ربط مانگنے والوں [بالخصوص ڈفر صاحب] کیلئے

میری کل کی تحریر “شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان پر بُہتان تراشی” پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈفر صاحب نے لکھا ہے
“آپ نے بھی جاوید صاحب کی طرح صرف اپنے علم سے ہی ہمیں نوازا اور کسی بات کے حق میں کوئی ریفرنس نہیں نظر آ رہا۔ دونوں میں سے کون صحیح کہہ رہا ہے؟ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے”

میں مندرجہ ذیل وضاحت کر رہا ہوں تاکہ ان حضرات کیلئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے ۔

اگر میری تحریر کو توجہ سے پڑھا جائے تو اس میں مطلوبہ حقائق کے ربط موجود ہیں ۔ اول ربط اس طرح لکھا گیا ہے
اس سلسلہ میں یہاں کلک کر کے پڑھیئے 10 نومبر 1951ء کو لکھا گیا ایک تار

پھر انگریزی والے حصے کے شروع میں لکھا ہے
All the following documents have been found in declassified CIA papers:
1. Extract from an article published on October 24, 1951 in an Indian magazine
اس میں اگر declassified CIA papers پر کلک کیا جائے تو ایک ایسی جگہ کھُلتی ہے جہاں قائدِ مِلت کی متعلق مختلف مصدقہ حوالوں سے ایک طویل مضمون لکھا ہوا ہے ۔

میں نے قارئین کی مزید سہولت کیلئے انگریزی کے اقتباس [Extract] کے نیچے چار عدد تاروں [telegrams] کا حوالہ دیا تھا لیکن کسی وجہ سے ان کے ربط فعال نہ ہو ئے جو کہ اب فعال کر دیئے گئے ہیں

اُمید ہے میں واضح کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں گا ۔ اس وضاحت میں کوئی ربط نہیں دیا گیا ۔ ربط میری آج صبح کی متذکرہ تحریر میں ہیں

This entry was posted in گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “ربط مانگنے والوں [بالخصوص ڈفر صاحب] کیلئے

  1. وہا ج الد ین ا حمد

    اجمل بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ
    کرنل الہی بخش مرحوم کی کتاب مین نے اس وقت پڑھی تھی جب مین انکے ھاوس فزیشن کے طور پر کام کر رھا تھا۔ اس وقت وہ کتاب بین ھو چکی تھی
    شہید ملت لیاقت علی خان کے متعلق آپ نے یھ تارون کی کاپیان لکھ کر مجھ جیسے بے علم لوگون پر احسان کیا ھے
    افسوس ھے کھ وہ زمانہ اب لد گیا ھے اور ھمارے قاّدین اب اس جزبہ ملی سے واقف نھین جس سے لیاقت علی قاعد اعظم اور نشتر جیسے رہنما سرشار تھے
    وہ 16 اکتوبر مجھے اچھی طرح یاد ھے1951، جب اچانک ریڈیو پر تلاوت شروع ھو گئی تھی
    اپنے ملک کی پہلی دردناک خبر تھی اور مجھے لیاقت علی کا وہ مشہور مُکہ یاد آ رہا تھا جو انھون نے نہرو کی دھمکی تھپڑ کے جواب میں دکھایا تھا۔ ان کی تین گھنٹوں کی ریڈیو پر تقریر یاد آ رہی تھی جسے سُن کر تمام پاکستانیوں کے حوصلے بڑھ گئے تھے اللھ ان سب کہ جنت مین جگھ عطا کرے

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وہاج الدین احمد صاحب
    جس قوم کے افراد اپنے اعمال و کردار کو دیکھنے کی بجائے اُن لوگوں میں کیڑے نکالتے ہیں جو اپنا دفاع کرنے کیلئے موجود نہیں ہوتے اُن قوموں کا وہی حال ہوتا ہے جو آجکل ہماری قوم کا ہے ۔

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    “Sardar Shaukat Hayat Khan, the last of the prominent Muslim League leaders”

    سبحان اللہ۔ جناب آپ نے اس مضمون میں معین انصاری کے جس آرٹیکل کا لنک دے رکھا ھے۔ جہاں سے آپ نے ٹیلیگرام کا متن چھاپا ہے اسی ویب سائٹ پہ معین انصاری نے سردار سوکت حیات کے بارے میں یوں لکھا ہے۔
    “Sardar Shaukat Hayat Khan, the last of the prominent Muslim League leaders”
    اور معین انصاری کا مذکورہ آرٹیکل Pakistan Historian مین ای زیلی نام میں چھپا ہے Assassination of Liaqat Ali Khan & Declassified CIA documents

    جس کا لنک آپ نے دیا ہے وہ کمرشل سائٹ کی وساطت سے ہے اور اصل لنک یہ ہے ۔

    حوالہ لنک
    http://www.icdc.com/~paulwolf/pakistan/pakintrigue.htm#ayub
    Moin Ansari | معین آنصآرّی | Published Feb. 26th 1997. Updated Feb. 20th,
    2008
    اگے بڑہتے ہیں سردار شوکت حیات کے بارے میں
    Shaukat Hayat Khan was a prominent Muslim League movement worker who worked closely with the founder of Pakistan, Muhammad Ali Jinnah,
    حوالہ لنک
    http://en.wikipedia.org/wiki/Shaukat_Hayat_Khan

    ” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وزیر خزانہ میاں ممتاز دولتانہ اور وزیر مال سردار شوکت حیات خان دونوں وزير اعلی نواب ممدوٹ کے خلاف شکایات کی بناء پر استعفے دینے کی تیاری کر رہے تھے۔ صوبہ سرحد کے دورے سے واپسی پر قائد اعظم نے ان نوجوانوں کو کراچی بلایا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قائد اعظم ان تینوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔ انہوں نے حصول پاکستان کی جنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    کتاب کا نام: سیاست آئین اور عدالت۔
    مصنف: مرتضٰی انجم۔

    یہ وہی سردار شوکت حیات ہیں جن کی بیٹی وینا حیات کے ساتھ جام صادق علی کے دنوں میں مبینہ جنسی زیادتی کی گئی اور جس واقعے پہ میڈیا پہ بہت لے دے ہوئی تھی۔

    کیا اب بھی آپ اپنے الفاظ پہ قائم ہیں یا مزید شواہد فراہم کروں؟۔

    ————————————————————————————
    آپ کا دعواہ غالبا یہ بھی ہے کہ دس سال کی عمر میں آپ کا قیام پاکستان کے چشم دید گواہ ہونے کی وجہ سے آپ کا فرمایا مستند ہے۔؟
    تو پھر آپ کے علم میں یہ بھی رہا ہوگا کہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں مسلم لیگ کی اؤل اؤل تقسیم میں لیاقت علی خان کا حصہ کتنا تھا اور لیاقت علی خان نے مسلم لیگ میں پھوٹ کیوں کر ڈلوائی ۔۔؟ اور اس سے کون سے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی۔؟؟ مجھ سے پوچھیں گے تو بات بہت لمبی ہو جائے گی آپ بھی کوشش کر کے دیکھ لیں، نہ پتہ چلے تو مجھے کہیے گا میں لکھے دونگا۔

    وزیراعظم لیاقت علی خان قائداعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ کے طاقتور ترین لیڈر کے طور پر ابھرے۔ ان کے دور میں گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین تھے جو طبعََا کمزور تھے اس لئے لیاقت علی خان طاقت کے مرکز بن گئے۔ وہ مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور وزیراعظم بھی۔ ان کے دور میں صوبائی انتخاب ہوئے جن میں حزب اختلاف کو بہت کم سٹیں ملیں۔ اپنے سیاسی مخالفین کو نااہل کرنے کے لئے پروڈا کا قانون بنایا گیا۔ اور آپ پروڈا نامی بدنام قانون کی ہئیت کذائی کے بارے میں بھی جانتے ہونگے؟۔
    —————————————————————————————-

    اجمل صاحب آپ کے یہ الفاظ ” یا اُن کے والدین نوابزادہ لیاقت علی کی وفات کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ”
    اس سے مراد ؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے دور سے یعنی ان کی ہلاکت سے پہلے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کی اولادوں کا موجودہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں؟۔۔

    دوسری بات جو کہنی ہے، میں نے اپنے گزشتہ تبصرے میں کراچی میں مہاجر اور غیر مہاجر فتنے کی بات کی تھی کہ اس کی بنیاد لیاقت علیخان نے ایک خاص صوبے سے تعلق رکھنے والے اپنے حمایتی مہاجرین کو کراچی میں اپنا ووٹ بینک کرنے کہ لیے تا کہ انکی سیٹ کا جواز پیدا ہو سکے، کو ایک ہی جگہ کراچی میں بسا کر جہاں مہاجر برادری کے لیے مسائل پیدا کئیے کہ وہ پاکستانی معاشرے کی کرنٹ میں جزب نہ ہو سکے وہیں مہاجر اور غیر مہاجر کے فساد کی بنیاد رکھ دی تھی،

    اجمل صاحب اس میں تو شبہے والی کوئی بات نہیں۔ اور قربان جاؤں، پتہ نہیں آپ نے میرے بیان میں سے 1984 کی مہاجر تحریک کا ذکر کہاں سے اور کیسے پیدا کر لیا۔؟

    بہر حال میں نے اتمامِ حُجت کا اپنا سا فرض پورا کر دیا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اجمل صاحب!
    آپ بھی کمال ہیں۔آپ بجائے میرے اعتراضات کا جواب دینے کے ہر دفعہ آیک نئی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ میرا نہیں تو اپنے قارئین کا ہی کچھ خیال کر لیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا قاری آپ کی ورغلانے سے بہل جائیگا۔؟ اگرآپ یوں سمجھتے ہیں ہے تو یہ آپ کی طرف سے اپنے قارئین اکرام کی توہین ہے۔
    آپ کس دہوکا دینا چاہتے ہیں اپنے آپ کو؟؟۔ مجھے۔؟ یا اپنے قارئین کو ؟؟؟

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    قارئین اکرام سے ایک گزارش۔
    ہمیں نہ تو لیاقت علی خان سے ضد ہے نہ جناب محترم اجمل صاحب سے ہی کوئی بغض یا ضد ہے۔ یہ سلسہ جناب افضل صاحب کے بلاگ میرا پاکستان میں چھپے مضموں “صدر ہماری نظر میں” سے شروع ہوا اور بحث و مکالمہ چل نکلا۔ ارادتاً صرف لیاقت علی خان کو موضوع سخن نہیں بنایا گیا۔بات صرف پاکستان کے ہیروز کو انکا اصل مقام دینے تک ہے ۔ بوجوہ قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ہی ان کی بیماری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہر اصول کو اپنے اقتدار کی خاطر قربان کر دیا۔ قیام پاکستان کا اصل مقصد محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے پس و پیش میں ڈال دیا۔ تب لوہا گرم تھا قوم نے بے شمار قربانیاں دے کر ایک مملکت حاصل کی تھی تبھی آئین بن جاتا اور دیانتدارانہ جمہوری سفر کا آغاز کر دیا جاتا تو آج پاکستان کے ان حالات کے بجائے پاکستان دنیا کی قابل احترام قوموں اور باوقار ملکوں کی صف میں کھڑا ہوتا مگر یو ہو نہ سکا اور کچھ اور مفاد پرستوں نے اے اپنے وقتی لالچوں کے تحت ملک و قوم کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا اور آج ہم ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
    تبھی لیاقت علی خان اور انکے ناگہانی قتل پہ انکے نوازے لوگ اور ایک اقتدار اور حکومتی مشینری پہ قابض ایک خاص طبقہ لیاقت علی خان کی لغرشیں منظر پہ لانے کے بجائے ان کے قتل پہ شہادت کا پر تقدس ھالہ کینچھنے میں مصروف ہو گیا۔ اور قائد ملت کا رٹا اسکول کے نصابوں میں جاری کروادیا کیونکہ ایسا کرنے سے اس “ٹولے” کے اپنے گناہ شہادت کے تقدس کے پیچھے اوجھل ہوجاتے تھے۔ کہ نہ لیاقت علی کے کردار پہ انگلی اٹھے گی نہ ہی مظلوموں کے ہاتھ ان کے ًمصاحبیں اور نوازے گئے لوگوں کے گریبانوں تک پہنچیں گے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسریا والی بات ھوئی۔ اور یہ رسم، یہ ستم، اور یہ ذلت جاریہ جسے لیاقت علی خان کے قتل کو شہادت اور خطابات سے نوازنے سے شروع کیا گیا آج تک وطن ّعزیز میں جاری ہےاور ہر آنے والا دن ہمیں پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گراتا چلا جارہا ہے ۔

    آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارئے ازلی دشمن بھارت کے بغیر ثبوت کسی ثبوت کے واویلے اور پرو پنگنڈے پہ سلامتی کونسل کی پابندیوں پہ مجبور محض بن کر اپنے ہی شہریوں کو جنہوں نے پاکستان میں اربوں روپے کی فلاحی منصوبے آختتام کیے اور کچھ ھنوز جارے کر رکھے ہیں ان شہیروں کو نظر بند اور ان کے فلاحی منصوبوں پہ تالے لگا رہے ہیں ۔ اور ہم میں تو اتنی جرائت باقی نہیں رہ گئی کہ بلند آواز میں کسی عالمی فورم پہ یہ کہہ سکیں۔ لوگو ہم ان منصوبوں اور فلاحی اداروں کو تالے لگانے کی بجائے ان پہ اپنی انتظامیہ ہی بٹھا دیں یا کو امپارشل لوگ بٹھا دیتے ہیں اور کچھ نہیں تو ان سے یومیہ کی بنیاد پہ لاکھوں غریب اور نادار لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کی گزر بسر ہو سکے۔ اگر امریکہ یا مغرب میں کوئی بینک اپنی ہیرا پھیریوں سے یا یا کسی وجہ سے دیوالیہ ہو جائے تو وہاں تو اس بنک کے اکاؤنٹس ہولڈرز کو بھی وہ حکومتیں یوں بے یارو مددگار نہیں چھوڑتیں حالانکہ وہ ایک کاروباری ادارے کے ساتھ صارفین کا معاملہ ہوتا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے جماعت الدعوہ کے متاثرین کو یک لخت بے یارو مددگار کر دیا ہے۔ جبکہ صدر صاحب اور صاحبزادے اپنی والدہ محترمہ کے لیے قبل از مرگ انسانی حقوق کے ایوارڈ پہ نازاں ہیں تو ان لاکھوں فرزندان پاکستان کے انسانی حقوق کیا ہوئے؟ صدر موصوف اپنے آفس میں قائد اعظم رحمۃ اللیہ علیہ کی تصویر کے متوازی اپنی اہلیہ کی تصویر سجا کر رکھتے ہیں اور ان کے قتل کی دہشت گردی کی دہائی ہر فورم پہ دیتے ہیں اور جو ہزاروں پاکستانی اس نام نہاد دہشت گردی کی نذر ہوئے اور جو ہر روز مارے جارہے ہیں شہید ہو رہے ہیں انکے لواحقین اپنے پیاروں کی تصاویر کہاں سجائیں وہ ان کی دہائی کس فورم پہ دیں ؟؟
    ہم اس دہورے میعار کے سخت خلاف ہیں اور اس دہرے میعار یا منافقت کا آغاز پاکستان میں لیاقت علی خان سے شروع ہوا اس لیے تمام حقائق بیان کرنے کی ادنٰی سی کوشش کی ہے۔ آپ سے بھی گذارش ہے کہ آپ بھی جستجو کریں۔ یہ اس لئیے ضروری ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہماری سیاسی لغرشوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھ سکیں۔

    خیر اندیش
    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)