دبئی میں چند مساجد اور کشتی کی سیر

چند مساجد جن میں مراکز للتسویق کے علاوہ میں نے نماز پڑھنے کا موقع ملا

کشتی کی سیر کے دوران باہر کا منظر

This entry was posted in آپ بيتی, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

18 thoughts on “دبئی میں چند مساجد اور کشتی کی سیر

  1. عمر احمد بنگش

    ماشاءاللہ سر، میری بڑی خواہش تھی کہ میں آپ کی کوئی تصویر دیکھ سکوں، شکریہ
    اور بہت خوب، یعنی دوبئی کا چکر لگاآئے آپ سر جی اور کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی!! :razz:

  2. فیصل

    آپکی تصویر بہت اچھی ہے، مجھے دیکھ کر اپنے والد کا خیال آ گیا، انکی بھی آپکی طرح کی داڑھی ہے :smile:

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ساجد اقبال صاحب
    ایسا نہیں ہے ۔ آخری والی مسجد کی پوری تصویر ہوتی تو فرق معلوم ہو جاتا . آخری والی مسجد مرکز الکرامہ کے پاس ہے

  4. صبا سیّد

    اسلامُ علیکم انکل
    ماشاءاللہ انکل آپ کی شخصیت کافی با رُعب اور پُر وقار ہے۔ آپ دعکھ لیجئے گا کہ ذیادہ تر بلوگرز پہلے آپ کی تصویر
    پر تبصرہ کریں گے پھر آپ کی بلوگ ایٹری پر۔
    دبئی میں نماز کے اوقات میں مساجد بھرے ہونے کا کیا حال ہوتا ہے؟

    خیر ذرا اس طرف نظر کیجیئے، اسے خوشفہمی کہی جائے یا غداری۔ یہ کتاب ایک پاکستانی کی لکھی ہوئی ہے۔
    http://www.dividepakistan.blogspot.com/
    فی امان اللہ

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیّدہ صبا صاحبہ
    شکریہ شکریہ ۔ میرا کم از کم ایک پاؤ خون بڑھ گیا ہو گا آپ تعریفوں سے ۔ میں نے جہاں بھی نماز پڑھی وہاں کافی نمازی ہوتے تھے اور کئی جگہ دو بار جماعت ہوئی تھی
    یہ بلاگ والا کوئی سِنکی لگتا ہے جو اپنے آپ کو بیوقوف بنا رہا ہے

  6. وھا ج الد ین ا حمد

    السلام علیکم و رحمتاللھ
    آپکی تصویر مین بھی دیکھنا چاھتا تھا۔ بھت خوب ھے ماشااللھ
    مین بھی دبءی سن 5 مین گیا تھا انٹرنیشنل اسلامک انسٹیٹیوٹ آف میڈیسن کا پروگرام تھا
    ایک دو مسجدون مین نماز بھی پڑھنے کا موقعہ ملا
    مگر وہ مشھور ھوٹل برج مین کھانے کا پروگرام یاد ھے کھانا پسند نھین آیا تھا
    ہوٹل مین نہایت فضول خرچی کی ھے اور کچھ نھین

  7. SHUAIB

    پہلی تصویر میں مسجد جو جمیرا بیچ کے خریب ہے
    دوسرے کا سمجھ نہیں آ رہا
    تیسری مسجد شاید مردف کے پاس ہے ایئرپورٹ کے پیچھے نیا شہر
    اور جس کشتی پر آپ سوار ہیں، وہ ابرا سے نکلتی ہے جس کا کرایہ دیڑھ سو سے ڈھائی سو درھم ہے ساتھ میں مزیدار کھانے بھی –

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھا ج الد ین ا حمد صاحب
    میرا تجربہ ہے کہ بڑے ہوٹلوں میں عام طور پر کھانا اچھا نہیں ہوتا ۔ میں نے کئی مساجد میں نماز پڑھی کیونکہ جہاں سیر کیلئے گئے ہوتے تھے وہاں جو بھی مسجد قریب ہو اس میں نمازپڑھ لیتے تھے ۔ جن تصاویر میں خواتین موجود ہیں وہ میں نے شائع نہیں کیں

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شعیب صاحب
    تیسری مسجد مرکز الکرامہ کے پاس ہے ۔ جس کشتی پر ہم سوار ہوئے اس کا کھانا اور سروس سب سے اچھی سمجھی جاتی ہے ۔ جب بیٹے نے پہلی بار سفر کیا تو 250 درہم فی کس تھے ۔نومبر 2008ء کے آجری دنوں مین 300 درہم فی کس ہو گئے تھے

  10. یاسر عمران مرزا

    آپ کی تصاویر دیکھ کر پتہ چلا کے آپ زندگی میں شاید ہم سب بلاگرز سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں
    ویسے آپ اور کیا کرتے ہیں، آپ کے متعلق جان کر اچھا لگے گا
    خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ایک تجربہ کار بلاگر بھی موجود ہے

  11. ماوراء

    فائنلی۔۔۔ اجمل چچا دکھائی دے گئے۔ :grin: باقی تصویریں تو میں نے ٹھیک سے دیکھی ہی نہیں، آپ کی ہی دیکھی۔
    ماشاءاللہ، بہت اچھے لگ رہے ہیں۔

  12. افتخار راجہ

    سلام جناب،
    زہے نصیب کہ آج پھرتے پھراتے آپ کی زیارت بھی ہوگئی، ماشااللہ، اس ماہ کے آخر تک پاکستان آنے کا پروگرام ہے امید ہے کہ آپ سے ملاقات بھی ہوگی، اس بار میں اسلام آباد کا خود چکر لگاؤں گا۔

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر عمران مرزا صاحب
    شکریہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی کرم نوازی ہے کہ زندگی میں ایسے ایسے تجربات و مشاہدات سے گذارہ جو عما انسان کو نصیب نہین ہوتے ۔ میرا کام پڑھنا اور اسے سمجھنا پھر لکھنا کے سوا کچھ نہیں ۔ ویسے آجکل تو کچھ ایسے فقرے سننے میں آتے ہیں ۔ “وہ وقت گیا ۔ اب سائنس بہت ترقی کر چکی ہے” ۔ چند سال قبل مجھے ایک جوان نے کہا “یہ کمپیوٹر ہے ۔ آپ کی سمجھ کی بات نہیں”۔ میں اُسے کیا بتاتا کہ میں نے جب کمپوٹر پر کام شروع کیا تھا تو وہ ابھی پغیر پاجامے کے ہی بھاگا پھرتا تھا ۔

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ماوراء بھتیجی
    جب آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسی طرح کی حماقتیں کر جاتا ہے ۔ مجھے کشتی کی تصویر لگانے کے بعد خیال آیا کہ بھانڈا پھوٹ گیا ۔ رہا اچھا لگنا تو یہ میرا نہیں آپ کی کی نیت کا کمال ہے

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    افتخار راجہ صاحب
    پچھلی بار تو آپ چکر دے گئے تھے ۔ اب کی بار بھی اللہ جانے چکر لگائیں گے یا چکر دے جائیں گے ۔
    :lol:
    ہم تو اُس دن سے آپ کی راہ تک رہے ہیں جب آپ نے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ ملیں گے

  16. زین

    بہت خوب۔
    آپ کی تصویر دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ :razz: باقی تصویروں کی بجائے آپ کی تصویروں پر زیادہ تبصرے ہورہے ہیں۔ :grin:

  17. نورمحمد

    ما شاء اللہ ۔ ۔ ۔

    بڑی خوشی ہوئی آپ کی تصویر کو دیکھ کر ۔ ۔ ۔

    اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا کرے ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)