اگر یہ درست ہے تو ۔ ۔ ۔
2,080 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Nov 09 2008
ایف آئی اے نے کروڑوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں منی ایکسچینج کمپنی کے مالک مناف کالیا . یوسف کالیا اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مناف کالیا اور ان کے ساتھیوں پر دس ارب ڈالر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے ۔ ذرائع کے مطابق دیگر گرفتار شدگان میں کمپنی کے پارٹنر انیس راجپوت . ڈائریکٹر جاوید خانانی اور سلیم یوایس شامل ہیں ۔ مناف کالیا سے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں تفتیش کی جارہی ہے ۔ تاہم انتظامیہ اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کررہی ہے ۔

Nov 09 2008 بوقت 12:28 PM
دس ارب ڈالر باہر لے جانے کا الزام ہے اس پر، تو کیا وہ اپنے ڈالر باہر لے کر گیا؟ ان ہی کا پیسا تھا جنہوں نے باہر بھیجا اور اب اس کو پکڑ لیا۔ امید تو نہیں کہ کچھ ہو گا بس خانہ پُری کے لئے پکڑ دھکڑ مچائی ہوئی ہے۔ چند دن میںہی معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا
Nov 09 2008 بوقت 1:08 PM
ڈفر صاحب
تازہ خبر یہ ہے کہ اس کاروبار میں نیشنل رجسٹریشن اتھارٹی کے لوگوں علاوہ کچھ بڑی ہستیاں بھی شامل ہیں
Nov 09 2008 بوقت 7:47 PM
جو سامنے آئی وہ حقیقت ہے!
یا جو نہیں بتائی گئی وہ!!!!
Nov 10 2008 بوقت 12:18 PM
اب تیرا کیا ہوگا کالیا :grin:
پلیز اپنی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا ایڈریس اپ ڈیٹ کر لیجیے۔
Nov 10 2008 بوقت 12:38 PM
شعیب صفدر صاحب
اصل بات تو وہی ہے جو ابھی سامنے نہیں آئی اور سامنے آنے کی امید بھی نہیں
Nov 10 2008 بوقت 1:41 PM
قدیر احمد صاحب
جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ آپ ربط کو مزید نہیں بدلیں گے تو نیا لکھ دوں گا
Nov 11 2008 بوقت 10:26 AM
ملک میں فارن ایکسچینج کے ذخائر نا ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور اربوں ڈالر ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ اس ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اصل حقائق کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آتے اور بڑی مچھلیاں صاف بچ کر نکل جاتی ہیں۔
Nov 11 2008 بوقت 12:00 PM
محمد وارث صاحب
خوش آمدید
بالکل درست کہا آپ نے ۔ یہی وجہ ہے وطن عزیز کے ابتر حال کی کہ اصل کردار سامنے نہیں لائے جاتے ۔
یہ وہی ملک ہے جس کے پہلے وزیر اعظم کی وفات کے وقت اس کے بنک میں 213 روپے تھے
Nov 11 2008 بوقت 2:58 PM
محترم بھوپال صاحب
کرنسی اصل میں نام ہے حکومت کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کا۔ اگر یہ نہ ہو تو سرمایہ کیا کچھ بھی ملک میں باقی نہیں رہتا سب یا تو بھاگ جاتا ہے یا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے
Nov 11 2008 بوقت 3:43 PM
محمد ریاض شاہد صاحب
جو مسئلہ وطن عزیز کو درپیش ہے یہ صرف ان ممالک کو درپیش ہوتا ہے جن میں کرنسی نوٹ ملک کے اساسوں کی نسبت بہت زیادہ چھاپ دیئے جاتے ہیں
Nov 11 2008 بوقت 4:34 PM
[...] اگر یہ درست ہے تو ۔ ۔ ۔ [...]
Nov 12 2008 بوقت 2:52 AM
مین تو ملک سے باھر ھون اس لیے کچھ کھ نھین سکتا
لیکن یھ نام عجیب طریقے سے اسم با مسممی لگتا ھے
“کالیا”
شاید خاص طور پر چن کے رکھا گیا تھا
Nov 12 2008 بوقت 10:11 AM
بھائی وھا ج الد ین ا حمد صاحب
ہیرا پھیری تو ساری دنیا میں ہو رہی ہے لیکن ہمارا ملک اس کا متحمل ہونے کے قابل نہیں رہا ۔ پہلی بار میں 1966ء میں ملک سے باہر گیا تھا ۔ مجھے یاد ہے میں نے ڈریسنر بنک میں روپے روپے کے پاکستانی نوٹ دیئے اور بلا چوں و چرا مجھے ایک روپیہ 18 پیسے کے حساب سے جرمن مارک مل گئے تھے ۔
Nov 12 2008 بوقت 8:40 PM
ڈالر کی اسمگلنگ تو کب سے ہورہی ہے حکومت نے تب ایکشن لیا جب روپے کا بالکل ہی جنازہ نکل گیا۔ اس سے پہلے یہ لوگ کیا کررہے تھے؟
Nov 13 2008 بوقت 10:28 AM
نعمان صاحب
مجھے تو یہ “بکرے کی بلا طویلے کے سر” لگتا ہے” کیونکہ کسی نا کسی کو قربانی کا بکرا بنانا تھا سو بنا دیا ۔ کسی اچھے کام کی مجھے تو اس حکومت سے توقع نہیں ۔ میرے علم کے مطابق قومی سطع پر پی پی پی میں صرف ایک اچھا شخص ہے ۔ رضا ربانی ۔ کوئی اور ہے تو آپ بتا دیجئے ۔