<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: جل کے دل خاک ہوا</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: دسمبر 2008 کے بلاگ</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/comment-page-1/#comment-16361</link>
		<dc:creator>دسمبر 2008 کے بلاگ</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Jan 2009 00:37:16 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1343#comment-16361</guid>
		<description>[...] کے ناساز حالات کے حوالے سے اجمل صاحب نے اپنی تحریر &#8220;جل کے دل خاک ہوا&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: الطاف [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] کے ناساز حالات کے حوالے سے اجمل صاحب نے اپنی تحریر &#8220;جل کے دل خاک ہوا&#8221; میں ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: الطاف [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ظفر اقبال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/comment-page-1/#comment-16020</link>
		<dc:creator>ظفر اقبال</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 15 Dec 2008 22:40:04 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1343#comment-16020</guid>
		<description>جوتے دو ہی اچھے

جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔
بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میںہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈر بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔&#039;&#039;غیر مہذب&#039;&#039; منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئیر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک &#039;&#039;ذمّہ دار&#039;&#039; شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔
منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتّے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک &#039;&#039;عمل&#039;&#039; اوراور ایک&#039;&#039; لفظ&#039;&#039; کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔
دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے  طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت  کے ساتھ اس ریفرنڈم کے نتائج ہیں۔جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔یہی دنیا بھر کی رائے ہے۔غلاموں کی اس دنیا میں کیا جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔ 
15دسمبر008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔
جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔
لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔


(ظفر اقبال)</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جوتے دو ہی اچھے</p>
<p>جوتے اگر استعمال نہ ہوں تو بھلے کتنے ہی ہوں،کیا ہے؟لیکن اگر استعمال ہو جائیں تو دو بھی بہت ہیں۔<br />
بظاہر ایک غیر مہذب حرکت پر پوری دنیا میںہونے والا ردّ ِ عمل در اصل ایک عالمی ریفرنڈم بھی ہے اور نیا ورلڈ آرڈر بغدادمیں فرعونِ وقت کے آخری دورے پر انہیں دو جوتوں کی سلامی اور کلبِ خبیث کے خطاب کا تحفہ ایک غیرت مند عراقی صحافی منتظر الزیدی نے دیا ہے۔حسینیت کے درس کی اس سے اعلیٰ محفل شاید ہی کبھی سجی ہو۔&#8221;غیر مہذب&#8221; منتظر نہ کسی دینی مدرسہ کا طالب علم رہا ہے،نہ القاعدہ اور طالبان کا رکن۔نہ پاکستانی ہے نہ افغانی۔وہ جدید تعلیم حاصل کر کے عراق کے سینئیر ترین صحافیوں میں شمار کیا جانے والا ایک &#8221;ذمّہ دار&#8221; شہری ہے۔غربت،بے روزگاری،نشہ،مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے الزامات بھی اس پر نہیں لگ سکتے۔اس کے ریکارڈ میں کوئی نفسیاتی عدم اعتدال کی رپورٹ بھی نہیں ہے۔<br />
منتظر نے بش کو جوتے نہیں مارے بلکہ ایک عالمی فرضِ کفایہ ادا کیا ہے۔ملتِ مرحوم کا قرض ادا کیا ہے۔بے بس کمزور اور نہتّے غلام انسانوں کی طرف سے دنیا کے سب سے طاقتور،منظم اور عظیم استحصال کے علم بردار ملک امریکہ کو وہ پیغام دیا ہے جو اس سے زیادہ جامع اور موثر انداز میں ممکن نہیں۔صرف ایک &#8221;عمل&#8221; اوراور ایک&#8221; لفظ&#8221; کی شکل میں۔عمل جوتے مارنے کا اور لفظ کتّے کا(کتوں سے معذرت کے ساتھ)۔<br />
دنیا میں پالیسی اسٹڈیز اور اوپینین پولز اور رائے اور رجحان جاننے ، ناپنے او ر تجزیہ کرنے کے تمام تر اداروں اور ان کے  طریق ہائے تجزیہ سے زیادہ صحت  کے ساتھ اس ریفرنڈم کے نتائج ہیں۔جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔یہی دنیا بھر کی رائے ہے۔غلاموں کی اس دنیا میں کیا جانے والا یہ عمل صدیوں کا قرض تھا جو منتظر زیدی نے ادا کیا ۔<br />
15دسمبر008ء کی صبح واقعی ایک نئی صبح تھی جب زمین پر بسنے والے انسان اپنے اوپر حیوانوں اور درندوں کے جبر سے پسے اور اپنے ارادوں اور دلوں کی کمزوریوں پر کڑھنے کے بجائے احساس فتح مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ۔ انسانی تاریخ میں آ ج تک ایک ساتھ کبھی انسان اتنی بڑی تعداد میں خوش ہو کر شاید ہی ملے ہوں ۔<br />
جوتو ں نے موجودہ عالمی سیاست میں ویسے بھی اہم کردار اد اکیا ہے ۔ہم تو 100جوتے اور 100پیاز کھانے کی ورزش میں پہلوان ہوگئے ہیں بلکہ رستم زماں کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔جوتے چاٹنے کے بعد اس میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔<br />
لیکن جوتوں کا جو استعمال منتظر الزیدی نے کیا ہے یہ تو انسانیت کی معراج ہے جو خودداری اور غیرت کی دین ہے ۔</p>
<p>(ظفر اقبال)</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عمر بخش</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/comment-page-1/#comment-15978</link>
		<dc:creator>عمر بخش</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Dec 2008 07:22:43 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1343#comment-15978</guid>
		<description>سلام
حضرات
لنک ملاحظہ فرمائیے
سب جان کر پہچان کر ملاقاتیں کرتے،سرپرستیاں کرتے اور حکومتوں میں شامل کرتے ہیں۔رچرڈ بائوچر بھی سب جانتے ہیں۔جو حال ہی میں مل کر آئے۔آصف زرداری،مشرف،ھمید گل ،کیانی ساحب سب جانتے ہیں

http://www.unhcr.org/refworld/docid/414fe5aa4.html</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سلام<br />
حضرات<br />
لنک ملاحظہ فرمائیے<br />
سب جان کر پہچان کر ملاقاتیں کرتے،سرپرستیاں کرتے اور حکومتوں میں شامل کرتے ہیں۔رچرڈ بائوچر بھی سب جانتے ہیں۔جو حال ہی میں مل کر آئے۔آصف زرداری،مشرف،ھمید گل ،کیانی ساحب سب جانتے ہیں</p>
<p><a href="http://www.unhcr.org/refworld/docid/414fe5aa4.html" rel="nofollow">http://www.unhcr.org/refworld/docid/414fe5aa4.html</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عمر بخش</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/comment-page-1/#comment-15968</link>
		<dc:creator>عمر بخش</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Dec 2008 13:46:46 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1343#comment-15968</guid>
		<description>محمد آفتاب احمد صاحب
اللہ کے ہاں جواب دینا ہے
وہاں قوم ،زبان اور&quot;بھائٰ&quot; کام نہیں آتے۔دنیا جانتی ہے کہ کئی دن سے ہوٹل ،چائے خانے اور دیگر دکانیں کون بند کروا رہا تھا اور کون چھ ماہ سے  دھمکی آمیز لہجہ اپنائے ہوئے تھا۔کون فساد کی تیاری کر رہا تھا۔
اللہ ہمین سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔چاہے اس کی زد ہمارے اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں پر ہی پڑے۔
پاکستان ذندہ باد
مہاجر پختوں،سندھہ،پنجابی بلوچ۔کشمیری بھائی بھائی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محمد آفتاب احمد صاحب<br />
اللہ کے ہاں جواب دینا ہے<br />
وہاں قوم ،زبان اور&#8221;بھائٰ&#8221; کام نہیں آتے۔دنیا جانتی ہے کہ کئی دن سے ہوٹل ،چائے خانے اور دیگر دکانیں کون بند کروا رہا تھا اور کون چھ ماہ سے  دھمکی آمیز لہجہ اپنائے ہوئے تھا۔کون فساد کی تیاری کر رہا تھا۔<br />
اللہ ہمین سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔چاہے اس کی زد ہمارے اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں پر ہی پڑے۔<br />
پاکستان ذندہ باد<br />
مہاجر پختوں،سندھہ،پنجابی بلوچ۔کشمیری بھائی بھائی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2008/12/%d8%ac%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%84-%d8%ae%d8%a7%da%a9-%db%81%d9%88%d8%a7/comment-page-1/#comment-15964</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Dec 2008 09:41:35 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=1343#comment-15964</guid>
		<description>محمد آفتاب احمد صاحب
کیا کراچی میں صرف آپ اور آپ کے ساتھی سچ بولتے ہیں اور باقی سب جھوٹے ہیں ؟ 
آپ نے جن وارداتوں کا ذکر کیا ہے یہ تو آپ کے قائد الطاف حیسن کے غنڈوں کا طرّہ امتیاز ہے ۔ پٹھان دلیر لوگ ہوتے ہیں وہ ایسی چھچھوری حرکتیں نہیں کرتے ۔ 
اگر کچھ دیر کیلئے فرض کر بھی لیا جائے کہ آپ نے جو لکھا ہے وہ حقیقت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی ضلعی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت میں ایم کیو ایم کے وڈیرے اور عشرت العباد کیا اتنے ہی نااہل ہیں کہ وہ اتنی زیادہ لاقانیت ہونے کی اجازت دیتے رہے ؟  
اس میں شک نہیں کہ کہ اللہ انصاف کرتا ہے اور انصاف ہو کر رہے گا ۔ آپ دوسروں کی بات کرنے سے پہلے اپنے قائد کو تو حوصلہ دیں کہ اپنی کراچی میں آ کر رہے ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محمد آفتاب احمد صاحب<br />
کیا کراچی میں صرف آپ اور آپ کے ساتھی سچ بولتے ہیں اور باقی سب جھوٹے ہیں ؟<br />
آپ نے جن وارداتوں کا ذکر کیا ہے یہ تو آپ کے قائد الطاف حیسن کے غنڈوں کا طرّہ امتیاز ہے ۔ پٹھان دلیر لوگ ہوتے ہیں وہ ایسی چھچھوری حرکتیں نہیں کرتے ۔<br />
اگر کچھ دیر کیلئے فرض کر بھی لیا جائے کہ آپ نے جو لکھا ہے وہ حقیقت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی ضلعی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت میں ایم کیو ایم کے وڈیرے اور عشرت العباد کیا اتنے ہی نااہل ہیں کہ وہ اتنی زیادہ لاقانیت ہونے کی اجازت دیتے رہے ؟<br />
اس میں شک نہیں کہ کہ اللہ انصاف کرتا ہے اور انصاف ہو کر رہے گا ۔ آپ دوسروں کی بات کرنے سے پہلے اپنے قائد کو تو حوصلہ دیں کہ اپنی کراچی میں آ کر رہے ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

