کیا قائداعظم دھوکہ باز تھے ؟

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ہماری قوم کو انحطاط کے اس درجہ پر پہنچانے میں ہمارے مُلک کے ذرائع ابلاغ کا بڑا ہاتھ ہے ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے آپ کو مفکّر اور تاریخ دان سمجھنے والے کچھ پاکستانی جو مُلکی ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے ہیں اپنی کج فہمی کی گندگی صاف شفاف کرداروں پر اُگلتے رہتے ہیں ۔ ان قوم دُشمنوں سے نبٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر پاکستانی مستند تاریخ کا خود مطالعہ کرے ۔ اس سلسلہ میں قائدِ اعظم اور علامہ اقبال پر اُچھالی گئی گندگی کی حقائق پر مبنی وضاحت معروف محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کے اس مضمون میں ملتی ہے ۔

میرے بزرگ اور فاضل دوست جناب حقانی صاحب نے اپنے جمعرات کے حرف تمنا میں بعض ایسے سوال اٹھا دیئے ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے ورنہ میں نے تو بحث سمیٹ دی تھی کیونکہ اول تو فلسطین میں بہتے ہوئے مسلمانوں کے خون اور دوم ہندوستانی رویئے نے مجھ
پر اداسی طاری کرر کھی ہے۔ ان کے جمعرات والے دو حصوں پرمشتمل کالم کے بعض فقرے پڑھ کر مجھے احساس ہونے لگاہے کہ اب یہ بحث ایک اندھی گلی میں داخل ہوگئی ہے اس لئے اسے آگے بڑھانا لاحاصل ہے۔

برادر بزرگ حقانی صاحب فرماتے ہیں ”میرا موقف یہ ہے کہ قائداعظم اور اقبال اس سے بہت پہلے مطالبہ پاکستان سے دستبردار ہوچکے تھے“۔ یہاں ذکر ہو رہا تھا 1946ء کے کابینہ مشن پلان کا اس لئے حقانی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات کابینہ پلان سے بہت پہلے مطالبہ ٴ پاکستان سے دستبردار ہوچکے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں ان کا یہ فقرہ پڑھ کر چکرا گیا کیونکہ علامہ اقبال 1938ء میں وفات پا گئے تھے اور اس سے قبل انہوں نے قائداعظم کے نام خطوط میں نہ صرف مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے جواز اور مطالبے پر زور دیا تھا بلکہ اس مطالبے کے لئے لاہوراور مارچ کا ماہ بھی تجویز کر دیا تھا جہاں ان کے انتقال کے بعد مارچ 1940ء میں قرارداد پاس کی گئی۔ اس دور میں پاکستان سے مراد وہ پاکستان تھا جس کا تصور چودھری رحمت علی نے پیش کیا تھا اور علامہ اقبال بوجوہ اس سے مطمئن نہیں تھے۔ اس کی تفصیل ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب ”زندہ رود“ میں موجود ہے۔ البتہ جب کیمبرج کے طلبہ نے علامہ اقبال کی توجہ لفظ پاکستان کی جانب مبذول کروائی تو انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اسے لکھ کر ان کے کمرے میں چھوڑ جائیں، وہ اس پر غور کریں گے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب علامہ گول میز کانفرنس کے لئے لندن میں موجود تھے۔ علامہ اقبال کے خطوط بنام جناح گواہ ہیں کہ علامہ اقبال مسلمانوں کے لئے آزاد وطن کے داعی تھے او رانہوں نے قائداعظم پر اس مطالبے کے لئے دلائل اور منطق کے ذریعے زور دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات خطبہ الٰہ آباد کے کئی برس بعد کی ہے۔ اس ضمن میں میرے پاس خاصا مواد ہے لیکن کالم اس کی تفصیل میں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ مختصر یہ کہ علامہ اقبال موت تک مسلمانوں کے لئے علیحدہ اور آزاد وطن کے حق میں تھے اور وہ کبھی اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے۔

اب رہا معاملہ قائداعظم کا۔ میرے مہربان دوست حقانی صاحب کی تحقیق ہے کہ قائداعظم کابینہ مشن پلان سے بہت پہلے مطالبہ ٴ پاکستان سے دستبردار ہوگئے تھے۔ اس کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ قائداعظم نے کبھی مطالبہ پاکستان کیا ہی نہیں؟ کیونکہ مسلم لیگ نے سرکاری طور پر علیحدہ وطن کا مطالبہ قرار داد لاہور کے ذریعے مارچ 1940ء میں کیا۔ 1940ء سے لے کر قیام پاکستان تک قائداعظم اور مسلم لیگ بار بار کہتے رہے کہ پاکستان کا حصول ہماری حتمی منزل ہے۔ کابینہ مشن پلان کی آمد سے قبل 46-1945ء میں انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات پاکستان کے نام پر اور نعرے پر لڑے گئے اور مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی میں تمام مسلمان نشستیں جیت کر ثابت کر دیا کہ مسلمانانِ ہند پاکستان چاہتے ہیں اور مسلم لیگ ان کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ کابینہ مشن مارچ 1946ء میں ہندوستان آیا۔ اس کے بعد اپریل 1946ء میں اسمبلیوں کے لئے منتخب ہونے والے مسلم لیگی اراکین کا کنونشن دہلی میں ہوا جس میں اراکین اسمبلی نے حصول پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا حلف اٹھایا۔

اگر قائداعظم کابینہ مشن سے پہلے پاکستان کے مطالبے سے دستبردار ہوچکے تھے تو
کیا 46-1945ء کے پاکستان کے منشورپر انتخابات اور مسلم لیگی اراکین اسمبلیوں کا حلف سب ڈرامہ تھا؟
کیا قائداعظم قوم کو دھوکہ دے رہے تھے کہ وہ خود تواس مطالبے سے دستبردار ہوچکے تھے لیکن قوم کو اس جنگ میں جھونک رہے تھے؟

یہ وہ الزام ہے جو قائداعظم کے بدترین دشمن بھی ان پر نہیں لگاتے۔ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ہندو اسکالرز اور کانگریسی ذہن کے مؤرخ یہ ضرور پراپیگنڈہ کرتے رہے ہیں کہ دراصل پاکستان کانگریسیی ہٹ دھرمی سے بنا یا انگریزوں کی دین تھا اور اس پراپیگنڈے کا مقصد نہ صرف پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے بلکہ مسلمانوں کی قربانیوں اور قائداعظم کے قائدانہ کردار کی نفی کرنا بھی ہے۔ یہ ایک عجیب منطق بلکہ متضاد دلیل ہے کہ قائداعظم تقسیم ہند اور پاکستان کے حق میں نہیں تھے اور پاکستان کانگریس نے بنایا لیکن اس سے قائد اعظم کی عظمتِ کردار کو گرہن نہیں لگتا ۔ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ پاکستان مسلمانان ہند کی قربانیوں کا صلہ تھا اور قائداعظم پاکستان کے بانی ہیں اور یہی ان کی عظیم قیادت کو خراج تحسین ہے۔ قائداعظم سے بانی ٴ پاکستان ہونے کا اعزاز چھین کر یہ اصرار کیا جائے کہ اس سے ان کی کردار کشی نہیں ہوتی تو پھرا ور کردار کشی کیا ہوتی ہے؟

برادر بزرگ حقانی صاحب کے کالم میں سیروائی اور خالد بن سعید کی کتابوں کے حوالے دیئے گئے ہیں۔ سیروائی کی کتاب کا اردوترجمہ میں نے اٹھارہ برس قبل کیا تھا جسے جنگ پبلشرز نے چھاپا۔ خالد بن سعید کی کتاب تقریباً نصف صدی پہلے شائع ہوئی تھی اور میں اسے کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ اس کے بعد اس موضوع پر خاصی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ خالد بن سعید کا تھیسِس [thesis] یا نچوڑ یہی ہے کہ قائداعظم کبھی بھی مطالبہ پاکستان سے دستبردار نہیں ہوئے اور انہوں نے کابینہ مشن پلان بھی اسی لئے قبول کیا کہ اس کے ذریعے انہیں پاکستان مل رہا تھا۔ کتاب کے آخری حصے میں نتائج اخذ کرتے ہوئے خالد بن سعید نے قائداعظم کے سیاسی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کانگریسی پراپیگنڈہ کا جواب ان الفاظ میں دیا ہے۔

”جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ہندوؤں کے رویئے کے سبب معرض وجود میں آیا وہ مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔ ہندو مسلمانوں کے خلاف [Hostile] تھے تو مسلمان ہندوؤں کے خلاف تھے۔ دوئم یہ کہ یہ حضرات مطالبہ پاکستان کو اپنے تاریخی تناظر میں نہیں دیکھتے۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر طویل عرصہ حکومت کی تھی اور انہیں ایسا جمہوری نظام قبول نہیں تھا جو انہیں اقتدار سے محروم کر دے۔ پاکستان کے مطالبے سے بہت قبل جناح نے انہی خطوط پر سوچنا شروع کر دیا تھا”

اختصار کا دامن پکڑتے ہوئے ایک ابہام کا ازالہ ضروری ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ اس جدوجہد میں ہندوستان کے مسلمان بھی ایک پارٹی تھے۔ بلاشبہ انہوں نے حصول پاکستان کے لئے تاریخی قربانیاں دیں۔ براہ کرم یہ بات ذہن میں ر کھیں کہ 46-1945ء میں مسلم لیگ کی کونسل 475 اراکین پر مشتمل تھی جس میں ہندوستان کے تمام صوبوں کے منتخب اراکین شامل تھے۔ اس کونسل اور ورکنگ کمیٹی نے جب جون 1946ء میں کابینہ مشن پلان قبول کرنے کی قرارداد پاس کی تو واضح طور پر یہ کہا کہ ہم اسے پاکستان کے حصول کی جانب اہم قدم کے طور پر قبول کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 5,6 جون کو قائداعظم نے اسی کونسل کے سامنے یہ کہا کہ مجھے کابینہ مشن پلان میں پاکستان نظر آرہا ہے۔ میں قرارداد اور قائداعظم کی تقریر کے فقرے گزشتہ کالموں میں کوٹ کر چکا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ کونسل کے اراکین جو ہندوستان کے مسلمانوں کے بہترین نمائندے تھے اور جن میں منتخب اراکین اسمبلیاں بھی شامل تھے قوم کودھوکہ دے رہے تھے اور قائداعظم یہ کہہ کر کہ مجھے کابینہ مشن پلان میں پاکستان کی بنیادیں نظر آتی ہیں ، مسلمانوں سے جھوٹ بول رہے تھے کیونکہ اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ قائداعظم مطالبہ پاکستان سے دستبردار ہو چکے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم سے ڈرامہ کررہے تھے؟ خدانخواستہ…!!

تاریخی پس منظر کے مطابق کابینہ مشن پلان کے ضمن میں مسلم لیگ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے قائداعظم نے 22مئی 1946ء کو کہا ”بنگال، آسام، پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان، پاکستان زونز ہیں اور ان پر مشتمل ایک آزاد [Sovereign] ریاست بنائی جائے
اورپاکستان کے قیام کی ضمانت دی جائے۔ ایک آزاد خودمختار ملک پاکستان کا قیام ہی ہندوستان کے آئینی مسئلے کا حل ہے“۔ 5 جون کو مسلم لیگ کونسل کے سامنے تقریر کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ ”مسلمان پاکستان حاصل کئے بغیر چین نہیں لیں گے۔ دراصل پاکستان کی بنیاد کابینہ پلان میں موجود ہے“ [تالیاں] مزید کہا ”دنیا کی کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے محروم نہیں کر سکتی“۔

حرف تمنا میں قائداعظم کے 29 جولائی کے بیان کو معنی خیز قرار دیا گیا جس میں قائداعظم نے کہاکہ ہم نے پاکستان کی مکمل خود مختار ریاست کو ہندوستان کی جلد آزادی پر قربان کر دیا۔ اس ابہام کو رفع کرنے کے لئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مسلم لیگ نے کابینہ مشن پلان کے تحت مرکزی حکومت کو دفاع، خارجہ اور مواصلات دے کر گروپنگ کے اصول کو قبول کر لیا تھا کیونکہ ان گروپس میں مسلمان اکثریتی صوبے شامل تھے جن کی اپنی دستور ساز اسمبلی ہونی تھی اور جو دستور سازی کے بعد گروپ سے باہر نکلنے کا اختیار رکھتے تھے۔ قائداعظم کی حکمت عملی یہ تھی جس کی وضاحت ان کی تقاریر میں بار بار ملتی ہے کہ ایسا مرکز جس کے پاس ٹیکس لگانے، فنانس اور آمدنی کے اختیارات نہ ہوں وہ بے بس ہوتا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ پلان ناقابل عمل ہے اور انہوں نے اس پلان کو اس لئے قبول کرلیا تھا کہ اس طرح وہ اپنے مقصد میں آئینی اور پُرامن انداز میں کامیاب ہوجائیں گے۔ وہ کس طرح کامیاب ہوں گے اس کی وضاحت کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا کہ پہلے قدم کے طورپر گروپس معرض وجود میں آئیں گے اور دوسرے مرحلے میں ان گروپوں سے مسلم اکثریتی صوبے باہر نکل کر [optout] پاکستان حاصل کریں گے۔ اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا لیکن پاکستان بنگال او ر پنجاب کی تقسیم سے بچ جائے گا۔

ابہام یہ ہے کہ ہمارے محترم دانشور صرف پہلے مرحلے تک محدود رہتے ہیں اور اسی حوالے سے قائد کی تقریر کے چند فقرے کوٹ کرتے ہیں اوریہ بھول جاتے ہیں کہ قائد کے مطابق دوسرا مرحلہ مسلمان اکثریتی صوبوں کا اس اسکیم سے باہر نکل کر پاکستان قائم کرنا بھی تھا جن پر قائداعظم نے روشنی ڈالی تو مسلم لیگ کونسل کے 475 مسلمان زعماء نے اس کی تائید کی اور جب نہرو کو احساس ہوا کہ وہ گروپنگ اسکیم کے تحت پاکستان کو پورا بنگال اور پنجاب دے رہا ہے تواس نے کابینہ مشن پلان کو مسترد کردیا۔

موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے لیکن میں نے نہایت مختصر انداز میں وضاحت کر دی ہے۔ کئی باتوں کا جواب نہیں دے سکا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کس نقطہ نظر کو قبول کرتے ہیں۔

This entry was posted in تاریخ, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “کیا قائداعظم دھوکہ باز تھے ؟

  1. محمد سعد

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
    میری ناقص رائے میں تو اس بات کا جواب ایک ہی جملے میں دیا جا سکتا تھا کہ اگر قائدِ اعظم پاکستان کے حصول کے لیے مخلص نہ ہوتے تو آخری دنوں میں شدید بیماری کے باوجود پاکستان کے لیے اتنی محنت نہ کر رہے ہوتے۔
    پھر بھی اگر کسی “عالم فاضل عظیم تاریخ دان” کو اعتراض ہو تو اس کی ذہنی سطح کا اندازہ نہایت ہی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

  2. فرحت کیانی

    ذرائع ابلاغ اور اس تعلق رکھنے والے افراد نے معاشرے کو اس بری طرح متاثر کیا ہے کہ کبھی سنجیدگی سے جائزہ لینے بیٹھیں تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ :sad:
    قائد اعظم کی گزشتہ برسی پر میں ٹیلی ویژن پر ایک نیوز رپورٹ دیکھ رہی تھی جس میں طلباء سے پوچھا جا رہا تھا کہ قائد اعظم کی سیاسی بصیرت اور اصول کہاں تک درست تھے۔ اور تقریباً تمام حصہ لینے والوں نے ایسا ہی کچھ جواب دیا کہ تب کی بات اور تھی لیکن قائد اعظم کے اصول آج کے دور کے لحاظ سے کچھ زیادہ کامیاب اصول نہیں! :???:

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فرحت کیانی صاحبہ
    محظ اتفاق ہے کہ میں نے بھی وہ پروگرام دیکھا تھا ۔ جو مجھے سمجھ میں آیا یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم و تربیت کا فُقدان ہے ۔ ایک چھوٹی سی مثال لیتے ہیں ۔ آجکل اخبارات میں طلباء کو طلبہ لکھا جاتا ہے اور بہت سے لوگ بھی ایسے ہی لکھتے ہیں جبکہ اُردو میں طلبہ کوئی لفظ نہیں ہے ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے ۔ حالِ چمن پھر کیا ہو گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)