<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: پڑھنا کب بہتر</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/</link>
	<description>میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے  میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي</description>
	<lastBuildDate>Fri, 12 Mar 2010 02:11:26 -0700</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.6</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17049</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 04:06:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17049</guid>
		<description>انا صاحبہ یا صاحب
آپ نے تو انا کے خلاف بات کر دی  
 :lol: 
بلاشک تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>انا صاحبہ یا صاحب<br />
آپ نے تو انا کے خلاف بات کر دی<br />
 <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_lol.gif' alt=':lol:' class='wp-smiley' /><br />
بلاشک تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: انا</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17047</link>
		<dc:creator>انا</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 14:07:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17047</guid>
		<description>اقبال نے کہا تھا کہ
عطار ہو رومی ہو ،رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحر گاہی
صبح میں واقعی اسرار پوشیدہ ہیں لیکن ایسی خراب عادت پڑی ہےہم میں سے اکثر لوگوں کو رات تک جاگنے اور دن چڑھے سونے کی-قصور والدیں کا بھی ہے ،ماحول کا بھی اور ہم لوگوں کا بھی-
باقی پڑھنے کے لئے صبح کا وقت ہی اچھا ہے کیونکہ رات جاگنا ایک خلافِ فطرت بات ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اقبال نے کہا تھا کہ<br />
عطار ہو رومی ہو ،رازی ہو غزالی ہو<br />
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحر گاہی<br />
صبح میں واقعی اسرار پوشیدہ ہیں لیکن ایسی خراب عادت پڑی ہےہم میں سے اکثر لوگوں کو رات تک جاگنے اور دن چڑھے سونے کی-قصور والدیں کا بھی ہے ،ماحول کا بھی اور ہم لوگوں کا بھی-<br />
باقی پڑھنے کے لئے صبح کا وقت ہی اچھا ہے کیونکہ رات جاگنا ایک خلافِ فطرت بات ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17040</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 22 Mar 2009 04:52:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17040</guid>
		<description>سیّدہ صبا صاحبہ
بات آپ نے درست کہی ۔ تعلیمی نصاب کا جو حال ہمارے ہاں جدیدیت کے نام پر ہوا ہے ۔ الامان الحفیظ ۔ میں جب 1999ء نے میرے بیٹے زکریا اور اپنی بہو دونوں کی ایم ایس انجنیئرنگ کی کنووکیشن تھی میں بھی پہنچ گیا تھا ۔ ایک دن میں زکریا کے ساتھ اس کی یونیورسٹی جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلا گیا ۔ اُسے لائبریری میں کوئی کام تھا ۔ وہاں لائبریری میں کتابیں نہیں کمپیوٹر ہوتے ہیں جن پر ہر کتاب پڑھی جا سکتی ہے ۔ اُس نے اپنی بیوی کے آئی ڈی سے ایک کمپیوٹر کھول کر مجھے دیا تاکہ میرا وقت آسانی سے گذر جائے اور خود وہ دوسرے کمپیوٹر پر مشغول ہو گیا ۔ میں نے وہ سٹڈی کورسز دیکھنا شروع کر دیئے ۔ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ وہاں بی ایس انجنیئرنگ کا ہُو نہُو وہی سلیبس تھا جو ہم نے انجنیئرنگ کالج لاہور میں چالیس سال قبل پڑھا تھا لیکن ہمارے ملک میں جدیدیت کے نام پر تبدیل کر کے مُختصر کیا جا چکا تھا ۔ 
نظم کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 1973ء تک وہ کتابیں پڑھائی جا رہی تھیں جو ہم نے پڑی تھیں ۔ پھر جو تعلیمی اصلاحات نافذ ہونا شروع ہوئیں تو تعلیم مذاق بن کر رہ گئی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سیّدہ صبا صاحبہ<br />
بات آپ نے درست کہی ۔ تعلیمی نصاب کا جو حال ہمارے ہاں جدیدیت کے نام پر ہوا ہے ۔ الامان الحفیظ ۔ میں جب 1999ء نے میرے بیٹے زکریا اور اپنی بہو دونوں کی ایم ایس انجنیئرنگ کی کنووکیشن تھی میں بھی پہنچ گیا تھا ۔ ایک دن میں زکریا کے ساتھ اس کی یونیورسٹی جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلا گیا ۔ اُسے لائبریری میں کوئی کام تھا ۔ وہاں لائبریری میں کتابیں نہیں کمپیوٹر ہوتے ہیں جن پر ہر کتاب پڑھی جا سکتی ہے ۔ اُس نے اپنی بیوی کے آئی ڈی سے ایک کمپیوٹر کھول کر مجھے دیا تاکہ میرا وقت آسانی سے گذر جائے اور خود وہ دوسرے کمپیوٹر پر مشغول ہو گیا ۔ میں نے وہ سٹڈی کورسز دیکھنا شروع کر دیئے ۔ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ وہاں بی ایس انجنیئرنگ کا ہُو نہُو وہی سلیبس تھا جو ہم نے انجنیئرنگ کالج لاہور میں چالیس سال قبل پڑھا تھا لیکن ہمارے ملک میں جدیدیت کے نام پر تبدیل کر کے مُختصر کیا جا چکا تھا ۔<br />
نظم کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 1973ء تک وہ کتابیں پڑھائی جا رہی تھیں جو ہم نے پڑی تھیں ۔ پھر جو تعلیمی اصلاحات نافذ ہونا شروع ہوئیں تو تعلیم مذاق بن کر رہ گئی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: صبا سیّد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17038</link>
		<dc:creator>صبا سیّد</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Mar 2009 14:21:24 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17038</guid>
		<description>اسلامُ علیکم
جب ہم چھوٹے تھے تب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ رات دیر جاگنے کی اور صبح دیر سے اٹھنے کی عیاشی کر سکیں۔ تب تو بس سات کیا بجنے ہوتے تھے فوراً امی کی آواز آتی تھی، بابا آنے والے ہیں ۔۔۔ بس بابا آتے ، کھانا لاگتا اور آٹھ بجے تک بستر کے اندرد یہ ا وہ جا۔ اور صبح بھی جد بیدار ہو جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ہم جمعہ کے دن بھی 7 بجے کے بعد اٹھیں ہوں۔ اس کے بعد تو بس عادتیں بگڑیں تو بگڑتی گیئں، لیکن تب بھی صرف پڑھائی کی غرض سے ہی جاگنا ہوتا تھا، لیکن اٹھنے کا وقت ہمیشہ وہی رہا۔ 
اب میں جس جگہ ہوں کافی سے ذیادہ جہالت ہے یہاں لیکن یہاں کی کچھ باتیں بہت اچھی ہیں۔ یہاں لوگوں کی یہی عادت ہے ۔ فجر کے وقت اٹھتے ہیں ، 8 بجے کے قریب سب اپنے اپنے کام پہ نکل جاتے ہیں، 12 بجے واپسی ہوتی ہے تو ان 4 گھنٹوں میں قیلولہ لینے کا بھی وقت مل جاتا ہے۔ 4 بجے شام کو پھر کام کے لیے نکل پڑھتے ہیں، 8 بجے تک سارے کام کاج بن ہو جاتے ہیں، گھر پہنچ کر یہ لوگ عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور 9 بجے تک سو جاتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب ، عام آدمی ہو یا یہا ں کا صدر سب کی یہی روٹین ہے۔ اب تو میری بھی تقریباً یہی روٹین بن گئی ہے، ورنہ شادی سے پہلے مجھ سے فجر کی نماز قضا ہو جاتی تھی (یا پھر یوں کہیے کہ پڑھے نہیں جاتی تھی  :oops: ) 

فی امان اللہ

P.S = ہاں! ایک بات یاد آئی انکل، جس نظم کا ذکر آپ نے کیا ہے وہ نظم ہمارے بھی نصاب میں تھی۔ امید ہے دوسرے مضامین بھی وہی ہونگے اس اندازہ لگائیے ہمارy سرکاری تعلیمی نظام نے کتنے &quot;شاندار&quot; طریقے سے &quot;ترّقی&quot; کی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اسلامُ علیکم<br />
جب ہم چھوٹے تھے تب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ رات دیر جاگنے کی اور صبح دیر سے اٹھنے کی عیاشی کر سکیں۔ تب تو بس سات کیا بجنے ہوتے تھے فوراً امی کی آواز آتی تھی، بابا آنے والے ہیں ۔۔۔ بس بابا آتے ، کھانا لاگتا اور آٹھ بجے تک بستر کے اندرد یہ ا وہ جا۔ اور صبح بھی جد بیدار ہو جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ہم جمعہ کے دن بھی 7 بجے کے بعد اٹھیں ہوں۔ اس کے بعد تو بس عادتیں بگڑیں تو بگڑتی گیئں، لیکن تب بھی صرف پڑھائی کی غرض سے ہی جاگنا ہوتا تھا، لیکن اٹھنے کا وقت ہمیشہ وہی رہا۔<br />
اب میں جس جگہ ہوں کافی سے ذیادہ جہالت ہے یہاں لیکن یہاں کی کچھ باتیں بہت اچھی ہیں۔ یہاں لوگوں کی یہی عادت ہے ۔ فجر کے وقت اٹھتے ہیں ، 8 بجے کے قریب سب اپنے اپنے کام پہ نکل جاتے ہیں، 12 بجے واپسی ہوتی ہے تو ان 4 گھنٹوں میں قیلولہ لینے کا بھی وقت مل جاتا ہے۔ 4 بجے شام کو پھر کام کے لیے نکل پڑھتے ہیں، 8 بجے تک سارے کام کاج بن ہو جاتے ہیں، گھر پہنچ کر یہ لوگ عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور 9 بجے تک سو جاتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب ، عام آدمی ہو یا یہا ں کا صدر سب کی یہی روٹین ہے۔ اب تو میری بھی تقریباً یہی روٹین بن گئی ہے، ورنہ شادی سے پہلے مجھ سے فجر کی نماز قضا ہو جاتی تھی (یا پھر یوں کہیے کہ پڑھے نہیں جاتی تھی  <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_redface.gif' alt=':oops:' class='wp-smiley' />  ) </p>
<p>فی امان اللہ</p>
<p>P.S = ہاں! ایک بات یاد آئی انکل، جس نظم کا ذکر آپ نے کیا ہے وہ نظم ہمارے بھی نصاب میں تھی۔ امید ہے دوسرے مضامین بھی وہی ہونگے اس اندازہ لگائیے ہمارy سرکاری تعلیمی نظام نے کتنے &#8220;شاندار&#8221; طریقے سے &#8220;ترّقی&#8221; کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17037</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Mar 2009 07:41:43 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17037</guid>
		<description>ڈِفر صاحب
میں نے بہت زیادہ احتیاط برت کر چالیس سال کہا تھا ۔ کیونکہ میں 1976ء کے شروع میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا ۔ واپس سات سال بعد ہوئی اور آتے ہی مجھے نیچے اُوپر تیں بڑے پراجیکٹ دیئے گئے ۔ جب میں پونے باون سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر گھر بیٹھا تو معلوم ہوا دنیا بدل چکی ہے ۔ جرمنی کا مجھے یاد ہے کہ سب دکانیں بشمول اوٹو میس ۔ کار شٹاٹ اور کاؤف ہوف شام ساڑھے چھ بجے بند ہو جاتی تھیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ڈِفر صاحب<br />
میں نے بہت زیادہ احتیاط برت کر چالیس سال کہا تھا ۔ کیونکہ میں 1976ء کے شروع میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا ۔ واپس سات سال بعد ہوئی اور آتے ہی مجھے نیچے اُوپر تیں بڑے پراجیکٹ دیئے گئے ۔ جب میں پونے باون سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر گھر بیٹھا تو معلوم ہوا دنیا بدل چکی ہے ۔ جرمنی کا مجھے یاد ہے کہ سب دکانیں بشمول اوٹو میس ۔ کار شٹاٹ اور کاؤف ہوف شام ساڑھے چھ بجے بند ہو جاتی تھیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ڈفر</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17036</link>
		<dc:creator>ڈفر</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 12:26:12 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17036</guid>
		<description>ہماری اردو کی کتاب میں بھی یہ نظم تھی لیکن کچھ ان مختلف الفاظ کے ساتھ
دن بنایا کام کرنے کو، رات بنائی نیند بھرنے کو
مزید یہ کہ آپ چالیس سال پرانی بات کرتے ہیں مجھے نہیں‌یاد کہ جب تک ہم اماں ابا کے کنٹرول میں تھے تو کبھی ہم رات نو بجے والے خبرنامے تک بھی جاگے ہوں، دکانیں بھی رات جلدی ہی بند ہو جاتی تھیں۔ رات دیر تک جاگنے کی رسم کوئی زیادہ پرانی نہیں، شائید یہی کوئی آٹھ دس سال ہوئے ہوں گے ہماری عادتوں کو بدلے ہوئے۔ شائد یہ جب کی بات ہے جب پی ٹی وی نے نائیٹ ٹائم ٹرانسمیشن کا آغاز کیا تھا اور پھر اس کے بعد مزید چینلز کی آمد، پھر 24 گھنٹے کی نشریات۔۔۔۔
جرمنی کی تازہ روٹین جو مجھے پتا ہے وہ یہ ہے کہ رات آٹھ نو بجے تک بازار میں شائد ہی آپ کو کوئی دکان کھلی ملے۔ کوئی خریداری والا ہی نہیں ہوتا۔ لوگ ویک اینڈ پر خریداری کے عادی ہیں اور مہینے بھر کی یا ہفتہ بھر کی کریداری اکٹھے کرتے ہیں۔ ہم تو اب روز روز کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ کبھی آدھا کلو دال، کبھی ایک کلو چاول، کبھی چھے انڈے اینڈ سو آن۔
گوروں کی ہر بات بری نہیں لیکن وہی آپ والی بات کہ نقالی میں ہم انگریزوں کے بھی انگریز بن جاتے ہیں یا بن گئے ہیں  :mrgreen:</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ہماری اردو کی کتاب میں بھی یہ نظم تھی لیکن کچھ ان مختلف الفاظ کے ساتھ<br />
دن بنایا کام کرنے کو، رات بنائی نیند بھرنے کو<br />
مزید یہ کہ آپ چالیس سال پرانی بات کرتے ہیں مجھے نہیں‌یاد کہ جب تک ہم اماں ابا کے کنٹرول میں تھے تو کبھی ہم رات نو بجے والے خبرنامے تک بھی جاگے ہوں، دکانیں بھی رات جلدی ہی بند ہو جاتی تھیں۔ رات دیر تک جاگنے کی رسم کوئی زیادہ پرانی نہیں، شائید یہی کوئی آٹھ دس سال ہوئے ہوں گے ہماری عادتوں کو بدلے ہوئے۔ شائد یہ جب کی بات ہے جب پی ٹی وی نے نائیٹ ٹائم ٹرانسمیشن کا آغاز کیا تھا اور پھر اس کے بعد مزید چینلز کی آمد، پھر 24 گھنٹے کی نشریات۔۔۔۔<br />
جرمنی کی تازہ روٹین جو مجھے پتا ہے وہ یہ ہے کہ رات آٹھ نو بجے تک بازار میں شائد ہی آپ کو کوئی دکان کھلی ملے۔ کوئی خریداری والا ہی نہیں ہوتا۔ لوگ ویک اینڈ پر خریداری کے عادی ہیں اور مہینے بھر کی یا ہفتہ بھر کی کریداری اکٹھے کرتے ہیں۔ ہم تو اب روز روز کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ کبھی آدھا کلو دال، کبھی ایک کلو چاول، کبھی چھے انڈے اینڈ سو آن۔<br />
گوروں کی ہر بات بری نہیں لیکن وہی آپ والی بات کہ نقالی میں ہم انگریزوں کے بھی انگریز بن جاتے ہیں یا بن گئے ہیں  <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif' alt=':mrgreen:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17035</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 11:09:43 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17035</guid>
		<description>احمد صاحب
میں نے یہ نہیں لکھا کہ گورے ہفتہ کے سات دن جاگتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جمعہ اور ہفتہ کے بعد کی راتیں جاگتے ہیں ۔ وہ بھی سب نہیں ۔ بات یہ ہے کہ گوروں کو دیکھ کر ہمارے لوگ ہر بات میں نقل کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہین کہ وہ ہفتے میں ایک دن کر رہے ہیں کہ سال میں دن ۔ اتفاق کی بات کہ میں برطانیہ ۔ جرمنی اور بیلجیئم میں رہ چکا ہوں اور وہاں کے لوگوں کی عادات سے واقف ہوں ۔ جرمنی میں تمام دفاتر سارا سال صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتے تھے ۔ رات کا کھانا سب آٹھ بجے تک کھا لیتے تھے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد صاحب<br />
میں نے یہ نہیں لکھا کہ گورے ہفتہ کے سات دن جاگتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جمعہ اور ہفتہ کے بعد کی راتیں جاگتے ہیں ۔ وہ بھی سب نہیں ۔ بات یہ ہے کہ گوروں کو دیکھ کر ہمارے لوگ ہر بات میں نقل کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہین کہ وہ ہفتے میں ایک دن کر رہے ہیں کہ سال میں دن ۔ اتفاق کی بات کہ میں برطانیہ ۔ جرمنی اور بیلجیئم میں رہ چکا ہوں اور وہاں کے لوگوں کی عادات سے واقف ہوں ۔ جرمنی میں تمام دفاتر سارا سال صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتے تھے ۔ رات کا کھانا سب آٹھ بجے تک کھا لیتے تھے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: احمد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17034</link>
		<dc:creator>احمد</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 10:36:03 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17034</guid>
		<description>گوروں کی نقالی جو ہماری قوم نے لباس اور زبان میں کرنے کی پوری کوشش کی رات کو دیر تک جاگنا بھی اسی طرح کی کوشش تھی &quot;
یہ بات بالکل غلط ہے کہ گورے رات دیر تک جاگتے ہیں۔ جرمنی اور امریکہ تک تو میں یہ پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں ما سواء ویک اینڈ پر۔۔ہمیں اپنی ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کی عادت ہو گئی ہے۔۔موسم چاہے کیسا ہی ہو سخت ترین سردی میں بھی کام علی الصبح شروع ہوجاتا ہے۔۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>گوروں کی نقالی جو ہماری قوم نے لباس اور زبان میں کرنے کی پوری کوشش کی رات کو دیر تک جاگنا بھی اسی طرح کی کوشش تھی &#8221;<br />
یہ بات بالکل غلط ہے کہ گورے رات دیر تک جاگتے ہیں۔ جرمنی اور امریکہ تک تو میں یہ پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں ما سواء ویک اینڈ پر۔۔ہمیں اپنی ہر غلطی دوسروں پر ڈالنے کی عادت ہو گئی ہے۔۔موسم چاہے کیسا ہی ہو سخت ترین سردی میں بھی کام علی الصبح شروع ہوجاتا ہے۔۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: شوبی نامہ &#187; Blog Archive &#187; پڑھنا کب بہتر؟</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17033</link>
		<dc:creator>شوبی نامہ &#187; Blog Archive &#187; پڑھنا کب بہتر؟</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 09:27:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17033</guid>
		<description>[...] ہے کہ انھوں نے وعدے کے مطابق اپنے بلاگ پر اس سلسلے میں انتہائی مفید پوسٹ لکھی۔ جسے میں افتخار اجمل صاحب کے شکریے کے ساتھ یہاں [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] ہے کہ انھوں نے وعدے کے مطابق اپنے بلاگ پر اس سلسلے میں انتہائی مفید پوسٹ لکھی۔ جسے میں افتخار اجمل صاحب کے شکریے کے ساتھ یہاں [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: شعیب سعید شوبی</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17032</link>
		<dc:creator>شعیب سعید شوبی</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 08:52:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17032</guid>
		<description>السلام علیکم اجمل صاحب!

میں کن الفاظ میں آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے مجھ ناچیز کے مسئلے کے حل کے لئے اپنے موقر بلاگ میں جگہ عنایت کی۔ بہت شکریہ جناب! :smile: 

آپ یقین کریں میں نے  پہلی بار کسی بلاگ کی تحریر کو اس قدر توجہ سے حرف بہ حرف پڑھا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ شہروں میں لوگوں کی اکثریت رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوگئے ہیں اور میں بھی ان میں شامل ہوں۔  آپ کی بات سے ہرگز ہرگز انکار نہیں مگر اب میں اپنا اسکول کا روٹین بالکل سچ سچ بتانا چاہوں گا۔ میں اسکول کے زمانے سے رات دیر تک پڑھنے کا عادی رہا ہوں۔ بلکہ میرے ہم جماعت (کم از کم وہ جن سے میری دوستی تھی) بھی اسی روٹین کے عادی تھے۔میری پڑھائی شروع ہی عشا کی نماز کے بعد شروع ہوتی تھی۔ اس دوران لوڈ شیڈنگ ، ٹی وی دیکھنا وغیرہ جیسے مسئلے یا بہانے وغیرہ جاری رہتے تھے۔ چنانچہ اس دوران  لکھنے کا کام یا ہوم ورک کرتا تھا اور اصل یاد کرنے کا کام شروع ہی گیارہ بارہ بجے ہوتا تھا۔اکثر دو بجے تک پڑھائی جاری رہتی تھی۔ اس وجہ سے اسکول سے واپسی پر اپنی ادھوری نیند پوری کرنی پڑتی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی میں نے صبح سویرے اٹھ کر یاد کرنے کا کام کیا ہوگا۔ میں ہرگز اسے اچھا روٹین قرار نہیں دیتا۔ لیکن آپ یقین کریں میری کلاس کی اکثریت اسی روٹین کی عادی تھی۔ میں بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اسٹوڈینٹ تو نہیں البتا اچھا اسٹوڈینٹ ضرور رہا ہوں۔ 

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ صبح پڑھنے والے ہی اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ اصل بات پڑھنے کی ہے۔ ورنہ جنھوں نے نہیں پڑھنا ہوتا وہ صبح سویرے اٹھ کر بھی نہیں پڑھتے۔ البتا بہتر بلکہ بہترین یہی ہے کہ صبح سویرے پڑھنے کی عادت ڈالی جائے کیونکہ صبح سویرے اٹھنے کے جو فوائد آپ نے گنوائے ہیں ان سے ہرگز انکار نہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا عادت ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہوتا ہے تو وہی بات ہے۔ بہرحال میں اپنی اس رات گئے دیر سے پڑھنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں آج کل میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ عادت سے مجبور ہوکر رات کو سوتے وقت جب میں کوئی کتاب پڑھنے کے لئے اٹھا لیتا ہوں تو جوں ہی مجھے خیال آتا ہے ، کتاب بند کر کے سونے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ صبح جلد اٹھنا بھی آہستہ آہستہ شروع کیا ہے۔ اب میری انشااللہ تعالیٰ کوشش رہے گی کہ صبح صبح پڑھنے کی بھی عادت ڈالوں۔ 

اس مفید پوسٹ پر میں آپ کا بے انتہا شکرگزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم اجمل صاحب!</p>
<p>میں کن الفاظ میں آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے مجھ ناچیز کے مسئلے کے حل کے لئے اپنے موقر بلاگ میں جگہ عنایت کی۔ بہت شکریہ جناب! <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':smile:' class='wp-smiley' />  </p>
<p>آپ یقین کریں میں نے  پہلی بار کسی بلاگ کی تحریر کو اس قدر توجہ سے حرف بہ حرف پڑھا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ شہروں میں لوگوں کی اکثریت رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوگئے ہیں اور میں بھی ان میں شامل ہوں۔  آپ کی بات سے ہرگز ہرگز انکار نہیں مگر اب میں اپنا اسکول کا روٹین بالکل سچ سچ بتانا چاہوں گا۔ میں اسکول کے زمانے سے رات دیر تک پڑھنے کا عادی رہا ہوں۔ بلکہ میرے ہم جماعت (کم از کم وہ جن سے میری دوستی تھی) بھی اسی روٹین کے عادی تھے۔میری پڑھائی شروع ہی عشا کی نماز کے بعد شروع ہوتی تھی۔ اس دوران لوڈ شیڈنگ ، ٹی وی دیکھنا وغیرہ جیسے مسئلے یا بہانے وغیرہ جاری رہتے تھے۔ چنانچہ اس دوران  لکھنے کا کام یا ہوم ورک کرتا تھا اور اصل یاد کرنے کا کام شروع ہی گیارہ بارہ بجے ہوتا تھا۔اکثر دو بجے تک پڑھائی جاری رہتی تھی۔ اس وجہ سے اسکول سے واپسی پر اپنی ادھوری نیند پوری کرنی پڑتی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی میں نے صبح سویرے اٹھ کر یاد کرنے کا کام کیا ہوگا۔ میں ہرگز اسے اچھا روٹین قرار نہیں دیتا۔ لیکن آپ یقین کریں میری کلاس کی اکثریت اسی روٹین کی عادی تھی۔ میں بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اسٹوڈینٹ تو نہیں البتا اچھا اسٹوڈینٹ ضرور رہا ہوں۔ </p>
<p>میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ صبح پڑھنے والے ہی اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ اصل بات پڑھنے کی ہے۔ ورنہ جنھوں نے نہیں پڑھنا ہوتا وہ صبح سویرے اٹھ کر بھی نہیں پڑھتے۔ البتا بہتر بلکہ بہترین یہی ہے کہ صبح سویرے پڑھنے کی عادت ڈالی جائے کیونکہ صبح سویرے اٹھنے کے جو فوائد آپ نے گنوائے ہیں ان سے ہرگز انکار نہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا عادت ختم ہوتے ہوتے بھی وقت درکار ہوتا ہے تو وہی بات ہے۔ بہرحال میں اپنی اس رات گئے دیر سے پڑھنے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں آج کل میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ عادت سے مجبور ہوکر رات کو سوتے وقت جب میں کوئی کتاب پڑھنے کے لئے اٹھا لیتا ہوں تو جوں ہی مجھے خیال آتا ہے ، کتاب بند کر کے سونے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ صبح جلد اٹھنا بھی آہستہ آہستہ شروع کیا ہے۔ اب میری انشااللہ تعالیٰ کوشش رہے گی کہ صبح صبح پڑھنے کی بھی عادت ڈالوں۔ </p>
<p>اس مفید پوسٹ پر میں آپ کا بے انتہا شکرگزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
