<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/comment-page-1/#comment-23908</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 May 2011 11:47:49 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1370#comment-23908</guid>
		<description>نعمان صاحب
حوصلہ افزائی کا شکريہ</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان صاحب<br />
حوصلہ افزائی کا شکريہ</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نءمان</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/comment-page-1/#comment-23907</link>
		<dc:creator>نءمان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 May 2011 10:50:18 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1370#comment-23907</guid>
		<description>جناب اجمل بھوپال صاحب ..

قائد ملت کے دفاع کا شکریہ 

اسس جہاں میں تو الله کی ذات بھی  غیر متنازے نہیں ہے ...

تو لیاقت علی خان کی تو بات ہی کیا ہے ....  

غلطی سب سے ہوتی ہے لیکن بعض لوگ مکھی کی طرح ہوتے ہیں    اور انھیں صرف گندگی ہی نظر آتی ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جناب اجمل بھوپال صاحب ..</p>
<p>قائد ملت کے دفاع کا شکریہ </p>
<p>اسس جہاں میں تو الله کی ذات بھی  غیر متنازے نہیں ہے &#8230;</p>
<p>تو لیاقت علی خان کی تو بات ہی کیا ہے &#8230;.  </p>
<p>غلطی سب سے ہوتی ہے لیکن بعض لوگ مکھی کی طرح ہوتے ہیں    اور انھیں صرف گندگی ہی نظر آتی ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: لطف الاسلام</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/comment-page-1/#comment-20492</link>
		<dc:creator>لطف الاسلام</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Feb 2010 23:06:49 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1370#comment-20492</guid>
		<description>آپ دونوں کو تاریخ سے شغف تو ہے لیکن احسان فراموشی میں بھی جواب نہیں۔ سر ظفراللہ خان کو اور ان کی خدمات کو کیسی آسانی سے &quot;مرزائیوں&quot; کی تقرریوں تک محدود کر دیا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان دونوں ملک کے محسن تھے۔ اگر تعصب کی پٹی غلطی سے آنکھوں سے سرک جاے تو &quot;تحدیث نعمت&quot; بھی پڑھ لیں۔ 

http://www.alislam.org/urdu/pdf/Tehdis-e-Naimat.pdf</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ دونوں کو تاریخ سے شغف تو ہے لیکن احسان فراموشی میں بھی جواب نہیں۔ سر ظفراللہ خان کو اور ان کی خدمات کو کیسی آسانی سے &#8220;مرزائیوں&#8221; کی تقرریوں تک محدود کر دیا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان دونوں ملک کے محسن تھے۔ اگر تعصب کی پٹی غلطی سے آنکھوں سے سرک جاے تو &#8220;تحدیث نعمت&#8221; بھی پڑھ لیں۔ </p>
<p><a href="http://www.alislam.org/urdu/pdf/Tehdis-e-Naimat.pdf" rel="nofollow">http://www.alislam.org/urdu/pdf/Tehdis-e-Naimat.pdf</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/comment-page-1/#comment-16205</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 28 Dec 2008 19:53:30 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1370#comment-16205</guid>
		<description>جناب! ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور آپ کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ یہ ایک تحقیقی مکالمہ ہے جس میں ہماری طرف سے ذاتیات کی کوئی گنجائیش نہیں۔ بھوپال سے عقیدت کا زکرآپ نے خود اپنی کسی انگریزی تحریر میں کیاہے کہ آپ نے  جموں کشمیر میں پیدا ہونے کے باوجود  کیونکر اپنے ساتھ لفظ بھوپال لگایا۔ تو ظاہر ہے بغیر کسی علمی عقلی حوالے کے لیاقت علی خان کا اس حد تک دفاع کہ جس میں آپ نے مجھ پہ بہتان باندھنے کا الزام لگایا ہے اور میری ذہنی حالت تک کو درست قرار نہیں دیا اور جس پہ آپ نے معذرت کرنا گوارہ نہیں کیا اور جس کا واللہ ہمیں کوئی غم نہیں کہ قوم و ملت کے معاملوں میں، میں۔ ذاتی انا اور ذاتیات سے بلند ہو کر ہی بات کی جاسکتی ہے اور میرے احباب جانتے ہیں کہ مجھے نہ تو اپنے نام کی تختی لگوانے کا شوق کبھی رہا ہے اور نہ ہی میں نے اپنے لیے کبھی ووٹ مانگے ہیں تو پھر آپ سے  گلہ یا بغض  کیونکر ہوگا بھلا۔؟ ہاں یہ بات ضرور ہے جب حق سچ کی بات علم میں آجائے تو اس کا اظہار ضرور کرنا چاہیے کہ ائیندہ اگر ممکن ہو تو اس کا سدِ باب کیا جاسکے۔ اور اس بارے میں  نہ آپ مجھے باز رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور ، ہاں اگر آپ کے پاس معتبر شھادتیں ہیں تو انہیں منظرِ عام پہ لائیں تا کہ خلقِ خدا کو رہنمائی مل سکے۔  آپ کی بات معتبر ہو سکے ۔ محض سنی سنائی باتوں اور فلاں ابنِ فلاں کا فرمایا ہوا یا اپنا سوچا ہوا مستند مت بیان کی جیے اور وگرنہ ہمیں اجازت دیں گے تو آپ کو ایک نہیں بے شمار حوالے اور تحقیقی مواد مہیا کر دیں گے پھر آپ کو بات کی طوالت کا شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔

 میری نظر میں یہ پہلو بھی تھا کہ چونکہ پاکستان میں حسب نسب اور آباء اور حتٰی کہ آباء کے آبائی علاقوں پہ بھی فخر و امتیاز کیا جاتا ہے اور اس پہ مثالیں اور حوالے دیے جاتے ہیں شاید اس لیے بھی آپ  (آپ اور لیاقت علیخان میں بھوپال اور یوپی قدر مشترک ہونے کی وجہ سے)  لیاقت علیخان کا ہر صورت دفاع کر رہے ہیں اور لیاقت علی خان کو شہید نہ کہے جانے پہ مجھ پہ اسقدر سیخ پا ہیں۔ اور یوں سوچنا قدرتی بات تھی جس کا ہم نے دو ایک دفعہ ذکر بھی کر دیا۔ 




میں سمجھتا ہوں کہ آپ بھی مجھ سے اس بات پہ اتفاق کریں گے جو لوگ محض اپنے اقتدارکی خاطر اسلام قومیت اور اسطرح کی دیگر باتوں کو اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کریں ۔ جن کے ظاہر باطن میں فرق ہو اور قوم ( جو بھی وہ جو صرف اور صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پہ وجود میں آئی ہو) کی رہنمائی کا دعواہ  ایسے لوگ کریں جو رات کو شراب و شباب اور رقص کی محفلیں سجائیں اور  دن کو قوم کا درد بانٹنے کے داعوے کریں۔ جو قومی تعمیر کے آغاز میں ہی فرضی تفاخر کی آڑ میں بنگالیوں کو کم تر سمجھیں جو آبادی میں ملک کا بڑا بازو تھا۔ سندھیوں کو گدھا گاڑی اور اونٹ چرانے والے سمجھیں اور سر عام ان کا ٹھٹھا اڑائیں اور اس بات کو جواز بنا کر سندھ یونیورسٹی کو حیدرآباد منتقل کردیں اور کراچی میں ایک مخصوص طبقے کو جن سے ان کے مفادات وابستہ تھے کو راضی کرنے کے لیے  کراچی یونیورسٹی قائم کریں اور اسطرح کے بے شمار واقعات اور باتیں ہیں جو نوابزادہ لیاقت علی خان نے محض اپنے مخصوص مفادات کے تابع کیں ایسے لوگ کم از کم میری نظر میں لائقِ تحسین نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ انہیں شہیدِ ملت قرار دے دیا جائے۔؟ آپ اس سارے سلسلے کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سرکاری  تعطیل، بے نظیر کے نام سے ڈاک ٹکٹ،  پاکستانی سکے کا اجراء وغیرہ وغیرہ  کے تناظر میں دیکھیں بلکہ بعض خوشامدی اور ابن الوقت  لوگ نے تو انہیں ولیہ تک قرار دیا ہے اور میری نظر سے ایسی تحریریں بھی گزری ہیں جس میں انھیں بر گزیدہ اور پتہ نہیں کیا کچھ قرار دیا جارہا اور کوئی اعتراض کر بھی لے تو کیا کر لے گا ۔ جب حکومت ہی ان کی ہے جو بے نظیر کا نام خوب خوب استعمال کر  کے اپنے ہونے کو ثابت کر رہے ہیں ۔ جبکہ تاریخ میں ان کا اصل کردار اور آج کی چھپی حقیقتیں کل کے محقیقین اور لوگوں کو نظر آئیں گی۔  کچھ یہی معاملہ لیقات علی خان کے قتل پہ پیش آیا اور اپنے اپنے مفادات کی‌خاطر اس قتل پہ تقدس کا پُر نور ہالہ بنا دیا گیا ۔

 جب کہ  بے نظیر کے قتل پہ اس دور میں ان باتوں سے پاکستان یا پاکستانی قوم کی صحت کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ جو بائیں بیٹھ چکا ہے وہ بائیں سے ہلنے والا نہیں اور جو دائیں چل رہا ہے وہ اپنی جگہ چھورنے کو تیار نہیں اور جو لوگ قوم کی زندگی بنانے میں کوئی کردار ادا کر سکتے تھے انھوں  نے اپنے اپنے خول مخصوص کر لیے ہیں اور کسی صورت میں وہ علاقائی اور صوبائی تعصب سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ مگر لیاقت علی خان کا قصور اس لیے زیادہ گنا جاتا ہے کہ تب لوہا گرم تھا صرف چند ایک مخصوص ضربوں کی ضرورت تھی اور ایک باوقار قوم تیار تھی مگر ایک ایسا سنہری موقع ضائع کر دیا گیا جو صدیوں میں کبھی ایک بار ملتا ہے ، اور یہ موقع کن لوگوں نے محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے ضائع کر دیا ۔؟ ان لوگوں میں سرِفہرست  لیاقت علی خان کا نام ہے ۔

 اس لیے بجائے میری بات کا برا منانے کے، فراخ دلی سے آپ بھی جستجو کریں آپ پہ بہت سی نئی حقیقتیں آشکارہ  ہونگی اور ہمارے  اس پہ بضد ہونے کی بھی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہمیں بحثیت قوم اس بات کا علم رہے کہ ہم نے کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں تا کہ آئیندہ ایسی غلطیوں کا احتمال نہ رہے ۔

 ہم  آپ کی عزت و احترام بھی اس وجہ سے نہایت کرتے ہیں کہ آپ کی تحاریر سے ملتِ اسلامیہ کا درد نظر آتا ہے اور کم از کم آپ  باقی ان دیگر لوگوں سے افضل ہیں جو ماسوائے باتیں کرنے کی اور کچھ نہیں کرتے ۔ اور یہ وہ نقطہ ہے جو میرے دل میں آپ کے احترام کی وسعت پیدا کرتا ہے۔ 

خیر اندیش
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جناب! ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور آپ کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ یہ ایک تحقیقی مکالمہ ہے جس میں ہماری طرف سے ذاتیات کی کوئی گنجائیش نہیں۔ بھوپال سے عقیدت کا زکرآپ نے خود اپنی کسی انگریزی تحریر میں کیاہے کہ آپ نے  جموں کشمیر میں پیدا ہونے کے باوجود  کیونکر اپنے ساتھ لفظ بھوپال لگایا۔ تو ظاہر ہے بغیر کسی علمی عقلی حوالے کے لیاقت علی خان کا اس حد تک دفاع کہ جس میں آپ نے مجھ پہ بہتان باندھنے کا الزام لگایا ہے اور میری ذہنی حالت تک کو درست قرار نہیں دیا اور جس پہ آپ نے معذرت کرنا گوارہ نہیں کیا اور جس کا واللہ ہمیں کوئی غم نہیں کہ قوم و ملت کے معاملوں میں، میں۔ ذاتی انا اور ذاتیات سے بلند ہو کر ہی بات کی جاسکتی ہے اور میرے احباب جانتے ہیں کہ مجھے نہ تو اپنے نام کی تختی لگوانے کا شوق کبھی رہا ہے اور نہ ہی میں نے اپنے لیے کبھی ووٹ مانگے ہیں تو پھر آپ سے  گلہ یا بغض  کیونکر ہوگا بھلا۔؟ ہاں یہ بات ضرور ہے جب حق سچ کی بات علم میں آجائے تو اس کا اظہار ضرور کرنا چاہیے کہ ائیندہ اگر ممکن ہو تو اس کا سدِ باب کیا جاسکے۔ اور اس بارے میں  نہ آپ مجھے باز رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور ، ہاں اگر آپ کے پاس معتبر شھادتیں ہیں تو انہیں منظرِ عام پہ لائیں تا کہ خلقِ خدا کو رہنمائی مل سکے۔  آپ کی بات معتبر ہو سکے ۔ محض سنی سنائی باتوں اور فلاں ابنِ فلاں کا فرمایا ہوا یا اپنا سوچا ہوا مستند مت بیان کی جیے اور وگرنہ ہمیں اجازت دیں گے تو آپ کو ایک نہیں بے شمار حوالے اور تحقیقی مواد مہیا کر دیں گے پھر آپ کو بات کی طوالت کا شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p> میری نظر میں یہ پہلو بھی تھا کہ چونکہ پاکستان میں حسب نسب اور آباء اور حتٰی کہ آباء کے آبائی علاقوں پہ بھی فخر و امتیاز کیا جاتا ہے اور اس پہ مثالیں اور حوالے دیے جاتے ہیں شاید اس لیے بھی آپ  (آپ اور لیاقت علیخان میں بھوپال اور یوپی قدر مشترک ہونے کی وجہ سے)  لیاقت علیخان کا ہر صورت دفاع کر رہے ہیں اور لیاقت علی خان کو شہید نہ کہے جانے پہ مجھ پہ اسقدر سیخ پا ہیں۔ اور یوں سوچنا قدرتی بات تھی جس کا ہم نے دو ایک دفعہ ذکر بھی کر دیا۔ </p>
<p>میں سمجھتا ہوں کہ آپ بھی مجھ سے اس بات پہ اتفاق کریں گے جو لوگ محض اپنے اقتدارکی خاطر اسلام قومیت اور اسطرح کی دیگر باتوں کو اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کریں ۔ جن کے ظاہر باطن میں فرق ہو اور قوم ( جو بھی وہ جو صرف اور صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پہ وجود میں آئی ہو) کی رہنمائی کا دعواہ  ایسے لوگ کریں جو رات کو شراب و شباب اور رقص کی محفلیں سجائیں اور  دن کو قوم کا درد بانٹنے کے داعوے کریں۔ جو قومی تعمیر کے آغاز میں ہی فرضی تفاخر کی آڑ میں بنگالیوں کو کم تر سمجھیں جو آبادی میں ملک کا بڑا بازو تھا۔ سندھیوں کو گدھا گاڑی اور اونٹ چرانے والے سمجھیں اور سر عام ان کا ٹھٹھا اڑائیں اور اس بات کو جواز بنا کر سندھ یونیورسٹی کو حیدرآباد منتقل کردیں اور کراچی میں ایک مخصوص طبقے کو جن سے ان کے مفادات وابستہ تھے کو راضی کرنے کے لیے  کراچی یونیورسٹی قائم کریں اور اسطرح کے بے شمار واقعات اور باتیں ہیں جو نوابزادہ لیاقت علی خان نے محض اپنے مخصوص مفادات کے تابع کیں ایسے لوگ کم از کم میری نظر میں لائقِ تحسین نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ انہیں شہیدِ ملت قرار دے دیا جائے۔؟ آپ اس سارے سلسلے کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سرکاری  تعطیل، بے نظیر کے نام سے ڈاک ٹکٹ،  پاکستانی سکے کا اجراء وغیرہ وغیرہ  کے تناظر میں دیکھیں بلکہ بعض خوشامدی اور ابن الوقت  لوگ نے تو انہیں ولیہ تک قرار دیا ہے اور میری نظر سے ایسی تحریریں بھی گزری ہیں جس میں انھیں بر گزیدہ اور پتہ نہیں کیا کچھ قرار دیا جارہا اور کوئی اعتراض کر بھی لے تو کیا کر لے گا ۔ جب حکومت ہی ان کی ہے جو بے نظیر کا نام خوب خوب استعمال کر  کے اپنے ہونے کو ثابت کر رہے ہیں ۔ جبکہ تاریخ میں ان کا اصل کردار اور آج کی چھپی حقیقتیں کل کے محقیقین اور لوگوں کو نظر آئیں گی۔  کچھ یہی معاملہ لیقات علی خان کے قتل پہ پیش آیا اور اپنے اپنے مفادات کی‌خاطر اس قتل پہ تقدس کا پُر نور ہالہ بنا دیا گیا ۔</p>
<p> جب کہ  بے نظیر کے قتل پہ اس دور میں ان باتوں سے پاکستان یا پاکستانی قوم کی صحت کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ جو بائیں بیٹھ چکا ہے وہ بائیں سے ہلنے والا نہیں اور جو دائیں چل رہا ہے وہ اپنی جگہ چھورنے کو تیار نہیں اور جو لوگ قوم کی زندگی بنانے میں کوئی کردار ادا کر سکتے تھے انھوں  نے اپنے اپنے خول مخصوص کر لیے ہیں اور کسی صورت میں وہ علاقائی اور صوبائی تعصب سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ مگر لیاقت علی خان کا قصور اس لیے زیادہ گنا جاتا ہے کہ تب لوہا گرم تھا صرف چند ایک مخصوص ضربوں کی ضرورت تھی اور ایک باوقار قوم تیار تھی مگر ایک ایسا سنہری موقع ضائع کر دیا گیا جو صدیوں میں کبھی ایک بار ملتا ہے ، اور یہ موقع کن لوگوں نے محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے ضائع کر دیا ۔؟ ان لوگوں میں سرِفہرست  لیاقت علی خان کا نام ہے ۔</p>
<p> اس لیے بجائے میری بات کا برا منانے کے، فراخ دلی سے آپ بھی جستجو کریں آپ پہ بہت سی نئی حقیقتیں آشکارہ  ہونگی اور ہمارے  اس پہ بضد ہونے کی بھی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہمیں بحثیت قوم اس بات کا علم رہے کہ ہم نے کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں تا کہ آئیندہ ایسی غلطیوں کا احتمال نہ رہے ۔</p>
<p> ہم  آپ کی عزت و احترام بھی اس وجہ سے نہایت کرتے ہیں کہ آپ کی تحاریر سے ملتِ اسلامیہ کا درد نظر آتا ہے اور کم از کم آپ  باقی ان دیگر لوگوں سے افضل ہیں جو ماسوائے باتیں کرنے کی اور کچھ نہیں کرتے ۔ اور یہ وہ نقطہ ہے جو میرے دل میں آپ کے احترام کی وسعت پیدا کرتا ہے۔ </p>
<p>خیر اندیش<br />
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af%d9%90-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%db%8c%d8%a7%d9%82%d8%aa-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%d9%8f%db%81/comment-page-1/#comment-16144</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 25 Dec 2008 08:04:02 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1370#comment-16144</guid>
		<description>جاوید گوندل صاحب
مجھ پر صرف اتنا کرم کر دیجئےکہ ایک لمحہ کیلئے سوچئے کہ آپ ایک شخص کو ذاتی طور پر جانتے ہیں ۔ کوئی اور شخص آ کر  اس کے متعلق وہ کچھ کہتا ہے جو آپ کے مشاہدہ کے برعکس ہے تو کیا آپ اُس کی بات مان لیں گے ؟ جس کا مطلب ہو گا کہ آپ کا مشاہد آپ کا علم سب کچھ ناقص تھا ۔ 

آپ جوشِ بیان میں جو جی میں آ رہا ہے لکھتے جا رہے ہیں ۔ آپ نے میرے نام کے ساتھ بھوپال لکھا ہوا دیکھا اور میرا تعلق ریاست بھوپال سے اسلئے جوڑ دیا کہ اسی وصیلہ سے آپ مجھ پر کُنبہ پرور جھوٹا ہونے کا الزام لگا سکیں ۔ سُبحان اللہ ۔ 

اگر مجھے جھوٹا کہہ کر آپ کو سکون ملتا ہے تو ضرور کہیئے میں اس کی تردید نہیں کروں گا اسلئے کہ اس سے کسی انسان کو سکون تو ملا ۔ میں جھوٹا ہوں یا سچا اللہ جانتا ہے اور بہت سے قاری بھی جانتے ہوں گے ۔  

ویسے آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اگر میں بھوپال کا رہنے والا ہوتا تو بھوپالی لکھتا نہ کہ بھوپال ۔ نہ میں بھوپال کا رہنے والا ہوں نہ تھا اور نہ میرے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا ۔ میری اس لاتعلقی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ریاست بھوپال کے رہنے والے جھوٹے یا مطلب پرست ہوتے ہیں ۔ ریاست بھوپال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اللہ کی مہربانی سے پاکستان کو پہلی ایٹمی طاقت بنایا ۔ دوسرے ظہورالحسن بھوپالی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم بلکہ عمل کو بھی پاکستان کیلئے وقف رکھا ۔ بہرحال میں معین انصاری سے واقف نہیں ہوں ۔      

آپ نے فرمایا ہے کہ اشبیلیہ اور اندلس کے بارے میں لکھنا بہت دل گردوں کا کام ہے ۔ آپ تو اتنا بڑا دل اور مضبوط گردے رکھتے ہیں کہ پُلوں کے نیچے سے بے شُمار پانی بہہ کر چلا گیا مگر آپ کی سوچ کی کشتی ابھی تک اسی بات پر اٹکی ہوئی ہے کہ شہیدِ ملت لیاقت علی ہی پاکستان میں آج تک ہونے والی سب خرابیوں کے ذمہ دار تھے ۔ چلئے آپ یہی سمجھتے رہیئے ۔ 

آخر میں آپ نے میری حُب الوطنی بھی مشکوک بنا دی ہے اور جو وجوہ لکھی ہیں وہ چُغلی کھا رہی ہیں کہ یا تو آپ نے میری تحاریر بہت کم پڑھی ہیں یا پھر آپ نے منفی سوچ کے ساتھ پڑھی ہیں کیونکہ سوچ منفی ہو تو ہر بات اُلٹی لگتی ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جاوید گوندل صاحب<br />
مجھ پر صرف اتنا کرم کر دیجئےکہ ایک لمحہ کیلئے سوچئے کہ آپ ایک شخص کو ذاتی طور پر جانتے ہیں ۔ کوئی اور شخص آ کر  اس کے متعلق وہ کچھ کہتا ہے جو آپ کے مشاہدہ کے برعکس ہے تو کیا آپ اُس کی بات مان لیں گے ؟ جس کا مطلب ہو گا کہ آپ کا مشاہد آپ کا علم سب کچھ ناقص تھا ۔ </p>
<p>آپ جوشِ بیان میں جو جی میں آ رہا ہے لکھتے جا رہے ہیں ۔ آپ نے میرے نام کے ساتھ بھوپال لکھا ہوا دیکھا اور میرا تعلق ریاست بھوپال سے اسلئے جوڑ دیا کہ اسی وصیلہ سے آپ مجھ پر کُنبہ پرور جھوٹا ہونے کا الزام لگا سکیں ۔ سُبحان اللہ ۔ </p>
<p>اگر مجھے جھوٹا کہہ کر آپ کو سکون ملتا ہے تو ضرور کہیئے میں اس کی تردید نہیں کروں گا اسلئے کہ اس سے کسی انسان کو سکون تو ملا ۔ میں جھوٹا ہوں یا سچا اللہ جانتا ہے اور بہت سے قاری بھی جانتے ہوں گے ۔  </p>
<p>ویسے آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اگر میں بھوپال کا رہنے والا ہوتا تو بھوپالی لکھتا نہ کہ بھوپال ۔ نہ میں بھوپال کا رہنے والا ہوں نہ تھا اور نہ میرے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا ۔ میری اس لاتعلقی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ریاست بھوپال کے رہنے والے جھوٹے یا مطلب پرست ہوتے ہیں ۔ ریاست بھوپال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اللہ کی مہربانی سے پاکستان کو پہلی ایٹمی طاقت بنایا ۔ دوسرے ظہورالحسن بھوپالی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم بلکہ عمل کو بھی پاکستان کیلئے وقف رکھا ۔ بہرحال میں معین انصاری سے واقف نہیں ہوں ۔      </p>
<p>آپ نے فرمایا ہے کہ اشبیلیہ اور اندلس کے بارے میں لکھنا بہت دل گردوں کا کام ہے ۔ آپ تو اتنا بڑا دل اور مضبوط گردے رکھتے ہیں کہ پُلوں کے نیچے سے بے شُمار پانی بہہ کر چلا گیا مگر آپ کی سوچ کی کشتی ابھی تک اسی بات پر اٹکی ہوئی ہے کہ شہیدِ ملت لیاقت علی ہی پاکستان میں آج تک ہونے والی سب خرابیوں کے ذمہ دار تھے ۔ چلئے آپ یہی سمجھتے رہیئے ۔ </p>
<p>آخر میں آپ نے میری حُب الوطنی بھی مشکوک بنا دی ہے اور جو وجوہ لکھی ہیں وہ چُغلی کھا رہی ہیں کہ یا تو آپ نے میری تحاریر بہت کم پڑھی ہیں یا پھر آپ نے منفی سوچ کے ساتھ پڑھی ہیں کیونکہ سوچ منفی ہو تو ہر بات اُلٹی لگتی ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

