ممبئی دہشتگردی ۔ اصل مُجرموں کی پردہ پوشی

مندرجہ ذیل خبروں سے ثابت ہوتا ہے کہ ممبئی میں جو ڈرامہ بظاہر 26 نومبر 2008 کو شروع ہوا اُس کی تیاری 15 نومبر سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ دہشتگرد کون تھے ؟ ان حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بھارتی خفیہ ادارہ بھی اس میں ملوث ہو سکتا ہے ۔ اسی لئے حقائق پر پردہ ڈال کر سارا ملبہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے تاکہ عوام کا دھیان اس دہشتگردی کے حقائق کی طرف نہ جانے پائے جس میں بھارتی پولیس کا ایک زیرک اعلٰی عہدیدار بھی مارا گیا ۔

سی بی سی نیوز [کنیڈین برادکاسٹنگ کارپوریشن]
ایک آزاد صحافی ارون اشتھانا نے نریمان گیسٹ ہاؤس کے باہر سے سی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا “کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے حملوں سے 15 یوم قبل گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا اور اُن کے پاس بہت زیادہ بارود اسلحہ اور خوراک تھی”

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
مقامی لوگوں نے بتایا کہ نریمان ہاؤس کے مالک ایک اسرائیلی یہودی خاندان ہے جو اس کے فلیٹ مذہبی یہودیوں کو کرائے پر دیتے تھے”

مِڈ ڈے نیوز
اس حملہ ڈرامہ میں نریمان ہاؤس کا کردار پریشان کن ہے ۔ گذشتہ رات [نریمان ہاؤس کے] رہائشیوں نے لگ بھگ 100 کلو گرام گوشت اور کھانے کی دوسری اشیاء منگوائیں جو کہ ایک فوج کیلئے یا پھر چند لوگوں کی 20 دن کیلئے کافی تھا ۔ اس کے کچھ دیر بعد 10 کے قریب عسکریت پسند [نریمان ہاؤس میں] داخل ہوئے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اشاء خوردنی اُن کی آمد کو مدِ نظر رکھکر منگوائی گئی تھیں

ڈی این اے انڈیا
موکوند شلکے جو کولابا مارکیٹ میں دکاندار ہے نے بتایا کہ اُن لوگوں نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے سے قبل کافی خوردنی سامان خریدا جو ان کیلئے 3 ہفتوں کیلئے کافی تھا ۔ اُنہوں نے دو پیٹیاں مرغی کا گوشت کوئی 25000 روپے کی شراب کولابا کی دو دکانوں سے خریدے ۔

مِڈ ڈے نیوز
اس علاقہ کے ایک ماہی گیر وِتھال ٹنڈل نے کہا “بدھ [26 نومبر] کے روز شام کے وقت میں نے چھ سات کشتیاں آتے دیکھیں جن میں سے کوئی دس آدمی بہت زیادہ سامان کے ساتھ اُترے اور اُن کو آہستہ آہستہ نریمان ہاؤس کے اندر لے گئے ۔ اس عمارت [نریمان ہاؤس] میں کافی کمرے ہیں جو مسافروں کیلئے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ ہم میں سے کسی کو اُن لوگوں کے نام معلوم نہیں ہیں ۔

ایک ٹی وی صحافی ورندرا گھناوت بدھ سے نریمان ہاؤس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔ پولیس والے بھی اس سلسلہ میں گم سم تھے

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
وہ سمندر کے راستے سے آئے اور اندھیرے میں قدیم کولابا کی تنگ گلیوں سے گذرتے ہوئے چہ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس میں چلے گئے ۔ یہ بندوق بردار لوگ وہاں رہے اور بعد میں اندر سے محاصرہ کر لیا

دی نیو یارک ٹائیمز
جب دہشتگرد دھانور کی کشتی کے قریب اُترے تو وہ نریمان ہاؤس کی تنگ گلی سے صرف تین عمارتیں دور تھے ۔ پانچ منزلہ عمارت نریمان ہاؤس جس میں ایک جوان ربی گافریل ہولٹسبرگ اور اس کی بیوی رفقہ جو نیو یاکر سے آئے ہوئے ہیں ایک یہودی سینٹر چلاتے ہیں

برطانیہ کا گارجین یا گارڈین
ایک پولیس مین جس نے نریمان ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی بتایا ۔ گذشتہ رات میں عمارت کے اندر گیا ۔ میں یہ جان کر دنگ رہ گیا کہ وہ لوگ سفید فام ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہماری طرح کے ہوں گے ۔

بی بی سی
مشرہ کی یاد داشت کے مطابق “پھر غیر ملکی سفید فاموں نے مار دھاڑ جاری رکھی” ۔

مسٹر امیر نے کہا “وہ ہندوستانی نہیں لگتے تھے ۔ وہ غیر ملکی تھے ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ایک سنہرے بالوں والا تھا ۔ دوسروں نے واہیات طریقہ سے بال بنائے ہوئے تھے”

ڈی این اے انڈیا
نریمان ہاؤس کے سامنے والی عمارت کے رہائشی انند راؤرین نے جب پولیس کے سربراہ [جو تفتیش کر رہا تھا] کے مارے جانے کی خبر ٹی پر آئی تو ہم نے فلیٹ [نریمان ہاؤس] سے شور سنا جیسے لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں

یوروشلم پوسٹ
نینی [آیا] جس نے دوسالہ موشے ہولٹز برگ کو ممبئی کے چاباد ہاؤس سے جمعرات کو بچایا وہ جمعرات کو اسرائیل پہنچ رہی ہے ۔ اس نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ موشے کے ساتھ اس خصوصی پرواز پر اسرائیل واپس آنا چاہتی ہے جو اسرائیل کی فضائیہ نے بھیجی ہے ۔
بچہ جمعہ کو اپنے دادا دادی کے پاس پہنچ گیا ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ “اس کی وزارت آیا کو اسرائیل لانے کیلئے کام کر رہی تھی اور اس نے وزارتِ داخلہ کو درخواست کی ہے کہ آیا کو اسرائیل میں رہنے دیا جائے ۔

خیال رہے کہ جب نریمان ہاؤس بھارتی سکیورٹی فورسز کے محاصرہ میں تھا ۔ نریمان ہاؤس کے مالکوں کے بچے کی آیا [جو کہ بھارتی ہے] اُن کے بچے کو ساتھ لئے ہوئے باہر نکل آئی تھی جس پر یہی باور کیا جا سکتا ہے کہ اُسے بحفاظت باہر بھیجا گیا ۔

انڈین ایکسپرس
دو سالہ موشے اور اس کی آیا ساندرا سیموئل اپنے نانا نانی کے ساتھ اسرائیل کے خصوصی فوجی طیارہ میں آج رات اسرائیل چلے گئے

دی انڈیا ٹیلی گراف
یکم دسمبر ۔ اسرائیل بھارتی آیا کو رہائشی اجازت نامہ دے رہا ہے ۔ اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے کابینہ کو بتایا کہ اس کی وزارت آیا ساندرا سیموئل کو رہائشی ویزہ دلوانے کا انتظام کر رہا ہے ۔

دی انڈیا ٹیل گراف
اسرائیل نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ نریمان ہاؤس میں مارے جانے والے اسرائیلی باشندوں کا پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے ۔ اسرائیلی مشن کے مطابق مارے جانے والے 9 افراد میں سے 7 اسرائیلی تھے ۔

سوچنے کی بات ۔ دو تو نریمان ہاؤس کے مالک پولیس مقابلہ میں مارے گئے ہوں گے ۔ باقی 5 اسرائیلی کہاں سے آئے ؟
گذارش ۔ میں اُن نوجوانوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے یہ خبریں اکٹھا کرنے میں میری مدد کی ۔

This entry was posted in تجزیہ, خبر, سیاست on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “ممبئی دہشتگردی ۔ اصل مُجرموں کی پردہ پوشی

  1. محمد ریاض شاہد

    جناب بھوپال صاحب
    اسلام علیکم
    نوجوان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سچ پوچھیے تو مجھے نوجوانوں سے بڑی امیدیں ہیں۔

  2. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونآ ، اسپین

    ہمیں آپ کی بات سے اتفاق ہے۔

    آپ سب نے ٹی وی پہ دیکھا ہوگا۔ جب بھارتی اسپیشل فورسز کے کمانڈوز نریمان ہاؤس کی چھت پہ اتر رہر تھے۔ہیلی کاپٹر کے ذریعے کمانڈوز کا چھت پہ اترنا یوں لگتا تھا جیسے وہ کمانڈوز دہشت گردی کے خلاف کسی آپریشن میں حصہ لینے کے بجائے پکنک کے لئیے وہاں اتر رہے ہوں۔ جس پہ دنیا بھر کے سیکورٹی امور کے ماہرین نے تنقید کی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یوں لگتا تھا جیسے کسی چھت پہ ہیلی کاپٹر کے ذریعئے اترنے کی تربیت حاصل کرنے والے نوآموز غیر تربیت یافتہ لوگ نریمان ہاؤس کی چھت پہ اتر رہے ہوں۔ یعنی دوسرے لفظوں میں جیسے ان کمانڈوز کو پہلے سے آگاہ کر دیا گیا ہو کہ وہاں ان کے لئیے اصلی خطرے والی کوئی بات نہیں۔ اور یہی انداز ممبئی میں پورے آپریشن کے دوران ٹی وی پر نظر آنے والی تمام کاروائی میں انڈین سیکورٹی فورسز کا تھا۔

    بھارت کی اقتصادی شہہ رگ اور مصروف ترین شہر کو چار یا پانچ مقامات پہ فی مقام دو کے حساب سے صرف دس لڑکوں نے پورے شہر کو قبضہ میں لیے رکھا اور صرف دو دو لڑکوں سے کئی منزلہ ہوٹلوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے متواتر چار روز تک بھارتی فوج کے ہر قسم کے کمانڈوز اور ادارے لگاتار کاروئی کرتے رہے اور اس دوران دو دو لڑکے وہاں بھارتی باشندوں اور خصوصی طور پر غیر ملکی باشندوں کا قتل عام بھی کرتے رہے اور بھارتی فروسز کا مقابلہ بھی کرتے رہے تقریباً سب ہی مارے گئے کوئی ایک ماسوائے ایک اجمل قصاب کے زندہ یا زخمی ہاتھ نہ آیا۔؟

    بقول بھارتی اداروں کے بہت سا دہماکہ خیز مواد اور بم وغیرہ دونوں ہوٹلوں میں لگائے گئے تھے ۔ تو آخر کیا وجہ تھی کہ اتنی قتل و غارت کرنے والے اسقدر تربیت یافتہ سفاک لوگ جان پہ کھیل گئے مگر کسی نے ایک آدھ بم بھی بلاسٹ نہ کیا۔ جبکہ دہشت گردوں کے نزدیک قتل و غارت اور دہشت گردی پھیلانا مقصود تھا۔؟

    یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کا اتنا بڑا ملک جو خطے میں منی سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہو۔ اسکی فوج کے ہر ونگ کی اسپیشل سروسز اس قدر دقیا نوسی ہوں۔؟

    اور اس کے ساتھ ہی ہیمت کرکرے کے مارے جانے کے متعلق بھارتی وزیر اقلیت عبدالرحمان انتولے کا بیان اور اس کے جواب میں بھارتی ہندوؤ سیاسی جماعتوں کا رد عمل بھی بھارت کی پاکستان کے خلاف بھارتی سازش کا سارا احوال بیان کر رہا ہے۔

    شاید کسی کو یاد ہو انیس سو پچانوے عیسوی میں جب کشمیر میں کشمیریوں کی تحریک آزادی نے زور پکڑا تو انڈین اینجنسیز نے تب بھی کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک غیر معروف گروپ الفاران کے نام سے کچھ غیر ملکی سیاحوں کو اغواء کر کے کشمیر کی تحریک آزادی کو بدنام کیا تھا۔ ایسے ڈرامے انڈین خفیہ ادراوں اور خاصکر را وغیرہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں۔

    دراصل ممبئی حملوں کی سازش کو اسقدر بھونڈے طریقے سے روبہ عمل لایا گیا ہے کہ اگر ہماری حکومت تھوڑا سا جارحانہ رویہ اختیار کرتی تو خود بھارت کو ہی جواب دینا مشکل ہو جاتا مگر ایسی امید مشرف کے ولی عہدوں سے کرنی کھلی آنکھوں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔

    خیر اندیش
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

  3. نعمان

    http://www.guardian.co.uk/world/2008/dec/12/mumbai-arundhati-roy

    بھارت میں کئی لوگ اس بارے میں آواز اٹھارہے ہیں کہ پاکستان پر الزام ڈالنے کے بجائے حقائق کو سامنے لایا جائے۔ اجمل قصاب اگر پاکستانی بھی ہے تب بھی پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ عین ممکن ہے کہ اسے کسی تیسرے پس پشت کردار نے کرائے پر حاصل کیا ہو۔ جس سے نواز شریف کا وہ بیان سمجھ میں آتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مشرف کی آمریت کے سبب پاکستان ایک انتہائی ان گورن ایبل اسٹیٹ بن گیا ہے۔ جو جی چاہے کرائے پر دہشت گرد خرید سکتا ہے اور انہیں خودکش حملوں سمیت کئی کاموں میں استعمال کرسکتا ہے۔

  4. اردوداں

    میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ اس قتل و غارت گری کے دور میں کوں سنتا ہے؟
    بہ ہر حال، معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ؛
    – لفظ نریمن ہاوس ہے یعنی نری من
    – علاقہ کا نام اردو میں قلابہ لکھا جاتا ہے، انگریزی میں کولابا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)