کیا گورنر راج کا جواز ہے ؟

گونر راج کا نفاذ آئین کی شق 234 کے تحت کیا گیا ہے جو نیچے نقل کی گئی ہے ۔ یہ شق صرف ایمرجنسی کی صورت میں نافذ ہو سکتی ہے جب صوبے کی حکومتی میشینری ناکام ہو جائے جبکہ پنجاب میں ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی تھی صرف وزیر اعلٰی کو نااہل قرار دیا گیا تھا ۔ آئین کی رو سے سینئر وزیر جو کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتا تھا فوری طور پر وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھال سکتا تھا اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا کر نئے وزیر اعلٰی کا انتخاب 7 دن کے اندر کرنا تھا ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کی اسمبلی کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے جو کہ آئین کی اسی شق یعنی 234 کی خلاف ورزی ہے [Article 234 (1) (a)
]
کچھ حقائق
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ [ن] کے 171 ارکان ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے 107 اور مسلم لیگ [ق] کے 85 ہیں ۔ ارکان کی کل تعداد 370 ہے اسلئے اکثریت بنانے کیلئے 186 ارکان کی ضرورت بنتی ہے ۔

حکومت بنانے کیلئے مسلم لیگ [ن] کو مزید 14 ارکان کی حمائت چاہیئے ۔ پہلے ہی سے مسلم لیگ فنکشنل کے 3 اور متحدہ مجلس عمل کے تین ارکان اُن کے ساتھ ہیں ۔ صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ [ن] کے اُمید وار کو 201 ووٹ ملے تھے جبکہ مسلم لیگ [ق] کا اُمیدوار بھی میدان میں تھا ۔ اس کا مطلب ہوا کہ مسلم لیگ [ن] کو مسلم لیگ [ق] کے کم از کم 24 ارکان کی پہلے سے ہی حمائت حاصل ہے اور سننے میں آیا ہے کہ یہ تعداد اب بڑھ چکی ہے ۔

پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے مزید 79 ارکان کی ضرورت ہے جو کہ 5 آزاد اور 85 مسلم لیگ [ق] کے ارکان میں سے پورے کرنا تھے ۔ مسلم لیگ [ق] کے کم از کم 24 ارکان مسلم لیگ [ن] کے حمائتی ہو جانے کے بعد 61 ارکان بچتے ہیں ان میں سے بھی کئی پیپلز پارٹی کی حمائت کیلئے راضی نہیں ۔ اگر پیپلز پارٹی کسی طرح 5 آزاد ارکان کو اپنے ساتھ ملا لے پھر بھی اُسے مزید 74 ارکان کی ضرورت ہے جو کہ فی الحال ناممکن ہے ۔

اسی وجہ سے گورنر راج نافذ کیا گیا ہے ۔ دیگر اسمبلی کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس لئے کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اجلاس ہونے کی صورت میں وہ اپنا وزیر اعلٰی چن لیں گے جو مسلم لیگ [ن] کا ہی ہو گا اور شہباز شریف کو عدالت کے ذریعہ نااہل قرار دلوانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا ۔

234. Power to issue Proclamation in case of failure of constitutional machinery in a Province.
(1) If the President, on receipt of a report from the Governor of a Province or otherwise, is satisfied that a situation has arisen in which the Government of the Province cannot be carried on in accordance with the provisions of the Constitution, the President may, or if a resolution in this behalf is passed at a joint sitting shall, by Proclamation,
(a) assume to himself, or direct the Governor of the Province to assume on behalf of the President, all or any of the functions of the Government of the Province, and all or any of the powers vested in, or exercisable by, any body or authority in the Province, other than the Provincial Assembly;
(b) declare that the powers of the Provincial Assembly shall be exercisable by, or under the authority of, Parliament; and
(c) make such incidental and consequential provisions as appear to the President to be necessary or desirable for giving effect to the objects of the Proclamation, including provisions for suspending in whole or in part the operation of any provisions of the Constitution relating to any body or authority in the Province:
Provided that nothing in this Article shall authorize the President to assume to himself, or direct the Governor of the Province to assume on his behalf, any of the powers vested in, or exercisable by, a High Court, or to suspend either in whole or in part the operation of any provisions of the Constitution relating to High Courts.

(2) The Provisions of Article 105 shall not apply to the discharge by the Governor of his functions under clause (1).

(3) A Proclamation issued under this Article shall be laid before a joint sitting and shall cease to be in force at the expiration of two months, unless before the expiration of that period it has been approved by resolution of the joint sitting and may by like resolution be extended for a further period not exceeding two months at a time; but no such Proclamation shall in any case remain in force for more than six months.

(4) Notwithstanding anything contained in clause (3), if the National Assembly stands dissolved at the time when a Proclamation is issued under this Article, the Proclamation shall continue in force for a period of three months but, if a general election to the Assembly is not held before the expiration or that period, it shall cease to be in force at the expiration of that period unless it has earlier been approved by a resolution of the Senate.

(5) Where by a Proclamation issued under this Article it has been declared that the powers of the Provincial Assembly shall be exercisable by or under the authority of Parliament, it shall be competent-
(a) to Parliament in joint sitting to confer on the President the power to make laws with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly;
(b) to Parliament in joint sitting, or the President, when he is empowered under paragraph (a), to make laws conferring powers and imposing duties, or authorizing the conferring of powers and the imposition of duties, upon the Federation, or officers and authorities thereof;
(c) to the President, when Parliament is not in session, to authorize expenditure from the Provincial Consolidated Fund, whether the expenditure is charged by the Constitution upon that fund or not, pending the sanction of such expenditure by Parliament in joint sitting; and
(d) to Parliament in joint sitting by resolution to sanction expenditure authorized by the President under paragraph (c).

(6) Any law made by Parliament or the President which Parliament or the President would not, but for the issue of a Proclamation under this Article, have been competent to make, shall, to the extent of the incompetency, cease to have affect on the expiration of a period of six months after the Proclamation under this Article has ceased to be in force, except as to things done or omitted to be done before the expiration of the said period.

This entry was posted in تجزیہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “کیا گورنر راج کا جواز ہے ؟

  1. HAKIM KHALID

    انکل جی
    اس وقت غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار’جمہوریت کا لبادہ اوڑھے’ نا اہل حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستان کا آئین و قانون موم کی ناک بن چکا ہے وہ اسے جس طرف چاہیں موڑ لیتے ہیں۔عدالتیں ان کے گھر کی لونڈی بن چکی ہیں نواز شہباز کی نا اہلیت کا فيصلہ آمریت اور امریکی مفادات کے تحفظ اور پاکستانی عوام پر شب خون اور خود کش حملے کے مترادف ہے۔
    پاکستانی بساط سیاست پر ہونے والے اس گھناونے کھیل سے ہر فرد آگاہ ہے۔ کون کس لیے صدر بنا اور کس لیے نااہلی ہوئی’ آمر کے بوٹ چاٹنے والے سلمان تاثیر کو بلاجوازپنجاب کا راج کیوں دیا گیا یہ سب جانتے ہیں ہمارے لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اس اندھیری رات کے بعد سپیدہ سحر نمودار ہو جائے اور ہم سب کا پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن فی الحال تو ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے لا منتاہی انتظار کی سولی پر لٹک چکی ہے بیچاری پاکستانی عوام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. مرزا یاسر عمران

    جناب مشرف کے دور سے بھی گھٹیا دور آ چکا ہے، کیا کر سکتے ہیں سوائے احتجاج کے
    یہ سیاست دان کبھی پاکستان کو مضبوط نہں ہونے دیں گے، یا شاید امریکہ

  3. ڈفر

    دل تو کرتا ہے ہے کہ ان ۔۔ کے لیے بیش بہا گالیاں لکھ دوں
    پر اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں

  4. راشد کامران

    اجمل صاحب یہاں کسی کو رول آف لا کی فکر کہاں ہے۔ جو اقتدار میں‌ آتا ہے وہ اپنے آپ کو آئین و قانون سے ماوراء‌ جاننے لگتا ہے اور سپریم کورٹ قانون کی تشریح کے بجائے قانون سازی کرنے لگ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ امید رکھنا کہ تمام فیصلے آئین کے مطابق کیے جائیں گے فضول ہے۔ ساری مشق کا مقصد پنجاب حکومت گرانا تھا اور وہ حاصل کر لیا گیا۔ اب اس کے لیے آئین کو روندنا پڑے یا بنیادی سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکلے اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    اگر قوم کی اکثریت فیصلہ کر لے کہ ہم نے ذاتیات سے نکل کر اجتماعی بہتری کیلئے کام کرنا ہے جس میں سب کا بھلا ہے تو ایسی صورت میں اللہ بھی مدد کرتا ہے اور حالات سدھرتے دھر نہیں لگتی ۔

  6. ارسلان نعیم

    محترم ماموں جان ، میں آپ کی بات سے متفق ھوں، مگر اجتماعی بہتری کیلئے ھم سب کو اللھ کی رسی کو تھمنا ھو گا،مضبوطی کے ساتھ۔ اللھ ھمرے پاکستان کو اپنے پنھا میں رکھے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)