What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے October 19th, 2008

سُہانہ خواب

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Oct 2008

خواب تین قسم کے ہوتے ہیں

ایک جو آدمی سوتے میں دیکھتا ہے اور عام طور پر بھول جاتا ہے
دوسرا جو آدمی جاگتے میں دیکھتا ہے اور وہ کم کم ہی پورے ہوتے ہیں
تیسرا وہ واقعہ جو گذر جانے کے بعد ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایک سُہانا خواب دیکھا تھا اور ایسے خواب کو خیال کے پردہ سیمیں پر دُہراتے رہنے کو جی چاہتا ہے

میرے پچھلے دو ہفتے ۔ دو گھنٹوں کی طرح بہت مصروف اور شاداں گذر گئے ۔ آج میں اِن دو ہفتوں کے ہر ایک لمحے کو یاد کر رہا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کتنا حسِین کتنا سُہانہ خواب تھا ۔

میرا بڑا بیٹا زکریا ۔ بہو بیٹی اور میری پیاری پوتی امریکہ سے پونے تین سال بعد دو ہفتے کی چھٹی آئے تھے اور آج صبح صادق سے قبل واپس روانہ ہو گئے ۔ بیٹے اور بہو کی ہمارے پاس موجودگی بھی کچھ کم فرحان و شاداں نہ تھی لیکن میری پوتی جو ماشاء اللہ اب خوب بولنا سیکھ چُکی ہے کی پیاری پیاری باتوں اور معصوم کھیلوں نے ہمیں وقت کا پتہ ہی نہ چلنے دیا ۔ چوبیس گھنٹوں میں اٹھارا بیس گھنٹے جاگ کر بھی ہمیں تھکاوٹ محسوس نہ ہوئی ۔ اب اُن کے جانے کے بعد ایک ایک لمحہ گذارنا مُشکل ہو رہا ہے ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اُنہیں جہاں رکھے شاد و آباد رکھے اور ہماری ملاقات کراتا رہے ۔ آمین یا رب العالمین آمین

زمرہ : آپ بيتی, روز و شب | 7 تبصرے »