرے نیم چڑھا” کا کام کیا ۔ پھر ایک ڈکٹیٹر نے نہ صرف قوم کے فرزندوں کے خون سے ہاتھ رنگے بلکہ سینکڑوں کو ڈالروں کے عِوض بیچ دیا ۔ لوٹ مار اتنی بڑھی کہ سمجھ سے باہر ہو گئی

قوم کو بھُلانا نہیں چاہیئے تھا خان عبدالقیوم خان کو جس نے اپنے وقت کے ڈکٹیٹر کے خلاف آواز اُٹھائی اور قید و بند جھیلی ۔ لاہور کے اُن تھانیدار اور بریگیڈیئر کو جنہوں نے اپنی قوم پر گولی چلانے کی بجائے ملازمت سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی ۔ مگر قوم کی کوتاہ اندیش اکثریت نے صرف اتنا خیال رکھا کہ مال کتنا اور اکٹھا کرنا ہے ۔ قوم غلط راہ پر آگے بڑھتی گئی اور قومی جذبہ اور احساسِ زیاں کھو بیٹھی ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو ملک کے وزیرِاعظم کو جبری ہٹا دیا گیا لیکن قوم سوئی رہی

دین سے بیگانہ قوم نے جاہلانہ رسم و رواج میں گُم ہو کر اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں میں کیڑے نکالنا شغف اپنایا اور نتیجہ میں ہونے والی اپنی بربادی کا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا ۔ کچھ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے والے اور آگے بڑھے اور قائداعظم میں کیڑے نکانے شروع کئے اور اپنے ہاتھوں تیار کردہ جہنم کو دین کی قباحت قرار دیا ۔ چار دہائیاں قبل بے معنی مباحث کی جگہ حجام کی دُکان ہوا کرتی تھی ۔ قوم پٹڑی سے اُتر گئی اور ہر محفل لاحاصل مباحث کا مرکز بن گئی ۔ دین اور مُلک کے آئین و قانون کی خلاف ورزی روز کا معمول بن گئی ۔ یہ کسی قوم کے زوال کی آخری نشانی ہوتی ہے

حکومت نے اُس علاقہ میں جہاں کبھی بھی مُلک کا آئین نافذ نہیں کیا گیا تھا امن قائم کرنے کیلئے 15 سال پرانا عدل ریگولیشن نافذ کرنے کی منظوری دی تو 1500 کلو میٹر دُور بیٹھے لوگوں نے طوفان مچا دیا ۔ ریاست کے اندر ریاست کا شور مچانے والے اتنا بھی نہیں جانتے کہ اُن کے پسندیدہ مُلک امریکہ میں مختلف علاقوں کے قوانین مختلف ہیں جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم جنس پرستی جو اُن کے مذہب کے مطابق بھی گناہِ کبیرہ ہے وہ کسی علاقہ میں جُرم ہے اور کسی میں قانون کے عین مطابق

اگر ہماری قوم کی اکثریت سرد مہری ۔ بے حِسی یا بیوقوفانہ خودغرضی کا شکار نہ ہوتی تو کوئی ڈکٹیٹر مُلک پر قبضہ نہیں کر سکتا تھا اور نہ کوئی مُلک خواہ امریکا ہی ہو ہمارے مُلک میں مداخلت تو کیا اس کی طرف بُری آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اسی سرد مہری ۔ بے حِسی اور خودغرضی کی وجہ سے ہماری قوم نے مشرقی پاکستان گنوایا تھا اور باقی کو اس حال میں پہنچایا جہاں آج ہے ۔

ریاستہائے متحدہ امریکا کے بانیوں میں سے ایک بنجامِن فرینکلِن [Benjamin Franklin] سے 1787ء میں کسی نے پوچھا “آپ نے ہمیں کیا دیا ہے؟” اُس نے جواب دیا “جمہوریت ۔ اگر آپ لوگ اسے سنبھال سکیں” ۔ ہماری قوم کو قائداعظم نے ایک مُلک اور جمہوریت زبردست سیاسی قوت کے ساتھ دی تھی ۔ آدھی صدی میں ہم نے اُس کا جو حال کر دیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ جمہوریت مضبوط اداروں کی بنا پر ہوتی ہے اور اداروں کو فعال رکھنے کیلئے مسلسل جد و جہد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر گھر یا دفتر میں بیٹھے اداروں کی صحت کی سند جاری کر دی جائے تو ادارے انحطاط کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اداروں کے اصل محافظ عوام ہوتے ہیں ۔ ایک فرانسیسی مفکّر [Montesquieu] نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں کہا تھا ” بادشاہت میں ایک شہزادے کا ظُلم و تشدد عوامی بہبود کیلئے اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا جمہوریت میں ایک شہری کی سرد مہری

مئی 2006ء میں ایک نوجوان سیّد عدنان کاکا خیل اُٹھا اور اسلام آباد کے کنوینشن سینٹر میں مُلک کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو آئینہ دکھا دیا ۔ فروری 2007ء میں اس کی وڈیو کی سی ڈی راولپنڈی بار میں پہنچی اور وکلاء نے بار بار دیکھی ۔ مارچ 2007ء میں پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معطل کیا تو راولپنڈی کے وکلاء کی حُب الوطنی جاگ چکی تھی چنانچہ وکلاء کی تحریک شروع ہوئی جو دو سال زندہ رکھی گئی

قوم کو مرہونِ منت ہونا چاہیئے سیّد عدنان کاکا خیل کا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کا جس نے ایک باوردی ڈکٹیٹر کے سامنے جھُکنے سے انکار کیا اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلیں اور اُن وکلاء کا جنہوں نے اپنی روزی پر لات مار کر ۔ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک عمدہ تحریک چلائی ۔ قوم کو شکرگذار ہونا چاہیئے اُن درجنوں بوڑھوں کا اور سینکڑوں جوانوں کا جنہوں نے تمام پابندیوں کو توڑ کر اور 200 اشک آور گیس کے گولے برداشت کرکے لاہور جی پی او چوک پر پورا دن احتجاج کیا ۔ قوم کو آفرین کہنا چاہیئے اُس سپرنٹنڈنٹ پولیس گُوجرانوالا کو جس نے غیر قانونی حُکم ماننے سے انکار کیا ۔ قوم کو مشکور ہونا چاہیئے اُس مجسٹریٹ کا جس جی پی او چوک لاہور پر احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کے غیر قانونی حُکم کو ماننے سے انکار کیا ۔ میاں نواز شریف کو بھی کچھ تو داد دینا چاہیئے جس نے اپنی جان داؤ پر لگا غیرقانونی نظربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کا حصار توڑا اور جلوس کی سربراہی کر کے اُسے کامیاب بنایا ۔ اللہ کی کرم فرمائی ہے کہ ابھی اس قوم میں زندگی کی رمق باقی ہے ۔ سچ کہا تھا شاعرِ مشرق نے

نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ۔ ابھی تو جمہوریت کے سکول میں داخلہ لیا ہے ۔ بہت سے سبق یاد کرنا اور کئی امتحان دینا باقی ہیں اور اِن شآءَ اللہ کامیاب بھی ہونا ہے

سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔
اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “بقیہ ۔ بنیادی مجرم کون ؟

  1. HAKIM KHALID

    انکل اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    زبردست تجزیہ فرمایا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بنگالی۔۔۔۔۔۔۔ہماری زیادتیوں،حقارت اور تعصب کے باعث ہم سے علیحدہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ مجیب الرحمان ایک کٹر پاکستانی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ڈھاکہ سےکلکتہ تک سائکل پر سفر کر کےتحریک پاکستان کےلیے حمایت اور چندے حاصل کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر وہی پاکستان کو دوٹکڑے کرنے کا باعث بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی کو اپنی میراث اور سلطنت سمجھنے والوں کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔اور کراچی میں باہر سے آکر آباد ہونے والوں کو حقارت اور تنگ نظری سے نہیں دیکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کراچی کے ٹھیکے داروں کو تعصب کی عینک اتارنا ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ “اندر “کی بات ہےکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی کو خود مختار بنانے کی سازش اگر کامیاب ہو گئی تو تصور کیجئے وہ شہر کیسے ہانگ کانگ بن سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔جس میں خونریزی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی عمارتیں کھنڈر بن چکی ہوں گی۔۔۔۔۔خدانخواستہ۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچ قوم پرستوں کی طرح شاید یہ نادان بھی سمجھ بیٹھے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی بڑی طاقتوں کی عنایتوں کا مستحق ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دولت ،عیش و عشرت و کاروبارکا مرکز بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن یہ خام خیالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شیخ چلی کی سوچ ہے یہ پیارے اور نادان دوست اسی شاخ کو کاٹنے کے درپے ہیں جس پر خود بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یاد رکھئے اس نظریے کے تکمیل کی خواہش کراچی کی خود کشی ثابت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی مذکورہ بڑی قوتوں کی کشمکش اور لڑائیوں کااسی طرح میدان کارزار بن جائے گا جس طرح اسوقت افغانستان یا عراق بنا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری داستاں بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن “دل سے” مہاجر کا لفظ ہٹا کر متحدہ کا لفظ اپنا لیا جائے تو وطن عزیز ترقی کی راہ پر نہ صرف گامزن ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ دشمن کے ارادے بھی ملیا میٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش ایسا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نظام عدل تو یحیحی خان کےدور سے پہلےبھی وہاں نافذ تھااور پھر بعض ترمیمات کے ساتھ ۱۹۹۴کے بعد بھی اس پر عمل ہوتا رہااب اگر عوام الناس کی آسانی کےلیےبعض مزید ترمیمات کر کے اسے دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہےتو اس میں کون سی انہونی بات ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ایم کیو ایم نے بھی اس پر خواہ مخواہ آسمان سر پہ اٹھا لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے نظام عدل کے نفاذ سے کوئی آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ نے نعمان بھائی کے بلاگ پر بتایا کہ۔۔۔۔۔۔۔
    فاٹا اور پاٹا کیلئے بنائے گئے کسی بھی قانون کی منظوری صدر کا اختیار ہے ۔اسے(نظام عدل ریگولیشن( اسمبلی میں بھیج کر وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں اس میں کچھ اضافہ اور کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔۔کہ
    نظام عدل ریگولیشن اسمبلی میں بھیج کر نہ صرف وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ بلکہ یہ امید واثق تھی کہ یہ ریگولیشن منظور نہیں ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ صدر محترم کے مشیروں نے انھیں باور کرا رکھا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میاں نواز شریف سے امریکی و برطانوی عہدیداروں اور سفارتکاروں کے قریبی روابط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ انہیں ناراض نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ایم کیو ایم کی حمایت انہیں پہلے ہی حاصل تھی۔۔۔۔۔۔۔۔صدر محترم یہ تصور کیے بیٹھے تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پارلیمنٹ کو زیر احسان بھی کرلیں گے اورقومی اسمبلی سے یہ ریگولیشن بھی منظور نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایک ٹکٹ میں دو دو مزے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیرملکی خفگی کی پرواہ کیے بغیرنواز لیگ نے ان کے خواب چکنا چور کردئے۔۔۔۔۔اب یہ کڑوی گولی ہے۔۔۔۔۔۔۔نہ نگلے بنے۔۔۔۔۔نہ اگلے۔۔۔۔۔۔۔۔

    انکل اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالی ایسے کام ۔۔۔۔۔۔۔یا ۔۔۔۔اپنے کام بعض دفعہ ان لوگوں سے بھی لے لیتا ہےجن سے کسی طور توقع نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ثابت قدم رہنے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نظام عدل کے نفاذ کے سلسلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے این پی کے کارکنان اور لیڈران کوسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. وھا ج الد ین ا حمد

    بس مین اسی کا انتظار کر رہا تھا کوی کہے
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہین بدلی
    نہ ہو جسکو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
    (آپ نے آیت لکھی ھے
    جب تک ھمارے اندر اسلام کا صحیح تصور قائم نہین ہوتا پاکستان کی حالت نھین بدلےگی ہمین ایسے لیڈر کی ضرورت ھے جو ایسی روح پھونک سکے
    مین بھی اسی قسم کی امید لگائےبیٹھا ھون کہ
    ذرانم ھو تو یہ مٹی بھت ذرخیز ھے ساقی

  3. HAKIM KHALID

    وھا ج الد ین ا حمد صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام کا صحیح تصور کیسے قائم ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    اس زرخیز مٹی میں نم لائے گا کون۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    یعنی۔۔۔۔
    یہ لیڈران کرام آئیں گے کہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    فرمان الہی کے مطابق اجتماعی طور پر ہمیں بدلنے کےلیے کرنا کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج احمد صاحب
    مجھے تو مولانا الطاف حسین حالی کی وہ دعا یاد آتی ہے
    اے خاصہ خاصانِ رُسل وقتِ دعا ہے
    اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

  5. ایم بلال

    بہت خوب افتخار اجمل صاحب۔ بڑی فکر انگیز تحریر ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)