کیسی دنیا
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Mar 2009
میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
تیری دنیا میں ایسا کیوں ہے ؟
پیسے والے ہیں سارے عقلمند
میرے جیسے بیوقوف کیوں ہیں ؟
میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
امیروں کا ایسا خیال کیوں ہے ؟
کہ وہ سب تو ہیں پڑھے لکھے
ہر میرے جیسا اَن پڑھ کیوں ہے ؟
میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
یہاں ایسی باتیں کیوں ہیں ہوتی ؟
میں نہ بنوا سکا ایک بھی مکان
ساتھیوں کی ہے ہر شہر میں کوٹھی
میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
دنیا میں یہ کیسی جمہوریت ہے ؟
ملک کے لئے غریب جانیں گنوائیں
امیروں کبیروں کو کرسی سے اُلفت ہے
میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
جمہور پر ٹیکس سے خزانہ بھرتے ہیں
پر جمہور کیلئے بس محنت کی سوکھی روٹی
وزیروں مشیروں کے لئے ہر شے مُفت ہے


۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں

