کراچی اور لاہور کے مقابلہ میں اسلام آباد ایک دہ یعنی گاؤں جسے پنجابی میں پِنڈ کہتے ہیں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا چنانچہ اسلام آباد کا باشندہ دیہاتی ہوا جسے پنجابی میں پینڈُو کہتے ہیں ۔ قصہ مختصر یہ کہ اسلام آباد کا باشندہ یعنی خاکسار 24 اکتوبر کی صبح مع اہلِ خانہ دبئی روانہ ہوا اور 22 نومبر کو رات گئے واپس پہنچا ۔ کوئی پوچھے کہ اس افراتفری کے زمانہ میں ہمیں دبئی سدھارنے کی کیوں سُوجھی تو جناب ہمارا چھوٹا بیٹا جو ہمارے ساتھ ہی رہ رہا تھا اسی سال فروری میں دبئی چلا گیا جہاں اُسے بنک میں منیجر کی اسامی کی پیشکش ہوئی تھی اور اُس نے وطنِ عزیز کی افراتفری کی وجہ سے قبول کر لی تھی ۔
بیٹے نے جانے سے قبل وعدہ لیا تھا کہ وہ رہائش کا بندوبست کر کے جب کار خرید لے گا تو ہمیں اُس کے پاس دبئی جانا ہو گا ۔ رہائش کا بندو بست ہو گیا تو وہ ڈرائیونگ کی از سرِ نو تربیت حاصل کرنے میں لگ گیا کیونکہ وہاں پاکستان کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں مانا جاتا اور وہاں تربیت لینا بھی ضروری ہے ۔ لائسنس ملنے کے بعد اس نے اقساط پر کار خریدی تو جون کا مہینہ شروع ہو چکا تھا ۔ بیٹے نے تقاضہ شروع کر دیا کہ پہنچیں ۔ میں مارچ اپریل 1975ء میں 15 دن کیلئے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا مہمان ہوا تھا اور اچھی طرح یاد تھا کہ کار ۔ ہوٹل یا سرکاری دفتر سے نکلتے ہوئے چند لمحے جو کھلی فضا میں ہوتے تھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ تنّور یا تندور میں سے گذرے ہیں سو میں سخت گرمی کا بہانہ کرتا رہا جون جولائی اسی طرح گذرا ۔ اگست میں قریبی عزیزوں میں ایک شادی آ گئی ۔ پھر رمضان المبارک شروع ہو گیا ۔ عید الفطر کے بعد بڑا بیٹا زکریا مع بیگم اور ننھی بچی کے 15 دن کیلئے آ گیا ۔ ان کے واپس جانے کے چند دن بعد ہم روانہ ہوئے ۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے ۔ پہلے باہر کے پھاٹک [gate] پر ہماری پڑتال ہوئی ۔ پھر عمارت کے دروازے پر ہماری پڑتال ہوئی ۔ آگے بڑھے تو سامان مشین میں سے گذارہ گیا اور ہماری تلاشی لی گئی ۔ خیر خیریت سے نکل جانے پر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے ایک بار پھر کاغذات کی پڑتال کیلئے قطار میں لگنا پڑا ۔ کوئی بیس پچیس لوگ ہم سے آگے تھے ۔ ہمیں اُس وقت اپنی بزرگی پر فخر ہوا جب ایک آفیسر نے ہمیں قطار میں سے نکال کر کاغذات دیکھے اور دوسرے نمبر پر بورڈنگ کارڈ لینے کیلئے بھیج دیا ۔ بورڈنگ کارڈ ملا تو تسلّی ہوئی کہ اب روانگی ہو سکتی ہے لیکن ابھی ایک اور تلاشی ہونا باقی تھی امیگریشن والوں سے ۔ بیوی اور بیٹی کو کیبن میں سے گذارہ گیا اور مجھے پتلون کی بیلٹ اُتار کر دروازے میں سے گذرنے کو کہا گیا ۔ خیریت سے تمام مراحل عبور کرنے پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا شُکر ادا کیا اور اوپر جا کر ہوائی جہاز کی روانگی کا انٹظار کرنے لگے ۔
ہم نے اتحاد ایئر لائین کا ٹکٹ لیا تھا جو ابوظہبی جاتی ہے اور وہاں سے بلامعاوضہ کوچ پر دبئی پہنچانا ایئر لائین والوں کے ذمہ ہوتا ہے ۔ وجہ ظاہر ہے دولت کی بچت ۔ دبئی پہنچنے پر ہم امیگریشن ڈیسک پر پہنچے ۔ اُنہوں نے ہیں آنکھ کے سکین [eye scan] کیلئے بھیج دیا جہاں باقی مرد عورتوں کی آنکھوں کا بھی سکین ہو رہا تھا ۔ وہاں بھی میری بزرگی کام آئی اور صرف میری آنکھ کا سکین کئے بغیر پاسپورٹ پر مُہر لگا دی گئی ۔ واپس ہوئے جہاں دو مرد اور دو عورتیں کام کر رہے تھے ۔ تین کاؤنٹروں میں سے ہر ایک کے سامنے دس بارہ لوگ تھے ۔ ایک عورت کے سامنے صرف ایک آدمی تھا تو جلدی فارغ ہونے کی غرض سے ہم اس کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اس کا شاید اس کام میں پہلا دن تھا ۔ جتنی دیر میں ہم فارغ ہوئے باقی تینوں کاؤنٹرز کے سب لوگ جا چکے تھے ۔
بہرکیف باہر نکلے کہ معلوم کریں کوچ کہاں سے جائے گی تو بیٹے کو سامنے کھڑے پایا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ اس کے ساتھ کار میں بیٹھے اور دبئی کی طرف روانہ ہوئے ۔ ایک گھنٹہ میں گرینز [دبئی] پہنچ گئے ۔ یہ نیا علاقہ ہے اور ابوظہبی سے پرانے شہر دبئی کی نسبت زیادہ قریب ہے