یہودی ریاست کا حق ؟

“غیر تو غیر ہوۓ اپنوں کا بھی یارا نہ ہوا” کے مصداق کچھ ہموطبن بھائیوں اور بہنوں کا بھی یہ خیال ہے کہ اسرائیل یہودیوں کا حق تھا یا یہ کہ چونکہ اسرائیل بن چکا ہے اس لئے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیئے ۔ جہاں تک ریاست کے حق کا معاملہ ہے تو اس کی کچھ تو زمینی بنیاد ہونا چاہیئے

میں نے اپنی اس سے قبل کی تحاریر میں جو تاریخی حقائق بیان کئے ہیں وہ یہودی ریاست کی نفی کرتے ہیں ۔ مزید میں دستاویزی حقیقت بیان کر چکا ہوں کہ حضرت اسحاق علیہ السّلام مسجد الاقصٰی میں عبادت کرتے رہے مگر حج کے لئے وہ مکّہ مکرّمہ میں خانہ کعبہ ہی جاتے تھے ۔ ان کے پوتے حضرت یوسف علیہ السّلام جب مصر کے بادشاہ بنے تو انہوں نے اپنے خاندان کے اکتیس اشخاص کو جن میں ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السّلام اور سارے بھائی بھی شامل تھے مصر بلا لیا تھا ۔ بنی اسراءیل کے یہودی پہلے ہی دولت و ثروت کی خاطر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آباد ہو گئے تھے اور مصریوں کے غلام ہونا قبول کر چکے تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السّلام نے جاتے ہوۓ مسجد الاقصٰی فلسطینی باشندوں کے سپرد کر دی تھی جو کہ نیک لوگ تھے مگر بنی اسراءیل میں سے نہیں تھے

حضرت یوسف علیہ السّلام کے 300 سال بعد حضرت موسی علیہ السّلام مصر میں پیدا ہوۓ ۔ جس سرزمین پر یہودی اپنی میراث ہونے کا دعوی کرتے ہیں اسے انہوں نے اپنی مرضی سے حضرت موسی علیہ السّلام سے 400 سال پیشتر خیر باد کہہ کر مصر میں دولت کی خاطر غلام بننا قبول کیا تھا

حضرت موسی علیہ السّلام کے 40 سال بعد تک بنی اسراءیل صحراۓ سینائی میں بھٹکتے رہے یہانتک کہ ان کی اگلی نسل آ گئی جس میں حضرت داؤد علیہ السّلام پیدا ہوۓ اور انہوں نے بھٹکی ہوئی بنی اسراءیل کو فلسطین جانے کو کہا ۔ میں لکھ چکا ہوں کہ کس طرح حضرت داؤد علیہ السّلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ اول تو حضرت داؤد علیہ السّلام یہودی نہ تھے بلکہ قرآن شریف کے مطابق مُسلم تھے
لیکن اگر یہودیوں کی بات مان لی جاۓ تو بھی یہ حکومت اس وقت مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی جب آج سے 2591 سال قبل بابل والوں نے اس پر قبضہ کر کے بمع عبادت گاہ سب کچھ مسمار کر دیا تھا اور بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا تھا ۔ [بابل عراق کے شمالی علاقہ میں تھا اور ہے]

اب پچھلی صدی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اس کی مثال اس طرح ہے ۔ کہ میرے پاس 100 ایکڑ زمین تھی ایک جابر اور طاقتور
شخص نے اس میں سے 40 ایکڑ پر زبردستی قبضہ کر لیا ۔ اب صلح کرانے والے مجھے یہ مشورہ دیں کہ “میری 40 فیصد زمین پرظالم کا قبضہ ایک زمینی حقیقت ہے اس لئے میں اسے قبول کر لوں اور شکر کروں کہ 60 ایکڑ میرے پاس بچ گئی ہے ۔” کیا خُوب انصاف ہوگا یہ ؟ ؟ ؟ اور پھر اس کی کیا ضمانت ہو گی کہ وہ طاقتور شخص مجھ سے باقی زمین نہیں چھِینے گا ؟

اسرائیل کے تمام لیڈروں کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھُل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی فلسطین تو کیا سرزمینِ عرب سے بھی تعلق نہیں رکھتا ۔ تھیوڈور ہرستل بڈاپسٹ [ہنگری] کا تھا ۔ بن گوریاں پولانسک [پولینڈ] کا ۔ گولڈا میئر کِیو [یوکرَین] کی ۔ مناخم بیگِن بریسٹ لِٹواسک [روس] کا ۔ یِتسہاک شمِیر رُوزینوف [پولینڈ] کا ۔ چائم وائسمَین جو اسرائیل کا پہلا صدر بنا وہ موٹول [پولینڈ] کا تھا

ثابت یہی ہوتا ہے کہ اسرائیل کے لیڈروں کا فلسطین سے نہ تو کوئی تعلق تھا اور نہ ہے اور نہ فلسطین یا اس کا کوئی حصہ کبھی بھی یہودیوں کی مملکت تھا ۔ ریاست اسرائیل کا وجود جور و جبر کا مرہون منت ہے ۔ اگر یہ اصول مان لیا جاۓ کہ چونکہ 1005 قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت شروع ہونے سے وہاں بابل والوں کے قبضہ تک 400 سال یہودی فلسطین کے علاقہ میں رہے یعنی آج سے 2610 سے 3010 سال پہلے تک تو اس کی بنیاد پر یہودیوں کی ریاست وہاں ہونا چاہیئے ۔ پھر ہسپانیہ ۔ مشرقی یورپ ۔ مغربی چین ۔ مغربی روس اور ہندوستان پر 800 سال یا اس سے زیادہ عرصہ مسلمانوں کی حکومت رہی ہے چنانچہ یہ سارے ملک مسلمانوں کے حوالے کر دیئے جائیں ۔

اِسی طرح کئی اور ملکوں کا تنازع بھی کھڑا ہو سکتا ہے ۔ کوئی عجب نہيں کہ کل کو بھارت کے ہندو کہیں کہ موجودہ پاکستان کے کافی علاقہ پر تو ہمارے موریہ خاندان [چندر گپت اور اشوک کمار ۔322 سے 183 قبل مسیح] نے 129 سال حکومت کی تھی اور اسے واپس لینے کے لئے بھارت پاکستان پر حملہ کردے اور امریکہ وغیرہ اسرائیل کے متذکّرہ اصول پر بھارت کا ساتھ دیں ۔ اِسی طرح مسلمانوں کا بھی حق بنتا ہے کہ سارے مِل کر جنوبی اور مشرقی یورپ پر حملہ کردیں کہ یہاں کِسی زمانہ میں مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ قدیم امریکی موجودہ سفید فام امریکیوں کو جو کہ دراصل انگریز ۔ جرمن ۔ ہسپانوی وغیرہ ہیں امریکہ سے نکل جانے کا کہیں ۔ آسٹریلیا کے اصل باشندوں کی خاطر سفید فام آسٹریلویوں کو نکل جانے کا حکم دیا جائے ۔

اگر یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا تو پھر اِسرائیل بنانا کِس طرح جائز ہے ؟ ؟ ؟

علامہ اقبال کا ایک شعر ہے

ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پہ حق نہیں کیوں اہل عرب کا

This entry was posted in تاریخ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “یہودی ریاست کا حق ؟

  1. راشد کامران

    تاریخی حقائق بلاشبہ اپنی جگہ مسلّم ہیں، لیکن جیسا کہ برصغیر کی تقسیم کے مخالف جتنا واویلہ کریں یا اس کی تنسیخ کا مطالبہ کریں لیکن اب یہ ایک حقیقت ہے۔ بالکل اسی طرح اگر اس چیز کو تسلیم کیا جائے کہ قانونی یا غیر قانونی جس طرح بھی اسرائیل کی ریاست نہ صرف یہ کہ قائم کردی گئی ہے بلکہ اب ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے بعد اب امن کا قیام کس طرح ممکن ہو کیا یہ زیادہ ضروری نہیں۔ فی الحال نہ تو اسرائیل کے لیے ممکن ہے کہ وہ فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکے اور نہ فلسطینیوں کے لیے ممکن ہے کہ وہ یہودی ریاست کا نام و نشان مٹا سکیں۔ اس کے بعد آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں امن کا قیام کس طرح ممکن ہو۔ دو ریاستوں کا قیام جس کی حمایت کافی زیادہ لیکن اسرائیل کی ممکنہ مخلوط حکومت میں اسکی حمایت کافی کم ہے۔۔ یا پھر فلسطینی اسرائیل میں ضم ہوکر اپنی اکثریت واضح ہونے کا انتظار کریں جو اعدادو شمار کے حساب سے مستقبل قریب کی بات ہے۔

    ایک بات جو مجھے مزید پریشان کرتی ہے وہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں میں رائج مختلف روایات ہیں جن کی رُو سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تا قیامت اس خطہ زمین پر خون خرابہ ہوتا ہی رہے گا۔۔امن کے دعویدار تین مذاہب اس خطہ زمین پر اتنا لڑچکے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    اگر اسرائیل کا حق مانا جائے تو اُنہیں صرف اُس علاقہ میں رہنا چاہیئے جس کا اقوامِ متحدہ نے دس ارکان کی غیر حاضری میں فیصلہ کیا تھا اور باقی سارا علاقہ خالی کر دینا چاہیئے ۔ اقوامِ متحدہ کے فیصلہ کے مطابق اسرائیل کیا ہونا چاہیئے اس کیلئے دیکھئے میری 24 جنوری 2009ء کی تحریر اور متعلقہ نقشہ ۔ آسانی کیلئے ربط مندرجہ ذیل ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2009/01/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%86%d8%af%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d9%86%d9%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b5%db%8c%db%81%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%81/
    یہی ایک صورت ہے امن قائم کرنے کی ۔ یک طرفہ نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل جب چاہے جہاں چاہے حملہ کرے اور قبضہ بھی کرے اور فلسطینی اسرائیل کا دعوٰی مان لیں ۔ پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اسرائیل کا موجودہ مطالبہ مان لیا جائے تو وہ مزید مطالبہ نہیں کرے گا جبکہ اُن کا مسلک یہ ہے کہ صرف وہ اس دنیا میں آزادانہ جینے کا حق رکھتے ہیں باقی سب اُن کا تابعدار بن کر جیئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)