Daily Archives: March 1, 2009

ٹیلیفون کس کا؟

کل اسلام آباد میں یہ سوال انتہائی اعلٰی سطح پر پوچھا جا رہا تھا اور قیافہ آرائی کا بازار گرم تھا

“وہ ٹیلیفون کس کا تھا ؟ ”

بدھ 25 فروری کو گورنر راج نافذ کر کے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نہ صرف تالے لگا دیئے گئے تھے بلکہ اس کے اردگرد پولیس اور رینجرز تعینات کر دیئے گئے تھے ۔ کل سہ پہر واشنگٹن سے کسی نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا ۔ اُس کے بعد چند منٹوں کے اندر پنجاب اسمبلی کی عمارت کو کھول دیا گیا اور اور اسمبلی کے اسپیکر جنہوں نے کل بھی اسمبلی کی عمارت سے باہر زمین پر بیٹھ کر اجلاس کیا تھا اُن کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی

کوئی کہتا ہے کہ یہ ٹیلیفون کسی امریکی اہلکار کا تھا لیکن زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیلیفون پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کا تھا جو آج کل امریکہ میں ہیں ۔ اگر کوئی قاری حقیقت سے واقف ہے تو واضاحت کرے

جذبہ عشق

سُنا تھا
جذبہ عشق ہو باقی تو کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے ۔
یہ صرف لڑکا لڑکی کے درمیان جو وقتی اُبال ہوتا ہے وہ بات نہیں ہے بلکہ انسان کسی بھی کام کو خلوصِ نیّت سے کرنے لگے تو راستے کھُلتے چلے جاتے ہیں ۔
میں نے کل “چور چوری سے جائے” کے تحت ایک سکول کا ذکر کیا تھا ۔ یہ واقعہ میں نے کسی تیسرے شخص سے سُنا تھا ۔ اتفاق سے اس سکول کے متعلقہ ایک شخص سے گذشتہ شام ملاقات ہو گئی ۔ علیک سلیک اور حال احوال کے بعد میں نے پوچھا “وہ سکول کا کیا قصہ ہے ؟” جو اُنہوں نے بتایا اُس کا خلاصہ یہ ہے

“اس سکول کی مالکہ بینظیر بھٹو کی سہیلی تھیں ۔ اس کی درخواست پر بینظیر بھٹو نے ان کے سکول کیلئے متذکرہ گرین بیلٹ میں سے زمین تحفہ کے طور دلوا دی یعنی سرکاری قیمت پر ۔ زرداری نے نئے چیئرمین سی ڈی اے کو ٹارگٹ دیا ہے کہ دو ارب روپیہ مہیا کرے ۔ چنانچہ متذکرہ سکول سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمین کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لگا کر بقایا رقم ادا کریں جو کہ شاید ڈھائی کروڑ روپیہ فی کنال بنتی ہے ۔ اگر زمین 20 کنال ہے تو سکول والوں کو 50 کروڑ روپیہ ادا کرنا ہو گا “