Monthly Archives: February 2009

وضاحت

1,727 بار دیکھا گیا

میں نے کل کچھ اُونچی باتیں اور خبریں لکھی تھیں جن کے متعلق استفسار ہوا ۔ ایسی سینہ بسینہ چلنے والی باتوں کا ثبوت دینا مشکل ہوتا ہے ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ بات آگے پہنچانے سے پہلے خبربرداروں کو پرکھ لوں کہ کتنے عام زندگی میں کتنے سچے ہیں ۔ بہرحال ان باتوں کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے

ایک ۔ اب دنیا نیوز ٹی وی چینل پر بھی نشر ہو چکی ہے
دو ۔ تین اور چار ۔ اخبار دی نیوز میں شائع ہو گئی ہیں
پانچ ۔ یہ آئینی صورتِ حال ہے ۔ جو کچھ گورنر اور صدر نے پنجاب کے بارے میں کیا ہے سب غیر آئینی ہے ۔ ایک پرانی مثال ہے کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو سندھ میں حالات خراب ہونے پر گورنر راج نافذ کیا گیا تو صوبائی اسمبلی کے سپیکر مستعفی ہو گئے ۔ مرکزی حکومت نے اسمبلی کا کام جاری رکھنے کیلئے رولز آف بزنس تبدیل کر کے ڈپٹی سپیکر کو اسمبلی چلانے کو کہا ۔ اس کے خلاف رِٹ پیٹیشن دائر کی گئی ۔ عدالتِ عالیہ نے فیصلہ دیا کہ آئین کے مطابق رولز آف بزنس اور دوسرے صوبائی کام صوبائی اسمبلی یا اس کی نمائندہ کابینہ یا وزیر اعلٰی اور اگر یہ نہ ہوں تو پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ مل کر چلا سکتے ہیں ۔ چنانچہ مرکزی حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا ۔
چھ ۔ یہ تو اب تمام ٹی وی چینلز سے نشر ہو چکا ہے اور اخبارات میں چھپ چکا ہے

چورچوری سےجائے

5,166 بار دیکھا گیا

محاورہ ہے ۔ ۔ ۔ چور چوری سے جائے پر ہیراپھیری سے نہ جائے ۔ ۔ ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ چور نہ چوری چھوڑتا ہے اور نہ ہیراپھیری ۔ دو دہائیاں پیچھے ایک چور نے جو کہ توبہ تائب ہو چکا تھا میرے سامنے کچھ اس طرح اعتراف کیا “مجھے بچپن سے چوری کی عادت پڑ گئی ۔ گرفتاری کے بعد جیل میں ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی جس نے مجھے سمجھایا اور میں نے چوری سے توبہ کر لی ۔ لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی مجھے کیا ہو جاتا ہے جب کوئی قیمتی یا خوبصورت چیز مجھے نظر آتی ہے میں اُسے چُرانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کبھی کبھی اُٹھا کر چھُپا بھی لیتا ہوں پھر خیال آتا ہے کہ کیا کر رہا ہوں تو واپس رکھ دیتا ہوں”۔ البتہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی قادر و کریم ہے کسی پتھر دِل میں اپنا خوف ڈال دے تو وہ پانی ہو جائے

بینظیر بھٹو کا دوسرا دور تھا ۔ میں اسلام آباد میں ایک قومی اعلٰی سطح کے اجلاس میں شریک تھا ۔ چائے کے وقفہ میں سندھ سے آئے ہوئے ایک اعلٰی عہدیدار جو خالص سندھی تھے سے میں نے تفصیلی حال احوال پوچھا تو میرے قریب ہو کر جواب دیا “بھائی ۔ ایسی باتیں سرِ عام نہ پوچھا کریں”۔ یہ کہہ کر وہ صاحب اپنی چائے لے کر دور ایک چھوٹی میز پر جا بیٹھے ۔ لمحہ بعد میں نے بھی اپنی چائے کی پیالی اُٹھائی اور اُن کے پاس جا بیٹھا اور پوچھا “ہاں جناب ۔ پھر کیا حال ہے ؟ سُنا ہے کہ آپ نے کراچی جِمخانہ کی زمین بھی لے لی ہے”۔ جواب ملا “بھائی کیا پوچھتے ہو ۔ اب تو کراچی میں شاید کوئی پولٹری فارم بھی نہیں رہا جس میں مردِ اوّل کا حصہ نہ ہو”۔ میں نے کہا “تو ٹَین پرسَینٹ [ten per cent] کو ٹوَینٹی یا تھرٹی پرسَینٹ [twenty or thirty percent] کرنا پڑے گا؟” جواب ملا “یہ کچھ سال رہ گیا تو ڈر ہے کہ ہنڈرڈ پرسَینٹ [hundred per cent] نہ ہو جائے ۔ ہمارا کیا بنے گا؟”۔ میرے ساتھ گفتگو کرنے والے پیپلز پارٹی کے خاص آدمیوں میں شمار ہوتے تھے

یہ تو ہے تاریخ ۔ اب کچھ تازہ بتازہ

عوام آج تک نہیں سمجھ پائے کہ 20 ستمبر 2008ء کو کس نے میریئٹ ہوٹل[Marriat Hotel] اسلام آباد کو تباہ کرنے کی سازش کی اور اتنے ہائی سکیورٹی زون میں تین چیک پوسٹیں عبور کرتا ہوا بارود سے بھرا ٹرک کیسے میریئٹ ہوٹل تک پہنچ گیا ؟ اسلام آباد کے اعلٰی دائرے میں چلیں جائیں تو اس سلسلہ میں سب مطمئن نظر آئیں گے ۔ میں نے چند روز قبل لکھا تھا کہ ہمارے لوگوں کو کل کی بات یاد نہیں رہتی ۔ آصف زرداری کے مُلک میں واپس آ نے کے بعد ایک خبر اخبار میں چھپی تھی کہ میریئٹ ہوٹل اسلام آباد زرداری نے خرید لیا ہے ۔ ہوا یہ تھا کہ زرداری نے صدرالدین ہاشوانی سے ہوٹل مانگا تھا لیکن اُس نے دینے سے انکار کر دیا ۔ جس کی سزا اُسے 20 ستمبر 2008ء کو دی گئی

اسلام آباد کے سیکٹر ایف ۔ 11/3 اور سیکٹر ای ۔ 11 کے درمیان گرین ایریا پر ایک سکول ہے ۔ یہ سکول بنانے کیلئے زمین کا ٹکڑا بینظیر بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں سکول کے مالکوں کو تحفہ کے طور پر دیا تھا یعنی رعائتی قیمت پر ۔ حال ہی میں مِسٹر ٹَین پرسَینٹ کے آدمی نے سکول کے مالکوں سے کہا کہ اس زمین کی مارکیٹ ویلیو [maket value] اتنی بنتی ہے اسلئے اس حساب سے بقایا جات کی ہمیں ادائیگی کی جائے ۔ کوئی جواب نہ ملنے پر سکول کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور مالکوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں

بزنس بزنس ہوتا ہے [business is business] اور بزنس مین [bsinessman] جہاں بھی بیٹھ جائے بزنس ہی کرتا ہے ۔ اس کی دو مثالیں میاں نواز شریف نے اپنی شیخو پورہ کی تقریر میں پیش کیں ۔ صدر آصف زرداری سے نواز شریف کی آخری ملاقات میں زرداری نے کہا تھا “آپ پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے اقدامات کی توثیق کر دیں تو میں آپ کی بات مان لیتا ہوں “۔ اس کے بعد جب صدر نے وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو کھانے پر بُلایا تھا تو اُسے کہا “میرے ساتھ بزنس ڈِیل کرو ۔ آپ عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آئینی ترمیم میں میری مدد کریں اور میں آپ کے نااہلی کے مقدمات کا فیصلہ آپ کے حق میں کروا دیتا ہوں”

اللہ ہمیں ہر بُرائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے

کچھ اُونچی باتیں اور خبریں

2,960 بار دیکھا گیا

ایک ۔ 24 فروری کو مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر امریکی حکومت کو آگاہ کیا کہ کل یعنی 25 فروری کو نواز شریف اور شہباز شریف کو نااہل قرار دیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ آقا سے آشیرباد ملنے کے بعد یہ قدم اُٹھایا گیا

دو ۔ 25 فروری کی دوپہر جب ابھی شریف برادران کی نااہلی کے فیصلے کا اعلان نہیں ہوا تھا مسلم لیگ ق کی ایک عہدیدار نوشین سعید سفما کے ظہرانے میں شریک تھی کہ اسکے موبائل فون پر پیغام آیا کہ شریف برادران کو نااہل قرار دے کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا جا رہا ۔ اس پر وہ ششدر رہ گئی

تین ۔ 25 فروری کو عدالت سے شریف برادران کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صدر زرداری کے پاس گئے تو اُن کا خیال تھا کہ صدر زرداری مسلم لیگ ن کو پنجاب میں دوبارہ حکومت بنانے کا کہیں گے ۔ اس کے برعکس اُن کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی خبر دی گئی جس سے وہ پریشان ہوئے

چار ۔ 26 فروری کو زرداری کے مشیروں نے ذرائع ابلاغ پر پابندی لگانے کا مشورہ دیا تاکہ وہ ملک میں ہونے والے احتجاج کو نہ ٹی وی پر دکھائیں اور نہ اخباروں میں اس کی تفصیل لکھیں ۔ اس کا جب وزیر اطلاعت شیری رحمان کو علم ہوا تو اُس نے کہا کہ “محترمہ بینظیر بھٹو نے مرنے سے قبل آزاد ذرائع ابلاغ کا وعدہ کیا تھا ۔ اسلئے اگر پابندی لگائی گئی تو میں وزارت سے مستعفی ہو جاؤں گی”

پانچ ۔ گورنر پنجاب نے جو رولز آف بزنس میں تبدیلی کی ہے آئین کے مطابق یہ صوبائی اسمبلی کا کام ہے جو صوبائی کابینہ یا وزیر اعلٰی سرانجام دیتا ہے اور اُن کی عدم موجودگی میں مُلک کی پارلیمنٹ یہ کام کرتی ہے ۔ چنانچہ رولز آف بزنس میں تبدیلی اور جو بے شمار اعلٰی عہدیداروں کو تبدیل کیا گیا ہے یا او ایس ڈی بنایا گیا اور جو نئے عہدیدار تعینات کئے گئے ہیں یہ سب آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے

چھ ۔ آج رائے وِنڈ میں پنجاب مسلم لیگ ن کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس میں مسلم لیگ ن کے علاوہ مسلم لیگ ق کے 33 ارکان پنجاب اسمبلی نے شرکت کی ۔ مسلم لیگ ق کے ایک رکن پنجاب اسمبلی جو اس وقت بلوچستان میں ہیں نے موبائل فون کے ذریعہ مسلم لیگ ن کو اپنی حمائت کا یقین دلایا ۔ مسلم لیگ ق کے ایک رکن پنجاب اسمبلی جو اس وقت ملک سے باہر ہیں ایک دو دن میں واپس پہنچ رہے ہیں ۔ ان کے متعلق بھی کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حمائت کریں گے ۔ مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں 170 ارکان ہیں اور حکومت بنانے کیلئے اُنہیں مزید صرف 16 ارکان کی ضرورت ہے جبکہ مسلم لیگ ق کے 35 اور دوسرے 7 ارکان اُن کے ساتھ ہیں جو کُل 212 بنتے ہیں ۔ اگر باقی تمام ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل بھی جائیں تو کل 157 بنتے ہیں ۔ چنانچہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ۔ اسلئے ہو سکتا ہے کہ گورنر راج کو غیر آئینی طریقہ سے طول دیا جائے

اجتماعی دعا کریں

6,803 بار دیکھا گیا

میرے اللہ ۔ بادشاہی کے مالک ۔ تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ۔ تو نے ہی ہمیں یہ مُلک پاکستان عطا کیا کہ ہم تیرے دین کے مطابق عمل کر سکیں ۔ ہمیں تو نے ہر نعمت سے نوازہ اور ہم مضبوط ہو کر دنیا کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے ۔ لیکن پھر ہم راستے سے بھٹک گئے اور اس فانی دنیا کی دولت و شہرت کے پیچھے لگ گئے جس کے نتیجہ میں آج ہم پریشان و خوار ہیں اور ذلت میں ڈوبے ہوئے ہیں

میرے اللہ ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔ ہماری خطائیں اور لغزشیں معاف فرما اور ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما

میرے اللہ ۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ ہمارے ملک و قوم کو بیرونی اور اندرونی خطرات اور سازشوں سے محفوظ فرما اور ہماری قوم اور ہمارے مُلک کو تباہی سے بچا لے اور ہمارے ملک کو پھر اپنے دین کا قلعہ بنا دے

میرے اللہ ۔ تو تمام مخلوقات کا خالق ۔ ایجاد واختراع کرنے والا اور صورت گری کرنے والا ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں ملک و قوم کی بھلائی کا جذبہ پیدا فرما دے اور اُنہیں اس جذبے پر عمل کی توفیق بھی عطا فرما دے

میرے اللہ ۔ تو سلامتی اور امن دینے والا ہے ۔ اگر ہمارے حکمران سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق نہیں رکھتے تو ہمیں ملک و قوم کی محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے حکمران نصیب فرما اور ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے

آمین ثم آمین ۔ یا اب العالمین

کیا گورنر راج کا جواز ہے ؟

2,675 بار دیکھا گیا

گونر راج کا نفاذ آئین کی شق 234 کے تحت کیا گیا ہے جو نیچے نقل کی گئی ہے ۔ یہ شق صرف ایمرجنسی کی صورت میں نافذ ہو سکتی ہے جب صوبے کی حکومتی میشینری ناکام ہو جائے جبکہ پنجاب میں ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی تھی صرف وزیر اعلٰی کو نااہل قرار دیا گیا تھا ۔ آئین کی رو سے سینئر وزیر جو کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتا تھا فوری طور پر وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھال سکتا تھا اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا کر نئے وزیر اعلٰی کا انتخاب 7 دن کے اندر کرنا تھا ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کی اسمبلی کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے جو کہ آئین کی اسی شق یعنی 234 کی خلاف ورزی ہے [Article 234 (1) (a)
]
کچھ حقائق
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ [ن] کے 171 ارکان ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے 107 اور مسلم لیگ [ق] کے 85 ہیں ۔ ارکان کی کل تعداد 370 ہے اسلئے اکثریت بنانے کیلئے 186 ارکان کی ضرورت بنتی ہے ۔

حکومت بنانے کیلئے مسلم لیگ [ن] کو مزید 14 ارکان کی حمائت چاہیئے ۔ پہلے ہی سے مسلم لیگ فنکشنل کے 3 اور متحدہ مجلس عمل کے تین ارکان اُن کے ساتھ ہیں ۔ صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ [ن] کے اُمید وار کو 201 ووٹ ملے تھے جبکہ مسلم لیگ [ق] کا اُمیدوار بھی میدان میں تھا ۔ اس کا مطلب ہوا کہ مسلم لیگ [ن] کو مسلم لیگ [ق] کے کم از کم 24 ارکان کی پہلے سے ہی حمائت حاصل ہے اور سننے میں آیا ہے کہ یہ تعداد اب بڑھ چکی ہے ۔

پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے مزید 79 ارکان کی ضرورت ہے جو کہ 5 آزاد اور 85 مسلم لیگ [ق] کے ارکان میں سے پورے کرنا تھے ۔ مسلم لیگ [ق] کے کم از کم 24 ارکان مسلم لیگ [ن] کے حمائتی ہو جانے کے بعد 61 ارکان بچتے ہیں ان میں سے بھی کئی پیپلز پارٹی کی حمائت کیلئے راضی نہیں ۔ اگر پیپلز پارٹی کسی طرح 5 آزاد ارکان کو اپنے ساتھ ملا لے پھر بھی اُسے مزید 74 ارکان کی ضرورت ہے جو کہ فی الحال ناممکن ہے ۔

اسی وجہ سے گورنر راج نافذ کیا گیا ہے ۔ دیگر اسمبلی کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس لئے کام کرنے سے روکا گیا ہے کہ اجلاس ہونے کی صورت میں وہ اپنا وزیر اعلٰی چن لیں گے جو مسلم لیگ [ن] کا ہی ہو گا اور شہباز شریف کو عدالت کے ذریعہ نااہل قرار دلوانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا ۔

234. Power to issue Proclamation in case of failure of constitutional machinery in a Province.
(1) If the President, on receipt of a report from the Governor of a Province or otherwise, is satisfied that a situation has arisen in which the Government of the Province cannot be carried on in accordance with the provisions of the Constitution, the President may, or if a resolution in this behalf is passed at a joint sitting shall, by Proclamation,
(a) assume to himself, or direct the Governor of the Province to assume on behalf of the President, all or any of the functions of the Government of the Province, and all or any of the powers vested in, or exercisable by, any body or authority in the Province, other than the Provincial Assembly;
(b) declare that the powers of the Provincial Assembly shall be exercisable by, or under the authority of, Parliament; and
(c) make such incidental and consequential provisions as appear to the President to be necessary or desirable for giving effect to the objects of the Proclamation, including provisions for suspending in whole or in part the operation of any provisions of the Constitution relating to any body or authority in the Province:
Provided that nothing in this Article shall authorize the President to assume to himself, or direct the Governor of the Province to assume on his behalf, any of the powers vested in, or exercisable by, a High Court, or to suspend either in whole or in part the operation of any provisions of the Constitution relating to High Courts.

(2) The Provisions of Article 105 shall not apply to the discharge by the Governor of his functions under clause (1).

(3) A Proclamation issued under this Article shall be laid before a joint sitting and shall cease to be in force at the expiration of two months, unless before the expiration of that period it has been approved by resolution of the joint sitting and may by like resolution be extended for a further period not exceeding two months at a time; but no such Proclamation shall in any case remain in force for more than six months.

(4) Notwithstanding anything contained in clause (3), if the National Assembly stands dissolved at the time when a Proclamation is issued under this Article, the Proclamation shall continue in force for a period of three months but, if a general election to the Assembly is not held before the expiration or that period, it shall cease to be in force at the expiration of that period unless it has earlier been approved by a resolution of the Senate.

(5) Where by a Proclamation issued under this Article it has been declared that the powers of the Provincial Assembly shall be exercisable by or under the authority of Parliament, it shall be competent-
(a) to Parliament in joint sitting to confer on the President the power to make laws with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly;
(b) to Parliament in joint sitting, or the President, when he is empowered under paragraph (a), to make laws conferring powers and imposing duties, or authorizing the conferring of powers and the imposition of duties, upon the Federation, or officers and authorities thereof;
(c) to the President, when Parliament is not in session, to authorize expenditure from the Provincial Consolidated Fund, whether the expenditure is charged by the Constitution upon that fund or not, pending the sanction of such expenditure by Parliament in joint sitting; and
(d) to Parliament in joint sitting by resolution to sanction expenditure authorized by the President under paragraph (c).

(6) Any law made by Parliament or the President which Parliament or the President would not, but for the issue of a Proclamation under this Article, have been competent to make, shall, to the extent of the incompetency, cease to have affect on the expiration of a period of six months after the Proclamation under this Article has ceased to be in force, except as to things done or omitted to be done before the expiration of the said period.

نواز شریف اور شہباز شریف نااہل

2,130 بار دیکھا گیا

آج سپریم کورٹ عمارت میں تین رکن بنچ نے جسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں شریف برادارن کی انتخابی اہلیت کے حوالے سے کیس کی سماعت کی جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ

شریف برادران اہلیت کیس میں چیف سیکرٹری اور اسپیکر پنجاب متاثر ہ فریق نہیں ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ تمام ججز نے آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے ۔ عبوری آئین کا حلف غیر متعلقہ بات ہے ۔ نواز شریف کے تجویز و تائید کنندہ اس وقت فریق بن سکتے ہیں جب عدالت انہیں اجازت دے ۔ تجویز اور تائید کنندہ کا فریق ہونا ضروری نہیں ۔ عدالتی بینچ کی دست برداری کا فیصلہ جج کی صوابدید پر ہوتا ہے ۔ اسے کوئی دست بردار ہونے کی ہدایت نہیں دے سکتا

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کچھ دیر کا وقفہ دیا اور بعد میں شریف برادارن اہلیت کیس نمٹاتے ہوئے تین رکنی بنچ نے نواز شریف اور شہباز شریف کونااہل قراردیا

اس فیصلے اور بالخصوص اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ آصف علی زرداری نہ صرف نواز شریف بلکہ پوری قوم کو دھوکہ دیتا رہا ہے اور سب کو لے کر چلنے کی بات جھوٹ پر مبنی تھی

پہاڑوں پر لگی آگ

3,255 بار دیکھا گیا

پہاڑوں پر لگی آگ تو اچھی لگتی ہے
اپنے گھر کی لگی کچھ اور ہوتی ہے

کم عقلی یہ ہے کہ اکثر ہموطن اپنے مُلک کو اپنا گھر نہیں سمجھتے ۔ پچھلے ایک ہفتہ میں اخبارات اور رسائل میں چھپنے والے مضامین اور خطوط اور مختلف ٹی مذاکرات میں ناقدوں کے مندرجہ ذیل خدشات کا اظہار کیا

1 ۔ طالبان کی بات مان کر اُنہیں شہ دی گئی ہے اب جو کوئی [غُنڈہ] اُٹھے گا اسی طرح اپنی بات منوا لے گا
2 ۔ وہ [طالبان] پورے پاکستان میں اپنی حکومت بنانے کے خواب دیکھیں گے
3 ۔ پورے پاکستان میں لڑکیوں اور عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا جائے گا یا غلام بنا لیا جائے گا
4 ۔ کونسی شریعت نافذ کریں گے ۔ ہر مسجد کی علیحدہ شریعت ہے
5 ۔ طالبان کا اسلام نافذ کیا جا رہا ہے
6 ۔ ریاست کے اندر ریاست بنائی جا رہی ہے ۔ حکومت کی عملداری کو للکارا جا رہا ہے

سوات کے موجودہ حالات کا پس منظر میں کل بیان کر جکا ہوں ۔ اخبارات اور رسائل میں چھپنے والے مضامین اور خطوط اور مختلف ٹی وی چینلز پر مذاکروں پر غور کرتے ہوئے مجھے دو پرانے واقعات یاد آ گئے

سوا 43 سال قبل جب بین الاقوامی پروازیں صرف کراچی آتی جاتی تھیں جرمنی جا تے ہوئے میں دو دن پی ای سی ایچ ایس کراچی میں اپنے ماموں کے ہاں ٹھہرا ۔ شام کو ماموں کچھ بڑے کاروباری لوگوں سے ملنے جا رہے تھے مجھے بھی ساتھ لے گئے ۔ وہاں تین چار بزرگان تھے جو خاصے پڑھے لکھے لگتے تھے ۔ ماموں نے میرا تعارف کرایا تو اُن میں سے ایک بولے “اچھا اُس فیکٹری میں کام کرتے ہو جہاں لِپ سٹِک [Lip stick] بنتی ہے”۔ اور پھر مُسکرا کر جُملہ کسا “اور کچھ تو بنا نہیں سکے”۔ اُس وقت صرف اُس فیکٹری میں جس میں میں اسسٹنٹ ورکس منیجر تھا میں اور میرے ساتھی اللہ کے فضل سے رائفل جی تھری ڈویلوپ [develop] کر کے اُس کی ماس [mass] پروڈکشن شروع کروا چکے تھے اور مجھے کارکردگی کی بناء پر جرمن مشین گن کی پلاننگ اور ڈویلوپمنٹ کیلئے چُنا گیا تھا اور میں اسی سلسلہ میں جرمنی جا رہا تھا ۔ چنانچہ سمجھتے ہوئے کہ موصوف پاکستان آرڈننس فیکٹری کی الف بے بھی نہیں جانتے اور ایسے ہی یاوا گوئی کر رہے ہیں میں خاموش رہا کیونکہ وہ بزرگ تھے اور ماموں کے جاننے والے تھے اور میں نوجوان ۔ دوسرے اُن دنوں میرا اپنی حیثیت اور کام بیان کرنا قرینِ محب الوطنی نہ تھا

دوسرا واقعہ ۔ پینتیس چھتیس سال پیچھے کا ہے جب میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز کی پانچ بڑی فیکٹریوں میں سے ایک ویپنز فیکٹری میں دس گیارہ سال نہ صرف گذار چکا تھا بلکہ اللہ کے فضل سے اُسے سمال آرمز گروپ سے ویپنز فیکٹری بنانے میں میرا بہت بڑا حصہ تھا اور اُن دنوں ویپنز فیکٹری کا قائم مقام سربراہ [Acting General Manager] تھا ۔ ایک دن میں ایک عوامی جگہ [public place] پر بیٹھا تھا ۔ میرے قریب ایک شخص بڑی سنجیدگی سے ویپنز فیکٹری کے متعلق اپنی معلومات کے خزانے اپنے دو ساتھیوں پر لُٹا رہا تھا اور وہ بڑے انہماک کے ساتھ سُن رہے تھے ۔ اُس شخص کی یاوہ گوئی جب ناممکنات کی حد پار کر گئی تو مجھ سے نہ رہا گیا ۔ میں نے معذرت طلب کرتے ہوئے مداخلت کی اور کہا “بھائی صاحب ۔ ایسا ممکن نہیں ہے”۔ وہ شخص بڑے وثوق سے بولا “جناب ۔ آپ کو نہیں معلوم میں سب جانتا ہوں ۔ بالکل ایسا ہی ہے”۔ میں نے اُسے پوچھا “آپ فیکٹری میں ملازم ہیں ؟” جواب ملا “نہیں”۔ میں نے پوچھا “آپ کا کوئی قریبی عزیز فیکٹری میں ملازم ہے ؟” جواب ملا “نہیں”۔

ہمارے اکثر ہموطنوں کا خاصہ ہے کہ جو کچھ اُنہوں نے دیکھا ہو اُس کے متعلق وہ کچھ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں لیکن جو اُنہوں نے نہیں دیکھا اُس کے متعلق وہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ بقول شخصے بند لفافے کے اندر پڑے خط کا مضمون پڑھ لیتے ہیں ۔ سوات کے معاملہ میں بھی بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ جو لوگ سوات میں رہتے ہیں اور وہاں کے حالات سے واقف ہیں اُن بیچاروں کی آواز بے بنیاد غُوغا میں گُم ہو کر رہ گئی ہے

متذکرہ بالا خدشات کی عمومی وضاحت یہ ہے

1 ۔ طالبان کی بات کسی نے نہیں مانی اور نہ شہ دی ہے جو کام سالوں پہلے ہو جانا چاہیئے تھا وہ ہونے کی اُمید ہے ۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے اور ہمارا ملک خانہ جنگی سے بچ جائے ۔ مذاکرات تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے ساتھ امن اور سوات میں اسلامی نظامِ عدل کے نفاذ کے متعلق ہوئے ہیں ۔ صوفی محمد کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے اُنہیں امن قائم کرنے پر آمادہ کریں ۔ اس کے عِوض سوات میں اسلامی نظامِ عدل کا نفاذ کر دیا جائے گا ۔ کام بہت دشوار ہے ۔ اللہ بہتری فرمائے ۔ “جو کوئی اُٹھے گا بات منوالے گا” کا جہاں تک تعلق ہے اُس کی اس سلسلہ میں تو کم اُمید ہے البتہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کراچی ہو یا لاہور کوئٹہ ہو یا اسلام آباد بات اُسی کی مانی جا رہی ہے جو طاقتور ہے اور عوام پِس رہے ہیں ۔ پھر ایسا سوال صرف قبائلی علاقہ کیلئے کیوں اُٹھایا جاتا ہے ؟

2 ۔ قبائلی علاقہ سے باہر آنے کی طالبان کو ضرورت نہیں ۔ یہاں اُن جیسے لاکھوں کو چکر دینے والا ایک سے ایک بڑھ کر ہزاروں موجود ہیں

3 ۔ غُصہ اور ردِعمل یا انتقام میں کئے گئے فیصلے درست نہیں ہوتے ۔ سکولوں کو تباہ کرنا غلط عمل ہے اس کی حمائت کوئی نہیں کرے گا ۔ اگر طالبان کا منصوبہ سکولوں کو تباہ کرنا ہوتا تو ایسا کیوں ہوا کہ ایک سال قبل تک مرکزی حکومت کے زیرِانتظام قبائلی علاقہ میں ایک بھی سکول تباہ نہیں ہوا تھا جبکہ وہ علاقہ پاکستانی طالبان کا منبع ہے اور طالبان کی تعداد بھی وہاں بہت زیادہ ہے اور وہاں طالبان کے خلاف فوجی کاروائی 2004ء سے جاری ہے ۔ پچھلے ایک سال میں باجوڑ میں 34 اور مالا کنڈ میں 200 کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول تباہ ہوئے ہیں ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان جو طالبان کا گڑھ ہیں میں کوئی سکول تباہ نہیں ہوا ۔ طالبان کا دعوٰی ہے کہ وہ سکول تباہ کیا جاتا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز اپنا مورچہ بناتی ہیں ۔ جہاں تک عورتوں کو بند کرنے کا تعلق ہے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جنوبی پنجاب اور اس سے بڑھ کر سندھ میں کیا ہو رہا ہے ۔ لڑکیوں کی نعوذ باللہ قرآن سے شادی ۔ لڑکیوں کی مرضی کے خلاف شادی ۔ لڑکیوں کو سکول نہ بھیجنا یا پرائمری سے زیادہ پڑھنے نہ دینا ۔ کیا یہ سب کچھ یہاں نہیں ہو رہا ؟ کیا اس کی وجہ اسلامی شریعت ہے ؟

4 ۔ اوّل تو اسلامی شریعت نافذ کرنے کی فریقین میں بات ہی نہیں ہوئی ۔ اسلامی نظامِ عدل مکمل اسلامی شریعت نہیں ہے گو کہ یہ اسلامی شریعت کے بنیادی خوائص میں سے ہے ۔ دیگر مجوزہ نظامِ عدل ریگولیشن مکمل اسلامی نہیں ہے ۔ بہت افسوس ہوتا ہے ایسے مفکّروں پر جنہوں نے شاید قرآن شریف کو بھی غور سے نہیں پڑھا اور ہر مسجد کی علیحدہ شریعت بناتے پھر رہے ہیں ۔ تفصیل میں جائے بغیر میں عرض کر دوں کہ اسلامی شریعت صرف ایک ہی ہے اور اس کی بنیاد ۔ اوّل قرآن ۔ دوم سُنت ۔ سوم اجماع اور آخر قیاس ہے جس پر تمام آئمہ کرام متفق ہیں ۔ یقین نہ ہو تو سُنی اور شیعہ دونوں مسالک کے مُستند عالِموں سے پوچھ لیجئے یا اس سلسلہ میں کسی جامع کتاب کا سے استفادہ حاصل کر لیجئے

5 ۔ غیر تو غیر ہوئے اپنوں کا بھی چارہ نہ ہوا ۔ میرے ہموطن اتنا شیطان کو بدنام نہیں کرتے جتنا خود اپنے دین اسلام کی دھجیاں بکھیرتے رہتے ہیں اور اس پر انواع و اقسام کے سرنامے [labels] لگاتے رہتے ہیں ۔ اسلام اللہ کا دین ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام اس دین کے تابع تھے ۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے اور قیامت تک کیلئے ہے ۔ اسلام کسی فرد کی ملکیت نہیں اور نہ کسی فرد کو اس میں تحریف کی اجازت ہے ۔ فرقہ بندی ذاتی اغراض کی بنا پر ہے دین میں اس کی گنجائش نہیں ۔ بہرکیف اسلامی سلطنت کے بنیادی اصولوں جن کی بنیاد اسلامی شریعت ہے میں کسی کو اختلاف نہیں ۔ طالبان کا بنایا ہوا اسلام ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈہ کے علاوہ کچھ نہیں

6 ۔ آئین کی شقات 246 اور 247 جو نیچے نقل کی گئی ہیں کے مطابق مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کی ضروریات اور امن قائم کرنے کی خاطر مُلک کے دوسرے علاقوں میں نافذ قوانین سے مختلف قوانین وضع اور نافذ کئے جا سکتے ہیں ۔ اسلئے ریاست کے اندر ریاست کا تصور کم عِلمی پر مبنی ہے

246. Tribal Areas.
In the Constitution,
(a) “Tribal Areas” means the areas in Pakistan which, immediately before the commencing day, were Tribal Areas, and includes:
(i) the Tribal Areas of Baluchistan and the North-West Frontier Province; and
(ii) the former States of Amb, Chitral, Dir and Swat;

247. Administration of Tribal Areas.

(4) Notwithstanding anything contained in the Constitution, the President may, with respect to any matter within the legislative competence of Parliament, and the Governor of a Province, with the prior approval of the President, may, with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly make regulations for the peace and good government of a Provincially Administered Tribal Area or any part thereof, situated in the Province.

(5) Notwithstanding anything contained in the Constitution, the President may, with respect to any matter, make regulations for the peace and good Government of a Federally Administered Tribal Area or any part thereof.

(7) Neither the Supreme Court nor a High Court shall exercise any jurisdiction under the Constitution in relation to a Tribal Area, unless Parliament by law otherwise provides

وزیراعظم پاکستان نے بھی وضاحت کی ہے کہ

سوات معاہدہ آئین کے مطابق ہے اور صدر آصف علی زرداری معاہدے کی توثیق کر دیں گے ۔ سوات میں ماضی میں بھی شریعت نافذ رہی ہے ۔ برطانوی دور میں بھی یہاں خصوصی ریگولیشنز رہے ہیں

جہاں تک حکومت کی عملداری [writ] کا تعلق ہے وہ تو پورے مُلک میں کہیں نظر نہیں آتی خواہ اجناس خوردنی [edibles] کی کمرتوڑ مہنگائی پر نظر ڈالیں یا قابلِ استفادہ خدمات [utility services] کے بحران پر یا امن و امان کی صورتِ حال پر ۔ سب جگہ ایک ہی اصول نظر آتا ہے “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس”۔ بلوچستان میں خواتین کو زندہ دفن کیا جائے ۔ سندھ میں کاری کہہ کر قتل کر دیا جائے ۔ جنوبی پنجاب یا صوبہ سرحد میں کم سِن بچیاں ونی یا سوارا کہہ کر اپنے جُرم کی بھینٹ چڑھا دی جائیں ۔ کراچی شہر میں کھُلے بندوں میدانِ جنگ بنیں اور لاشیں گریں ۔ پورے پاکستان میں برسرِعام موبائل فون ۔ نقدی یا گاڑی چھینی جائے ۔ دن دہاڑے گھروں دکانوں یا بنکوں پر ڈاکے ڈالے جائیں ۔ لڑکیوں یا عورتوں کی عزتیں لوٹی جائیں ۔ سب جگہ حکومت کی عملداری کی بجائے بے بسی ہی نظر آتی ہے

پاکستان کے آئین کی جن شقات کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اُن کے علاوہ نیچے درج شقات 2 اور 31 کے مطابق تو پورے مُلک میں دین اسلام مخالف تمام قوانین رد کر کے اُن کی جگہ اسلامی قوانین نافذ ہونے چاہئیں یعنی دوسرے الفاظ میں پورے مُلک میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہونا چاہیئے ۔ چلئے ابھی اتنا ہی غنیمت ہے کہ صرف اسلامی نظامِ عدل کا تجربہ مالاکنڈ اور کوہستان کے 8 اضلاع میں کر لیں ۔ تجربہ کامیاب ہو تو پورے پاکستان میں پہلے اسلامی نظامِ عدل نافذ کریں اور پھر پوری اسلامی شریعت ۔ دعا ہے کہ اللہ ہمارے مُلک میں اسلامی نظامِ حکومت کے نفاذ کی صورتیں پیدا فرمائے

2 Islam shall be the State religion of Pakistan
2A The principles and provisions set out in the objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly

31.Islamic way of life.
(1) Steps shall be taken to enable the Muslims of Pakistan, individually and collectively, to order their lives in accordance with the fundamental principles and basic concepts of Islam and to provide facilities whereby they may be enabled to understand the meaning of life according to the Holy Quran and Sunnah.

(2) The state shall endeavour, as respects the Muslims of Pakistan:

(a) to make the teaching of the Holy Quran and Islamiat compulsory, to encourage and facilitate the learning of Arabic language and to secure correct and exact printing and publishing of the Holy Quran;
(b) to promote unity and the observance of the Islamic moral standards; and
(c) to secure the proper organisation of zakat, ushr, auqaf and mosques.

مختصر حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد سوات کے عوام کو کچھ چین ملا ہے ۔ پچھلے پونے دو سال میں فوجی کاروائیوں نے نہ صرف اُن کے ذرائع روزگار تباہ کر دیئے بلکہ اُن کے عزیز و اقارب بھی ہلاک ہوئے اور جائیدادیں بھی تباہ ہوئیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوات کے زیادہ تر عوام کی مالی حالت پہلے ہی کمزور تھی اور اب ابتر ہو گئی ہے ۔ وہ نہ تو مُلک میں نافذ انگریزی قانون کے مطابق چلنے کیلئے وکیلوں کی فیسیں دے سکتے ہیں اور نہ دس پندرہ سال عدالتوں کی پیشیاں بھُگتنے کیلئے اپنی روزی پر لات مار سکتے ہیں

کسی ملک کے استحکام اور ترقی کیلئے امن و امان بنیادی ضرورت ہے ۔ گذشتہ کئی سالوں میں پہلے بلوچستان اور پھر صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں فوجی کاروئی کے نتیجہ میں افراطِ زر اور کساد بازاری انتہائی بلندیوں کو چھو رہے ہیں ۔ مالی خسارہ کھربوں تک پہنچ چکا ہے اور عوام کا بال بال غیر مُلکی قرضوں میں جکڑا گیا ہے اور ملک عدمِ استحکام کا شکار ہونے کو ہے ۔ غیروں کی جنگ لڑتے لڑتے ہم نے اپنے قومی فرائض نظر انداز کر دیئے ۔ فوجی کاروائیوں کے نتیجہ میں امن قائم ہونے کی بجائے حالات اور بگڑتے گئے ۔ اب اس کے سوا چارہ کار کیا ہے کہ ان جنگجوؤں کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کی جائے ؟ آخر وہ اسی مُلک کے باشندے ہیں ۔ اگر کسی شریف آدمی کا بیٹا اوباش ہو جائے تو کیا وہ اُسے سمجھانے کی بجائے گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے ؟

پاکستان اور صوبہ سرحد میں سیکولر جماعتوں کی حکومت ہے ۔ اے این پی اُن لوگوں کی جماعت ہے جو نظریہ پاکستان کے خلاف رہے ہیں اور اب بھی اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں ۔ اب اگر ایسی جماعت اسلام کے نام لیواؤں سے مذاکرات اور معاہدے کی بات کرتی ہے اور اس کی تائید مُلک کی ایک بڑی سیکولر جماعت پیپلز پارٹی کر رہی ہے تو مجوزہ معاہدے کی بنیاد کوئی حِکمت اور افادیت ضرور ہو گی ۔ وہ لوگ جنہیں اندرونی حالات کا کوئی ادراک نہیں ہلکان کیوں ہوئے جا رہے ہیں ؟ کیا عورتوں کو زندہ دفن کر کے ہلاک کرنے والوں یا جوان عورت کو خونخوار کُتوں کے آگے ڈال کر ہلاک کرنے والوں یا ذاتی انا کے خلاف بات کرنے والی عورت کو کاری قرار دے کر ہلاک کرنے والوں کو گولی تو کیا کسی نے ایک تھپڑ بھی مارا ہے ؟ مُلک میں ہزاروں قاتل دنداتے پھر رہے ہیں ۔ اُن کے خلاف کوئی فوجی کاروائی ہوئی ہے ؟ اُن میں سے بعض کو تو انعام سے نوازہ جاتا ہے کسی کو گورنر اور کسی کو وزیر بنا دیا جاتا ہے

اصل مسئلہ امن قائم کرنے کا ہے جو طاقت کے ذریعہ قائم نہیں ہو سکا ۔ بلا شُبہ اس علاقہ میں شر پسند عناصر یا دشمن کے ایجنٹوں نے موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر حالات کو سنگین بنایا ہے ۔ اگر مذاکرات اور ایک محدود علاقہ میں جہاں ماضی میں کئی صدیاں اسلامی نظامِ عدل قائم رہنے سے کوئی گڑبڑ نہ ہوئی تھی وہاں دوبارہ اسلامی نظامِ عدل قائم کر دیا جائے تو پھر حکومتی اہلکاروں کو فتنہ پرور لوگوں سے نبٹنے کیلئے نہ صرف وقت بلکہ سہولت بھی میسّر ہو گی ۔ اس علاقہ میں امن کوششوں کیلئے صوفی محمد جسے قبل ازیں دو بار آزمایا جا چکا ہے سے زیادہ قابلِ اعتماد اور مؤثر اور کوئی شخص نہیں ہو سکتا تھا ورنہ حکومت اُسے یہ کام نہ سونپتی ۔ صوفی محمد کا 23 فروری کو حکومت کی جانب سے شریعت کے عملی نفاذکے اعلان اورچیک پوسٹیں ختم کرنے پران کے شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت ۔ حکومتی اہلکاروں اورتحریک طالبان سوات سے اپیل کی

حکومت فوج کو اسکولوں ۔ مکانات ۔ اسپتالوں اور دیگر عمارتوں سے ہٹا کر محفوظ مقامات پرمنتقل کرے اورتمام رکاوٹیں ختم کرے تاکہ لوگوں کی تکالیف ختم ہوسکیں ۔ حکومت تمام پولیس ۔ ایف سی اور لیویز کے معزول اور قید اہلکاروں کوبحال کرے اور عوام کے تمام نقصانات کاازالہ کیاجائے

تحریک طالبان سوات کے قائدین اپنے ساتھیوں کو فی الفورحکم دیں کہ وہ ناکے ختم اورتلاشی کاسلسلہ بندکردیں اورمسلح چلنا پھرنا اور دیگرکارروائیاں فی الفورختم کردیں ۔ راشن لے جانے والی گاڑیوں اور فوج کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں ۔ انتظامیہ اورپولیس کے امورمیں مداخلت نہ کریں ۔

تمام پولیس ۔ ایف سی اورلیویز اہلکار اپنے فرائض انجام دینے کیلئے ڈیوٹی پر حاضرہوجائیں ۔

انہوں نے کہا وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کے اعلان کے مطابق کام شروع کیاجائے اوروزیراعلٰی خودسوات کادورہ کرکے اس نیک کام کاافتتاح کریں

میں یہ نہیں کہتا کہ صوفی محمد یا اُس کا داماد فضل اللہ عالِمِ دین ہیں یا متقی و پرہیزگار ہیں اور نہ ہی میں اس کا اُلٹ کہہ سکتا ہوں ۔ لیکن بنیادی بات جو زیرِنظر رہنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ
ا ۔ اچھا عمل اچھا ہی ہوتا ہے چاہے اُسے کوئی بھی کرے ۔
ب ۔ دینی لحاظ سے کوئی بھی مسلمان شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر سکتا ہے چاہے اُس کا اپنا عمل قرآن و سُنّت کے عین مطابق نہ ہو
ج ۔ پاکستان کے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ غیر مُسلم ہی ہو پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرسکتا ہے

مجھے اس حوالے سے ایک واقعہ یاد آیا ۔ جسٹس اے آر کارنیلیس جو اُن دنوں پاکستان کے چیف جسٹس تھے ایک بین الاقوامی چیف جیورسٹس کانفرنس میں شریک تھے تو ایک سوال پوچھا گیا کہ بہترین نظامِ عدل و انسانیت کونسا ہے ؟ سب چیف جسٹس صاحبان کچھ نہ کہہ سکے آخر میں جسٹس اے آر کارنیلیس کی باری آئی تو اُنہوں نے کہا “اسلام کا نظام” اور کسی کو اس کی نفی کی جراءت نہ ہوئی ۔ جسٹس اے آر کارنیلیس مسلمان نہیں تھے

اگر حکومت آئین کے مطابق کام کرے تو خون خرابے اور کسی قسم کی بدامنی کی نوبت نہ آئے ۔ جب احتجاج کرنے والے عوام پر فوجی کاروائی کی جائے تو وہ ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ایسی صورتِ حال مُلک کیلئے سودمند نہیں ہوتی ۔ آئین کے بار بار توڑے جانے اور حکومت پر غاصبانہ قبضہ کے باوجود آئین کی جن بنیادی شقات کا میں نے اُوپر حوالہ دیا ہے ہمیشہ سے آئین میں موجود رہیں لیکن ان بنیادی شقات پر عمل کی کوشش نہیں کی گئی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان شقات پر عمل کرنے سے مُلک کے سیاست دانوں اور حُکمرانوں کی اکثریت میدان سے باہر ہو جائے گی

میرے اللہ آپ ربِ ارض و سماء و دیگر کُل مخلوقات ہو اور سارا نظام آپ کے حُکم کے تابع ہے ۔ ہماری بے راہ روی کی طرف نہ دیکھئے ۔ آپ رحیم و کریم ہو ۔ ہم پر فضل کیجئے ۔ ہمیں حق کو سمجھنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائیے