کیا یاد کرا دیا
1,547 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Mar 02 2009
میرے وطن کے عضوء عضوء میں زخم لگانے والے سنگ دلوں نے ذہن اتنا پراگندہ کر دیا ہے کہ دعا کیلئے ہاتھ اُٹھا تا ہوں تو الفاظ ہی کوسوں دُور بھاگ جاتے ہیں اور ذہن اُن کو کھینچنے میں معذور دکھائی دیتا ہے کہاں بچپن ۔ لڑکپن اور جوانی کی باتیں اور ولولے ۔ وہ تو قصہ پارینہ بن کر رہ گئے ہیں ۔ تانیہ رحمان صاحبہ نے میرے لڑکپن کی محبوب غزل یاد دلا دی ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ تانیہ رحمان صاحبہ کا شکریہ ادا کروں یا عرض کروں کہ مجھے یادِ ماضی دِلا کر تڑپایا کیوں ؟
اے جذبہ دل گر ميں چاہوں ہر چيز مقابل آجائے
منزل کیلئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے
اے دل کی خلِش چل يوں ہی سہی چلتا تو ہوں انکی محفل ميں
اس وقت مجھے چونکا دينا ۔ جب رنگ پہ محفل آجائے
اے رہبرِ کامل چلنے کو تيار تو ہوں ۔ پر ياد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دينا جب سامنے منزل آجائے
ہاں ياد مجھے تم کر لينا ۔ آواز مجھے تم دے لينا
اس راہِ محبت ميں کوئی درپيش جو مشکل آجائے
اب کيوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
ميں چاہتا ہوں اے جذبہ غم ۔ مشکل پہ مشکل آجائے
شاعر ۔ بہزاد لکھنوی

Mar 02 2009 بوقت 11:48 AM
عمر کا تقاضا ہے سر ۔۔۔۔
اور کیا زبردست غزل لکھی ہے۔۔۔ شاعر کا نام بھی لکھ دیتے ۔۔۔ میرے ذہن میں تو شاید عبیداللہ علیم کا نام آرہا ہے ۔۔ تصحیح کر دیں اگر غلط ہو تو ۔۔۔
Mar 02 2009 بوقت 11:55 AM
میرے ذہن میں تو نیرہ نور آرہی ہے
لکھنے والے کا نام شائد بہزاد لکھنوی ہے
لکھنے والے نے لکھا خوب اور گانے والی نے گایا خوب
عزیز بھٹی پر بننے والے ڈرامے سے پتا چلا تھا کہ عزیز بھٹی کی بھی بسندیدہ ترین غزل/نظم تھی یہ
Mar 02 2009 بوقت 12:05 PM
پیارے ماموں جان، اس میں کوّی شک نہیں کہ آپکا ذوک عالا پاے کا ہے-
یہ غزل واقعی ایک انمول غزل ہے، جس کی تہریر اپنی مثال آپ ہے-
آپ سے ایک چھوٹی سی درخواست تھی کہ درجہ زیل شعرکے مطلب کی وظاہت فرماں دئنے
اے رہبرِ کامل چلنے کو تيار تو ہوں ۔ پر ياد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دينا جب سامنے منزل آجائے
Mar 02 2009 بوقت 12:13 PM
مھترم ممبران، جھاں تک میری عقل میرا ساتھ دیتی ھے، یہ غزل جناب احمد فراض، نے لکھی ھے، وسے اس کی تصدیق محترم اجمل ماموں ھی کرئیں گے-
Mar 02 2009 بوقت 12:23 PM
احمد فراض، نے نہیں بلکہ ”فیض احمد فیض“ نےلکھی ھے، پہلی بھیجی ھوی تحریر کو منسوخ قرار دئجیے-
تقلیف کے لیے معزرت-
ّ
اس کی تصدیق بھی محترم اجمل ماموں ھی کرئیں گے-
Mar 02 2009 بوقت 12:33 PM
جعفر صاحب
شاعر کا نام ابھی میرے ذہن میں آ نہیں رہا ۔ گائی تیّرہ نور نے تھی اور اسی غزل نے اسے ہردلعزیز کر دیا تھا
Mar 02 2009 بوقت 12:36 PM
ڈِفر صاحب
اس غزل کو اس زمانہ کے ہر سنجیدہ شخص نے پسند کیا تھا اور نیرہ نور نے گایا بھی پورے شوق سے تھا ۔ لکھنے والے کا ابی سوچ رہا ہوں شاید یاد آ جائے ۔
:mad:
ہوںںںں ۔ ۔ ۔ بہزاد لکھنوی ہی ہے
Mar 02 2009 بوقت 1:08 PM
شاعر کا نام ”فیض احمد فیض“ میرے خیال میں-
Mar 02 2009 بوقت 1:57 PM
مجھے تو لگ رہا ہے جیسے سب شاعروں نے مل کر لکھی ہوگی یہ غزل
Mar 02 2009 بوقت 2:31 PM
اسلان بیٹے
شاعر نے رہبرِ کامل سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو کہا ہے ۔ شاعر نے عجیب تخیل پیش کیا ہے ۔ کسی جیز کے پا نے کی جدوجہد کو وہ اس چیز کے پالینے سے زیادہ پُرلُطف قرار دیتا ہے اسلئے کہتا ہے کہ جب میں آپ کو پا لوں تو مجھے پھر بھٹکا دیں تاکہ میں پھر پانے کی جدوجہد کا مزا حاصل کروں
Mar 02 2009 بوقت 2:33 PM
نہ احمد فراز کی ہے اور نہ فیض احمد فیض کی یہ غزل بہزاد لکھنوی کی ہے
Mar 02 2009 بوقت 3:07 PM
یہ غزل میری بھی پسندیدہ غزلوںمیںسے ایک ہے
Mar 02 2009 بوقت 4:49 PM
زبردست ۔۔۔۔۔ بہت بار سنی ھے سنتے ھوئے دھیان میوزک اور اواز کی طرف ھو جاتا ھے پڑھتے ھوئے ھر مصرعے کو غور سے پڑھا تو اور بھی خوبصورت لگی جس نے بھی لکھی ھے کمال کی شاعری ھے میں اسے فیض احمد فیض کی سمجھی تھی
Mar 02 2009 بوقت 5:15 PM
اجمل جی اگر یاد ماضی عذاب ہے تو پھر شکریہ ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ کبھی کبھی یاد ماضی عذاب ہونے کے باوجود دل کرتا ہے کہ یاد رکھا جائے یا پھر یاد آنے پر جہاں کسک سی محسوس ہوتی ھے وہاں ہلکی سی مسکراہٹ بھی آجاتی ہے لبوں پر ۔ مجھے یہ غزل خود بھی پسند ہے ،شکریہ میں ادا کرتی ہوں
Mar 02 2009 بوقت 9:28 PM
بلا جی
کوئی قدرِ مشترک تو نکل آئی
Mar 02 2009 بوقت 9:31 PM
سعدیہ سحر صاحبہ
آپ نے غور کیا ہے کہ مخاطب کون ہے اور شاعر نے کیا فلسفہ بیان کیا ہے ۔ معذرت کہ لکھتے وقت شاعر کا نام ذہن سے نکل گیا تھا ۔ اب لکھ دیا ہے
Mar 02 2009 بوقت 9:45 PM
تانیہ رحمان صاحبہ
میرا ماضی آزاد ماحول میں گذرا ۔اب وہ خوشگواریاں کہاں ۔گو اب بھی میں ذاتی لحاظ سے تو آسودہ ہوں لیکن وہ حلقہ احباب نہیں رہا ۔ اب ہرطرف نفسا نفسی ہے
Mar 02 2009 بوقت 11:14 PM
اجمل صاحب، بہزاد لکھنؤی کہ یہ غزل میری بھی پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ہے، غزل کاہے کو ہے موتی پروئے ہیں شاعر نے۔ آپ اس غزل کو یاد کر کے نیم بسمل ہو گئے افسوس تو ہوا لیکن خوشی اس بات کی کہ یہ غزل اب بھی آپ کے رگ و پے میں سمائی ہے اور یقیناً مزید بھی ہونگی۔ ہم قتیلانِ شعر و شاعری کیلیے کچھ اور بھی گاہے گاہے :smile:
Mar 03 2009 بوقت 12:06 AM
واہ، جی نیرہ نور نے تو کمال انصاف کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
یہ غزل میں نے اگر لاکھوں نہیں، ہزاروں بار سنی ہو گی ضرور، لیکن ہفتہ دس دن پہلے یہاں ایک لوکل ایف ایم چینل پر کسی لائیو پروگرام سے ریکارڈ کی ہوئی یہی غزل نیرہ نور کی آواز میں نشر کی، تو اس میں عام طور پر گائے گئے شعروں، جو کہ اجمل صاحب نے یہاں لکھے بھی ہیں، سے دو شعر زیادہ تھے، میں نے انٹر نیٹ پر وہ ریکارڈنگ بہت ڈھونڈی، لیکن ملی نہیں، اگر کسی صاحب کو اس بارے کوئی معلومات ہوں تو براہ مہربانی پوری غزل اگر لکھ بھیجیں تو مہربانی ہو گی۔
اور اجمل صاحب، آپ کی پسند کا جواب نہیں۔۔۔۔۔۔۔ واقعی !!!!!۔
Mar 03 2009 بوقت 5:19 AM
پیارے ماموں جان، جزاکللّھ، آپ نے جو شعر کی وضاحت کی ہے، اس کے بعد غزل پڑھنے کا مزید لطف آیا-
Mar 03 2009 بوقت 11:48 AM
محمد وارث اور عمر احمد بنگش صاحبان
اس غزل میں شعر زیادہ ہیں جو اب مجھے یاد نہیں آ رہے ۔ پرانے زمانے کے شاعروں اور حالیہ دور کے شاعروں میں فرق یہ ہے کہ پرانے لوگ نظر انسانی بہتری کی طرف رکھتے تھے اور حقیقت کو پالینا چاہتے تھے یا دوسروں کو اس کی ترغیب دیتے تھے جبکہ پچھلی آدھی صدی میں مشہور ہونے والے شاعر مادیت پر نظر رکھتے ہیں ۔ بہزاد لکھنوی صاحب نے کمال فلسفہ پیش کیا ہے ۔ چاہت ہے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی قربت کی اور اظہار ہے اس لذت کا جو اس قربت کو حاصل کرنے والی جد و جہد میں ہے کہ شاعر قریب پہنچنے کے بعد بھٹکنا چاہتا ہے تاکہ اس جد و جہد کی لذت ختم نہ ہو