<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: پڑھنا کب بہتر</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17049</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Mar 2009 04:06:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17049</guid>
		<description>انا صاحبہ یا صاحب
آپ نے تو انا کے خلاف بات کر دی  
 :lol: 
بلاشک تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>انا صاحبہ یا صاحب<br />
آپ نے تو انا کے خلاف بات کر دی<br />
 <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_lol.gif' alt=':lol:' class='wp-smiley' /><br />
بلاشک تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: انا</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17047</link>
		<dc:creator>انا</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Mar 2009 14:07:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17047</guid>
		<description>اقبال نے کہا تھا کہ
عطار ہو رومی ہو ،رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحر گاہی
صبح میں واقعی اسرار پوشیدہ ہیں لیکن ایسی خراب عادت پڑی ہےہم میں سے اکثر لوگوں کو رات تک جاگنے اور دن چڑھے سونے کی-قصور والدیں کا بھی ہے ،ماحول کا بھی اور ہم لوگوں کا بھی-
باقی پڑھنے کے لئے صبح کا وقت ہی اچھا ہے کیونکہ رات جاگنا ایک خلافِ فطرت بات ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اقبال نے کہا تھا کہ<br />
عطار ہو رومی ہو ،رازی ہو غزالی ہو<br />
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحر گاہی<br />
صبح میں واقعی اسرار پوشیدہ ہیں لیکن ایسی خراب عادت پڑی ہےہم میں سے اکثر لوگوں کو رات تک جاگنے اور دن چڑھے سونے کی-قصور والدیں کا بھی ہے ،ماحول کا بھی اور ہم لوگوں کا بھی-<br />
باقی پڑھنے کے لئے صبح کا وقت ہی اچھا ہے کیونکہ رات جاگنا ایک خلافِ فطرت بات ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17040</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 22 Mar 2009 04:52:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17040</guid>
		<description>سیّدہ صبا صاحبہ
بات آپ نے درست کہی ۔ تعلیمی نصاب کا جو حال ہمارے ہاں جدیدیت کے نام پر ہوا ہے ۔ الامان الحفیظ ۔ میں جب 1999ء نے میرے بیٹے زکریا اور اپنی بہو دونوں کی ایم ایس انجنیئرنگ کی کنووکیشن تھی میں بھی پہنچ گیا تھا ۔ ایک دن میں زکریا کے ساتھ اس کی یونیورسٹی جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلا گیا ۔ اُسے لائبریری میں کوئی کام تھا ۔ وہاں لائبریری میں کتابیں نہیں کمپیوٹر ہوتے ہیں جن پر ہر کتاب پڑھی جا سکتی ہے ۔ اُس نے اپنی بیوی کے آئی ڈی سے ایک کمپیوٹر کھول کر مجھے دیا تاکہ میرا وقت آسانی سے گذر جائے اور خود وہ دوسرے کمپیوٹر پر مشغول ہو گیا ۔ میں نے وہ سٹڈی کورسز دیکھنا شروع کر دیئے ۔ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ وہاں بی ایس انجنیئرنگ کا ہُو نہُو وہی سلیبس تھا جو ہم نے انجنیئرنگ کالج لاہور میں چالیس سال قبل پڑھا تھا لیکن ہمارے ملک میں جدیدیت کے نام پر تبدیل کر کے مُختصر کیا جا چکا تھا ۔ 
نظم کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 1973ء تک وہ کتابیں پڑھائی جا رہی تھیں جو ہم نے پڑی تھیں ۔ پھر جو تعلیمی اصلاحات نافذ ہونا شروع ہوئیں تو تعلیم مذاق بن کر رہ گئی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سیّدہ صبا صاحبہ<br />
بات آپ نے درست کہی ۔ تعلیمی نصاب کا جو حال ہمارے ہاں جدیدیت کے نام پر ہوا ہے ۔ الامان الحفیظ ۔ میں جب 1999ء نے میرے بیٹے زکریا اور اپنی بہو دونوں کی ایم ایس انجنیئرنگ کی کنووکیشن تھی میں بھی پہنچ گیا تھا ۔ ایک دن میں زکریا کے ساتھ اس کی یونیورسٹی جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلا گیا ۔ اُسے لائبریری میں کوئی کام تھا ۔ وہاں لائبریری میں کتابیں نہیں کمپیوٹر ہوتے ہیں جن پر ہر کتاب پڑھی جا سکتی ہے ۔ اُس نے اپنی بیوی کے آئی ڈی سے ایک کمپیوٹر کھول کر مجھے دیا تاکہ میرا وقت آسانی سے گذر جائے اور خود وہ دوسرے کمپیوٹر پر مشغول ہو گیا ۔ میں نے وہ سٹڈی کورسز دیکھنا شروع کر دیئے ۔ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ وہاں بی ایس انجنیئرنگ کا ہُو نہُو وہی سلیبس تھا جو ہم نے انجنیئرنگ کالج لاہور میں چالیس سال قبل پڑھا تھا لیکن ہمارے ملک میں جدیدیت کے نام پر تبدیل کر کے مُختصر کیا جا چکا تھا ۔<br />
نظم کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 1973ء تک وہ کتابیں پڑھائی جا رہی تھیں جو ہم نے پڑی تھیں ۔ پھر جو تعلیمی اصلاحات نافذ ہونا شروع ہوئیں تو تعلیم مذاق بن کر رہ گئی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: صبا سیّد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17038</link>
		<dc:creator>صبا سیّد</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Mar 2009 14:21:24 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17038</guid>
		<description>اسلامُ علیکم
جب ہم چھوٹے تھے تب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ رات دیر جاگنے کی اور صبح دیر سے اٹھنے کی عیاشی کر سکیں۔ تب تو بس سات کیا بجنے ہوتے تھے فوراً امی کی آواز آتی تھی، بابا آنے والے ہیں ۔۔۔ بس بابا آتے ، کھانا لاگتا اور آٹھ بجے تک بستر کے اندرد یہ ا وہ جا۔ اور صبح بھی جد بیدار ہو جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ہم جمعہ کے دن بھی 7 بجے کے بعد اٹھیں ہوں۔ اس کے بعد تو بس عادتیں بگڑیں تو بگڑتی گیئں، لیکن تب بھی صرف پڑھائی کی غرض سے ہی جاگنا ہوتا تھا، لیکن اٹھنے کا وقت ہمیشہ وہی رہا۔ 
اب میں جس جگہ ہوں کافی سے ذیادہ جہالت ہے یہاں لیکن یہاں کی کچھ باتیں بہت اچھی ہیں۔ یہاں لوگوں کی یہی عادت ہے ۔ فجر کے وقت اٹھتے ہیں ، 8 بجے کے قریب سب اپنے اپنے کام پہ نکل جاتے ہیں، 12 بجے واپسی ہوتی ہے تو ان 4 گھنٹوں میں قیلولہ لینے کا بھی وقت مل جاتا ہے۔ 4 بجے شام کو پھر کام کے لیے نکل پڑھتے ہیں، 8 بجے تک سارے کام کاج بن ہو جاتے ہیں، گھر پہنچ کر یہ لوگ عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور 9 بجے تک سو جاتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب ، عام آدمی ہو یا یہا ں کا صدر سب کی یہی روٹین ہے۔ اب تو میری بھی تقریباً یہی روٹین بن گئی ہے، ورنہ شادی سے پہلے مجھ سے فجر کی نماز قضا ہو جاتی تھی (یا پھر یوں کہیے کہ پڑھے نہیں جاتی تھی  :oops: ) 

فی امان اللہ

P.S = ہاں! ایک بات یاد آئی انکل، جس نظم کا ذکر آپ نے کیا ہے وہ نظم ہمارے بھی نصاب میں تھی۔ امید ہے دوسرے مضامین بھی وہی ہونگے اس اندازہ لگائیے ہمارy سرکاری تعلیمی نظام نے کتنے &quot;شاندار&quot; طریقے سے &quot;ترّقی&quot; کی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اسلامُ علیکم<br />
جب ہم چھوٹے تھے تب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ رات دیر جاگنے کی اور صبح دیر سے اٹھنے کی عیاشی کر سکیں۔ تب تو بس سات کیا بجنے ہوتے تھے فوراً امی کی آواز آتی تھی، بابا آنے والے ہیں ۔۔۔ بس بابا آتے ، کھانا لاگتا اور آٹھ بجے تک بستر کے اندرد یہ ا وہ جا۔ اور صبح بھی جد بیدار ہو جاتے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی ہم جمعہ کے دن بھی 7 بجے کے بعد اٹھیں ہوں۔ اس کے بعد تو بس عادتیں بگڑیں تو بگڑتی گیئں، لیکن تب بھی صرف پڑھائی کی غرض سے ہی جاگنا ہوتا تھا، لیکن اٹھنے کا وقت ہمیشہ وہی رہا۔<br />
اب میں جس جگہ ہوں کافی سے ذیادہ جہالت ہے یہاں لیکن یہاں کی کچھ باتیں بہت اچھی ہیں۔ یہاں لوگوں کی یہی عادت ہے ۔ فجر کے وقت اٹھتے ہیں ، 8 بجے کے قریب سب اپنے اپنے کام پہ نکل جاتے ہیں، 12 بجے واپسی ہوتی ہے تو ان 4 گھنٹوں میں قیلولہ لینے کا بھی وقت مل جاتا ہے۔ 4 بجے شام کو پھر کام کے لیے نکل پڑھتے ہیں، 8 بجے تک سارے کام کاج بن ہو جاتے ہیں، گھر پہنچ کر یہ لوگ عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور 9 بجے تک سو جاتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب ، عام آدمی ہو یا یہا ں کا صدر سب کی یہی روٹین ہے۔ اب تو میری بھی تقریباً یہی روٹین بن گئی ہے، ورنہ شادی سے پہلے مجھ سے فجر کی نماز قضا ہو جاتی تھی (یا پھر یوں کہیے کہ پڑھے نہیں جاتی تھی  <img src='http://www.theajmals.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_redface.gif' alt=':oops:' class='wp-smiley' />  ) </p>
<p>فی امان اللہ</p>
<p>P.S = ہاں! ایک بات یاد آئی انکل، جس نظم کا ذکر آپ نے کیا ہے وہ نظم ہمارے بھی نصاب میں تھی۔ امید ہے دوسرے مضامین بھی وہی ہونگے اس اندازہ لگائیے ہمارy سرکاری تعلیمی نظام نے کتنے &#8220;شاندار&#8221; طریقے سے &#8220;ترّقی&#8221; کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/03/%d9%be%da%91%da%be%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a8-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1/comment-page-1/#comment-17037</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Mar 2009 07:41:43 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1896#comment-17037</guid>
		<description>ڈِفر صاحب
میں نے بہت زیادہ احتیاط برت کر چالیس سال کہا تھا ۔ کیونکہ میں 1976ء کے شروع میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا ۔ واپس سات سال بعد ہوئی اور آتے ہی مجھے نیچے اُوپر تیں بڑے پراجیکٹ دیئے گئے ۔ جب میں پونے باون سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر گھر بیٹھا تو معلوم ہوا دنیا بدل چکی ہے ۔ جرمنی کا مجھے یاد ہے کہ سب دکانیں بشمول اوٹو میس ۔ کار شٹاٹ اور کاؤف ہوف شام ساڑھے چھ بجے بند ہو جاتی تھیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ڈِفر صاحب<br />
میں نے بہت زیادہ احتیاط برت کر چالیس سال کہا تھا ۔ کیونکہ میں 1976ء کے شروع میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا ۔ واپس سات سال بعد ہوئی اور آتے ہی مجھے نیچے اُوپر تیں بڑے پراجیکٹ دیئے گئے ۔ جب میں پونے باون سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر گھر بیٹھا تو معلوم ہوا دنیا بدل چکی ہے ۔ جرمنی کا مجھے یاد ہے کہ سب دکانیں بشمول اوٹو میس ۔ کار شٹاٹ اور کاؤف ہوف شام ساڑھے چھ بجے بند ہو جاتی تھیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

