Daily Archives: February 16, 2009

کیا پورے پاکستان میں خون خرابہ کرنا ہو گا ؟

مالاکنڈ بشمول سوات میں تباہی اور خُون خرابہ بسیار کے بعد کل یعنی 15 فروری 2009ء کو صوبہ سرحد کے حکومتی اہلکاروں نے صوفی محمد کے ساتھ مذاکرات کئے جس کے نتیجہ میں 10 روز کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ۔ آج صبح پشاور میں جرگہ ہوا جس میں معاہدہ طے پایا کہ نظام عدل ریگولیشنزکے تحت مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالتیں قائم کی جائیں گی ۔ عدالتوں میں شرعی قوانین کا علم رکھنے والے ججز کو تعینات کیا جائے گا ۔ شرعی عدالتیں دیوانی مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ اورفوجداری کا فیصلہ 4 ماہ میں کریں گی ۔ مالاکنڈ میں شریعت سے متصادم قوانین کالعدم ہونگے اور شریعت کے خلاف کوئی قانون قابل قبول نہیں ہوگا ۔ اللہ کرے اب اس معاہدے پر نیک نیّتی سے عمل کیا جائے اور اس کا حشر پچھلے معاہدوں کی طرح نہ ہو ۔

یہ مت سمجھا جائے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم ہو رہی ہے جیسا کہ دین بیزار لوگ کہتے آئے ہیں ۔ یہ اقدام پاکستان کے آئین کے عین مطابق پہلا قدم ہے ۔ ملاحظہ ہوں آئین کی متعلقہ شقات اس تحریر کے آخر میں

اگر ایس قانون مالاکنڈ جو کہ پاکستان کا حصہ ہے مین نافذ ہو سکتا ہے تو پورے پاکستان مین کیوں نافذ نہیں ہو سکتا ؟
کیا پورے پاکستان میں شرعِ اسلام کا نظامِ عدل نافذ کرنے کیلئے پورے پاکستان میں بھی خُون خرابہ کرنا ہو گا ؟
کیا اسلامی نظامِ عدل نافذ کرنے پاکستان کے تمام صوبوں اور شہروں کی سڑکوں ۔ گلیوں اور گھروں کو مسلمان مردوں ۔ عورتوں ۔ بوڑھوں ۔ جوانوں اور بچوں کے خون سے سینچنا ضروری ہے ؟

کون دے گا ان سوالوں کا جواب ؟

آئینِ پاکستان سے متعلقہ اقتباسات

Preamble

Whereas sovereignty over the entire Universe belongs to Almighty Allah alone, and the authority to be exercised by the people of Pakistan within the limits prescribed by Him is a sacred trust;
Wherein the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice, as enunciated by Islam, shall be fully observed;
Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and Sunnah;
Wherein the independence of the judiciary shall be fully secured;
Faithful to the declaration made by the Founder of Pakistan, Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah, that Pakistan would be a democratic State based on Islamic principles of social justice;

Article 62

(d) he is of good character and is not commonly known as one who violates Islamic Injunctions;
(e) he has adequate knowledge of Islamic teachings and practises obligatory duties prescribed by Islam as well as abstains from major sins ;
(f) he is sagacious, righteous and non-profligate and honest and ameen;
(g) he has not been convicted for a crime involving moral turpitude or for giving false evidence;
(h) he has not, after the establishment of Pakistan, worked against the integrity of the country or opposed the Ideology of Pakistan

بھارت نیا مشروب پیش کرتا ہے ۔ گائے کا پیشاب

راشٹریہ سوامی سیوک سَنگھ خالص ہندو مشروب [گائے کا پیشاب] بھارت میں متعارف کرانے کی عملی طور پر تیاری کر رہی ہے ۔ اس مشروب کو پائدار بنانے کیلئے تجربات شروع ہو چکے ہیں جو اگلے دو تین ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے ۔

[سیوک سَنگھ۔ مہاسبھا اور اکالی دل وہ جماعتیں ہیں جن کے تربیت یافتہ جتھوں نے ہندو فوجیوں کی پُشت پناہی سے 1947ء میں جموں ۔ مشرقی پنجاب اور گرد و نواح میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا]

گائے کے پیشاب کو ہندو بہت متبرک جانتے ہیں اور ہندوؤں کے تہواروں پر اکثر ہندو اپنے پاپ [گناہ] جھاڑنے کیلئتے گائے کا پیشاب پیتے ہیں ۔ ہندوؤں کا دعوٰی ہے کہ گائے کے پیشاب میں 70 کے لگ بھگ بیماریوں کا علاج موجود ہے اور اس سے پوری دنیا کے لوگ استفادہ حاصل کر سکیں گے ۔ اسلئے یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ گائے کے پیشاب سے بھری بوتلوں کی ترسیل دنیا کے تمام ممالک کو کی جائے گی ۔

عام رواج ہے کہ بچہ پیدا ہونے پر گٹی یا گڑتی دی جاتی ہے یعنی بچے کے منہ میں پہلی کوئی چیز ڈالنا جو عام طور پر قدرتی شہد کا ایک قطرہ یا مصفّا پانی کی ایک چھوٹی چمچی ہوتا ہے اور کوئی نیک خاتون یا ماں کے علاوہ بچے سے بہت زیادہ نزدیک خاتون دیتی ہیں ۔

ہم نے بچپن میں سُنا تھا کہ جب کسی ہندو کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو اُسے گٹی یا گڑتی کے طور پر گائے کے پیشاب کی ایک چمچی پلائی جاتی ہے ۔ لیکن میرا چشم دید واقع یہ ہے کہ 1947ء کے شروع میں میں بازار میں جا رہا تھا کہ ایک گائے نے پیشاب کیا اور قریب سے گزرتے ہوئے ایک پینتیس چالیس سالہ ہندو کا آدھا پاجامہ گائے کے پیشاب سے بھیگ گیا ۔ میں نے ناک منہ چڑھایا لیکن ہندو شخص بخوشی ‘پاپ جھڑ گئے” کہتا ہوا چلا گیا ۔