What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December 11th, 2008

جب اپنے بیگانے ہو جائیں اور اندھی دنیا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Dec 2008

کسی زمانہ میں کتابوں میں پڑھا تھا کہ وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جن کے اپنے ہی بیگانے ہو جائیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پینل نے حافظ محمد سعید سمیت تین پاکستانی شہریوں اور جماعت الدعوہ سمیت پانچ تنظیموں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیئے ہیں ۔ سلامتی کونسل کی القاعدہ اور طالبان سینکشنز کمیٹی نے جن پاکستانیوں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے ان میں جماعت الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید ، کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے آپریشنز چیف ذکی الرحمان لکھوی ، شعبہ مالیات کے سربراہ حاجی محمد اشرف شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک سعودی باشندے محمود محمد احمد بازیک Bahaziq کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے بارے میں امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ لشکر طیبہ کو سرمایہ فراہم کرتا ہے ۔ سلامتی کونسل کی القاعدہ اور طالبان سینکشنز کمیٹی نے جن تنظیموں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے ان میں جماعت الدعوہ ،، پاسبان اہل حدیث ، پاسبان کشمیر،، الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ انٹر نیشنل شامل ہیں ۔ سلامتی کونسل کی کمیٹی کی طرف سے منظوری کے بعد رکن ممالک فوری طور پر ان شخصیات اور تنظیموں کے تمام اثاثے منجمد کردیں گے اور سفر پر پابندی ہوگی ۔ان تمام افراد کو گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا ۔ گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ نے ان افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے تھے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا

اندھی دنیا
اقوام متحدہ کی جانب سے جماعت الدعوہ کے حاجی محمد اشرف لشکرطیبہ سے تعلق کے الزام میں پہلی مرتبہ اپریل 2001ء میں گرفتار ہوئے اور جولائی میں انہیں رہا کر دیا گیا ۔ انہیں شیرٹن ہوٹل بم دھماکوں کے الزام میں دوبارہ 30دسمبر 2001 کو گرفتار کیا گیا ۔ اُس وقت ان کی عمر70برس تھی ۔ انتہائی علالت کی حالت میں زیر علاج رہنے کے بعد قریب المرگ حالت میں انہیں رہا کر دیا گیا اور وہ 11جون 2002 کو سول اسپتال حیدر آباد میں انتقال کرگئے تھے ۔ انہیں اسی دن ضلع بدین کے شہر گولارچی میں سپرد خاک کیا گیا تھا

زمرہ : خبر, طنز | 6 تبصرے »

ممبئی دھماکے ۔ وہ ہمارا آدمی ہے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Dec 2008

گذشتہ ماہ کی 26 تاریخ کو بھارت کے تجارتی شہر ممبئی میں شاید 1947ء کے مسلمانوں کے قتلِ عام جس میں لاکھوں مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا کے بعد سب سے بڑاہلاکت خیز واقعہ ہوا ۔ اس میں 195 لوگ مارے گئے جن میں سے 80 مسلمان تھے ۔ بھارتی حکومت نے ہمیشہ کی طرح بغیر کسی تحقیق یا تفتیش کے پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔ لیکن انسان چاہے کتنا ہی شاطر ہو سچائی چھپانا ممکن نہیں ۔ زود یا بدیر سچ سامنے آ ہی جاتا ہے اور اس سلسلہ میں دس دن کے اندر ہی سچ کا تمانچہ بھارت کے منہ پر آ پڑا جو 6 اور 7 دسمبر کے اخبارات کی زینت بنا ۔ حاصل ہونے والے شواہد نے ثابت کر دیا کہ یہ ڈرامہ بھارت کا اندرونی ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ خفیہ والوں نے کسی خاص بڑے مقصد کیلئے کھیلا ہو ۔ اس کے ساتھ ساتھ دھیان اس طرف بھی جاتا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں کشمیر میں کتنا بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے

خبر یہ ہے کہ جو موبائل فون ممبئی میں دہشتگردوں نے استعمال کئے ان کی تشخیص کی مدد سے بھارتی پولیس متعلقہ موبائل فون کارڈ [Subscriber Identity Module - SIM] خریدنے والوں تک پہنچی اور انہوں نے کولکتہ میں دو آدمیوں کو گرفتار کیا جن کے نام توصیف رحمان اور مختار احمد ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کے ایک اعلٰی پولیس افسر نے کولکتہ کی پولیس سے کہا ہے کہ “مختار احمد ہمارا آدمی ہے ۔ وہ ایک نیم سرکاری دہشتگری مخالف تنظیم کا اہلکار ہے اس لئے اُسے رہا کر دیا جائے” ۔

دوسری طرف ہمارے حُکمرانوں کا حال یہ ہے امریکہ اور بھارت کی خواہش پوری کرنے کیلئے پہلے قبائلی علاقہ میں ہموطنوں کا خون کیا جا رہا تھا اب یہ سلسلہ آزاد جموں کشمیر تک بڑھا دیا گیا ہے اور شُنِید ہے کہ پورے پاکستان میں ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی

زمرہ : خبر, منافقت | 3 تبصرے »