What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے February 10th, 2009

خُدا را آنکھیں کھولو

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Feb 2009

ایک گروپ کے اصرار پر میں نے لیکچر دینے کی حامی بھر لی۔ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ہال میں تقریباً 125 پڑھے لکھے حضرات ملک بھر سے موجود ہیں۔ کوئی پچاس منٹ کی گفتگو اور اتنے ہی وقت پر محیط سوال و جواب کے سیشن کے بعد باہر نکلا تو ایک گورے چٹے رنگ والا خوبرو نوجوان عقیدت مندی کے انداز میں میرے ساتھ چلنے لگا۔ اس نے نہایت مہذب الفاظ میں اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ

“میرا تعلق وزیرستان سے ہے ۔ میں آپ کو واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ میرے علاقے وزیرستان میں ہر شخص ایک انجانی موت کے خوف تلے زندگی گزار رہا ہے کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ کسی لمحے بھی امریکی ڈرون کے میزائل یا طالبان یا دہشت گردوں یا پاکستانی فوج کی گولی اس کی زندگی کا چراغ بجھا دے گی۔ ہمارے ایک سروے کے مطابق وزیرستان کے 90 فیصد لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں، بے چارگی اور بے بسی نے ان سے زندہ رہنے کا احساس چھین لیا ہے، لوگ حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کیلئے رکا، اس نے نگاہیں جھکا لیں اور خوفزدگی کے عالم میں کہا سر! ہمارے لوگ اب پاکستان سے علیحدگی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو ملک اور اس کی حکومت ہمیں احساس تحفظ نہیں دے سکتی اس ملک کے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ؟”

اس کا یہ فقرہ سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا بلکہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں امریکی ڈرون کے میزائل کا نشانہ بن گیا ہوں۔ میں چلتے چلتے رک گیا۔

ڈاکٹر صفدر محمود کی تحریر سے اقتباس ۔ بشکریہ جنگ

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | 5 تبصرے »