اگر یہ درست ہے

ایف آئی اے نے کروڑوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں منی ایکسچینج کمپنی کے مالک مناف کالیا . یوسف کالیا اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مناف کالیا اور ان کے ساتھیوں پر دس ارب ڈالر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے ۔ ذرائع کے مطابق دیگر گرفتار شدگان میں کمپنی کے پارٹنر انیس راجپوت . ڈائریکٹر جاوید خانانی اور سلیم یوایس شامل ہیں ۔ مناف کالیا سے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں تفتیش کی جارہی ہے ۔ تاہم انتظامیہ اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کررہی ہے ۔ 

This entry was posted in خبر, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “اگر یہ درست ہے

  1. ڈفر

    دس ارب ڈالر باہر لے جانے کا الزام ہے اس پر، تو کیا وہ اپنے ڈالر باہر لے کر گیا؟ ان ہی کا پیسا تھا جنہوں نے باہر بھیجا اور اب اس کو پکڑ لیا۔ امید تو نہیں کہ کچھ ہو گا بس خانہ پُری کے لئے پکڑ دھکڑ مچائی ہوئی ہے۔ چند دن میں‌ہی معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا

  2. محمد وارث

    ملک میں فارن ایکسچینج کے ذخائر نا ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور اربوں ڈالر ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ اس ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اصل حقائق کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آتے اور بڑی مچھلیاں صاف بچ کر نکل جاتی ہیں۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد وارث صاحب
    خوش آمدید
    بالکل درست کہا آپ نے ۔ یہی وجہ ہے وطن عزیز کے ابتر حال کی کہ اصل کردار سامنے نہیں لائے جاتے ۔
    یہ وہی ملک ہے جس کے پہلے وزیر اعظم کی وفات کے وقت اس کے بنک میں 213 روپے تھے

  4. محمد ریاض شاہد

    محترم بھوپال صاحب
    کرنسی اصل میں نام ہے حکومت کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کا۔ اگر یہ نہ ہو تو سرمایہ کیا کچھ بھی ملک میں باقی نہیں رہتا سب یا تو بھاگ جاتا ہے یا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد ریاض شاہد صاحب
    جو مسئلہ وطن عزیز کو درپیش ہے یہ صرف ان ممالک کو درپیش ہوتا ہے جن میں کرنسی نوٹ ملک کے اساسوں کی نسبت بہت زیادہ چھاپ دیئے جاتے ہیں

  6. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » جتھے آوے دا آوا ای وگڑیا ہوے

  7. وھا ج الد ین ا حمد

    مین تو ملک سے باھر ھون اس لیے کچھ کھ نھین سکتا
    لیکن یھ نام عجیب طریقے سے اسم با مسممی لگتا ھے
    “کالیا”
    شاید خاص طور پر چن کے رکھا گیا تھا

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھا ج الد ین ا حمد صاحب
    ہیرا پھیری تو ساری دنیا میں ہو رہی ہے لیکن ہمارا ملک اس کا متحمل ہونے کے قابل نہیں رہا ۔ پہلی بار میں 1966ء میں ملک سے باہر گیا تھا ۔ مجھے یاد ہے میں نے ڈریسنر بنک میں روپے روپے کے پاکستانی نوٹ دیئے اور بلا چوں و چرا مجھے ایک روپیہ 18 پیسے کے حساب سے جرمن مارک مل گئے تھے ۔

  9. نعمان

    ڈالر کی اسمگلنگ تو کب سے ہورہی ہے حکومت نے تب ایکشن لیا جب روپے کا بالکل ہی جنازہ نکل گیا۔ اس سے پہلے یہ لوگ کیا کررہے تھے؟

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    مجھے تو یہ “بکرے کی بلا طویلے کے سر” لگتا ہے” کیونکہ کسی نا کسی کو قربانی کا بکرا بنانا تھا سو بنا دیا ۔ کسی اچھے کام کی مجھے تو اس حکومت سے توقع نہیں ۔ میرے علم کے مطابق قومی سطع پر پی پی پی میں صرف ایک اچھا شخص ہے ۔ رضا ربانی ۔ کوئی اور ہے تو آپ بتا دیجئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)