Daily Archives: December 13, 2008

شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی

7,216 بار دیکھا گیا

میرا پاکستان نے جاوید گوندل صاحب کی بے بُنیاد اور زہر آلود تحریر کو بغیر تصدیق کے نقل کر کے ہموطنوں کی اکثریت کی دِل آزاری کی ہے جس کی مجھے اُن سے توقع نہ تھی ۔ جب پاکستان بنا تو میری عمر دس سال تھی ۔ اسلئے بہت سی باتیں اور واقعات میرے ذاتی علم میں بھی ہیں لیکن یہ معاملہ ہمہ گیر قومی نوعیت کا ہے اور جاوید گوندل صاحب نے تاریخ کو مسخ بلکہ ملیامیٹ کرنے کی والہانہ کوشش کی ہے اس لئے میں اپنے ذہن کو کُریدنے کے علاوہ مستند تاریخی کُتب کا دوبارہ مطالعہ کرنے پر مجبور ہوا ۔

ایک حقیقت جو شاید دورِ حاضر کی پاکستانی نسل کے علم میں نہ ہو یہ ہے کہ محمد علی جوہر اور ساتھیوں کی کاوش سے مسلم لیگ 1906ء میں وقوع پذیر ہوئی اور علامہ محمد اقبال اور نوابزادہ لیاقت علی خان کی مسلسل محنت و کوشش نے اِسے پورے ہندوستان کے شہر شہر قصبے قصبے میں پہنچایا ۔ اسی لئے قائد اعظم کے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی کو بھی معمار پاکستان کہا جاتا تھا اور اب بھی کہنا چاہیئے ۔

جاوید گوندل صاحب کا مؤقف بے بنیاد ہے کہ شہدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی کو نوابزادہ کہنا بلاجواز ہے ۔ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پنجاب کے علاقہ کرنال کے ایک زمیندار اور نواب رُستم علی خان کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نوابزادہ کہا جاتا تھا ۔

اگر بقول جاوید گوندل شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان اداروں کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہوتے تو کرنال [بھارت کے حصہ میں آنے والا پنجاب] میں اپنی چھوڑی ہوئی زمینوں کے عِوض کم از کم مساوی زمین پاکستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب میں حاصل کر لیتے اور اُن کی مالی حالت ایسی نہ ہوتی کہ جب اُن کی میّت سامنے پڑی تھی تو تجہیز و تکفین اور سوئم تک کے کھانے کیلئے احباب کو مالی امداد مہیا کرنا پڑی اور اس کے بعد ان کے بیوی بچوں کے نان و نُفقہ اور دونوں بیٹوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے اُن کی بیگم رعنا لیاقت علی جو ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں کو ملازمت دی گئی جو بڑے بیٹے کے تعلیم پوری کرتے ہی بیگم رعنا لیاقت علی نے چھوڑ دی ۔ کبھی کسی نے شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم یا بچوں کا اپنی بڑھائی کے سلسلہ میں بیان پڑھا ؟

نہ تو اُردو کو قومی زبان بنانے کا نوابزادہ لیاقت علی نے قائداعظم سے کہا اور نہ یہ فیصلہ قائد اعظم نے کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے سے قبل بنگال سے مسلم لیگی رہنماؤں کے وفد نے تجویز دی کہ اُردو ہی ایک زبان ہے جو پانچوں صوبوں کی اکثریت سمجھتی ہے اور مُلک کو متحد رکھ سکتی ہے لیکن قائد اعظم نے اُردو زبان کو قومی زبان قرار نہ دیا
پھر پاکستان بننے کے بعد 25 فروری 1948ء کو کراچی میں شروع ہونے والے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں اُردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ ہوا

گوندل صاحب کے مندرجہ ذیل بیان سے دو باتیں واضح ہیں
1 ۔ گوندل صاحب حقائق سے مکمل نابلد ہیں
2 ۔ بے پر کی اُڑانے کا شدید شوق رکھتے ہیں ۔

جاوید گوندل صاحب کہتے ہیں “جب نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں پاکستان کے تب کے وزیرِ اعظم سے پچاس ہزار بندوقوں کا مطالبہ کیا جو اس وقت پورا کرنا چنداں مشکل نہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کو یہ بات اس لئے گوارہ نہیں تھی کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح پاکستان میں نوابزادہ لیاقت علی خان کے لئے اقتدار و اختیار کو ایک بہت بڑے نواب ( آف جوناگڑھ) کی صورت میں خطرہ لاحق ہو جاتا”

اول ۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نواب جونا گڑھ نے پچاس ہزار بندوقیں مانگی تھیں ۔ نواب جونا گڑھ کے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کرنے پر بھارت نے اپنی فوج جونا گڑھ میں داخل کر دی اور نواب جونا گڑھ کو مدد مانگنے کی مُہلت نہ ملی ۔

دوم ۔ جونا گڑھ کے بعد جب بھارت نے جموں کشمیر میں زبردستی اپنی فوجیں داخل کر دی تھیں تو قائد اعظم نے پاکستانی افواج کا کمانڈر اِن چِیف جنرل گریسی کو بھارتی افواج کو روکنے کا حُکم دیا تھا ۔ اگر پاکستان کے پاس پچاس ہزار تو کیا اُس وقت دس ہزار رائفلیں بھی ہوتیں تو قائدِ اعظم کے حُکم کی خلاف ورزی کرنے کی بجائے اُس کی تعمیل کر کے جنرل گریسی ایک ہمیش زندہ شخصیت اور سوائے جاوید گوندل صاحب کے تمام پاکستانیوں کا ہِیرو [Hero] بن جاتا ۔

گوندل صاحب نظامِ حکومت سے بھی بے بہرہ ہیں ۔ حکومت چلانا گورنر جنرل کا کام نہیں تھا بلکہ وزیرِ اعظم کا تھا مگر آج تک کسی نے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے کوئی کام قائدِ اعظم سے مشورہ کئے بغیر سرانجام دیا ہو

گوندل صاحب کی معلومات کیلئے لکھ رہا ہوں کہ قائدِ اعظم کو ڈاکٹر کی سخت ہدائت پر زیارت لے جایا گیا تھا ۔ یہ شہیدِ مِلّت نوابزادہ لیاقت علی خان کی سازش نہ تھی ۔ جاوید گوندل صاحب قائد اعظم کے معالجِ خاص کرنل الٰہی بخش کی لکھی کتاب پڑھ لیں

کیا جاوید گوندل صاحب اُس وقت قائدِ اعظم کے پاس موجود تھے جب اُنہوں نے کہا تھا کہ لیاقت میرے مرنے کامنتظر ہے ؟
یہ فقرہ یا اس سے ملتا جُلتا خیال نہ میں نے نہ میرے بزرگوں نے نہ میرے اساتذہ نے نہ اُس وقت کے میرے محلہ داروں نے سُنااور نہ کہیں پڑھا اور نہ اُس دور کے کسی اخبار نے لکھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ گوندل صاحب کہانیاں گھڑنے میں کمال رکھتے ہیں

” آٹھ سال آئین بننے نہ دینے” کی بات کرتے ہوئے گوندل صاحب زورِ بیاں میں بھُول گئے کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان بننے کے چار سال بعد ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ کاش گوندل صاحب آئین کے متعلق لکھی گئی کئی کُتب میں سے صرف ایک ہی پڑھ لیتے تو اُن کے زخمی دِل کو قرار آ جاتا ۔ گوندل صاحب کی معلومات کیلئے مختصر بات یہ ہے کہ آئین اُس وقت کے پاکستان میں موجود آئی سی ایس [Indian Civil Service] افسروں ۔ جن میں غلام محمد جو بعد میں غیر ملکی پُشت پناہی سے گورنر جنرل بن بیٹھا تھا بھی شامل تھا ۔ نے نہ بننے دیا ۔ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دستور ساز ی کیلئے جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے ارکان کا بار بار اِدھر اُدھر تبادلہ کردیا جاتا تھا ۔ اُس دور میں ہر افسر کو ٹرین پر سفر کرنا ہوتا تھا ۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ آئی سی ایس افسران حکومتِ برطانیہ کی پُشت پناہی سے سازشوں کا جال نوابزادہ لیاقت علی کی شہادت سے قبل ہی بُن چُکے تھے ۔ اس سلسلہ میں یہاں کلک کر کے پڑھیئے 10 نومبر 1951ء کو لکھا گیا ایک تار

یہاں یہ لکھنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کے قیام کی مارچ 1947ء میں منظوری ہوتے ہی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت غیرمُسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور جوان لڑکیوں اور عورتوں کا اغواء شروع کر دیا گیا تھا اور اُنہیں گھروں سے نکال کر پاکستان کی طرف دھکیلا جانے لگا ۔ یہ سلسلہ دسمبر 1947ء تک جاری رہا ۔ انگریز حکومت کے ساتھ ملی بھگت سے بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے نہ دیئے جو آج تک نہیں دیئے گئے ۔ ان حالات میں لاکھوں نادار مہاجرین جن میں ہزاروں زخمی تھے کو سنبھالنا اغواء شدہ خواتین کی تلاش اور بھارتی حکومت سے واپسی کا مطالبہ اور پھر ان سب مہاجرین کی آبادکاری اور بازیاب شدہ خواتین کی بحالی انتہائی مشکل ۔ صبر آزما اور وقت طلب کام تھا ۔

موازنہ کیلئے موجودہ جدید دور سے ایک مثال ۔ باوجود قائم حکومت اور وسائل ہونے کے اور ہر طرف سے کافی امداد آنے کے اکتوبر 2005ء میں آنے والے زلزلہ کے متاثرین آج تین سال بعد بھی بے خانماں پڑے ہیں اور سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں ۔ 1947ء سے 1951ء کے دور کے ہموطن قابلِ تعریف ہیں جنہوں نے مہاجرین کو آباد کیا ۔ اور آفرین ہے بیگم رعنا لیاقت علی خان پر جس نے دن رات محنت کر کے جوان لڑکیوں اور خواتین کو اُبھارہ کہ گھروں سے باہر نکلیں اور رفاہی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان دخترانِ ملت نے خدمتِ خلق کے ریکارڈ توڑ دیئے ۔ اللہ اُن سب کو آخرت میں اجر دے ۔ آج عورتوں کی آزادی کی فقط باتیں ہوتی ہیں کام سوائے فیشن کے اور کچھ نظر نہیں آتا ۔

گوندل صاحب اتنا بھی نہیں جانتے کہ جس اسمبلی نے اگست 1947ء میں پاکستان کا نظم نسق سنبھالا وہ پاکستان بننے سے قبل باقاعدہ انتخابات کے نتیجہ میں غیر مسلموں اور دوسرے کانگرسیوں سے مقابلہ کر کے معرضِ وجود میں آئی تھی اور اُس اسمبلی نے نوابزادہ لیاقت علی خان کو پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب کیا تھا ۔ اگر بقول گوندل صاحب شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان انتخابات میں جیت نہیں سکتے تھے تو اُن کی وفات پر پاکستانیوں کی اکثریت زار و قطار کیوں رو رہی تھی اور تمام عمر رسیدہ لوگ کیوں کہہ رہے تھے کہ اب پاکستان کون سنبھالے گا ۔

بقول جاوید گوندل صاحب اگر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی امریکہ کے ایجننٹ تھے تو امریکہ نے اُنہیں کیوں قتل کروا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی جب امریکہ گئے تو اُنہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان ایک خود مُختار ملک بن چکا ہے اور وہ امریکہ کو دوست بنانا چاہتا ہے لیکن ڈکٹیشن کسی سے نہیں لے گا تو واپس آنے پر ان کے قتل کی سازش تیار ہوئی ۔ نیچے ایک اقتباس اس حقیقت کو واضح کرتا ہے

WHO SHOT LAK?..CIA CONNECTION
All the following documents have been found in declassified CIA papers

1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine:

[…]It was learned within Pakistani Foreign Office that while UK pressing Pakistan for support re Iran, US demanded Pakistan exploit influence with Iran and support Iran transfer oil fields to US. Liaquat declined request. US threatened annul secret pact re Kashmir. Liaquat replied Pakistan had annexed half Kashmir without American support and would be able to take other half. Liaquat also asked US evacuate air bases under pact. Liaquat demand was bombshell in Washington. American rulers who had been dreaming conquering Soviet Russia from Pakistan air bases were flabbergasted. American minds set thinking re plot assassinate Liaquat. US wanted Muslim assassin to obviate international complications. US could not find traitor in Pakistan as had been managed Iran, Iraq, Jordan. Washington rulers sounded US Embassy Kabul. American Embassy contacted Pashtoonistan leaders, observing Liaquat their only hurdle; assured them if some of them could kill Liaquat, US would undertake establish Pashtoonistan by 1952. Pashtoon leaders induced Akbar undertake job and also made arrangements kill him to conceal conspiracy. USG-Liaquat differences recently revealed by Graham report to SC; Graham had suddenly opposed Pakistan although he had never given such indication. […] Cartridges recovered from Liaquat body were American-made, especially for use high-ranking American officers, usually not available in market. All these factors prove real culprit behind assassin is US Government, which committed similar acts in mid-East. “Snakes” of Washington’s dollar imperialism adopted these mean tactics long time ago.

مندرجہ ذیل تمام دستاویزات انٹرنیٹ سے ہٹا دی گئی ہیں (مُنتظم ۔ 19 اپریل 2017)
2. Confidential Teاegram No. 1532 from New Delhi Embassy, Oct. 30, 1951
3. Confidential Telegram from State Dept., Nov. 1, 1951
4. Secret Telegram from Moscow Embassy, Nov. 3, 1951 [only first page located]
5. Popular Feeling in Pakistan on Kashmir and Afghan Issues, Nov. 10, 1951

جاوید گوندل صاحب کا لکھا اتنا تو درست ہے کہ تنہا ذوالفقار علی بھٹو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار نہیں تھا بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مجیب الرحمٰن ۔ جنرل ٹِکا خان ۔ جنرل نیازی اور کچھ آئی سی ایس افسر بھی شامل تھے ۔ گوندل صاحب اپنے دِل و دماغ میں بھرا سارا زہر شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی قبر پر نہ اُنڈیلیں اور تھوڑا سا وقت لگا کر کُتب کا مطالعہ کریں ۔ کچھ اور نہیں تو جسٹس حمود الرحمٰن کمیشن کی بچی کُچھی رپورٹ ہی پڑھ لیں

جس شخص [سر ظفراللہ] نے مرزائیوں کو حکومتی عہدوں پر بٹھایا وہ قائد اعظم کا انتخاب تھا ۔ البتہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب بھی مرزائیوں کے نرغے میں رہے کیونکہ مرزائیوں کے سردار کے حُکم پر تمام مرزائیوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے تھے اور مرزائی جرنیلوں نے ہی جنرل اور صدر یحیٰ خان سے پستول کے بل بوتے پر حکومت چھین کر ذوالفقار علی بھٹو کو دی تھی ۔ چھ سال بعد عوامی دباؤ پر مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے بھٹو صاحب نے یہ ہوشیاری کی کہ مرزائیوں کی فہرست تیار نہ کروائی جس کا مطالبہ غیر مسلم قرار دینے کے مطالبے کا حصہ تھا ۔ مرزائیوں کے رہنماؤں نے مرزائیوں کو حُکم دیا کہ اپنے آپ کو احمدیہ لکھنے کی بجائے مُسلم لکھیں جس کی وجہ سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکا

جاوید گوندل صاحب کا واقعات سے بے بہرہ ہونے کا ایک اور ثبوت اُن کا یہ کہنا ہے کہ قائدِ اعظم کو جب زیارت سے واپس کراچی لایا گیا تو قائدِ اعظم کو ہوائی اڈے سے لانے کے لئے جس ایمبولنس کو بھیجا گیا اس میں پٹرول نہیں تھا ۔ حقیقت یہ ہے ایمبولنس کے انجن میں خرابی ہو گئی تھی ۔ اُس دور میں پاکستان کے پاس نئی گاڑیاں نہیں تھیں اور پرانی بھی معدودے چند تھیں ۔ دوسری ایمبولنس کہیں سے تلاش کر کے لائی گئی جس میں وقت لگا ۔ جاوید گوندل صاحب کا یہ کہنا غلط ہے کہ نوابزادہ لیاقت علی اُس وقت سلامی لے رہے تھے ۔ وہ قومی کاموں میں مصروف تھے ۔ جس طرح آجکل کوئی وزیر بھی آئے تو درجنوں افسران اپنا کام کرنے کی بجائے ہوائی اڈا پر پہنچ جاتے ہیں اُن دنوں ایسا نظام نہیں تھا اور قائد اعظم ایسی پروٹوکول کو سخت ناپسند فرماتے تھے ۔ قائد اعظم کی تیمارداری ملک کے مشہور معالج کرنل الٰہی بخش نے کی ۔ اُن کی لکھی کتاب پڑھیئے

ناجانے کیوں وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے اپنے آپ کو مفکّر اور تاریخ دان سمجھنے لگ جاتے ہیں اور حقائق سے رُوگردانی کرتے ہوئے الا بلا لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب کو سیدھی راہ پر چلائے اور عقلِ سلیم مع طریقہ استعمال کے عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین