Daily Archives: February 7, 2009

داڑھی میں اسلام ہے یا اسلام میں داڑھی ؟

دورِ حاضر میں مسلمانوں کی نسبت زیادہ غیر مسلموں نے سمجھ لیا ہے کہ داڑھی والا مسلمان ہوتا ہے بلکہ کٹر مسلمان ۔ اول ۔ یہودی پیشوا جسے ربی [Rabby] کہتے ہیں پوری بڑی داڑھی رکھتے ہیں جیسے کہ افغانستان کے طالبان رکھتے ہیں لیکن داڑھی والے یہودی کو کوئی انتہاء پسند نہیں کہتا جبکہ مسلمان اُسی طرح کی داڑھی رکھے تو اُسے انتہاء پسند اور دہشتگرد تک کہا جاتا ہے ۔ داڑھی سکھ بھی رکھتے ہیں لیکن اُن کی داڑھی باقی لوگوں سے ذرا مختلف ہوتی ہے ۔ عیسائی ۔ ہندو اور دہریئے بھی داڑھی رکھتے ہیں مگر اُنہیں کوئی تِرچھی نظر سے نہیں دیکھتا ۔ بہرحال آمدن بمطلب

نہ تو اسلامی شریعت میں زبردستی داڑھی رکھوانے کا حُکم ہے اور داڑھی منڈوانے کا ۔ شریعت کے مطابق مسلمان اس لئے داڑھی رکھتا ہے کہ جس رسول سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت کا وہ پیروکار ہے اُن کی سنّت ہے لیکن صرف داڑھی رکھنا ہی سنّت نہیں بلکہ اور بھی بہت سی سنتیں ہیں ۔ اگر داڑھی تو سنّت سمجھ کر رکھ لی جائے اور فرائض پر توجہ نہ دی جائے تو کیا درست ہو گا ؟

شریعت لوگوں کی جان و مال اور آبرو کے تحفظ کا نام ہے ۔ جو کچھ کسی نے کرنا ہے وہ خود کرنا ہے اور اپنی بہتری کیلئے کرنا ہے ۔ اتنا ضرور ہے کہ اس کے عمل سے کسی پر ناگوار اثر نہ پرے ۔ بلاشُبہ اسلام سے محبت کرنے والے ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں داڑھیوں میں اپنے صالح آباؤ واجداد کی شکلیں نظر آتی ہیں اور جو حتی المقدور شعائر اسلامی کی پاسداری بھی کرتے ہیں ۔

ہر معاشرے میں نیک اور گناہگار موجود ہوتے ہیں ۔ مسلم معاشرہ میں بھی یہ دونوں طبقات موجود ہیں ۔ گناہ گاروں میں داڑھی والے بھی ہیں اور بغیر داڑھی والے بھی ۔ یہی صورتحال نیک اعمال کے حامل افراد کی بھی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ سب انسان برابر ہیں سوائے اس کے کہ کوئی تقوٰی میں بہتر ہو ۔ چنانچہ کسی کو داڑھی کے ہونے یا نہ ہونے سے نیکی یا برائی کی سند نہیں دی جا سکتی