لگا ہے مصر کا بازار
1,732 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Oct 31 2008
لگا ہے مصر کا بازار دیکھو
نئی تہذیب کے یہ آثار دیکھو
سکنڈے نیوین ممالک کے متعلق تو عرصہ دراز سے سنتے آ رہے تھے لیکن کم از کم نام کے مسلمان ایک ملک کے متعلق جس نے سید قطب جیسے جید مسلمان پیدا کئے 3 روز قبل ایک خبر پڑھ کر جھٹکا کا سا لگا ۔
منگل 28 اکتوبر کے گلف نیوز میں صفحہ 18 پر خبر ہے کہ مصر میں ایک ایسے قحبہ خانہ کا انکشاف ہوا ہے کہ 44 باقاعدہ شادی شدہ جوڑے جس کے ارکان ہیں اور وہ جنسی تفریح کے طور پر ایک رات کیلئے ایک دوسرے سے اپنی بیویاں تبدیل کرتے ہیں ۔
پولیس نے ان کی باہمی منصوبہ بندی کی ای میلز پڑھنے کے بعد کھوج لگا کر اس قحبہ خانھ کے چلانے والے جوڑے کو گرفتار کر لیا تو انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر ان کا اتفاقیہ طور پر عراق میں اسی طرز پر قحبہ خانہ چلانے والے ایک یہودی کرد سے ہوا ۔ اس نے انہیں اس کے فوائد پر قائل کیا ۔
کمال تو یہ ہے کہ جب پولیس نے انہیں گرفتار کیا تو انسانی حقوق کے گروہ نے اس عمل کو ذاتی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا ۔
خیال رہے کھ مصر امریکی حکومت کے زیر اثر ہے اور وہاں کے قانون کے مطابق قحبہ خانہ چلانے کی سزا صرف 3 سال قید ہے

Oct 31 2008 بوقت 11:39 AM
مجھے تو مصر اور پاکستان کے حالات اور لوگ بڑے ملتے جلتے لگتے ہیں
آمریت کے مارے وہ بھی اور ہم بھی
وہاں بھی لوگ جھوٹے یہاں بھی دس نمبری
کھلا ماحول وہاں بھی اور اب یہاں بھی
سڑکیں گاڑیاں وہاں کی دیکھو تو اپنے ہی وطن میں ہونے کا گمان ہوتا ہے
اور یہ پڑھ کر پتا چلا کہ بے حیائی کے محافظ وہاں انسانی حقوق والے تو یہاں بھی
جہاں جہاں امریکی مفاد رہا ان تمام جگہوں کے حالات ایک ہی جیسے ہیں
اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں 44 جوڑے رجسٹر تھے تو یہاں 144 کا کوئی گروپ ہو
Nov 02 2008 بوقت 9:23 AM
Nov 02 2008 بوقت 11:31 AM
ق صاحب
تشریف آوری کا شکریہ ۔ لیکن آپ نے اظہار خیال نہیں کیا
Nov 03 2008 بوقت 1:50 PM
معذرت چاہتا ہوں انکل ، مگر میرا خیال ہے میں آپ کے بلاگ پر اس قسم کی تحریر کی امید نہیں رکھ سکتا۔ دنیا میں بیشمار برائیاں ہیں ، لیکن یہ کوئی ضروری امر نہیں کہ ان کی “چرچا” بھی کیا جائے۔ ہماری نیت کتنی بھی نیک سہی بہرحال قرآن تو یہی فرماتا ہے کہ :
لاَّ يُحِبُّ اللّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلاَّ مَن ظُلِمَ (النساء :148)۔
برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کو اجازت ہے۔
ممکن ہے بعض احباب اس حدیث کا حوالہ دیں جس میں برائی کو مٹانے کی بات کرتے ہوئے ایمان کے درجے گنائے گئے ہیں۔ لیکن اُس حدیث میں برائی کو اپنی استطاعت کے مطابق مٹانے کی بات کی گئی ہے ، برائی کا چرچا کرنے یا برائی کی وضاحت کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
ہماری نئی نسل اسی لیے تو وقت سے پہلے بالغ ہوئی جا رہی ہے کہ وہ برائیوں کی “تفصیل” سے قبل از وقت آگاہ ہوئی جا رہی ہے۔ معاشرے میں ہماری بہنیں اس لیے بولڈ ہوئی جا رہی ہیں کہ وہ اپنی آنکھوں / کانوں سے وہ سب کچھ پڑھ / دیکھ / سن رہی ہیں جو غالباً آج سے 50 سال قبل ممکن نہیں تھا۔
ہمارے بچپن میں والد محترم گھر میں فلمی رسالے آنے نہیں دیتے تھے۔ کیوں؟ حالانکہ اُس وقت کے اور آج کے فلمی رسالوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
یہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود سوچیں کہ اُس زمانے کے بزرگ کیوں اس قدر سختی برتتے تھے اور اس کے کیا مثبت نتائج نکلے ہیں ؟؟
Nov 03 2008 بوقت 2:10 PM
باذوق صاحب
آپ نے جو آیت نقل کی ہے اس سے کوئی مسلمان انحراف کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ آیت ذہن میں ہونے کے باوجود میں نے اس خبر کے متعلق لکھا جس کی وجہ نئی تہذیب جس کی ترویج انسانی حقوق کے نام سے کی جا رہی ہے کے برے اثرات کی طرف قاری کی توجہ دلانا ہے ۔
Nov 11 2008 بوقت 10:29 AM
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
Nov 11 2008 بوقت 12:03 PM
محمد وارث صاحب
ایسے موقع پر انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہنا چاہیئے