What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December, 2008

ننگِ دین ننگِ قوم ننگِ وطن کیا انہی لوگوں کو کہا گیا تھا ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Dec 2008

سلامتی کونسل کی وہ قرارداد جو امریکہ نے جولائی یا اس سے قبل پیش کی تھی اور چین نے پاکستان کا ساتھ دیدتے ہوئے ویٹو کر دی تھی وہ 10 دسمبر کو کیونکر منظور ہو گئی اور پاکستان کے نامور رفاہی اداروں پر پابندی لگ گئی ۔ چین کا یہ عمل مجھے پریشان کئے ہوئے تھا ۔ میں نے ایک باخبر شخص سے بُدھ یا جمعرات یعنی 17 یا 18 دسمبر 2008ء کو اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو میں دنگ رہ گیا تھا جب اُس نے کہا “صدر زرداری نے امریکہ کے دباؤ کے تحت چین سے درخواست کی تھی کہ اب اُس قرارداد کو ویٹو نہ کیا جائے”۔ اس انکشاف نے مجھے شدید شش و پنج میں مبتلا کئے رکھا تھا کہ آج یہ بات اخبار کی زینت بن گئی

سلامتی کونسل کی ایک پندرہ رکنی کمیٹی کی جانب سے 10دسمبر کو پاکستان کے تین افراد اور تین تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ قومی، سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اب تک موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اور یہ امر بھی ان کے لئے خاصا حیران کن ہے کہ چین جو اب تک اس نوع کی قراردادوں کو 7 مرتبہ ویٹو کر چکا ہے اس نے اس نازک مرحلے پر پاکستان کی حمایت سے دست کشی اختیار کر کے اس قرارداد کے متفقہ طور پر منظور کئے جانے کی راہ کیوں ہموار کی۔ اقوام متحدہ کے سفارتی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ چین کے بارے میں یہ تاثر کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنی ہمالہ سے زیادہ بلنداور سمندر سے زیادہ گہری دوستی کے تمام تر دعووں اور ہر دو ممالک کی دیرینہ دوستی کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر مغرب کا ساتھ دیا، کسی طرح درست نہیں اور حقائق یہ ہیں کہ بیجنگ نے یہ قدم بھی اسلام آباد سے باقاعدہ مشورے اور اس کی طرف سے کئے جانے والے اصرار کے بعد ہی اٹھایا ہے اس لئے اسے یہ الزام ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو کسی طرح زک پہنچائی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی مذکورہ کمیٹی قرارداد نمبر 1267 کے تحت کوئی 9 سال پیشتر قائم کی گئی تھی لیکن جب بھی وہ انسداد دہشت گردی کے تناظر میں کوئی فیصلہ کرنے کے لئے بیش رفت کرتی تو چین ہر مرتبہ اس کے راستے میں حائل ہو جاتاکیونکہ وہ کسی صورت یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ پاکستان کسی طرح اس کی زد میں آئے اور یوں اس سلسلے میں ہونے والی ساری پیش رفت بے نتیجہ ہو کر رہ جاتی اور سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ جاتا۔ امریکہ اور بھارت نے گزشتہ مئی میں اس بارے میں اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کا آغاز کیا اور اپنی جدوجہد کو نہایت مربوط طریقے سے آگے بڑھانے میں لگے رہے

امریکہ ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کو کس طرح نظر انداز کر سکتا تھا اس لئے اس نے اپنی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کو بھارت کے ہنگامی دورے پر روانہ کر دیا جہاں سے واپسی پر وہ 4 دسمبر کو اچانک اسلام آباد وارد ہوئیں اور صدر زرداری سے ایک اہم ملاقات میں دوٹوک انداز میں دہشت گردی کے خلاف نئی دہلی سے مکمل، شفاف اور عملی تعاون کی خواہش کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان اپنے دوست ملک چین سے سلامتی کونسل کی دہشت گردی کے خلاف قرارداد پر کئی ماہ سے لگایا گیا ٹیکنیکل ہولڈ ختم کرنے کے لئے کہے تاکہ اس قرارداد کے پاس ہونے کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس امریکی مطالبے کی پذیرائی اس رنگ میں ہوئی کہ ایوان صدر سے چین کو فوراً یہ پیغام پہنچایا گیا کہ وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی خاطر لگایا گیا ”ٹیکنیکل ہولڈ“ ہٹا لے، سو چین نے اگلے ہی روز یعنی 5 دسمبر کو اپنے سفارتکاروں کو یہ ہدایت کر دی کہ وہ اس پابندی کو جاری و ساری رکھنے کے سلسلے میں کسی سرگرمی کا مظاہرہ نہ کریں۔ 6 اور 7 دسمبر کو اقوام متحدہ میں ہفتہ وار تعطیل تھی اور پھر پاکستان کے سفارتی مشن کو 7دسمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے حقوق انسانی کے ایوارڈ کی وصولی کی تیاریاں بھی کرنی تھیں اس لئے وہ ادھر جُت گیا اور سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سیکرٹریٹ کا عملہ اس قرارداد کو بغیر کسی ادنیٰ رکاوٹ کے پاس کرانے کے لئے متحرک رہا اور چونکہ اب کسی بھی رُکن ملک کو اس پر کوئی اعتراض نہیں رہا تھا اس لئے اسے متفقہ فیصلے کے طور پر جاری کر دیا گیا۔

یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ پاکستان کی جانب سے چین سے ٹیکنیکل ہولڈ ہٹا لینے کی جو درخواست کی گئی اس کا نہ تو وزارت خارجہ کو کوئی علم ہوا اور نہ ہی نیو یارک میں پاکستانی مشن کو اس کی کوئی خبر ہو سکی اور سب کچھ مبینہ طور پر امریکہ اور ایوان صدر کے درمیان بالا بالا ہی طے کر لیا گیا۔

زمرہ : خبر | 16 تبصرے »

ممبئی دہشتگردی ۔ اصل مُجرموں کی پردہ پوشی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 20 Dec 2008

مندرجہ ذیل خبروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی میں جو ڈرامہ بظاہر 26 نومبر 2008 کو شروع ہوا اُس کی تیاری 15 نومبر سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ دہشتگرد کون تھے ؟ ان حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بھارتی خفیہ ادارہ بھی اس میں ملوث ہو سکتا ہے ۔ اسی لئے حقائق پر پردہ ڈال کر سارا ملبہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے تاکہ عوام کا دھیان اس دہشتگردی کے حقائق کی طرف نہ جانے پائے جس میں بھارتی پولیس کا ایک زیرک اعلٰی عہدیدار بھی مارا گیا ۔

سی بی سی نیوز [کنیڈین برادکاسٹنگ کارپوریشن]
ایک آزاد صحافی ارون اشتھانا نے نریمان گیسٹ ہاؤس کے باہر سے سی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا “کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملوں سے 15 یوم قبل گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا اور اُن کے پاس بہت زیادہ بارود اسلحہ اور خوراک تھی”

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
مقامی لوگوں نے بتایا کہ نریمان ہاؤس کے مالک ایک اسرائیلی یہودی خاندان ہے جو اس کے فلیٹ مذہبی یہودیوں کو کرائے پر دیتے تھے”

مِڈ ڈے نیوز
اس حملہ ڈرامہ میں نریمان ہاؤس کا کردار پریشان کن ہے ۔ گذشتہ رات [نریمان ہاؤس کے] رہائشیوں نے لگ بھگ 100 کلو گرام گوشت اور کھانے کی دوسری اشیاء منگوائیں جو کہ ایک فوج کیلئے یا پھر چند لوگوں کی 20 دن کیلئے کافی تھا ۔ اس کے کچھ دیر بعد 10 کے قریب عسکریت پسند [نریمان ہاؤس میں] داخل ہوئے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اشاء خوردنی اُن کی آمد کو مدِ نظر رکھکر منگوائی گئی تھیں

ڈی این اے انڈیا
موکوند شلکے جو کولابا مارکیٹ میں دکاندار ہے نے بتایا کہ اُن لوگوں نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے سے قبل کافی خوردنی سامان خریدا جو ان کیلئے 3 ہفتوں کیلئے کافی تھا ۔ اُنہوں نے دو پیٹیاں مرغی کا گوشت کوئی 25000 روپے کی شراب کولابا کی دو دکانوں سے خریدے ۔

مِڈ ڈے نیوز
اس علاقہ کے ایک ماہی گیر وِتھال ٹنڈل نے کہا “بدھ [26 نومبر] کے روز شام کے وقت میں نے چھ سات کشتیاں آتے دیکھیں جن میں سے کوئی دس آدمی بہت زیادہ سامان کے ساتھ اُترے اور اُن کو آہستہ آہستہ نریمان ہاؤس کے اندر لے گئے ۔ اس عمارت [نریمان ہاؤس] میں کافی کمرے ہیں جو مسافروں کیلئے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ ہم میں سے کسی کو اُن لوگوں کے نام معلوم نہیں ہیں ۔

ایک ٹی وی صحافی ورندرا گھناوت بدھ سے نریمان ہاؤس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔ پولیس والے بھی اس سلسلہ میں گم سم تھے

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
وہ سمندر کے راستے سے آئے اور اندھیرے میں قدیم کولابا کی تنگ گلیوں سے گذرتے ہوئے چہ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس میں چلے گئے ۔ یہ بندوق بردار لوگ وہاں رہے اور بعد میں اندر سے محاصرہ کر لیا

دی نیو یارک ٹائیمز
جب دہشتگرد دھانور کی کشتی کے قریب اُترے تو وہ نریمان ہاؤس کی تنگ گلی سے صرف تین عمارتیں دور تھے ۔ پانچ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس جس میں ایک جوان ربی گافریل ہولٹسبرگ اور اس کی بیوی رفقہ جو نیو یاکر سے آئے ہوئے ہیں ایک یہودی سینٹر چلاتے ہیں

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
ایک پولیس مین جس نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی بتایا ۔ گذشتہ رات میں عمارت کے اندر گیا ۔ میں یہ جان کر دنگ رہ گیا کہ وہ لوگ سفید فام ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہماری طرح کے ہوں گے ۔

بی بی سی
مشرہ کی یاد داشت کے مطابق “پھر غیر ملکی سفید فاموں نے مار دھاڑ جاری رکھی” ۔

مسٹر امیر نے کہا “وہ ہندوستانی نہیں لگتے تھے ۔ وہ غیر ملکی تھے ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ایک سنہرے بالوں والا تھا ۔ دوسروں نے واہیات طریقہ سے بال بنائے ہوئے تھے”

ڈی این اے انڈیا
نریمان ہاؤس کے سامنے والی عمارت کے رہائشی انند راؤرین نے جب پولیس کے سربراہ [جو تفتیش کر رہا تھا] کے مارے جانے کی خبر ٹی پر آئی تو ہم نے فلیٹ [نریمان ہاؤس] سے شور سنا جیسے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں

یوروشلم پوسٹ
نینی [آیا] جس نے دوسالہ موشے ہولٹز برگ کو ممبئی کے چاباد ہاؤس سے جمعرات کو بچایا وہ جمعرات کو اسرائیل پہنچ رہی ہے ۔ اس نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ موشے کے ساتھ اس خصوصی پرواز پر اسرائیل واپس آنا چاہتی ہے جو اسرائیل کی فضائیہ نے بھیجی ہے ۔
بچہ جمعہ کو اپنے دادا دادی کے پاس پہنچ گیا ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ “اس کی وزارت آیا کو اسرائیل لانے کیلئے کام کر رہی تھی اور اس نے وزارتِ داخلہ کو درخواست کی ہے کہ آیا کو اسرائیل میں رہنے دیا جائے ۔

خیال رہے کہ جب نریمان ہاؤس بھارتی سکیورٹی فورسز کے محاصرہ میں تھا ۔ نریمان ہاؤس کے مالکوں کے بچے کی آیا [جو کہ بھارتی ہے] اُن کے بچے کو ساتھ لئے ہوئے باہر نکل آئی تھی جس پر یہی باور کیا جا سکتا ہے کہ اُسے بحفاظت باہر بھیجا گیا ۔

انڈین ایکسپرس
دو سالہ موشے اور اس کی آیا ساندرا سیموئل اپنے نانا نانی کے ساتھ اسرائیل کے خصوصی فوجی طیارہ میں آج رات اسرائیل چلے گئے

دی انڈیا ٹیلی گراف
یکم دسمبر ۔ اسرائیل بھارتی آیا کو رہائشی اجازت نامہ دے رہا ہے ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کابینہ کو بتایا کہ اس کی وزارت آیا ساندرا سیموئل کو رہائشی ویزہ دلوانے کا انتظام کر رہا ہے ۔

دی انڈیا ٹیل گراف
اسرائیل نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ نریمان ہاؤس میں مارے جانے والے اسرائیلی باشندوں کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے ۔ اسرائیلی مشن کے مطابق مارے جانے والے 9 افراد میں سے 7 اسرائیلی تھے ۔

سوچنے کی بات ۔ دو تو نریمان ہاؤس کے مالک پولیس مقابلہ میں مارے گئے ہوں گے ۔ باقی 5 اسرائیلی کہاں سے آئے ؟
گذارش ۔ میں اُن نوجوانوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے یہ خبریں اکٹھا کرنے میں میری مدد کی ۔

زمرہ : تجزیہ, خبر, سیاست | 7 تبصرے »

تازہ ترین

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Dec 2008

آج سپریم کورٹ نے فرح ڈوگر کیس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے خلاف دائر پٹیشن خارج کر دی ہے اور اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی سنگل بینج کے جسٹس زوار حسین کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناعی بھی ختم ہو گیا ہے۔ بینج کی سربراہی جسٹس فقیر کھوکھر کر رہے تھے جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس اعجاز یوسف شامل تھے۔ بینج نے اٹارنی جنرل پاکستان لطیف کھوسہ، فیڈرل بورڈ کے وکیل آغا طارق اور پٹیشن کی پیروی کرنے والے وکیل راجہ عبد الرحمن کے دلائل اور آراء سننے کے بعد اپنے ریمارکس میں کہا کہ تمام ادارے آئین اور قانون کے تحت متعین کردہ حدود میں کام کرنے کے پابند ہیں۔کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی اور پہلے درخواست گذار کو اسلام آباد ہائی کورٹ رجوع کرنا چاہیئے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبرز کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا زیر التوا اجلاس پیر کو دن گیارہ بجے پارلے منٹ ہاؤس میں ہوگا ۔ میڈیا کو اس کی مکمل کوریج کی اجازت دی گئی ہے ۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی کریں گے

زمرہ : خبر | 2 تبصرے »

ممبئی حملے ۔ ایک دلچسپ حقیقت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Dec 2008

بھارت نے ممبئی میں دہشتگردی کا مرتکب پاکستان یا پاکستانیوں کو قرار دیا ہے جسے بھارت کا پیش کردہ واحد ٹھوس ثبوت ہی جھوٹا ثابت کرتا ہے ۔ ممبئی کے واقعہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دہشتگردوں میں سے ایک نے بھارت کے ایک ٹی سٹیشن کو فون کیا اور صحافیوں سے بہت لمبی بات کی اور زیادہ تر بار بار دہرائی گئیں جو کہ دہشتگردوں کے رویہ کا غماز نہیں ۔

زیادہ اہم وہ گفتگو ہے جو عمران نامی دہشتگرد نے ٹی وی سٹیشن پر موجود صحافیوں سے کی ۔ نہ صرف عمران کا طرزِ گفتگو کسی پاکستانی علاق سے مماثلت نہیں رکھتا بلکہ اُس کے بولے ہوئے بہت سے الفاظ پاکستان کے کسی علاقہ میں نہیں بولے جاتے ۔ بقول عمران وہ نریمان ہاؤس میں موجود تھا ۔ عمران کی گفتگو سے سے لئے گئے کچھ الفاظ مندرجہ ذیل ہیں جو پاکستان کے کسی علاقہ کی زبان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ کچھ ایسے ہیں جن کا مطلب کسی پاکستانی کو معلوم نہیں ہو گا

1 ۔ پری وار ۔ کون پاکستان میں یہ لفظ استعمال کرتا ہے ؟
2 ۔ جُلم ۔ پاکستان میں ظُلم کہا جاتا ہے
3 ۔ جیاتی ۔ پاکستان میں زیادتی کہا جاتا ہے
4 ۔ جِندگی ۔ پاکستان میں زِندگی کہا جاتا ہے
5 ۔ نَیتا ۔ پاکستان میں سیاستدان کہا جاتا ہے
6 ۔ اتہاس ۔ پاکستان میں تاریخ کہا جاتا ہے
7 ۔ شانتی ۔ پاکستان میں امان کہا جاتا ہے ۔ شانتی ہندو لڑکی کا نام سمجھا جاتا ہے
8 ۔ پرسارن ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
9 ۔ اتنک وادی ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
10 ۔ کھلنائک ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟
11 ۔ انائے ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟ البتہ آدھی صدی قبل امرتسر ریڈیو پر ایک گانا نشر ہوتا تھا ۔ حق دُوجے دا مار مار کے بن گئے لوک امیر ۔ میں ایہنوں کہندا انیائے لوکی کہن تقدیر ۔ اس سے لگتا ہے کہ انیائے کا مطلب گناہ یا ظُلم ہو گا
12 ۔ سکول کو پاٹ شالا کہا ۔ پاکستان میں سکول کو مدرسہ تو کہہ سکتے پاٹ شالا نہیں
13 ۔ شکشن ۔ پاکستان میں سیکشن کہا جاتا ہے
14 ۔ میرے کو ۔ پاکستان میں” مُجھے” کہا جاتا ہے
15 ۔ تمارے کو بول رہے ہیں نا ۔ پاکستان میں “تمہیں کہہ رہا ہوں نا” کہا جاتا ہے
16 ۔ مدھبھیر ۔ کون پاکستان میں جانتا ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟

اب متذکرہ گفتگو سُنیئے ۔ اس آڈیو ریکارڈ کی بھارتی حکومت کی طرف سے تردید نہیں کی گئی ۔
watch?v=QhO6rynb1C8

زمرہ : تجزیہ, خبر | 23 تبصرے »

سیّد سبط الحسن ضیغم نے لکھا تھا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Dec 2008

میرے مخزن میں 4 اور 5 نومبر 2004ء کے نوائے وقت میں نوابزادہ لیاقت علی کے متعلق دو اقساط میں شائع ہونے والی سیّد سبط الحسن ضیغم کی ایک تحریر موجود ہے جو میں نے مندرجہ ذیل روابط سے حاصل کی تھیں اور تقریباً ایک سال قبل تک وہاں موجود تھیں مگر اب کھُل نہیں رہیں ۔

http://www.nawaiwaqtgroup.com/urdu/daily/nov-2004/04/idarati.php

http://www.nawaiwaqtgroup.com/urdu/daily/nov-2004/05/idarati.php

یہ تحریر میں نے قارئین کیلئے اَپ لوڈ کر دی ہے



زمرہ : تاریخ | 2 تبصرے »