کل اسلام آباد میں یہ سوال انتہائی اعلٰی سطح پر پوچھا جا رہا تھا اور قیافہ آرائی کا بازار گرم تھا
“وہ ٹیلیفون کس کا تھا ؟ ”
بدھ 25 فروری کو گورنر راج نافذ کر کے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نہ صرف تالے لگا دیئے گئے تھے بلکہ اس کے اردگرد پولیس اور رینجرز تعینات کر دیئے گئے تھے ۔ کل سہ پہر واشنگٹن سے کسی نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا ۔ اُس کے بعد چند منٹوں کے اندر پنجاب اسمبلی کی عمارت کو کھول دیا گیا اور اور اسمبلی کے اسپیکر جنہوں نے کل بھی اسمبلی کی عمارت سے باہر زمین پر بیٹھ کر اجلاس کیا تھا اُن کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی
کوئی کہتا ہے کہ یہ ٹیلیفون کسی امریکی اہلکار کا تھا لیکن زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیلیفون پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کا تھا جو آج کل امریکہ میں ہیں ۔ اگر کوئی قاری حقیقت سے واقف ہے تو واضاحت کرے