What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December 15th, 2008

پردان منتری جواب دیں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Dec 2008

اجمل قصاب سمیت اور کئی لوگوں کو 2006ء سے قبل نیپالی فورسز کی مدد سے انڈین ایجنسیز نے کٹھمنڈو سے اٹھایا تھا اجمل قصاب وہاں پر بزنس ٹور کے سلسلے میں گیا تھا۔اجمل کے علاوہ دیگر پاکستانیوں کو بھی نیپال میں گرفتار کیا گیا تھا، اس حوالے سے بھارتی ہائی کمیشن کے خلاف نیپالی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں نیپالی فورسز اور انڈین ہائی کمیشن سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ جیو نیوز سے کی گئی بات چیت میں پاکستانی وکیل ایڈووکیٹ سی ایم فاروق نے بتایا ہے کہ اجمل قصاب سمیت تقریباً 200 لوگوں کو نیپالی فورسز نے 2006ء سے پہلے سے اٹھایا ہوا ہے۔ اور اس حوالے سے ان کی درخواست نیپالی سپریم کورٹ میں التوا کا شکار ہے جس میں نیپالی فورسز اور انڈین ہائی کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے کہ انہوں نے اجمل سمیت اور کئی پاکستانی انہوں نے گرفتار کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستانی اور انڈین گورنمنٹ کو خطوط لکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نیپال میں ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی جس میں میں نے بتایا تھا کہ نیپالی فورسزنے اجمل سمیت کئی پاکستانی اٹھا کر غائب کردیئے ہیں اور یہ کسی بھی برے وقت پر ان کا غلط استعمال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کا اجمل قصاب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس کیس کی پیروی ابھی بھی کررہا ہوں اور اس مہینے کے آخر میں میں اس پٹیشن کے حوالے سے میں دوبارہ نیپال جاؤں گا۔نیپالی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں بار بار نوٹسز بھیجے ہیں کہ آ کر اس کا جواب دیں مگر انہوں نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔ ایڈوکیٹ سی ایم فاروق نے بتایا کہ میں نے فروری 2008ء کے شروع میں نیپالی سپریم کورٹ میں یہ کیس فائل کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری این جی اوVoice of the human and prioner rights ہے۔اس حوالے سے ان کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا تھا کہ آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں کیونکہ ہم نے تو پاکستانی حکومت سے بھی فریاد کی ہے۔یہ لوگ لیگل ویزے پر بزنس کے لئے گئے تھے مگر انڈین ایجنسیز کی یہ عادت ہے کہ نیپال سے اٹھالیتے ہیں پاکستانیوں کو اور اس کے بعد انہیں ایسے ہی کسی واقعے میں ملوث کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں

زمرہ : خبر | 3 تبصرے »