اظہرالحق صاحب کے سوال کا جواب

اظہرالحق صاحب نے میری تحریر “غزہ میں بہتا خون کیا کہتا ہے” پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا

میری نظر میں سب سے پہلے فلسطینی ہی غلط ہیں‌، انکل آپ بھی فلسطینیوں کے ساتھ رہے ہو ، آپ تو انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہو ۔ ۔ ۔ وہ لوگ آج بھی عرب قومیت کی بات کرتے ہیں‌، فتح اور حماس کی تفریق کسی سے چھپی نہیں‌ہے ، صابرہ اور شتیلا کی تباہی سے لیکر دوسری انتفادہ تک ۔ ۔ ۔ اسرائیل ہمیشہ ہی فلسطینیوں میں تفریق رکھنے میں‌ کامیاب رہا ہے ، کبھی سیکیورٹی پاس ایشو کر کے کبھی دوائیوں کے ٹرک روانہ کر کے اور کبھی چند ڈالروں کے عیوض ۔ ۔ ۔ فلسطینی مسلمان بہت ارزاں بکتا ہے انکل جی بہت ہی ارزاں ۔ ۔ ۔
دبئی میں‌فلسطینیوں کی بہت مانگ اور وہ یہ مانگیں پوری کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ آج کل یہاں کے بازاروں میں غزہ کی تصویریں لگا کر انکے لئے سامان اکھٹا کر رہے ہیں‌، انکے ویزوں کی فیسیں معاف کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مگر سب کچھ ہے ۔ ۔ ۔ کیا یہ فلسطینی اپنے ہی فلسطینیوں کا خیال کررہے ہیں‌ ۔ ۔ ۔ جی نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ افسوس ہم تصویر کا ایک ہی رُخ دیکھ رہے ہیں‌دوسرا رُخ بھی بہت بھیانک ہے ۔۔ ۔
حماس ایک ایسی تنظیم ہے جسنے فلسطینیوں کے دل میں‌ گھر کر رکھا ہے اسے ایران کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مگر خالد مشعال سے لیکر لیلٰی الداؤدی تک سب کے سب عربوں کی بات کرتے ہیں ۔ ۔ کاش یہ مسلمانوں کی بات کرتے کاش ۔ ۔ اے کاش ۔۔ ۔ ایسا ہوتا تو شاید یہ اتنا ظلم بھی نہ سہتے ۔ ۔ ۔
———————
ایک بات ، موضوع سے ذرا ہٹ کہ ۔ یہودیوں کی تین ہزار سالہ تاریخ (یعنی فرعون کے زمانے سے لیکر اب تک ) یہ بتاتی ہے کہ یہ قوم کسی بھی جگہ چالیس سال سے زیادہ نہیں ٹِک سکی ۔ ۔ ۔ اور 2008 میں یہ چالیس سال پورے ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ہیکل سلیمانی بھی نہیں‌بن سکا اور ساری دنیا میں صہیونی بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں‌ ۔ ۔ شاید اب یہ کسی اور خطے کی تلاش میں ہیں‌ ۔ ۔ ۔ ۔ وللہ عالم بالصواب

چونکہ اس تبصرہ کا تعلق تاریخ سے ہے اور زمانے کے رواج کے مطابق عام طور پر نوشتہ تاریخ وہ ہوتی ہے جسے با اثر یا طاقتور لکھواتا ہے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنا نظریہ سرِ ورق پر پیش کروں ۔

حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے اور اس تلخی کو برداشت کرنا ہی انسانیت کی کُنجی ہے ۔ فلسطینی اور پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت خود غرض اور کوتاہ اندیش ہے ۔ دنیا کی صرف یہ دو قومیتیں ایسی ہیں جن کی اکثریت اپنے ہی ہموطنوں کو بُرا کہتی ہے ۔ ان خوائص کی وجہ سے ان میں بِکنے والے بھی باقی قوموں سے زیادہ ہیں ۔ فلسطین کی اصل خیر خواہ جماعت حماس ہی ہے جو پہلے صرف دین کی تبلیغ و اشاعت کرتی تھی پھر اپنوں کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے مسلحہ جد و جہد آزادی میں شامل ہو گئی ۔ جن لوگوں نے فلسطین کی آزادی کی جد و جہد شروع کی تھی ان میں عیسائی بھی شامل تھے ۔ پھر یاسر عرفات کہیں سے نمودار ہوا اور امریکہ کے خلاف بولنے کی وجہ سے چھا گیا ۔ اُس نے فلسطین کی جد و جہد آزادی کو بہت نقصان پہنچایا ۔ یاسر عرفات کے نائب جو جنگِ آزادی کے اصل کمانڈر ہوتے تھے یکے بعد دیگرے مرتے رہے مگر یاسر عرافات کو کسی نے مارنے کی کوشش نہ کی ۔ آخرِ عمر میں اُسے اپنی قوم کا کچھ خیال آیا تو اسرائیلی فوج کے ایک انتہاء پسند گروہ نے اسے مارنے کا منصوبہ بنایا ۔ ان دنوں یاسر عرفات شام میں تھا ۔ امریکی سی آئی اے نے حملہ سے قبل یاسر عرفات کو مع اسکے معتمد ساتھیوں کے اپنے ہیلی کاپٹر میں اُٹھایا اور پھر لبنان سے ہوائی جہاز کے ذریعہ الجزائر پہنچا دیا ۔ دراصل یاسر عرفات امریکہ کا ایجنٹ تھا ۔ یاسر عرفات جب تک طاقت میں رہا فلسطینی جد و جہد آزادی کے رہنما یکے بعد دیگرے مرتے رہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ الفتح اور حماس کی آپس میں جنگ شروع ہو گئی ۔

حماس کو اس وقت صرف ایران ہی نہیں شام کی بھی حمائت حاصل ہے جبکہ الفتح کو مصر اور دوسرے امریکہ کے غلام مسلمان ملکوں کی حمائت حاصل ہے ۔ آپ ذرا اپنے ملک پر غور کیجئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جسے سامراج بالخصوص امریکہ کا دشمن سمجھا جاتا تھا اس نے امریکہ کی خواہش پوری کرتے ہوئے پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کا کافی حصہ ضائع کر دیا اور باقی ماندہ کو بھی قوم کے سامنے نہ آنے دیا ۔ موجودہ صدر آصف زرداری کو ہی دیکھ لیں ۔ امریکہ کی فرماں برداری میں ڈالر حاصل کرنے کیلئے قوم و ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ اپنی من مانی کرنے کیلئے اُس نے بھٹو خاندان کو تقریباً ختم کر دیا ہے ۔

رہی بات اسرائیل کے چالیس سالوں والی تو یہ چالیس سال حکومت کرنا نہیں تھا بلکہ چالیس سال در بدر پھرنا تھا ۔ فلسطین کو صیہونیوں [یہودیوں کی نہیں] اماجگاہ امریکہ کی ایماء پر برطانیہ نے بنایا اور امریکہ صیہونیوں کو پال پوس رہا ہے اور ان کی حفاظت بھی کر رہا ہے ۔ یہودیوں کی نہیں میں نے اسلئے لکھا ہے کہ اسرائیل کے حکمران فلسطین کے رہنے والے نہیں تھے ۔ انہیں روس اور یورپ سے لا کر یہاں بسایا گیا تھا ۔ یہ عمل 1905ء میں شروع ہوا ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اللہ کی مخلوق پر ظُلم و استبداد کے نتیجہ میں قانونِ قدرت ضرور حرکت میں آئے گا لیکن ساتھ شرط یہ بھی ہے کہ جن پر ظُلم کیا جارہا ہے وہ خالقِ حقیقی کی طرف رجوع کریں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “اظہرالحق صاحب کے سوال کا جواب

  1. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    اجمل صاحب!
    آپ کی اس بات سے ہمیں پورا اتفاق ہے کہ یاسر عرفات جعلی آدمی تھا اور فلسطینی کاز سے مخلص نہیں تھا۔فلسطینی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں جب بھی کوئی اہم موڑ آیا کہ ساری دنیا کی توجہ فلسطین کی طرف ہو گئی اور اسرائیل پہ ہر طرف سے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دباؤ پڑنے لگا تو یاسرِ عرفات نے پہلو بدل لیا۔ جس کی آخری مثال پہلے انتیفادہ میں جس کا یاسر عرفات کی پی ایل او اور الفتح وغیرہ سے سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔کیونکہ ایتیفادہ تحریک ان نوجوانوں نے چلائی تھی جو اسرائیل کے اندر محصورین کے کیمپوں میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ ان کم عمر فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی ریاست کی دہشت گردی کو ہر روز اپنے جسم و جان پہ سہا تھا اور ہر روز دیکھا تھا کہ کس طرح اپنی ہی سر زمین پہ کس طرح ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اور وہ سر پہ کفن باندھ کر میدان میں اترے تھے۔ جبکہ تب یاسر عرفات تیونس میں مزے کی زندگی گزار رہا تھا۔ اور جب پہلی انتیفادہ تحریک کامیاب ہونے کو تھی اور قریب تھا کہ اسرائیل گھٹنے ٹیک دے تو یاسر عرفات نے امریکہ کے اشارے پہ ناروے میں اسرائیل کے ساتھ اچانک مذاکرات کا ڈول ڈال دیا۔ جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ۔ عقل و فہم کے مالک فلسطینی اور دانشوار یاسر عرفات کو غدار تک کہنے سے نہیں چوکتے۔

  2. اظہرالحق

    سب سے پہلے انکل جی آپ کا شکریہ کہ اس قدر تفصیل کے ساتھ آپنے لکھا ہے میرے تبصرے کے بعد ، بس اللہ سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کو ہدایت دے

    جاوید گوندل صاحب ، جی صحیح کہا، یاسر عرافات نے بہت نقصان پہنچایا فلسطین کاز کو مگر یہ بھی تھا کہ یاسر عرافات واحد بندہ تھا جو فلسطینیوں میں یکساں مقبول تھا ۔ ۔ ۔ اسے باقاعدہ ٹریپ کیا گیا مگر بات وہیں آ جاتی ہے کہ کیا یہ لوگ عقل سے خالی ہیں کہ اپنے دوست اور دشمن کی پہچان نہیں کر پاتے !!!

    ساجد اقبال ، میری نظر میں اسرائیل کا قیام 1968 کی جنگ کے بعد ہے ، جسکے بعد اسرائیل کو “جائز” مقام دیا گیا عرب دنیا میں‌ ۔ ۔۔ اسلئے چالیس سال لکھے ہیں‌ اجمل انکل نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ یہ قوم چالیس برس بھٹکتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ اور پھر چالیس برس کسی جگہ قیام کرتی ہے اور پھر اسے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ خود کہیں سے نہیں‌نکلتے !!!!

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاوید گوندل صاحب
    میں آپ سے اس سلسلہ میں مکمل اتفاق کرتا ہوں ۔ میرے علم میں فلسطین کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جو لکھنا شروع کرو تو ایک کتاب بن جائے گی ۔فلسطین کی تحریکِ آزادی کو نقصان پہنچانے والے یاسر اردن کا بادشاہ حسین جو بعد میں غیرجانبدار ہو گیا ۔ شام کا سربراہ حافظ الاسد اور عرفات ۔ تھے اور اب حُسنی مبارک ہے ۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اظہرالحق صاحب
    یاسر عرفات شروع میں مقبول ہوا تھا لیکن بعد میں مجبوری نے فلسطینیوں کو گھیرے رکھا کیونکہ پائے کے رہنما سب ہلاک یا گرفتار ہو چکے تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)