تعلیمی ترقی عروج پر

مندرجہ ذیل خبر پڑھ کر قیافہ یہ ہے کہ فیصل کالونی پر الطاف حسین کے جان نثاروں کا راج ہے

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واقع العمر فاونڈیشن نامی اسکول میں غیر قانونی امتحانی مرکز کی موجودگی کی اطلاع پر ڈسٹرک ایجوکیشن افسر احمد نواز نیازی کی سربراہی میں ایک اسپیشل وِجِیلَینس ٹیم نے اسکول پر چھاپہ مار ا جہاں مختلف کلاسوں میں درجنوں طلبہ و طالبات میٹرک سائنس گروپ کا انگریزی کا پرچہ کتابوں اور اساتذہ کی مدد سے حل کرنے میں مصروف تھے جبکہ ایک خاتون کسی اور کا پرچہ حل کررہی تھیں ۔ العمر فاونڈیشن کو اس سال میٹرک کے امتحانات کے لیے میٹرک بورڈ کی جانب سے امتحانی مرکز نہیں بنایا گیا تھاجبکہ العمر فاونڈیشن کے طلبہ کا امتحانی مرکز شاہ فیصل کالونی ہی میں واقع ایک اسکول ایگرو ٹیکنیکل میں تھا لیکن اسکول کے طلباء و طالبات ایگرو ٹیکنیکل کی بجائے اپنے ہی اسکول میں نہایت آرام سے پرچہ حل کرنے میں مصروف تھے ۔ چھاپہ پڑتے ہی اسکول میں افراتفری میچ گئی اور طلباء و اساتذہ اسکول کے عقبی راستے سے فرار ہوگئے

طلباء و اساتذہ کے فرار ہونے کے تھوڑی دیر بعد بعض مسلح افراد اسکول پہنچ گئے جس پر وِجِیلَینس ٹیم کو بھی اسکول کے عقبی راستے سے فرار ہونا پڑا

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “تعلیمی ترقی عروج پر

  1. مرزا یاسر عمران

    میں اپنے بی سی ایس کے امتحان کے لیے سکھر گیا تھا، میرا کالج جو کہ لاہور میں تھا، اسکی ایفیلی ایشن شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیر پور سے تھی، تو ہمارا متحانی مرکز سکھر میں بنا، وہاں بھی ہم نے کچھ ایسے ہی واقعات دیکھے
    وہاں پر جو اس علاقے کے کالجز کے طالبعلم آئے تھے، وہ اپنے ساتھ کتب بھی لے کر آئے تھے، اور پرچہ حل کرنے کے دوران وہ ان سے دیکھ کر لکھتے رہے، نگران کا رویہ بہت بھی بہت نرم تھا، جب کوئی سپروائزر آتا تو اس کے آنے سے پہلے وہ زور سے آواز لگا کر طلبہ کو محتاط کر دیتا، اس کھلی چھٹی کا فائدہ ہمارے کالج کے طلبا نے بھی اٹھایا اور یوں ہم سے نالائق طلبا بھی ہم سے اچھے نمبر لینے میں کامیاب ہوئے، جس کا ہمیں بہت افسوس بھی ہے
    ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے، ہم جس ہوٹل میں ٹھرے اسکے سٹاف نے ہمیں تنبہیہ کی کہ ہم بازار میں زیادہ مت جائیں اور رات کو جلدی واپس آ جائیں اور کسی پر یہ نہ ظاہر ہونے دیں کہ ہم لاہور ، پنجاب سے آئے ہیں :lol:

  2. احمد

    یہ بات فی الحال ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈالنا ذرا قبل از وقت نہیں ؟

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    حاکم کا نوٹس لینا آجکل ایک فیشن سے زیادہ نہیں ۔ جب خبر کو خُود کُش دھماکے کی طرح اچھال دیا جائے تو متعلقہ حاکم کھمبا نوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ ویسے اس کا صحیح محاورہ پنجابی میں ہے “گونگلوآں توں مِٹی چاڑنا”۔ کیا ایسا واقعہ ملک میں یا سندھ میں پہلی بار ہوا ہے ؟ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یکدم ایک سکول والے اتنے بے خوف ہو گئے کہ اتنا بڑا جُرم کھلے بندوں کر ڈالا ؟ محترم ۔میں 5 سال ٹیکنیکل ایجوکیشن پنجاب اور 9 سال انجنیئرنگ یونیورسٹیز آف پاکستان کا انسپیکٹر امتحانات رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ 20 سال سے زائد میرا تعلیمی اداروں سے قُرب رہا ہے ۔ ایسے واقعات اُوپر سے نیچے تک ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوتے

  4. جعفر

    اجمل صاحب۔۔ کراچی میں یہ سب کوئی نئی بات تو ہے نہیں، ہم اپنے سکول کے دور سے سنتے آرہے ہیں کہ کراچی میں یہ سب کچھ ہوتاہے۔
    میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ الطاف حسین نے پاکستان کی سب سے تعلیم یافتہ اور مہذب کمیونٹی کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کی ایک نسل تو برباد ہوچکی ہے اور اب دوسری نسل پر بھی رحم نہیں کھایا جا رہا۔ تو کوئی ہے جو کراچی کے لوگوں کو اس عذاب سے نجات دلائے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)