حقائق جاں گُداز ہیں یا رب ۔ بڑھا دے حوصلہ میرا

کِسے روئیں اور کِسے دلاسا دیں
یا رب ۔ تیرے بندے کدھر جائیں

پہلے ایک خبر جس کی شاید کسی پاکستانی کو توقع نہ ہو ۔ پھر ایک انٹرویو

خبر
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چیئر پرسن اور کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی سینئر خاتون سینیٹر ڈیان فائن اسٹائن نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں کیلئے امریکی ادارے سی آئی اے کے ڈرون [بغیر پائلٹ طیارے] پاکستان سے ہی اڑائے جاتے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران چیئرپرسن ڈیان فائن اسٹائن نے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں پر پاکستان کے احتجاج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ طیارے پاکستان ہی سے اڑائے جاتے ہیں۔ سی آئی اے نے ڈیان فائن اسٹائن کے بیان پر تبصرے سے انکار کردیا ہے تاہم سابق انٹیلی جنس افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمیٹی چیئرپرسن کا موقف درست ہے۔ ادھر فائن اسٹائن کے ترجمان فلپ جے لا ویلے نے کہا ہے کہ کمیٹی چیئرپرسن کا بیان واشنگٹن پوسٹ میں شایع ہونیوالے بیانات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر پہلے ہی اخبار میں شایع ہوچکی ہے کہ جاسوس طیارے اسلام آباد کے قریب ایک ائر بیس سے اڑائے جاتے ہیں۔

انٹرویو
اس نے کہا کہ آپ نے ایک عورت کی کہانی لکھی جو بیوہ تھی اور اپنے بچوں کو پالنے کے لئے نوکری کر رہی تھی لیکن ہم نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ اگر آپ کو جاننا ہے کہ اس بیوہ عورت کو کس نے قتل کیا تو آپ مینگورہ تشریف لائیے ہم آپ کو اس عورت کی بہن اور بہنوئی سے ملوا دیں گے اور وہ آپ کو بتا دیں گے کہ اسے ہم نے نہیں بلکہ اس کے ایک رشتہ دار نے قتل کیا ۔ میں نے فون کرنے والے سے کہا کہ ابھی چند دن قبل سوات سے ہو کر آیا ہوں بار بار اتنا لمبا سفر کرنے کی ہمت نہیں آپ مجھے مقتولہ کے بہنوئی کا فون نمبر دے دیں میں رابطہ کر لوں گا

فون کسی اور نے لے لیا اور پنجابی میں مجھے کہا گیا کہ جب آپ ہمیں دیکھیں گے تو پہچان لیں گے لہٰذا گھبرائیے نہیں ۔ مجھے یہ آواز جانی پہچانی لگی اور میں نے ہمت کر کے ملاقات کے لئے حامی بھر لی لیکن طے ہوا کہ ملاقات بٹ خیلہ میں نہیں بلکہ مردان میں ہوگی۔ اگلی دوپہر مردان اور تخت بھائی کے درمیان ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ملاقات ہوئی تو میں نے عبداللہ کو فوراً پہچان لیا۔ یہ گورا چٹا باریش نوجوان مجھے اسلام آباد لال مسجد میں عبدالرشید غازی صاحب کے اردگرد نظر آیا کرتا تھا۔ عبداللہ کے ساتھ تین دیگر افراد بھی تھے جن میں دو کی جیکٹوں کے نیچے چھپا ہوا اسلحہ مجھے نظر آرہا تھا اور تیسرا شخص مقتولہ زینب کا بہنوئی تھا۔ یہ سہما ہوا شخص بالکل خاموش تھا۔ عبداللہ نے اس سہمے ہوئے شخص کو حکم دیا کہ میر صاحب کو بتاؤ کہ تمہاری بیوہ سالی کوطالبان نے نہیں بلکہ اس کے چچا نے قتل کیا۔ خوفزدہ شخص نے محض اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے پوچھا کہ چچا نے کیوں قتل کیا؟ خوفزدہ شخص نے کہا کہ چچا کہتا تھا کہ ہمارے خاندان کی عورتیں نوکری نہیں کر سکتیں ۔ زینب نوکری سے باز نہ آئی تو چچا نے اسے قتل کر دیا۔

میں ہوٹل کی کھڑکی میں سے بار بار اپنے ڈرائیور اور محافظ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گھبرائیے نہیں، ہم آپ کو اغوا نہیں کریں گے ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سوات کے علاقے میں ہونے والے ہر جرم، قتل، ڈکیتی اور اغوا کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی۔ یہ سن کر میں کچھ بے چین ہو گیا اور میں نے کرسی پر پہلو بدل کر عبداللہ سے کہا کہ سوات میں 200 سے زائد گرلز اور بوائز اسکولوں کو تباہ کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ عبداللہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی اور اس نے کہا کہ جب ان اسکولوں کو فوج اپنے مورچے بنا لے تو پھر ان اسکولوں کو تباہ کرنا جائز ہے۔ آپ کو ہمارے تباہ کئے ہوئے اسکول تو نظر آتے ہیں لیکن جن اسکولوں میں فوج کے مورچے قائم ہیں آپ دنیا کو وہ کیوں نہیں دکھاتے؟

میں نے اعتراف کیا کہ میڈیا اتنا مضبوط نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا ہے لیکن اسکولوں کو تباہ کرنا اور گداگر عورتوں کو قتل کرنا صرف میڈیا کے نزدیک نہیں بلکہ عام پاکستانیوں کے نزدیک بھی غیر اسلامی ہے۔ یہ سن کر عبداللہ نے سخت سرد موسم میں پانی کا گلاس غٹاغٹ پیا اور زہریلے لہجے میں بولا کہ یہ عام پاکستانی اس وقت کہاں تھے جب اسلام آباد کی لال مسجد پر بم برسائے گئے اور جب جامعہ حفصہ پر بلڈوزر چلائے گئے تو کیا وہ سب کچھ اسلامی تھا؟

میرا جواب یہ تھا کہ عام پاکستانی اس وقت بھی بے اختیار تھے اور آج بھی بے اختیار ہیں، عام پاکستانیوں کی بڑی اکثریت نے جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کو غلط سمجھا اور اس آپریشن کی ذمہ دار حکومت کے خلاف 18 فروری کے انتخابات میں ووٹ کا ہتھیار استعمال کیا لہٰذا لال مسجد اور جامہ حفصہ کے خلاف آپریشن کی سزا عام پاکستانیوں اور ان کی بچیوں کو دینا بالکل ناجائز ہے۔

عبداللہ میری کسی دلیل کو تسلیم کرنے پر راضی نظر نہ آتا تھا۔ اس نے کہا کہ ایک بیوہ عورت کے قتل پر آپ نے پورا کالم لکھ دیا، پاکستان کی این جی اوز مینگورہ کی ایک ڈانسر شبانہ کے قتل پر لانگ مارچ کے اعلانات کر رہی ہیں لیکن جب جامعہ حفصہ کی سینکڑوں بچیوں کو فاسفورس بموں سے جلا کر راکھ کیا گیا اس وقت یہ این جی اوز کہاں تھیں؟ 18 فروری سے پہلے مشرف کی مخالف سیاسی جماعتیں کہتی تھیں کہ وہ اقتدار میں آکر مشرف کا محاسبہ کریں گے اور جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر کریں گی لیکن مشرف تو آزادانہ پوری دنیا میں گھوم رہا ہے اور اس کی پالیسی بھی جاری ہے، امریکی جاسوس طیاروں کے حملے بھی جاری ہیں کچھ بھی نہیں بدلا۔ آپ کی نام نہاد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ قبائلی علاقوں اور سوات سے فوج واپس بلائی جائے گی اور معاملات ڈائیلاگ سے حل کئے جائیں گے لیکن فوج واپس نہیں بلائی گئی بلکہ ہم پر فضائی بمباری ہوگئی لہٰذا ہم بھی وہی کریں گے جو ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے اور یاد رکھیئے کہ ہم اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں ہیں۔

میں نے عبداللہ سے کہا کہ تم گوجرانوالہ کے رہنے والے ہو تمہارا خاندان وہاں محفوظ ہے لیکن تم سوات والوں کو غیر محفوظ بنا رہے ہو۔ عبداللہ تنک کر بولا کہ میں لال مسجد کے قتل عام کا انتقام لے رہا ہوں، میرے ساتھ باجوڑ کے وہ نوجوان شامل ہیں جن کے گھر فوجی آپریشن میں تباہ ہوئے اور جب تک انتقام مکمل نہیں ہوتا وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔

میں نے اپنا لہجہ تبدیل کیا اور منت کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنے انتقام سے اسلام کو بدنام کر رہے ہواللہ کے واسطے ڈائیلاگ کی طرف آؤ۔ میری بات سن کر وہ ہنسنے لگا اور مجھے یاد دلاتے ہوئے کہنے لگا کہ میر صاحب آپ نے عبدالرشید غازی کو بھی ڈائیلاگ کا مشورہ دیا تھا، انہوں نے ڈائیلاگ شروع کر دیا، بہت کچھ مان بھی گئے لیکن مشرف نے انہیں شہید کروا دیا، مشرف ابھی تک زندہ ہے، ہمیں انصاف نہیں ملا لہٰذا ڈائیلاگ کی بات نہ کرو ہمیں کسی پر اعتبار نہیں رہا۔

This entry was posted in خبر, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “حقائق جاں گُداز ہیں یا رب ۔ بڑھا دے حوصلہ میرا

  1. آپ کا خادم

    ڈرون پاکستان سے اڑائے جاتے ہیں؟
    پرانی خبر ہے ۔
    لیکن یہ اسلام آباد سے نہیں ، وہیں‌سے اڑائے جاتے ہیں‌جہاں حملے ہوتے ہیں ۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جناب خادم صاحب
    خبر میرے لئے کم از کم 20 ماہ پرانی ہے ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کاروائی کے دوران ایک امریکی ڈرون نے ان عمارتوں کے اُوپر چکر لگا کر نشان دہی کی تھی کہ ان عمارتوں کی چھت کے نیچے کس کس جگہ پر انسان موجود ہیں جس کے نتیجہ میں امریکہ کے دیئے ہوئے سفید فاسفورس والے گولے پھینک کر اُن انسانوں کو جن میں سینکڑوں کمسِن بچیاں شامل تھیں جلا کر راکھ کر دیا گیا تھا ۔ یہ ڈرون اسلام آباد سے نہیں بلکہ اسلام آباد کے قریب کسی جگہ سے اُڑائے جاتے ہیں ۔ اسلام آباد سے فاصلہ کم ہو گا بنسبت اس کے پشاور سے فاصلہ کے ۔ اسی لئے اسلام آباد کے قریب کہا گیا اور پشاور کے قریب نہیں کہا گیا ۔
    دوسری عرض یہ ہے کہ ملتان میں مخدوم ہوتے ہیں خادم نہیں ہوتے

  3. ع

    ڈرون کہیں سے ڑإے جإیں اس سے کیا بحث ہے وہ بہر حال پاکستان کی دھرتی سے اڑتے ہیں اور انکا نشانہ مسلمان ہوتے ہیں بس اب بھی اگر جہاد نہیں ہوگا تو آخر کب ہوگا اور یوں تو منافقوں نے صحابہ کو بدنام کرنے میں بھی کوٕ دقیقہ نہ اٹھا رکھا لیکن باالآخر ذلیل ہوٕے تو آج بھی ایسے منافقوں کی کمی نہیں صد یق تو وہی ہے جو کہ دے “سبحانک ھٰذٰ بھتان عظیم”
    گیا جو افغاں تو جا کے دیکھا خروج مہدی نزول عیسیٰ
    مظلوموں کی جب آہ سنی تو دل میرا ہوگیا پگھل کے سیسا
    انتظار تجھکو بھلا ہے کسکا ہاتھوں میں اسلحہ اٹھا کے آجا
    حوران جنت انتظار میں ہیں باہیں اپنی پھیلا کے آجا

  4. آپ کا خادم

    حضرت: جن پہ تکیہ تھا وہی پردہ ہٹا گئے :roll:
    ویسے یہ اچھی بات نہیں ہے ، دوستوں کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ۔

  5. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » پہاڑوں پر لگی آگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)