قانونِ قدرت
1,602 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Nov 14 2008
سیب یا ناشپاتی میں آٹھ دس تخم یا بِیج ہوتے ہیں اور ایک درخت پر سو سے پانچ سو تک سیب یا ناشپاتیاں لگتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اتنے زیادہ بیج کیوں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں بہت کم کی ضرورت ہوتی ہے ؟
دراصل اللہ سُبحَانُہُ و تَعَالَی ہمیں بتاتا ہے کہ سب بیج ایک سے نہیں ہوتے ۔ کچھ اُگتے ہی نہیں ۔ کچھ پودے اُگنے کے بعد سوکھ جاتے ہیں اور کچھ صحیح اُگتے ہیں اور پھل دیتے ہیں ۔ اِس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ
ایک ملازمت حاصل کرنے کے لئے درجنوں انٹرویو دینا پڑتے ہیں
ایک اچھا آدمی بھرتی کرنے کے لئے درجنوں اُمیدواروں کو انٹرویو کرنا پڑتا ہے
ایک گھر یا کار بیچنے کے لئے درجنوں لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے
ایک اچھا دوست بنانے کے لئے بہتوں سے دوستی کرنا پڑتی ہے

Nov 14 2008 بوقت 10:43 AM
بہت عمدہ لکھا ہے آپ نے
Nov 14 2008 بوقت 3:12 PM
ڈفر (ڈی آئی ایف ایف ای آر) صاحب
شکریہ
ہو سکے تو میرے لئے دعا کیجئے
Nov 14 2008 بوقت 4:22 PM
محترم بھوپال صاحب
ما شاءاللہ کیا اچھی بات کی ہے۔اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر بیج زمیں میں اگنے کے لیے نہیں ہوتا۔کچھ اگتے ہیں۔ کچھ پرندوں کی خوراک بنتے ہیں۔کچھ انسانوں کی خوراک بنتے ہیں۔کچھ انسانی تجسس کی تسکین کے لیے تجربہ گاہوں کی زینت بنتے ہیں۔ اور کچھ زمیں کے اندر دب کر چٹانوں وغیرہ کے اوپر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں تاکہ آنے والے زمانے میں جب اس درخت کی نسل ختم ہو جاے گی تو اس وقت اپنے خالق کی پہچان میں انسان کی مدد کرے۔ شاید وہ فلاح پاے۔ “مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو”
Nov 14 2008 بوقت 4:32 PM
ارشاد نبوی ہے:
الناس کالابل المائۃ لا تجد فیھا راحلۃ**
ترجمہ:
لوگ تو اونٹوں کے گلے کے مانند ہیں ، ان میں سواری کا اونٹ تجھے نہیں ملے گا (اتنی بڑی تعداد میں کام کا آدمی کم ہی نکلے گا! )
**-فصاحتِ نبوی از ڈاکٹر ظہور احمد اظہر میں کتاب “البیان” کے حوالے سے ذکر کیا گیا۔
Nov 14 2008 بوقت 6:42 PM
اورانکل ایک اچھے بلاگ تک پہنچنے کے لیے ان گنت بلاگز پڑھنے پڑتے ہیں- :-)
اتنا اچھا اور پر مغز تجزیہ share کرنے کا شکریہ-
Nov 15 2008 بوقت 11:05 AM
محمد ریاض شاہد اور الف نظامی صاحبان اور نینی صاحبہ
مزید حوالاجات کا شکریہ
Nov 16 2008 بوقت 1:25 PM
چلیں آپ آئی کے ساتھ ہی ڈفر لکھ دیا کریں میں یو کے ساتھ پڑھ لیا کروں گا
دونوں خوش رہیں گے :grin:
Nov 17 2008 بوقت 4:10 AM
بالکل درست فرمایا ہے آپ نے۔ ہر کام کے لیے بہت جتن کرنے پڑتے ہیں۔ :sad:
Nov 17 2008 بوقت 5:59 AM
نھ ھر کھ سر بتراشد قلندری داند
یا یون کھ لین
ھر صدف مین گہر نہین ہوتا
مگر آپ کے بلاگ کے مضمون کے عین مطابق نہین-معافی چاہتا ھون
(آپ مانینگےکہ میری اردو لکھنے کی پریکٹس خوب جا رھی ھے(
مجھے کچھ گایڈ کیجیے گا مین اردو بلاگ لکھنا چاھتا ھون—ای میل پر کر دین مہربانی ہوگی
Nov 17 2008 بوقت 10:02 AM
ماوراء صاحبہ
اللہ سبحانہ و تعالی نے جو عقل عطا کی ہے اسے صحیح طور استمال کرنا انسان پر فرض ہے ۔ میں صرف اس فرض کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں
Nov 17 2008 بوقت 10:07 AM
بھائی وہاج الدین احمد صاحب
آپ نے ماشاء اللہ شروع کرتے ہی اچھی طرح اردو لکھنا شروع کر دیا ۔
اردو بلاگ کے سلسلہ میں آپ کو کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ آجکل میں اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس دبئی میں ہوں اور یہاں میرے پاس اردو لکھنے کا بندو بست نہیں ہے ۔ بڑی مشکل سے لکھ رہا ہوں ۔ میں انشاء اللہ ایک ہفتہ بعد پاکستان میں ہوں گا
Dec 08 2008 بوقت 3:22 AM
[...] صاحب اپنی پوسٹ قانونِ قدرت میں پوچھ رہے ہیں [...]
Jul 25 2009 بوقت 9:41 PM
[...] قانونِ قدرت سمجھ آ جائے تو ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں ہم [...]