What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے March 3rd, 2009

سری لنکا کے کھلاڑوں پر حملہ ۔ ایک تجزیہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 03 Mar 2009

میں قارئین کا شکرگذار ہوں جنہوں نے میری صبح کی تحریر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ میں صبح کچھ سودا سلف لینے گیا تھا ۔ واپس پہنچا تو میری ایک بھتیجی آئی بیٹھی تھی جو اسلام آباد ہی میں رہتی ہے ۔ اُس نے بتایا کہ” لاہور میری بھانجی کے گھر کے قریب فائرنگ ہو رہی ہے”۔ قذافی سٹیڈیم کے قریب میرا ایک پھوپھی زاد بھائی بھی رہتا ہے ۔بھانجی سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ اُس کا خاوند بچی کو صبح سکول چھوڑنے نکلا تو کوئی 15 منٹ بعد دو گرینیڈ چلنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی متواتر فائرنگ شروع ہو گئی جو کہ 25 منٹ جاری رہی ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے”۔ اس کے بعد ہم ٹی وی دیکھنے لگ گئے ۔

اب تک جو کچھ مختلف ٹی وی چینلز پر دکھایا اور کہا گیا ہے اس سے مندجہ ذیل عمل واضح ہوتے ہیں

1 ۔ حملہ آور 25 منٹ منظر پر موجود رہے اور پوری تسلی سے کاروائی کرتے رہے ۔ پھر فرار ہو گئے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ کوئی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور نہ ایسے واقعات سے نبٹنے کی کوئی تیاری تھی ۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ حکومت کا کہیں وجود ہی نہیں ہے

2 ۔ پنجاب میں اپنے ہی پیدا کردہ بحران پر غور کرنے کیلئے گورنر ہاؤس میں روزانہ رات گئے تک اجلاس ہوتے رہے مگر اس میں کرکٹ ٹیموں اور شائقین کی حفاظت کے بندوبست کا ذکر تک نہ آیا

3 ۔ صدر ۔ گورنر پنجاب اور اُن کے حواری صوبائی اسمبلی کے ارکان کی جوڑ توڑ اور سرکاری اہلکاروں کی اُکھاڑ پچھاڑ میں اس قدر محو تھے کہ اُن میں سے کسی کو لاہور میں ہونے والے کرکٹ میچ کی سکیورٹی کا خیال ہی نہ آیا

4 ۔ سب کچھ ہو جانے کے بعد بیان دیئے جا رہے ہیں کہ حملہ آوروں کو جلد زندہ یا مردہ گرفتار کر لیا جائے گا ۔ کسی مسکین غریب کی شامت آئی لگتی ہے ۔ جو حکومتی اہلکار 25 منٹ کی کاروائی ڈالنے والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے وہ غائب ہو جانے والوں کو کہاں سے پکڑ لائیں گے ؟
5 ۔ حسب سابق اسلحہ کے ساتھ کچھ خودکُش حملہ میں استعمال ہونے والی جیکٹیں برآمد کی گئی ہیں ۔ کیا یہ قرینِ قیاس ہے کہ جو جیکٹیں استعمال ہی نہ کرنا تھیں کیونکہ پہنی ہوئی نہ تھیں وہ حملہ آور ساتھ کیوں لائے تھے ۔ کیا اپنا بوجھ بڑھانے کیلئے یا پولیس کو تحفہ دینے کیلئے ؟ نمعلوم کب تک ہمارے نااہل حکمران ہمیں اور اھنے آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے

6 ۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جن شخص کو سلمان تاثیر نے زرداری کی منظوری سے پنجاب کا انسپیکٹر جنرل پولیس لگایا ہے یہ وہی شخص ہے جو اُن دنوں گوجرانوالہ کا ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس تھا جب نانو گورایہ نے ٹھگی کا بازار گرم کر رکھا تھا اور یہ صاحب اس لوٹ مار کے حصہ دار بھی تھے ۔ یہ تو گیدڑ کو چوزوں کی رکھوالی پر لگانے کے مترادف ہے

7 ۔ اگر ممبئی حملوں سے اب تک کے بھارتی حکومت کے وزراء اور دوسرے اہلکاروں کے بیانات پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کام بھارتی حکومت کے علاوہ کسی کا نہیں ہے لیکن ہماری حکومرانوں کے پاجامے اور پتلونیں خراب ہوئی جا رہی ہیں

زمرہ : تجزیہ, خبر | 5 تبصرے »

زرداری کے چہیتے کی عمدہ انتظامی اہلیت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 03 Mar 2009

صدر آصف زرداری نے 25 فروری کو پنجاب میں غیر آئینی اور غیرقانونی گورنر راج قائم کر دیا تھا جس کے بعد زرداری کے چہیتے گورنر سلمان تاثیر نےلاہور کے انسپیکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری سمیت تمام اعلٰی عہدیداروں کو تبدیل کر دیا

اس عمدہ کار کردگی کا نتیجہ آج صبح سامنے آیا جب پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم میچ کھیلنے کیلئے قذافی سٹیڈیم جا رہی تھی تو گلبرگ کے علاقے لبرٹی چوک کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔ پولیس اور نامعلوم مسلحہ افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔

اس فائرنگ کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق اور 6 سری لنکن کھلاڑیوں اور 3 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد علاقے میں کھُلے عام فائرنگ کرتے پھر تے رہے

حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ دو قبضہ گروپوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ ہے اور اس کا سری لنکن ٹیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس بیان کا غلط ہونا یوں ثابت ہو جاتا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم کی گاڑی پر فائرنگ کے کچھ دیر بعد میچ کیلئے آنے والے امپائرز کی وین پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں امپائرز کے رابطہ افسر عبد السمیع زخمی ہو گئے

زمرہ : خبر | 7 تبصرے »