افسوس صد افسوس

صرف صد بار بلکہ ہزاروں بار افسوس ہے اپنی قوم کے ہر اُس فرد پر جو دوسروں کی کوتاہیاں ۔ غلطیاں اور بُرائیاں بیان کرتے تھکتے نہیں ہیں لیکن اپنا عمل یہ ہے کہ چند منٹ لگا کر اسرائیلی ظلم و دہشتگردی کے شکار فلسطینیوں کے حق میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکتے

کل جب میں نے تمام بلاگرز اور قارئین سے ووٹ کی درخواست کی اس وقت فلسطین کے حق میں 56 فیصد سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے تھے اور اسرائیل کے ووٹ 44 فیصد سے کم تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ کہ فلسطین کے 49.1 فیصد ووٹ ہیں اور اسرائیل کے 50.9 فیصد

چاہیئے تو تھا کہ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے قارئین اور عزیز و اقارب کو بھی فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا جاتا لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ بہت سے خواتین و حضرات نے اپنا ووٹ بھی نہیں ڈالا یا پھر فلسطینیوں کو دہشتگرد سمجھ کر اسرائیل کے حق میں ووٹ ڈال دیا ہے

This entry was posted in پيغام on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

18 thoughts on “افسوس صد افسوس

  1. ابوشامل

    ایسا نہیں ہے صاحب! دراصل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے زیادہ افراد مغرب میں رہتے ہیں، اس لیے انہوں نے اسرائیل کے میں اپنی رائے دی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آپ کے بلاگ کے کسی قاری نے تحریر پڑھنے کے باوجود ووٹ دینے سے اجتناب کیا ہوگا۔

  2. اکرام

    جناب اس پر تو میں ووٹ ہفتہ پہلے ڈال دیا تھا
    پر آپ کو پتا ہے کے نئٹ استعمال مغرب میں ذیادہ ہے ان ووٹ تو ہمیں نہیں مل سکتے ۔

  3. زین الدین

    ہم سب کو تمام فورمز اور بلاگز پر اس حوالے سے تشہیر کرنی چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فلسطین کے حق میں ووٹ استعمال کریں۔

  4. سارہ پاکستان

    ووٹ تو ڈال دیا۔ مگر سر کیا میرے ووٹ سے اسرائیل حملے بند کردے گا؟؟کیا ہمارے مسائل ووٹوں سے حل ہوسکتے ہیں؟؟اگر حق اور باطل کا فیصلہ ووٹ سے ممکن ہے تو پھر جہاد‌ کا حکم کس لیے؟؟

  5. جہانزیب

    اس صحفہ پر اس بارے میں شماریات موجود ہیں‌ ۔ سب سے زیادہ ووٹ‌ امریکہ اس کے بعد اسرائیل سے ڈالے گئے ہیں‌ ۔امریکہ، اسرائیل اور کنیڈا کے علاوہ باقی ممالک میں دیکھیں‌ تو زیادہ ووٹ‌ فلسطین کے لئے ڈالے گئے ہیں‌ ۔ ویسے بھی نیٹ‌ پر ووٹنگ پر دلبرداشتہ نہیں‌ ہونا چاہیے ۔ یہ اس پر منحصر کرتا ہے کہ کہاں‌ پر ویب کے صارفین زیادہ موجود ہیں‌ ۔

  6. راشد کامران

    کل تین بار کوشش کی تو سائٹ کسی وجہ سے ڈاؤن تھی اور چوتھی بار میں‌کامیابی ہوئی اور آج دوبارہ اس نے اسی آئی پی سے ووٹ قبول کرلیا۔۔ اس کے نتائج بالکل فضول ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

  7. Pingback: يوں نہ تھا ميں نے فقط چاہا تھا يوں ہو جائے » Blog Archive » چھوٹی سی بات

  8. اردوداں

    ہم نے فلسطین کے حق میں اسلئے رائے دی کہ ہٹلر کا جھوٹا سفیدوں نے بے چارے فلسطینیوں پر دے مارا تھا جس سے آج تک تعفن پھوٹ رہا ہے۔
    افسوس اس بات کا ہے کہ جو جاہل وہاں فلسطینیوں کے حق میں رائے دے رہے ہیں وہ اکثر لکھ رہے ہیں “اللہ اکبر”
    کیا مسلمان اناج کھاکر بھی اتنی عقل نہیں رکھتے کہ وہ حقائق بیان کرکے لوگوں کو آگاہ کریں، بجائے اسلام کو مزید مشکوک بنانے کے!
    یہ بے وقوف اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ اسرائیل کو ‘اسلامی دہشت گردی’ سے خترہ ہے اور یہودی اپنا دفاع کررہے ہیں۔
    نادان دوستی جی کا جنجال! افسوس ہوتا ہے مسلمانوں پر!!

  9. ڈفر

    ویسے بھی اس ووٹنگ سے کیا فرق پڑنا ہے
    ایسی بہت سی پٹیشنز کو میں جانتا ہوں جس میں مسلمانوں کی طرف ووٹوں کا تناسب 99 فیصد سے بھی زیادہ ہے
    رائے عامہ کا ہم سب کو پتا ہے لیکن طلم کے سد باب کے لئے کچھ اور قابلیت چاہئے، جو ۔۔۔

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سارہ پاکستان صاحبہ
    ووٹ ڈالنا تو کم از کم ہے ۔ اس سے جتنا بھی کیا جا سکے اسے کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ آپ کی دعا پر میں آمین کہتا ہوں ۔ مسلمانوں کی کمزوری کا سبب بے عملی ہے

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جہانزیب صاحب
    آپ کا کہنا درست ہے اور ویسے بھی غیر مسلم کی تعداد مسلمانوں سے پانچ گنا ہے لیکن ہمیں حتی المقدور اپنی طاقت کا اظہار تو کرنا چاہیئے

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈِفر صاحب
    اس میں کوئی شک نہیں ظُلم کو روکنے کیلئے مناسب حِکمتِ علی اور عملِ پیہم کی ضرورت ہے ۔ یہ ووٹنگ کے سلسے لوگوں کو جھنجوڑنے کیلئے ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)