نقصان سے بچیئے اور دوسروں کو بھی بچایئے

ہم نے کئی بار اپنا ۔ اپنے بچوں کا یا رشتہ داروں کا سامان مُلک کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر ۔ پاکستان سے دوسرے مُلک کو یا دوسرے مُلک سے پاکستان بھجوایا مگر جو دھوکہ ٹرانسپَیک [Transpack] نے حال ہی میں میرے بیٹے زکریا کا سامان اسلام آباد سے اٹلانٹا [امریکا]بھجواتے ہوئے کیا یہ کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ یہ ٹرانسپَیک سے ہمارا پہلا واسطہ [dealing] تھا ۔ اسلئے لکھ رہا ہوں کہ ہمارے ساتھ جو دھوکہ ہوا اس سے دوسرے ہموطن بچ سکیں ۔

جب بھی سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جائے تو تمام اخراجات اور معاملات تفصیل کے ساتھ کمپنی سے لکھوا کر کمپنی کے مجاز افسر کے دستخط کروا کر اس پر کمپنی کی مہر بھی لگوا لینا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ ٹرانسپَیک والے نہ صرف اپنی زبان سے پھر گئے بلکہ اپنی ای میلز میں لکھے ہوئے سے بھی پھر گئے ۔
اوّل ۔ ٹرانسپَیک نے وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سامان ایک ماہ تاخیر سے روانہ کیا ۔
دوم ۔ ہم نے ٹرانسپَیک کو 136687 روپے ادا کئے تھے جن میں ٹرانسپَیک کے مطابق سامان کی پیَکنگ [packing] اور اسلام آباد میں ہمارے گھر سے اٹلانٹا تک پہنچانے کے تمام اخراجات شامل تھے لیکن ٹرانسپَیک نے شِپر [shipper] کو صرف اسلام آباد سے کراچی تک ٹرک ۔ کراچی سے نیو یارک تک بحری جہاز اور نیو یارک سے اٹلانٹا تک ٹرک کا کرایہ ادا کیا جس کے نتیجہ میں نیو یارک میں شِپر کو 318 امریکی ڈالر اور اٹلانٹا میں مزید 251 امریکی ڈالر یعنی کُل 569 امریکی ڈالر زکریا نے فالتو دیئے جو وعدہ کے مطابق ٹرانسپَیک کو دینا چاہیئے تھے ۔

مختصر واقعہ یوں ہے کہ زکریا کا کچھ سامان اٹلانٹا بھیجنے کیلئے میں نے ٹرانسپَیک سے رابطہ کیا ۔ ٹرانسپَیک کے چارجز باقی تمام کمپنیوں کی نسبت زیادہ تھے ۔ یہ سوچ کر کہ پرانی اور بڑی کمپنی ہے ہم نے ان پر بھروسہ کیا ۔ اُن کے نمائندے نے اگست 2008ء میں ہمارے گھر آ کر سارے سامان کی پیمائش کر کے بتایا کہ اس کا حجم 5 سے 6 کیوبک میٹر ہو گا اور پَیکنگ اور اسلام آباد ہمارے گھر سے اٹلانٹا جارجیا امریکہ پہنچانے کے کل اخراجات 225 امریکی ڈالر فی کیوبک میٹر ہوں گے ۔ سامان چونکہ بطور ساتھ لیجانے والا سامان [accompanied baggage] بھیجنا تھا چنانچہ 5 اکتوبر 2008ء کو زکریا کے اسلام آباد آنے پر میں نے ٹرانسپَیک کو کہا کہ سامان بھیجنے کا بندوبست کریں ۔

ٹرانسپَیک کے آدمی 13 اکتوبر کو آئے اور سامان لے گئے ۔ اُس وقت اُن کے متعلقہ افسر جس نے اگست میں سامان دیکھ کر کہا تھا کہ 5 اور 6 کیوبک میٹر کے درمیان ہے مجھے بتایا کہ سامان 7.2 کیوبک میٹر ہے یعنی ٹرانسپَیک کے ماہر اور تجربہ کار افسر کا اندازہ اتنا زیادہ غلط نکلا ۔ اگلے روز میں ٹرانسپَیک کے دفتر اُن کے ایگزیکٹِو ڈائریکٹر توصیف علوی صاحب کے پاس رقم کی ادائیگی کیلئے گیا ۔ ایک تو اُنہوں نے کہا کہ 7.2 مکمل ہندسہ [whole number] نہیں اسلئے 7.5 کیوبک میٹر کی بنیاد پر پیسے لئے جائیں گے ۔ بات غیر معقول تھی لیکن میں خاموش رہا ۔ جب بل [bill] بنایا تو 230 امریکی ڈالر فی کیوبک میٹر کے حساب سے تھا ۔ میں نے اُنہیں کہا کہ آپ کے نمائندہ نے مجھے 225 ڈالر بتایا پھر دو دن قبل آپ نے بھی 225 ڈالر ہی بتایا اور اب بل 230 ڈالر کے حساب سے بنا دیا ہے ۔ بہت لیت و لعل کے بعد 225 ڈالر پر واپس آئے ۔ پھر 80 روپیہ فی ڈالر لگایا جب کہ بازار میں ڈالر 79 روپے کا مل رہا تھا ۔ 80 روپے فی ڈالر اور 225 ڈالر کے حساب سے 7.5 کیوبک میٹر کے 135000 روپے بنتے تھے لیکن بل 136687 روپے تھا ۔ پوچھنے پر توصیف صاحب نے بتایا کہ یہ متعلقہ اخراجات [allied charges] ہیں ۔ میں صرف ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا

متذکرہ بالا منظر سے گذرنے کے بعد میں نے توصیف صاحب سے پوچھا کہ امریکہ پہنچنے پر ہمیں مزید کوئی اخراجات تو نہیں دینا پڑیں گے ؟ اس پر توصیف صاحب نے مجھے بتایا کہ کسٹم کلیئرنس سے متعلق معمولی اخراجات ہوں گے اور کچھ دینا نہیں پڑے گا ۔ مزید میرے پوچھنے پر توصیف صاحب نے بتایا کہ سامان دو ہفتے کے اندر کراچی سے بحری جہاز پر روانہ ہو جائے گا اور مزید دو تین ہفتوں میں اٹلانٹا پہنچ جائے گا ۔ دو ہفتے بعد ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ سامان کراچی کی طرف جا رہا ہے ۔ کافی شور شرابا کرتے رہنے کے بعد سامان 22 نومبر 2008ء کو کراچی میں بحری جہاز پر چڑھایا گیا یعنی 2 ہفتے کے اندر کی بجائے 6 ہفتے بعد

جہاز کے نیو یارک پہنچنے سے پہلے ہی زکریا کو مندرجہ ذیل بل وصول ہوا کہ یہ اخراجات ادا نہیں کئے گئے اسلئے ادا کئے جائیں ۔ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سامان بندرگاہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور سامان کا مالک ہرجانہ [demurrage] کا ذمہ دار ہو گا

DESCRIPTION – – – – – – – – – – PRE-PAID – – COLLECT
I. T. CHARGES – – – – – – – – – – – – 0.00 – – – – – – 30.00
HANDLING CHARGE – – – – – – – – – 0.00 – – – – – – 75.00
AMS CHGS – – – – – – – – – – – – – – — 0.00 – – – – – – 25.00
CDF CHGS – – – – – – – – – – – – – – – 0.00 – – – – – – 30.00
PORT SECURITY CHARGES – – — 0.00 – – – – – – 25.00
STRIPPING CHGS – – – – – – – – – – 0.00 – – – – – – 81.00
EXAM FEE – – – – – – – – – – – – – – — 0.00 – – – – – – 52.00
TOTAL – – – – – – – – – – – – – – — 0.00 – – – – – 318.00

میں نے توصیف صاحب سے یہ بل ادا کرنے کا کہا تو وہ آئیں وائیں شائیں کرتے رہے ۔ مجبورا ہو کر زکریا نے 318 ڈالر ادا کر دیئے کیونکہ ہرجانہ پڑنے کی صورت میں اسے کہیں زیادہ دینا پڑتے ورنہ سامان ہی ضبط ہو جاتا ۔ اس کے بعد میں نے توصیف صاحب سے بات کی تو اُنہوں نے بڑے وثوق کے ساتھ مجھے یقین دلایا کہ اس کے بعد ہمیں کوئی اور اخراجات نہیں دینا ہوں گے

جب سامان اٹلانٹا پہنچا تو 250.80 ڈالر کا بل زکریا کو ملا اور ساتھ وہی شرط کہ نہ دیئے تو ہرجانہ بھی دینا پڑے گا ۔ میں توصیف صاحب کے پاس گیا اور ان کی پھر وہی منطق تھی کہ یہ مقامی بل ہے اور اُن کی ذمہ داری نہیں حالانکہ ہم نے ٹرانسپَیک کو اسلام آباد سے اٹلانٹا تک کے تمام اخراجات ادا کئے ہوئے تھے ۔

اس سے قبل کے کئی ذاتی تجربات میں سے ایک حالیہ واقع جو ٹرانسپیک کے ساتھ ہونے والے تجربہ کا اُلٹ ہے

میں نے فروری 2008ء میں اپنے چھوٹے بیٹے کا سامان دبئی بھجوایا ۔ اس کیلئے میں نے پاکستان بیگیج کارپوریشن سے رابطہ کیا ۔ وہ پیکنگ نہیں کرتے اور نہ گھر سے سامان اُٹھاتے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ پیکنگ میں کروا لوں گا آپ گھر سے اُٹھانے اور کسٹم وغیرہ کا بندوبست کروا دیں ۔ وہ مان گئے اور کہا کہ گھر سے اُٹھانے اور کسٹم کلیئرنس سے جو اصل اخراجات ہوں گے وہ دینا ہوں گے ۔ پاکستان بیگیج کارپوریشن کے نمائندے نے سامان ہمارے گھر سے اُٹھا کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچایا ۔ اُس کی کسٹم کلیئرنس کروائی جس کیلئے اُنہیں چھ کے چھ ڈبے کھول کر دوبارہ پیک [repack
] کرنا پڑے اور کسٹم والوں کی ہدائت پر اُن کے اُوپر پلاسٹک بھی بازار سے لا کر چڑھانا پڑا ۔ ٹرک والے کو 500 روپے میں نے دیئے ۔ پاکستان بیگیج کارپوریشن والوں نے پلاسٹک کے تھیلوں کی قیمت اور باقی ساری کاروائی کے مجھ سے 750 روپے لئے

سامان جس کا وزن 200 کلو گرام تھا اس کا کُل خرچہ 12300 روپے ہم سے لیا کیونکہ ایک بہت قریبی دوست کی سفارش پر شِپر [shipper] نے کافی رعائت کر دی تھی ۔ سامان اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز ابو ظہبی بھیجا گیا ۔ ابو ظہبی سامان پاکستان بیگیج کارپوریشن کے مقرر کردہ شِپر [shipper] نے اُتروایا اور کسٹم کلیئرنس کروائی ۔ پھر وہاں سے دوسرے دن ٹرک پر دبئی بھجوایا اور وہاں اُتروا کر میرے بیٹے کے حوالے کیا ۔ ابوظہبی میں کرائی گئی کسٹم کلیئرنس کے 28 درہم میرے بیٹے سے لئے

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “نقصان سے بچیئے اور دوسروں کو بھی بچایئے

  1. ڈفر

    ٹرانس پیک اپنی اوور بلنگ، بد دیانتی اور کمینے سٹاف کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ اگر آپ کسی جاننے والے سے ٹرانس پیک کی شہرت کا بھی پتا کر لیتے تو آپکو کافی سہولت ہوتی۔ پیسوں کی تو خیر میں بات نہیں کرتا لیکن جو اذیت آپ نے دو مہینے اٹھائی ہے وہ ٹرانس پیک کا طرہ امیتاز ہے۔ ٹرانس پیک سے کافی اچھے اور ذمہ دار کارگو ہینڈلرز راولپنڈی اسلام آباد میں موجود ہیں۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈِفر صاحب
    غلطی ہونا تھا ایک اور سبق سیکھنے کیلئے ۔ ہم پیک کرنے کا بندوبست کر لیتے تو پاکستان بیگیج والے اتنے سے کم پیسوں میں بذریعہ ہوائی جہاز سامان بھجوا دیتے

  3. اردوداں

    یہ لوگ پاکستانی ہیں یا امریکی، یا پاکستانی امریکی (معاف کیجئے امریکن)؟
    میری رائے میں، آپ نے ان کے خلاف عدالت میں جہاد کرنا چاہئے۔

  4. فیصل

    اجمل انکل،
    آپ پتہ کریں یقینا کنزیومر پروٹیکشن سے متعلق ایسے قوانین موجود ہیں اور انکا فیصلہ بھی سنا ہے کہ جلدی ہو جاتا ہے۔
    اسکے علاوہ چند این جی اوز بھی ہیں جو آپکی قانونی اور تکنیکی مدد کریں گی۔
    یہ لوگ بدمعاش اسی لئے بنے ہوئے ہیں کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہر کوئی قسمت سمجھ کر چپ کر جاتا ہے۔
    میسنا صاحب اس سوال کے جواب کیلئے آپکو اٹلانٹا جا کر رہنا پڑے گا۔

  5. راشد کامران

    دھوکا دہی اور کاروبار نا معلوم کیوں پاکستان میں ایک ہی چیز کے دو نام بن کر رہ گئے ہیں۔ آپ نے اچھا کیا کہ اپنا تجربہ سب تک پہنچا دیا تاکہ دوسرے محتاط رہیں۔ جہاں‌تک قانونی چارہ جوئی کا تعلق ہے تو جس ملک میں چیف جسٹس کو ہی انصاف نہیں مل سکا وہاں اسی سسٹم تلے دوسروں کو کون پوچھے گا۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    دھوکہ دہی ساری دنیا ہی میں ہے لیکن ہمارے ملک میں صارفین کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ۔ شہباز شریف نے دھوکابازوں کے خلاف کاروائی کی ابتداء پولیس اور دوائیاں بنانے والوں سے شروع کی ہے تو پرویز الٰہی ۔ سلمان تاثیر اور دوسرے لوگوں نے بدنامی مہم تیز کر دی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)