کیاواقعی ایساہے

میرا پاکستان والے صاحب نے میری تحریر سے آگے چلتے ہوئے کچھ ایسا استدلال اختیار کیا ہے جو منطق [Logic] اور تاریخی حقائق کی نفی کرتا ہے ۔ میں نہ تو عالِمِ دین ہوں نہ عالِمِ تاریخ ۔ طالب عِلم کی حیثیت سے جو میں اپنے 60 سالہ مطالعہ کی روشنی میں اُن کے مندرجہ ذیل بیانات کے متعلق اصل صورتِ حال کو مختصر طور پر واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اللہ میری مدد فرمائے

ناں مسلمان عربی سیکھ پائیں گے اور ناں انہیں قرآن میں کیا لکھا ہے اس کی سمجھ آئے گی۔ اس سازش کو کامیاب بنانے میں عام امام مسجدوں نے بنیادی کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے بچوں کو قرآن عربی میں ہی ختم کرا کے سجمھا انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کر لی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوسری زبان سیکھنا بہت ہی مشکل تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تو قرآن اور نماز اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں پڑھنے کا حکم دے دیں تا کہ قرآن اور نماز پڑھتے ہوئے آدمی خدا سے براہ راست مخاطب ہو اور اسے پتہ چلے کہ وہ خدا سے کیا مانگ رہا ہے اور خدا اسے کیا حکم دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا استدلال یہی ہے کہ نئی زبان سیکھنے کی کوفت میں کوئی بھی نہیں پڑے گا اور آسانی اسی میں ہے کہ دین کو اپنی علاقائی زبان میں پڑھا اور سیکھا جائے تا کہ ہر بات آسانی سے سمجھ میں آجائے۔ پندرہ بیس کروڑ کی آبادی کو عربی زبان سکھانے سے بہتر ہے کہ اسے اسی کی زبان میں دین کی تعلیم دی جائے۔ اس کی مثال دنیاوی تعلیم ہے اور مسلمانوں کے سوا دنیا کے باقی تمام ممالک میں ان کی علاقائی زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے

عربی زبان
عربی زبان سیکھنا مُشکل نہیں ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہموطن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان جس کے حروف اور رسم الخط جانے پہچانے ہیں اور جس کے کئی الفاظ ہماری اپنی زبان میں موجود ہیں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ۔ اس کے مقابلہ میں انگریزی جس کے حروف ۔ قوائدِ ترکیب ۔ صرفِ نحو اور رسمُ الخط سب کچھ بیگانے ہیں نہ صرف سیکھتے ہیں بلکہ اسے مادری زبان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سکولوں میں انگریزی پڑھانے والے کو اگر دس ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے تو عربی پڑھانے والے کو دو ہزار روپیہ دیا جاتا ہے ۔ انگریزی پڑھانے کیلئے اعلٰی سند یافتہ اُستاذ رکھا جاتا ہے اور عربی زبان پڑھانا کم خرچ کی خاطر کسی ایرے غیرے کے ذمہ لگا دیا جاتا ہے ۔ انگریزی پڑھانے والے کی عزت کی جاتی ہے اور عربی پڑھانے والے کا تمسخر اُڑایا جاتا ہے ۔ ایک بچے کو انگریزی گھر پر پڑھانے کا پانچ ہزار روپیہ ماہانہ دیا جاتا ہے ۔ گھر آ کر قرآن شریف پڑھانے والے کو ایک سو روپیہ ماہانہ دے کر احسان کیا جاتا ہے ۔ اِن حالات میں عربی زبان کیسے سیکھی جا سکتی ہے ؟

کیا عربی زبان سیکھنا مُشکل ہے ؟
ہمارے ہموطن انگریزی کے علاوہ جرمنی ۔ فرانس ۔ جاپان اور چین کی زبانیں ۔ علومِ کیمیاء طبعیات ریاضی بالخصوص کیلکُولس بلکہ ڈِفرینشل کیلکُولس سیکھنے کیلئے سالہا سال محنت کرتے ہیں تو اُنہیں قرآن شریف جس کے حروف اُردو کی طرح ہیں اور اُردو کی طرح ہی لکھی جاتی ہے کو ترجمہ کے ذریعہ سمجھنے میں کیونکر دقت درپیش ہے ؟ خاص کر جب کتابی صورت کے علاوہ انٹرنیٹ پر قرآن شریف کا ترجمہ سیکھنے اور عربی زبان سیکھنے اور بولنے کا طریقہ آسانی سے دستیاب ہے ۔ اس کے علاوہ وطنِ عزیز میں ایسے کئی مدارس یا جامعات ہیں جہاں قرآن شریف [تجوید ترجمہ تفسیر] ۔ علوم القرآن و حدیث ۔ تعارف ادیان ۔ دینی شخصیات کا احوال ۔ آدابِ زندگی [ذاتی ۔ معاشرتی ۔ کلام ۔ سلوک ۔ عدل] وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں اور یہ گریجوئیٹ کیلئے ایک سالہ کورس ہے اور کورس کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جنہیں دین کی آرزو ہے وہ گھر بیٹھے بھی سیکھ سکتے ہیں مگر اوّل شوق ہی نہیں اور جو پڑھتے ہیں اُن کی اکثریت مادہ پرست ہونے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرتی

تلاوت بغیر عربی زبان سیکھے
اگر کوئی اُردو پڑھنا جانتا ہو تو قرآن شریف کو سمجھے بغیر پڑھ سکتا اور پھر قرآن شریف میں ایسے الفاظ بھی ہیں جو اُردو میں موجود ہیں ۔ میرا نظریہ ہے کہ کوئی زیادہ وقت نہیں دے سکتا تو صرف روزانہ فجر کی نماز کے بعد قرآن شریف کا ایک رکوع اُردو ترجمہ کے ساتھ اس نیّت سے پڑھے کہ میں نے اسے ذہن نشین کرنا ہے اور اس میں دیئے گئے اللہ کے پیغام پر عمل کرنا ہے ۔ اِن شا اللہ وہ شخص قرآن شریف کو سمجھنے لگے گا اور اس پر عمل بھی کرنے لگ جائے گا ۔ رہی بات عربی زبان پڑھ کر خود قرآن شریف کا ترجمہ کرنا اور اس کو سمجھنا تو اس کیلئے لمبی عمر کے ساتھ انتہائی خشوع و خضوع درکار ہے ۔ اُن کیلئے بھی جن کی مادری زبان عربی ہے ۔ کُجا میرے جیسے کم عِلم جنہیں اپنی زبان کی بھی درست سمجھ نہیں ۔ اگلا سوال ہو گا کہ مختلف لوگوں نے مُختلف ترجمے کئے ہیں ۔ یہ ایک معاندانہ افواہ ہے جو مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے کیلئے پھیلائی گئی ہے ۔ حکومتِ پاکستان سے منظور شدہ اُردو تراجم سب ایک سے ہی ہیں ۔ الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں مفہوم نہیں ۔ مستند عام فہم مختصر تفصیر کے ساتھ اُردو ترجمہ پڑھنے کیلئے دارالسلام پبلشرز کا احسن البیان ۔ مودودی صاحب کا تفہیم القرآن اور سعودی حکومت کا منظور شدہ قرآن مع اُردو ترجمہ اور تفسیر ۔ اولالذکر دونوں بازار میں عام ملتے ہیں اور تیسرا کسی سعودی سفارتخانہ کے تحت کام کرنے والے مکتب الدعوہ سے بغیر معاوضہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ تفہیم القرآن چھ عمدہ مجلد حصوں پر مشتمل 2500 روپے میں دستیاب ہے اور اس سے کم ہدیہ والے بھی ہیں ۔ احسن البیان کا ہدیہ اس سے کم ہے

مُلا کی تاریخ
جو قوم اپنی تاریخ میں ہی دلچسپی نہیں لیتی وہ بیچارے امام مسجد کی تاریخ کیسے جان سکتی ہے ؟ مُلا انگریزی کے پروفیسر [Professor] کا ہم وزن ہے ۔ وطنِ عزیز میں تو گیارہویں جماعت کو پڑھانے والے کو بھی پروفیسر کہتے ہیں لیکن میں اس کی نہیں بلکہ عمدہ جامعہ [university] کے پروفیسر کی بات کر رہا ہوں ۔ مُلا ایک ایسے شخص کو کہا جاتا تھا جو صرف عالِمِ دین نہیں بلکہ کئی علُوم کا عالِم ہوتا تھا ۔ زمانہ قدیم میں مساجد اور کلیسا عِلم کا گہوارہ تھے اور یہی جامعات تھے ۔ علمِ کیمیا کا ماہر ایواگیڈرو ایک پادری تھا ۔ یونانی ماہرِ کیمیا مارک ایک راہب تھا ۔ وہ مسلمان جنہوں نے ریاضی ۔ جغرافیہ ۔ فلکیات ۔ طب ۔ طبعیات ۔ کیمیا اور عِلمِ ہندسہ وغیرہ کو جدید ترقی کی پٹڑی پر چڑھایاسارے مُلا ہی تھے اور دین پر قائم رہتے ہوئے دنیاوی عِلم میں عروج حاصل کیا تھا ۔ جب عیسائیوں نے مذہب کو دنیا سے الگ کیا تو علِم کو کلیسا بدر کر دیا جس کے نتیجہ میں عیسائی اپنے مذہب سے دور ہوتے چلے گئے ۔ ہند وستان پر انگریزوں کا غلبہ ہو جانے کے بعد تمام عالِم خواہ وہ دین کے تھے یا دنیاوی عِلم کے سب کو تہہ تیغ کر دیا گیا اور مساجد جو کہ جامعات [universities] تھیں کا خرچ چلانے کیلئے مُختص جاگیریں ضبط کر لی گئیں ۔ پھر چھوٹے قصبوں اور دیہات سے کم پڑھے لکھے روٹی کے محتاج چند سو جوانوں کو چُن کر دین اسلام کی خاص تعلیم و تربیت کیلئے برطانیہ بھیجا گیا ۔ اس تعلیم و تربیت کے بعد انہيں واپس لا کر مساجد کے امام بنا دیا گیا اور ان کا نان و نفقہ متعلقہ علاقہ کے لوگوں کے ذمہ کر دیا گیا ۔ اس طرح مُلا جمعراتی کی پود لگا کر اُس کی آبیاری کی جاتی رہی ۔ حکومت ان مُلاؤں سے اپنی مرضی کے فتوے لیتی رہی ۔ دین کا کامل علم نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے ان انگریز غلام مُلاؤں نے اپنے مقتدیوں کو رسم و رواج میں اُلجھایا اور فرقوں میں بانٹ دیا ۔ بد قسمتی یہ ہے آج بھی امام مسجدوں کی بھاری اکثریت ایسے ہی مُلاؤں پر مشتمل ہے ۔ جبکہ نہ حکومت اور نہ مقتدی اسلام نافذ کرنا چاہتے ہوں تو ملاؤں کا کیا قصور ؟

قرآن شریف اپنی زبان میں
قرآن شریف کا ترجمہ رائج کرنا اسلئے بھی غلط ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ کیا جائے تو مضمون کی اصل روح کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور بعض اوقات مترجم اصل عبارت کا مفہوم ہی بدل کے رکھ دیتا ہے ۔ اس وقت دنیا کی ہر بڑی زبان میں قرآن شریف کا ترجمہ موجود ہے ۔ اگر صرف دوسری زبانوں پر ہی انحصار شروع کر دیا جائے تو اللہ کا اصل پیغام لوگوں کے ذہنوں سے محو ہونا شروع ہو جائے گا ۔ مزید برآں پہلے سے کوشاں مخالف قوتوں کو اسے بدلنے میں سہولت ہو جائے گی اور قرآن شریف کے ساتھ وہی کچھ ہو گا جو تورات ۔ زبور اور انجیل کے ساتھ ہوا آج دنیا میں بائبل کے نام سے درجنوں مختلف کتابیں موجود ہیں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے قرآن شریف میں کچھ ایسی تاثیر رکھی ہے کہ عربی نہ سمجھتے ہوئے بھی قرآن شریف کی تلاوت بہت اثر رکھتی ہے اور پورا قرآن شریف لوگ زبانی یاد کر لیتے ہیں ۔ لیکن یہ سب تو صرف بحث ہے ۔ آجکل قرآن شریف کے مستند بامحاوہ ترجمہ آسانی سے دست یاب ہے ۔ اسے پڑھ کر اپنے فراض و حقوق کو اچھی طرح سے ذہن نشین کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ عربی میں تلاوت جاری رکھی جائے تو اللہ کے کلام کی برکت سے بہت کچھ سمجھ آنے لگ جاتا ہے ۔ آزمائش شرط ہے

قرآن شریف سے قبل جتنے صحیفے اُتارے گئے وہ ایک مخصوص قوم کیلئے تھے ۔ جب اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے دین مکمل کرنا چاہا تو ایسی زبان میں قرآن شریف اُتارا جو اُس وقت کی آباد دنیا کے اکثر حصہ میں سمجھی جاتی تھی اور وہ زبان عربی تھی ۔ تاریخ پر غور کیا جائے تو عربی زبان نہ صرف جزیرہ نما عرب بلکہ ملحقہ علاقوں میں بھی بولی یا کم از کم سمجھی جاتی تھی ۔ مشہور واقع حبشہ کا ہے جو افریقہ میں واقع تھا اور مکہ سے سب سے پہلے ہجرت کرنے والے مسلمان حبشہ پہنچے تھے اور وہاں کے عیسائی بادشاہ کو سورت مریم سنانے پر بادشاہ نے اُنہیں اپنا مہمان بنا لیا تھا

اپنی اپنی زبان میں قرآن شریف کا ترجمہ کرنا بھی آسان نہیں ۔ پچھلے 55 سال کے دعووں کے برعکس اب تک نہ مُلک میں اُردو نافذ کی گئی ہے اور نہ تعلیم اُردو میں شروع ہوئی ہے وجہ صرف یہ ہے کہ عام پڑھی جانے والی آسان کتابوں کا بھی اُردو میں ترجمہ نہیں ہوا ۔ علاقائی زبانوں میں کون اور کیسے ترجمہ کرے گا ؟ پھر پاکستان میں درجن بھر زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان ہر ضلع میں فرق بولی جاتی ہے اور کئی اضلاع میں ہر تحصیل میں فرق فرق بولی جاتی ہے ۔ پنجابی ہی دیکھ لیں ۔ ہر ضلع میں فرق فرق ہے ۔ راولپنڈی کی تو ہر تحصل کی پنجابی فرق ہے ۔ ایک تحصیل میں آؤں گا دوسری میں آ ریساں تیسری آساں نا چھوتھی میں اچھی ریساں ۔ ایک تحصیل میں شودا کا مطلب بدمعاش یا انگریزی والا شوئی [showy] ہے اور دوسری تحصیل میں شودا کا مطلب بیچارا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بہت کم لوگ ہیں جو اپنی مادری یا علاقائی زبان کو ہی پڑھ ۔ لکھ یا درست طریقہ سے بول سکتے ہیں ۔ اصل مسئلہ ہماری قوم کا خواندگی ہے جو 31 فیصد ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو معمولی اُردو لکھ اور پڑھ لیتے ہیں

قرآن شریف اپنی زبان میں پڑھنے کا نتیجہ
اپنی زبان میں قرآن شریف اور نماز پڑھنے سے لوگوں کے اللہ کے بتائے راستے پر چل پڑنے والی بات تاریخ کی صریح نفی ہے ۔ ترکی کے مصطفٰے کمال پاشا نے مئی 1881ء میں حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد مولویوں کو جاہل قرار دے کر اُن سے دین چھین لیا ۔ مسجدوں کو تالے لگا دیئے ۔ اپنی قوم کا [بقول اُسکے] ترقی کی راہ میں حائل لباس اُتروا کر اُنہیں ترقی دلانے والا یورپی نیم عُریاں لباس پہنا دیا ۔ یہاں تک کہ اپنا رسم الخط بدل کر انگریزی رسم الخط رائج کیا ۔ قرآن شریف کا ترجمہ اپنی زبان میں کروایا اور حُکم دیا کہ قرآن شریف اور نماز صرف ترکی زبان میں پڑھی جائے گی ۔ مصطفٰے کمال پاشا 10 نومبر 1938ء تک حکمران رہا ۔ اس عرصہ میں مسلمانی زیادہ ہونے کی بجائے بہت کم ہو گئی اور ترکی میں مسلمانوں نے شراب اور سؤر کے گوشت کا کثرت سے استعمال شروع کر دیا اور دیگر غیراسلامی عادات اپنا لیں لیکن اس جدیدیت کو اپنانے کے ایک صدی بعد بھی ترکی کو یورپی یونین کی رُکنیت نہ مل سکی ۔ میں 1979ء میں بیوی بچوں سمیت استنبول گیا ۔ اتفاق سے رمضان کا مہینہ تھا ۔ میری بیگم کو فکر پڑی تھی کہ افطار میں دیر نہیں ہونا چاہیئے ۔ مجھے ہوٹل میں صرف ایک شخص ملا جسے معلوم تھا کہ روزہ کتنے بجے کھُلے گا ۔ مُسلمانوں کے اس بڑے شہر میں روزہ کب کھلے گا معلوم کرنا تو در کنار اکثریت کو روزے کا ہی معلوم نہ تھا ۔ اسے کہتے ہیں

نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

دوسرے ممالک میں اپنی اپنی زبان میں تعلیم
دوسرے ممالک میں اپنی زبان میں تعلیم کے حوالے پر میں مُسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔ درست ہے کہ جرمنی ۔ فرانس ۔ اطالیہ ۔ چین ۔ جاپان حتٰی کہ عرب ممالک میں بھی دنیاوی تعلیم اپنی اپنی زبانوں میں ہے لیکن وطنِ عزیز میں آج تک دنیاوی تعلیم کا علاقائی تو چھوڑ قومی زبان میں پڑھانے کا بندوبست ہو نہیں سکا یعنی اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ انسان کی لکھی سائنس ۔ ریاضی وغیرہ کی کتابوں کا ترجمہ اُردو میں کر لیا جائے جو کوئی مُشکل کام نہیں اور ہم چلے ہیں اللہ کے کلام کا ترجمہ درجنوں علاقائی زبانوں میں کرنے جن کی سو سے زائد مقامی طرحیں ہیں ۔ وہ اللہ کا کلام جسے عام عربی پڑھنے والا بھی بغیر اُستاذ کے سمجھ نہیں سکتا ۔ جبکہ قرآن شریف کو سمجھنے کیلئے ہر سورت اور آیت کے شانِ نزول اور تاریخ کو بھی تحقیقی نگاہ سے پڑھنا پڑتا ہے

This entry was posted in دین, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

17 thoughts on “کیاواقعی ایساہے

  1. جعفر

    میں‌ آپ کے دلائل سے پوری طرح متفق ہوں میں‌ نے بھی وہ پوسٹ پڑھی تھی اور اس سے متفق نہیں تھا، اس پوسٹ کے ذریعے آپ نے میرے جذبات کی بھی ترجمانی کی ہے۔ شکریہ اور جزاک اللہ۔

  2. درویش

    بالکل۔ آپ نے اس تحریر کو بھرپور دلائل کے ساتھ جامع لکھا ہے اور ہم آپ کی باتوں سے متفق بھی ہیں۔

  3. یاسر عمران مرزا

    آپ کا بہت بہت شکریہ اور ان تمام صاحبان کا بھی جنہوں نے اپنا ٹائم صرف کر کے میرا پاکستان کی غلطی کی نشاندہی کی، آپ کی یہ تحریر بہت مفصل ہے اور اس موضوع کا بہت اچھی طرح احاطہ کرتی ہے، مجھے امید ہے کہ پڑھنے والے اس سے فائدہ حاصل کریں گے۔

  4. Pingback: » ہاں واقعی ایسا ہے میرا پاکستان:

  5. وھا ج الد ین ا حمد

    آپ نے بھت اچھا لکھا ھے ماشا اللھ
    قران مجید کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ھے اور جیسا اپ کھتے ھین
    آزماءش شرط ھے

    جی مین نے آپ کے لیے بھی اور آپکے تمام قارئین کے لیے بھی دعاین کی ھین
    عمرہ مین

  6. ارسلان نعیم

    پیارے ماموں جان، ماشااللھ آپ نے کافی تفصیل سے بیان کیاھے، قرآن کو سمجھنے کے حوالے سے-

    اللھ تعالع خود فرماتے ھیں کے، جس کا مفھوم یھ ھے، “میں نے قرآن کو آسان کر دیا تو کوی ھے جو اس کو سمجھے”

    بس انسان خلوصے دل کے ساتھ نیت اور کوشیش کرے-

    اللھ مجھے اور ھم سب کو قرآن پر عمل کرنے کی تو فیق دے آمین-

  7. ارسلان نعیم

    پیارے ماموں جان، قرآن کو انٹرنیت پر ، پڑھنے کے لیے کوی ویب سایٹ تو بتاٰیے-

  8. صبا سیّد

    اسلامُ علیکم انکل
    انکل آپ کے اور میرا پاکستان کے بلوگ پڑھے قرآن کو عربی میں پڑھنا یا اپنی مادری زبان میں پڑھنا بہتر ہے میں اس بارے میں کوئی رائے تو نہیں دونگی لیکن صرف اپنی سوچ شئیر کرنا چاہوں گی کیونکہ میں بھی کوئی عا لمِ دین نہیں اور پھر میرا تجربہ، عقل، سوچ، سب آپ دونوں سے محدود ہیں۔ یہ تبصرہ صرف اس لیے بذریعہ ای میل کر رہی ہوں کہ کوئی فرقہ ورانہ تاثر پیدا نہ ہو آپ کے بلوگ پر۔ اگر آپ چاہیں تو اسے تبصروں میں جگہ دے سکتے ہیں۔
    انکل یہ بحث آگے چل کے کس سمت جائے گی معلوم نہیں۔ میری رائے اس بارے میں غیر جانبدارانہ ہے۔ قرآن پاک کو اپنی مادری زبان میں سمجھ کر پڑھنے والی بات بالکل ٹھیک ہے، میں نے قرآن عربی کے علاوہ سندھی، اردو اور انگریزی میں بھی پڑھا ہے۔ اور جس زبان نے مجھے قرآن سمجھنے میں مدد سی وہ سندھی اور اردو تھیں۔ لیکن میں‌ قرآن پاک کو صرف اپنی مادری زبان میں پڑھنے کو بھی ترجیح نہیں دوں گی۔ بہت بہتر ہے کہ عربی تا اردو لغت کا سہار لے لیا جائے۔
    عربی ایک ایسی زبان ہے جس میں صرف زیر، زبر، پیش کے آگے پیچھے ہونے سے جملے کا سارا مہفوم ہی بدل جاتا ہے۔ اَلف کامطلب جہاں ایک ہوتا ہے وہیں اَلِف کا ایک ہزار ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات خارج الامکان نہیں کہ اس طرح بہت سے لوگ اپنے فائدے کے لیے قرآن کی من چاہی ترجمہ و تفسیر کی چھپائی کرتے پھریں۔ اس کی مثال میں آپ کو اپنے ساتھ پیش آنے والے دو واقعات سے دیئے دیتی ہوں۔
    میں ان دنوں قادیانیت، اور مرزا قادیانی کو اسٹڈی کر رہی تھی مقصد یہ جاننا تھا کہ جب قرآن میں
    رسول پاک صلعم کو خاتِم النبیاء قرار دیا جا چکا ہے تو یہ مرزا کہاں سے نبی بن گیا۔ یہی بات میں نے ایک قادیانی سے پوچھی، تو اس کے جواب نے مجھے یہ جواب دیا۔ قرآن میں دراصل حضرت محمدۖ کو خاتِم النبیاء نہیں‌ بلکہ خاتَم النبیاء کہا گیا ہے جسکا مطلب کی تمام نبیوں میں نگینے کی طرح کا ہے، اور دوسرے فرقے کے ملّاؤں نے اسے خاتِم کردیا ہے” اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر قرآن کو سب
    فرقے اپنے اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے لگیں تو کیا ہوگا۔
    دوسرا واقع یہ ہے کہ، میری بحث اپنی کسی سابقہ سہیلی سے شیعاؤں کے عقیدے پر ہو رہی تھی، باتوں باتوں میں میں نے اسے قرآن کی مثال دی کہ اس میں واضع فرمایا گیا ہے مسلمان تفرقے میں نہ پڑھیں۔ میرا صرف یہ کہنا تھا ۔ دوسرے دن اسی سہیلی کی ای میل موصول ہوئی جس میں قرآن کی آیتوں کے حوالے دیے گئے تھے اور تفسیر میں ایسا توڑ مروڑ پیش کیا گیا تھا کہ میری عقل دنگ ہو گئی کہ لوگ اپنے ذرا سے دنیاوی فائدے کے لیے قرآن کو بھی نہیں بخشتے۔ جہاں جہاں اعلٰی الدرجات کو علی کے درجےسے، علیٰ خیرالخلقِہِ کو علیٰ اور اس کے آل سے اور عَلیٰ کو ہر جگہ علیٌ سے ملایا گیا تھا۔ اہلِ بیت اور آلِ رسولۖ کو زبردستی فقط پنجتن سے منسلک کیا گیا تھا۔ چناچہ مجھے
    مجبوراً خاموشی اختیار کرنی پڑھی کہ کسی کو تو قرآن پاک کی حُرمَت کا پاس کرنا تھا۔
    فی امان اللہ

    اطلاع ۔ سیّدہ صبا ایک معروف شیعہ خاندان کی چشم و چراغ ہیں لیکن باعِلم ہیں اس لئے دین میں کسی تحریف کو نہیں مانتیں

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیّدہ صبا صاحبہ
    لفظ خاتَم ہے یعنی ت پر زَبَر ہے جس کا مطلب آخری ہے ۔ انگوٹی کو خاتم اسلئے کہا گیا کہ یہ درصل مُہر ہوتی تھی جو بادشاہ یا حاکم اُنگلی میں پہنے رکھتا تھا شاید اسلئے کہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ یہ مُہر جب خط یا حُکمنامہ پر لگا دی جاتی تو پھر اس کے بعد کچھ نہ لکھا جاتا یعنی خط یا حُکم ختم ہو جاتا ۔پنجابی میں اور شاید اُردو میں لوگ خاتِم کہتے ہیں جو غلط تلفظ ہے ۔

  10. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب ،
    السلام وعلیکم،
    انتہائی معلوماتی اس پوسٹ کا بے حد شکریہ۔
    پڑھ کے علم میں اضافہ ہوا۔
    یقینی طور پر قرآن پاک عربی زبان میں نازل کیاگیا اور ثواب اسی کوپڑھنے
    کا ہے ۔ سمجھںے کا ثواب الگ ہے جو ترجمہ اور تفسیر پڑھ کے حاصل کیا
    جاسکتا ہے۔
    میں نے کسی سے تفسیر کا پوچھا تو مجھے تفسیر ابن کثیر کا نام بتا یا گیا
    میں نے گزشتہ سے گزشتہ رمضان میں تفسیر پڑھنا شروع کی اور گزشتہ رمضان
    بلکہ عید الفطر کے دن اس تفسیر کا مطالعہ مکمل کیا ۔پورا ایک سال لگا
    اس تفسیر کو سوچ سمجھ کے ، مکمل دھیان ، یکسوئی کے ساتھ پڑھنے میں
    جبکہ عربی تلاوت ماشا ءاللہ اتنی رواں ہے کہ پہلے پینتا لیس منٹ اور ا ب
    پینتیس منٹ میں ایک سیپارے کی تلاوت کر لیتی ہوں۔

    میری مر حومہ امی کہتی تھیں ۔ قرآن کو پڑھ کے بھول جانے کا بڑا گناہ ہے۔
    اس لئے روز نہیں تو ہفتے میں ایک بار قرآن ضرورپڑھو۔
    جس دن تیسواں پارہ مکمل ہو اس دن پہلے پارے سے الحمد شریف پڑھ لو
    یعنی اگلا قرآن شروع کر دو۔

    اللہ کا احسان ہے کہ اپنی ماں کے اس حکم پہ آج بھی عمل پیرا ہیں۔

    رہا سوال اردو میں نماز کا تو نماز کا ثواب اسی زبان میں پڑھنے میں ہے
    جس میں حکم دیا گیا۔ جس میں نبی کر یم صلی اللہ و علیہ وآالہ وسلم نے نماز پڑھی۔
    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نیت اور دعا اردو میں کر نا جائز ہے۔

    دعا تو ضرور اپنی زبان میں مانگتی ہوں لیکن نیت اور تمام نماز عربی
    میں ہی ادا کرتی ہوں۔
    اللہ ہم سب کو صحیح او رغلط الگ الگ کر نے کی توفیق دے ۔
    مجھے نہیں پتا کہ میں صحیح طر ح نماز اور تلاوت کرتی ہوں کہ نہیں
    مگر اتنا جانتی ہوں ، اگر کہیں کچھ غلط بھی ہے تو نیت دیکھنے والا
    ہی معاف کر نے والا بھی ہے ۔

    اللہ آپ کو اتنے اچھے مضمو ن کی تحریر پہ جزائے خیر دے۔ آمین

  11. Beenai

    کسی عالم فاضل کے کام میں تبصر ے کی گنجائش تو نہیں تاہم مجھے
    تفیسر ابن کثیر میں ایک بات یہ محسوس ہو ئی کی انہوں نے جگہ جگہ
    ان یہودی صحا ئف میں موجود روایا ت کا حوالہ دیا ہے کہ جو جنگ تبوک
    کے دوران بوریوں میں بھرے ہوئے ملے تھے۔
    مثلا اس بارے میں یہ یہ روایت پائی جاتی ہے
    جیسے سورہ بقرہ میں ہاروت ماروت اور جادو کے تذکرے پہ ایک زہرہ نامی عورت
    کی وہ رواہت جو یہودیوں کی ہے کہ ایک عورت جادو سیکھنا چا ہتی تھی۔ وغیرہ وغیرہ
    اس سے ذہن الجھتا ہے
    بعد میں یادداشت کے خانے میں باتیں گڈمڈ ہوتی ہیں اور درست طورپہ یاد نہیں رہتا کہ
    یہ اصل تفیسر تھی یا یہودی روایت کا بیان تھا۔
    آپ نے احسن البیان کانام لیا ہے ۔ یقینا مستند ہوگی ۔ انشا ءاللہ اس رمضان یہی پڑھوں گی
    رمضان اس لئے کہ رمضا ن میں دوپہر کو چھٹی ہوجاتی ہے میں گھر جاکے بعد نماز ظہر
    ترجمہ وتفیسر پڑھا کرتی ہوں۔ ورنہ عام دنوں میں تو محض ہفتے اور اتوار کو پڑھا پاتی ہوں۔
    آفس ہی سات بجے تک ہے۔

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ. السلام علیکم و رحمة الله
    مفسر کوئی بھی ہوں وہ نزول قرآن کے دور کے حوالے دیتے ہیں. مودودی صاحب نے بھی دیئے ہیں. عبدالله یوسف علی نے تو لیلا کا حوالہ بھی دیا ہے. احسن البیان کی بجائے آپ تفہیم القرآن لے لیجئے. وہ آپ کیلئے بہتر رہے گی. اور اگر کسی حوالے کے بغیر ہی چاہیئے تو سعودی عرب کا قرآن مع اردو ترجمہ اور تفسیر لیجئے. اس کیلئے آپ کو سعودی عرب کے کراچی میں مکتب الدعوہ سے رابطہ کرنا پڑے گا. وہ بطور ھدیہ دینگے. بیچتے نہیں ہیں. اگر مکتب الدعوہ کا پتہ نہ چلے تو سعودی کونسلیٹ سے رابطہ کیجئے گا ۔ یہاں سے تفہیم القرآن ڈاؤن لوڈ کر سکتی ہیں
    http://zubiweb.net/free-download-tafheem-ul-quran-complete-tafseer-pdf-by-syed-abu-ala-maududi/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)