What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے January 11th, 2009

کیا حکومت امریکہ کی کٹھ پُتلی ہے ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Jan 2009

کیا حد نگاہ تک پھیلی پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ قومی سلامتی جیسا حساس ترین شعبہ امریکی مفادات سے وابستہ کسی شخص کے سپرد کردیا جاتا؟ کیا یہ اور بعض دوسری تقرریاں این آر او [NRO] کا حصہ تھیں؟ کیا مشرف سے دست کش ہونے سے پہلے امریکہ نے پاکستانی بساط کے ہر خانے میں اپنے مُہرے بٹھانے کی شرط منوا لی تھی؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا ایک مہرہ پِٹ جانے کے بعد یہ باور کرلیا جائے کہ امریکہ کو شہ مات ہوگئی ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مشرف کو اپنی آمرانہ حکمرانی کے لئے امریکی آشیرباد کی ضرورت تھی ۔ اس کے ہر اقدام کی ناک میں امریکی مفادات کی نکیل پڑی تھی ۔ آٹھ برس کے دوران اس نے پاکستان کو بڑے پیٹ والے مویشیوں کی کھرلی بنادیا ۔ 18 فروری کو عوام ایک نئے عزم کے ساتھ نئے انداز سے اُٹھے اور جانا کہ مشرف کو حواریوں سمیت نابود کرکے وہ ایک آزاد و خودمختار ملک کی حیثیت سے پاکستان کا تشخص بحال کردیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پارلیمینٹ کی بالادستی ایک بے ذوق نعرے تک محدود ہوکے رہ گئی ہے، کابینہ محض باراتیوں کا جتھہ ہے اور شدید بیرونی دباؤ کے ان دنوں میں امریکہ دندنا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امریکہ نے اپنے پاکستانی پٹھوؤں کے ذریعے چین کو روکا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو وِیٹو [Veto] نہ کرے۔ امریکہ نے ہی اپنے پٹھوؤں کے ذریعے اجمل قصاب کی پاکستانیت کا اقراری بیان جاری کرایا اور جان لیجئے کہ محمود علی درانی کے بعد بھی پاکستانی بساط پر جابجا امریکی مُہرے پوری تمکنت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستانی مفادات کا سینہ چھلنی کرنے کے لئے ابھی ان کے ترکش میں بہت تیر باقی ہیں

یہ ہیں جھلکیاں عرفان صدیقی کے مضمون “پاکستانی بساط کے امریکی مُہرے” کی

زمرہ : روز و شب, سیاست | 4 تبصرے »