What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے March 11th, 2009

کیا منافق کے سر پر سینگ ہوتے ہیں ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Mar 2009

منافق کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اُس کے کلام اور عمل میں تضاد ہوتا ہے یعنی جو وہ کہتا ہے اُس کے خلاف کام کرتا ہے ۔ صدر ۔ وزیرِاعظم اور پی پی پی کے وزراء گذشتہ شام تک بیان دے رہے تھے کہ لانگ مارچ اور احتجاج سب کا جمہوری حق ہے ۔ ہم جمہوری لوگ ہیں اس میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے ۔ آج بروز بدھ 11 مارچ 2009ء کی صبح 11 بجے تک کی صورتِ حال یہ ہے

پورے صوبہ پنجاب میں منگل اور بُدھ کی درمیانی رات 12 بجے سے دفعہ144کے نفاذ کے ساتھ ہی چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ 30 اضلاع میں فوج اور 11 میں رینجرز تعینات کئے جا رہے ہیں ۔ بعض اضلاع میں فوج اور رینجرز دونوں تعینات کی جائیں گی ۔ 12 مارچ سے آرمی اور رینجر کا فلیگ مارچ شروع ہوگا ۔ پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں اور وکلا کی اے کلا س لیڈر شپ کی نظربندی جبکہ بی اور سی کلاس کے رہنماوں کو حراست میں لئے جانے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ مختلف شہروں میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کیلئے فہرستیں حکام کو موصول ہوگئی ہیں

روپوش ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم این اے۔ ایم پی اے اور وکلا رہنماؤں کو ان کے موبائل فون سے ٹریس کرنے کے لئے خفیہ اداروں کی مدد لی جارہی ہے

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے لگائے گئے بینرز اور پوسٹرز اتار دیئےگئے ہیں ۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں سمیت معروف شاہراوں پر پولیس نے گاڑیوں کی چیکنگ شروع کردی ہے۔ گاڑیوں کو روک کی انکی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ ارکان قومی اسمبلی بلال یاسین ،چوہدری نصیربھٹہ،سابق صوبائی وزیرچوہدری عبدالغفور،ارکان پنجاب اسمبلی خواجہ عمران نذیراورشمسہ گوہرکی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

رائیونڈ میں مسلم لیگ ن اورجماعت اسلامی کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن کے دوران کئی ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

قصوراورکھڈیاں میں چھاپے مارکرمسلم لیگ(ن)کے متعددمقامی رہنماؤں اورکارکنوں کوگرفتاکرلیا گیا ہے

راولپنڈی میں لانگ مارچ روکنے کیلئے گذشتہ شب شروع سے پولیس سیاسی کارکنوں اور وکلاء کو گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مار رہی ہے

سرگودھامیں مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری عبدالمحید کے بیٹے اور ملازم کو گرفتار کرلیاگیا
کبیر والامیں مسلم لیگ(ن)کے مقامی صدر ملک عبد الرؤف کوگرفتار کر لیا گیا
گجرات میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے حاجی ناصر،تحصیل صدر تنویر گوندل اورچیمبر کے صدر جاوید بٹ کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم وہ موجودنہ تھے۔دیگرمقامات سے چار کارکنوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی

جھنگ میں مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر سیف اللہ شیروانی کے بھائی سمیت 3 کارکنان گرفتار کرلئے گئے ۔ مسلم لیگ (ن)کے ایم پی اے افتخار احمد بلوچ کے گھر پر چھاپاماراگیااوران کے ڈرائیور اور گن مین سمیت 8 افرادکوگرفتارکرلیاگیا ۔ پولیس چھاپے میں دیگر 7 افراد بھی گرفتار کئے گئے ہیں ۔ پولیس مسلم لیگ ن کے گھروں میں دروازے توڑ کر داخل ہورہی ہے اور گھر والوں کے ساتھ بد سلوکی کی جارہی ہے ۔ جھنگ ہی میں بھکر روڈ کے علاقے سے مسلم لیگ کے دو کارکن گرفتار کئے گئے ہیں ۔ شباب ملی کے ضلعی صدر میر قاسم نیازی کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے والد کوگرفتار کرلیا گیا ہے ۔ ایم ایس ایف ڈویژنل چیف آرگنائزر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے پہلے سے زخمی بھائی کوگرفتار کرلیا گیا۔ جبکہ دیگر سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کیلئے ضلع بھر میں چھاپے مارے جارہے ہیں

بورے والا میں پولیس اور ایلیٹ فورس کی جانب سے سیاسی کارکنوں کیخلاف شروع کئے گئے کریک ڈاوٴن کے نتیجے میں سٹی ناظم گگو میاں احد سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے

ملتان میں پولیس جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے

فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی خلیل طاہر سندھو اور رہنما میاں عبدالمنان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے

ضلع رحیم یار خان میں کریک ڈاؤن جاری ہے اور پولیس سیڑھیاں لگا کر گھروں میں داخل ہورہی ہے

پولیس کے مطابق صادق آباد میں مسلم لیگ ن کے مقامی رہنما ارشد تاج کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارکر ان کے بیٹے کو گرفتار کرلیا ہے

ساہیوال میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر حاجی حفیظ الحق کے گھرپر پولیس کا چھاپاماراگیا اور پولیس نے خواتین اور اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی کی

ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان کے صدر اظہر ترمذی ۔ جنرل سیکرٹری وسیم جسکانی سمیت متعدد سرگرم وکلا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ۔ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری میرمرزا تالپور ۔ تحریک انصاف کے صدر فہیم سعید اور جمعیت اہل حدیث کے رہنماؤں سمیت کئی سیاسی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے تاہم ان کی روپوشی کے باعث کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ۔ ضلع کی دیگر صوبوں سے ملنے والی سرحدوں پر بھاری پولیس تعینات کر دی گئی ہے

اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے راہ نما ظفر علی شاہ ،ایم این اے ڈاکٹر طارق ،انجم عقیل کے گھروں پرچھاپے مارے گئے تاہم وہ گھروں پر نہیں تھے،پولیس ڈاکٹر طارق کے بھائی کوگرفتارکرکے لے گئی۔ راولپنڈی میں وکیل رہنماجسٹس ریٹائرڈطارق محمود،مسلم لیگ ن کے رہنماؤں حنیف عباسی ،شاہدخاقان عباسی،ضیااللہ شاہ،شباب ملی کے صدر سید شاہد گیلانی،جماعت اسلامی کے رہنم ادبیراحمدخان کے گھر وں پر چھاپے مارے گئے تاہم وہ گھرپرنہیں تھے ۔ ویمن ایکشن فورم کی سربراہ طاہرہ عبداللہ کو ایم پی او کے tahira-arrestedتحت 90 روز کے لئے اڈیالہ جیل بھیجنے کا فیصلہ کے بعد گرفتار کیا گیا لیکن 3گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ویمن پولیس اسٹیشن اسلام آباد سے رہا کر دیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ مس طاہرہ عبداللہ بین الاقوامی شہرت کی حامل ہیں اور انہوں نے انسانی حقوق کیلئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے ۔ یہ ڈاکٹر عبداللہ کی بیٹی ہیں جو دو دہائیاں اقوامِ متحدہ کے پینل پر بطور ڈاکٹر کام کرتے رہے

زمرہ : خبر | 7 تبصرے »

توہینِ عدالت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Mar 2009

المعروف عوامی دور میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ایک بدنام جج کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کیا تو اردو ڈائجسٹ کے الطاف حسن قریشی صاحب نے توہینِ عدالت کے موضوع کے تحت اس جج کی کرامات لکھ کر نتیجہ نکالا کہ اس جج کو چیف جسٹس بنانا توہینِ عدالت ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے الطاف حسن اور اس کے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن کو گرفتار کر لیا اور ان کا رسالہ اُردو ڈائجسٹ بند کر دیا ۔ مکافاتِ عمل دیکھیئے کہ بعد میں اعلٰی عدالت کے جس بنچ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی اُس میں متذکرہ بالا جج بھی شامل تھا

فرح حمید ڈوگر کے ایف ایس سی کے نمبر بڑھانے کے واقع سے سب واقف ہو چکے ہیں ۔ اس غلط کام کے خلاف دائر پیٹیشن کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے خارج کرتے ہوئے فرح حمید ڈوگر کی کاپیوں کی ری اسیسمنٹ [re-assessment] کو قانونی قرار دیا تھا ۔ عوامی اور پالیمانی دباؤ سے مجبور ہو کر مرکزی وزیرِ تعلیم نے محکمانہ تحقیقات کا حکم دے رکھا تھا جس کی رپورٹ تیار ہو چکی ہے جو وزیر تعلیم کے دساور سے واپسی پر وزیرِاعظم کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی ۔ اس رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے چیئرمین کو فرح حمید ڈوگر کی جوابی امتحانی کاپیوں کی ری اسیسمنٹ کرانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا ۔ غلط فیصلہ دینے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس 11 مارچ 2009ء کو ریٹائر ہونے والے تھے ۔ صدر نے اُنہیں سپریم کورٹ کا جج بنا دیا ہے ۔ کیا یہ عدالتِ عظمٰی کی عزت افزائی ہے یا توہین ؟

پچھلے سال کے آخری مہینوں میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ گوجرانوالہ کا مشہور اور طاقتور ٹھگ نانو گورایہ جس نے شہر کے تمام تاجروں کو یرغمال بنا رکھا تھا گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ پھر اس سال فروری کے شروع میں یہ بات سامنے آئی کہ گوجرانوالہ کے اُس وقت کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کے ساتھ نانو گورایہ کے بہت قریبی تعلقات تھے اور یہ تینوں ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے ۔ اُس ڈی آئی جی کو 25 فروی 2009ء کو پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت ختم کرنے کے بعد انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب لگا دیا گیا تھا ۔ چند دن قبل نانو گورایہ کے دوست جج کو صدر نے لاہور ہائی کورٹ سے اٹھا کر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ لگا دیا ہے ۔ کیا یہ عدالتِ عالیہ کی عزت افزائی ہے یا توہین ؟

پچھلے دو ہفتوں میں سندھ ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں جو دو درجن سے زائد نئے جج تعینات کئے گئے ہیں ان میں بھاری اکثریت اُن وکلاء کی ہے جو فروری 2008ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار تھے لیکن الیکشن جیت نہ سکے ۔ باقی وہ وکلاء ہیں جنہوں نے وکلاء تحریک سے غداری کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف بیانات دیئے ۔ یہ عدل کا سامان ہے یا توہیںِ عدالت ؟

زمرہ : تاریخ, خبر | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »