کیسے کیسے لوگ

9,411 بار دیکھا گیا

میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ایک جناب حمائت علی شاعر سے معذرت کے ساتھ

کیسے کیسے لوگ یہاں پہ ہمیں بیوقوف بنانے آ جاتے
اپنے اپنے ٹوٹکے ہمارے ذہن میں بٹھانے آ جاتے ہیں

میرا سب سے چھوٹا بھائی جو راولپنڈی میڈیکل کالج میں پروفیسر اور راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں کنسلٹینٹ سرجن اور سرجیکل یونٹ کا سربراہ ہے خاندان میں بہت عقلمند سمجھا جاتا ہے ۔ بہرکیف وہ میرا بہت احترام کرتا ہے ۔ جون جولائی 2008ء میں میرے اس بھائی نے متعدد بار مجھ سے کہا “بھائیجان ۔ آپ وقت نکال کر ٹی وی ون پر براس ٹیکس ضرور دیکھیں ۔ حقائق جاننے کیلئے زبردست پروگرام ہے “۔ پروگرام رات گیارہ بجے شروع ہوتا تھا اسلئے میں سُستی کرتا رہا ۔ ایک روز میری بڑی بہن نے لاہور سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے یہی تقاضہ کیا تو میں نے اگست میں ایک پروگرام زید حامد کا براس ٹیکس دیکھ ہی لیا ۔ اور میرا شوق بُلبلے کی طرح پھٹ گیا ۔ زید حامد صاحب جس موضوع پر بات کر رہے تھے اس کے کئی حقائق میری سرکاری ملازمت کی وجہ سے میرے علم میں تھے اور وہ یاوا گوئی کر رہے تھے ۔ میرا خیال ہے کہ زید حامد صاحب کی معلومات کی بنیاد سستے اخبار اور سینہ گزٹ ہیں

۔جیسا کہ میں نے براس ٹیکس دیکھنے والوں سے سُنا ہے زید حامد صاحب کی کچھ باتیں حقائق پر مبنی ہوتی ہیں اس وجہ سے سامعین متاثر ہوتے ہیں لیکن متاثر ہونے کی اس سے بڑی وجہ زید حامد صاحب کا طرزِ بیان ہے جس کی وہ مہارت رکھتے ہیں ۔

زید حامد صاحب کے متعلق معلومات کیلئے یہاں کلک کیجئے اور فیصلہ خود کیجئے

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

73 thoughts on “کیسے کیسے لوگ

  1. احمد حمزہ

    ذہنی افلاس کے شکار زید حامد کا لال مسجد میں شہید طلبہ اور طالبات اور وحشیانہ قتل پر تبصرہ:
    سانحہ لال مسجد کے بعد براس ٹیک نے زید حامد کی انگریزی میں مرتب کردہ رپورٹ What Really Happened کے عنوان سے جاری کی۔ رپورٹ کے آغاز میں انہوں نے اپنی 8جولائی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : ”(لال مسجد کے معاملے میں) حکومت کی ناموری، ستائش اور تذلیل کے درمیان ایک پاگل مولوی (Psychopath Cleric) اور دہشت گردوں کا ایک گروپ کھڑا ہے جس نے لوگوں کو پاکستانی دارالحکومت کے قلب میں یرغمال بنایا ہوا ہے۔“ (رپورٹ اس طرح کے زہریلے الفاظ اور تجزیوں سے پُر ہے)۔ ٭اگلے صفحات میں موصوف فرماتے ہیں کہ: ”یہ گروپ (لال مسجد کے علماءاور طلباءو طالبات) منکرِ دین، بے وفا، فراری، اوباش (Renegade) جنگجوﺅں کا گروپ ہے جو ’تکفیری‘ کہلاتے ہیں۔ یہ ان مسلمانوں پر جنگ مسلط کردیتے ہیں جو ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہ نظریاتی طور پر حکومت دشمن، بدنظمی پسند، انتشاری اور شورش طلب (Anarchist) اور معروف جہادی گروپس کے درمیان بے خانماں اور خارجی (Outcastes)لوگ ہیں۔ ٭میرے خیال میں (سانحہ میں) ہلاک و زخمی ہونے والوں کی کل تعداد 200سے 250 ہوسکتی ہے بشمول 75جنگجوﺅں کے۔ اس تعداد کو حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ملا دباﺅ بڑھا رہے ہیں یہ منوانے کے لیے کہ اندر 1000لوگ تھے۔ یہ بے معنی اور فضول بات ہے۔ جیسا کہ ان کے مرحوم لیڈر کہتے رہے کہ اندر 1800لوگ ہیں، یہ Bluffتھا۔ ٭جی ہاں۔میڈیا کو جو ہتھیار دکھائے گئے، ان کا تعلق ان جنگجوﺅں سے تھا، اور ان عمارتوں میں اسلحے کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچرز، بارودی سرنگیں، ہینڈ گرنیڈز، گیس ماسک، مولوٹوو کوک ٹیلز اور خودکش حملے کی جیکٹس شامل تھیں۔ ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں حکومتی مو¿قف بالکل درست ہے۔ لال مسجد ایک عارضی اسلحہ خانہ (Weapons Dump) تھی اور بلاشبہ ایک طویل جنگ اور مسلح بغاوت (Armed Rebellion) کے لیے تیار مقام۔ ٭باوجود اس کے، کہ مولوی مُصر ہیں کہ مدرسے میں 1000سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، ہمارے پاس اس بات کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ محض بڑے پیمانے پر پھیلائی جانے والی ڈس انفارمیشن ہے۔ کوئی ایک، جی ہاں کوئی ایک بھی کسی ثبوت کے ساتھ آگے نہیں آیا جس میں مدرسے میں داخل طلباءو طالبات کے نام، رول نمبر اور پتے درج ہوں۔اور نہ ہی کوئی حاضری رجسٹر پیش کیا گیا جس سے پتا چل سکے کہ مدرسے میں داخل طلباءو طالبات کی اصل تعداد کیا تھی۔ ٭ہمارے(زید صاحب کے) اپنے ذرائع سے حاصل کردہ مفصل شہادتیں موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ آپریشن کے دوران صرف چند سویلین (خواتین اور بچوں) کی ہلاکتیں ہوئیں۔ شاید صرف چند درجن۔ اس تعداد کو حکومت نے بھی اب تسلیم کرلیا ہے۔
    مجھ میں حوصلہ نہیں کہ اس رپورٹ سے مزید اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرسکوں۔

  2. احمد حمزہ

    بسم الله الرحمن الرحيم

    قل اعوذ برب الناس (1) ملك الناس (2) اله الناس (3) من شر الوسواس الخناس (4) الذي يوسوس في صدور الناس (5) من الجنة والناس (6)

  3. رضوان

    اسلام و علیکم

    آپ لوگوں نے بلاوجہ اپنے بہتان کو سچ ثابت کرنے کیلئے اتنی محنت کی۔ :smile:

    آپ حضرات کی مندرجہ بالا تحریریں صرف وقت ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔ کیوں‌کہ اس میں صرف یوسف کذاب کا ذکر زیادہ ہے۔ اب یوسف نے کیا کہا اور کیا کیا؟ اس سے پر کیا مقدمہ چلا اور کس نے کیا کہا۔ یہ صرف لغویات ہی ہیں۔

    مان لیا کہ یوسف فتنہ تھا، مجھ اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اس کو کیا معلوم تھا اور کیا نہیں معلوم۔

    آب لوگوں کینہ پروری اور حسد کا یہ عالم ہے کہ شروع کی تحریر میں آپ زید زمان لکھتے رہے اور اب زید حامد لکھنا شروع کر دیا۔ جبکہ آڈیو کلپ میں نام “سید زید زمان” استعمال ہوا ہے۔ اور آپ لوگ زید حامد پر آگئے ہیں۔”سید زید زمان” کی تقریر کے اس ایک منٹ کے کلپ میں “زید زمان” کی آواز کو کہیں سے بھی زید حامد کی آواز سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔ آپ حضرات کو پتہ نہیں آواز کا واضح فرق کیوں معلوم نہیں ہو رہا۔ اب برائے مہربانی یہ مت کہیے گا کہ آڈیو پرانی تھی یا زید زمان کی جوانی کی آواز تھی۔ :smile:

    اب جہاں تک بات آتی ہے لال مسجد کہ حادثہ کی۔ یہ واقعی ایک افسوسناک حادثہ تھا۔ میں اور میرے اہل خانہ روئے تھے جب ہمیں معلوم ہوا کہ فوج نے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ بہت دعائیں بھی مانگی کہ مسجد کہ اندر موجود بچے اور بچیاں محفوظ رہیں۔

    ان مولوی برادران کو صرف زید حامد نے ہی تکفیری قرار نہیں دیا بلکہ تمام علماء فکر نے اس کو نا جائز قرار دیا۔ اس وجہ سے لال مسجد کے آپریشن سے قبل ہی وفاقی مدارس بورڈ نے انکی رجسٹریشن ہی قطع کر دی تھی۔ اس وجہ سے صرف زید حامد کو تنقیدِ ہدف بنانا سمجھ سے بالاتر معلوم ہوتا ہے۔ زید حا مد نے اپنی رپورٹ میں کہیں بھی طلباء اور طالبات کے لیئے کوئی بھی منفی ذکر نہیں کیا ہے۔ برائے مہربانی اسکی تصیح فرمالیں۔

    مسئلہ تعداد کا نہیں ہے کے کتنے بچے شہید ہوئے۔ اگر ایک بھی ہوا تو کیوں؟

    لیکن میں اس سارے واقعئہ میں کچھ باتیں واضحت طلب بھی ہیں کہ ان مولوی برادران کو کس نے اجازت دی کہ وہ بغیر ان بچوں اور بچیوں کے والدین کی رضا مندی سے ان طالبعلموں کو سرعام بازاروں میں لیکر گھومیں اور بذورِ طاقت ایمان کی تبلیغ کریں؟
    کیا ان حضرات کو احساس نہیں تھا کہ جن بچیوں کو ان کے والدین نے علم اور اچھی مذہبی تعلیم کی غرض سے گھر سے دور مدرسہ بھیجا- وہ امانت ہیں۔
    پھر کیا ملکی حالات اس قسم کی تبلیغ کے متاقضی تھے؟ جب ہمارے ملک کی سرحدوں کو یہودی و نصاریٰ کی جانب سے
    اتنے خطرات کا سامنا ہے۔
    اگر زور زبردستی ہی تبلیغ حل ہے تو پھر ہندو انتہا پسند تنظیموں اور مسلمانوں میں کیا فرق رہے جاتا ہے۔
    اور اگر یہ مولوی برادران اتنے ہی دلیر اور سچے تھے تو کیوں انھوں نے ان بچوں اور بچیوں ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ خود باہر نکل کر کیوں‌ نہ آئے؟
    کجا اس پر کہ اسلحہ کا انبار اور خودکش حملہ کا دھمکیاں!!! اسکا جواز؟ خودکش حملوں کے نشانے میں کیا معصوم لوگ ہلاک نہیں ہوتے؟

    اس حادثہ کی ذمہ دار صرف حکومتِ وقت پر عائد کرنا زیادتی ہے۔ اس میں اس سے زیادہ قصور مولوی برادران کا ہے جنکی حامقتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کا نام بدنام ہوا۔

    اس کی مثال اس طرح ہے کہ 2003 میں اسامہ بن لادن نے نے انٹرویو میں کہہ دیا تھا کہ اس کے پاس ایٹمک اسلحہ ہے۔ جو کہ ظاہر کے جھوٹ تھا۔ جس کے جواب میں پوری دنیا میں میڈیا نے ایک ہوا کھڑا کر دیا کہ یہ اسلحہ اس نے پاکستان سے حاصل کیا ہے۔ اس وقت حکومت ڈاکٹرعبدالقدیر خان اور اپنے اٹامک پروگرام کی دفاع کی تگ و دو میں مصروف تھی۔ اس پر پھر اسامہ کا انٹرویو۔ آج تک ہم اسی کا دفاع کرتے چلے آرہے ہیں کہ ہمارا نیوکلئیر پروگرام محفوظ ہے۔

    اب خدانخواستہ امریکہ سازش کر کے خود اپنے ملک میں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں اٹامک دھماکہ کرادے تو ہمیں صرف امریکہ ہی نہیں پوری دنیا سے لڑنا پڑے گا۔ اور ہمارا اور پاکستان کے رہنے والوں کا حشر اظہرمن الشمس ہے۔ کیوں کہ ہمیں نہ ہی ایران نے پناہ دینی ہے نا سعودی عرب نے۔

  4. رضوان

    سلام حمزہ صاحب

    آپ کا سورہ الناس تحریر کرنے کاشکریہ۔ کیوں کہ میں نے مندرجہ بالا تبصرہ آپ کے تحریرکردہ دعا پڑھ کر شروع کیا اور اب مجھے پختہ یقین ہے کہ میں ہر قسم کے شیطانی وسوسوں سے پاک ہو کر اپنا تبصرہ شامل کیا ہے۔

    میری آپ کو صلاح ہے کہ آپ بھی ایک دفع سورہ الناس کی تلاوت کر کے میرا تبصرہ ملاحظہ کریں۔ تا کہ آپ کے ذہن سے بھی سارے شیطانی وسوسے نکل جائیں۔ اور آپ سب لوگ ایمانداری سے بجائے ضد اور کدورت کے ایک فیصلہ کریں۔ حالات و واقعات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

    ہم سے پہلے والوں کی غلطیوں، ذاتی عناد، حسد و حرص سے اسلام، مسلمت امہ کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔ پچھلے 600 سال سے ہم زوال پزیر ہیں۔ اور اب بھی ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو کہیں ہم بھی بدترین امت کے القاب سے نہ نوازے جایئں۔

    آپ زید حامد سے متاثر نہ ہوں، نہ اس کی تقلید کریں۔ مگر جو سچ کہ رہا ہے کم از کم اس کی تائید تو کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو سیدھا راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  5. احمد حمزہ

    رضوان صاحب
    سلام

    اس میں کیا شک ہے۔ اگر زید کہے کہ پاکستان قائم رہنا چاہئیے اور اللہ ایک ہے تو کون ظالم شک کر سکتا ہے یا تردید کی کیا بات ہے۔مگر زید کی تقریر مین مردود یوسف کذاب کی تعریفوں کے بعد بھی سورہ والناس آپ کو ضد سے باز نہ رکھ سکے تو اپنی ہٹ دھرمی سے پہلو واقعات کی چھان بین کرنے کی عادت ڈالیں۔
    آپ ٹائپ کرنے کی سلاحیت رکھتے ہیں مگر اندھیروں میں ٹی طی کی چکا چوند پر ایمان لانے کا سلسلہ چھوڑ کر بغیر مرعوب ہوئے فیصلے کیا کریں۔ہمیں آپ سے کوئی دشمنی نہیں مگر اندھا دھند یوسف کذاب کے شاگردوں کی پسندیدگی پر ہم آپ کو مبارکباد دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
    آپ اس کے صحابی کے درجہ پر فائز رہنے کے باوجود
    اس کی باتون کو چھلنی لگا کر اچھی اچھی اور بری بری کو الگ کرتے رہیے۔اگر آپ کے پاس بہت اور فضول وقت ہے۔
    مگر ایسے لوگوں کو ہادی اور قوم کا معلم بنانے کی بہادری پر آفرین ہے۔۔۔
    مقتدروں۔۔۔ اور زور آوروں پر۔۔۔

  6. احمد حمزہ

    رضوان صاحب
    زید زمان ہی زید زمان حامد ہے۔معلومات پوری رکھا کریں۔ کسی معاملے مین کودنے سے پہلے تفصیلات معلوم کرنے مین کیا حرج ہے۔
    ہاں یہ آواز 1997 کی ہے۔
    اپ جو کہیں مگر زید جانتا ہے کہ یہ وہی ہے
    خدا بھی جانتا ہے۔
    ہم بھی تصدیق کر کے کہہ رہے ہیں
    مگر آپ بلا تصدیق یوسف زیندق اور زید زمان کے”صدیق” بننے کی سعادت کا شرف حاصل کرنے کے لئے سرگرداں ہین۔ بھائیعقل اور معلومات کیتصدیق سے کام لیں صرف بولتے رہنے سے اپنی نظروں میں بھی گر جائیں گے۔اکیلے میں اپنے آپ سے پوچھئیے گا، یہ مں کیا کر رہا ہوں؟

  7. رضوان

    سلام جناب اعلیٰ

    کم از کم آپ کے دیئے گئے ثبوت کو تو نہ عقل تسلیم کرتی ہے نہ ہی آپ حضرات کے پا س کوئی دلیل۔ سوائے بہتان طرازی کے۔ مجھے خوفِ خدا ہے اس وجہ صرف لمبی لمبی کہانیوں پر یقین نہیں کرتا۔ کہ بلا کسی دلیل اور ثبوت کے الزامات لگانے والوں پر ایمان لے آوں۔

    زید حامد نے اسلام کی تاریخ، اقبال کا فلسفہ، اسلام میں پاکستان کی اہمیت، اسلام کا مستقبل سب چیزوں کا نچوڑ بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔

    آپ جیسے حضرات کا کیا ہے- کبھی ڈاکٹر اسرار احمد کے خلاف تو کبھی ذاکر نائیک کے خلاف تو کبھی ڈاکٹر شیخ طاہر القادری، کبھی مولانا یوسف لدھیناوی (شھید) ، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب جیسے جیدِ علماء کے خلاف دعوٰی شروع کر دیتے ہیں۔

    آپ جیسے ہی حضرات کی مسلمت امئہ کے زوال کا سبب ہیں۔ نہ تو خود کوئی سبق سیکھتے ہیں نہ سکھا سکتے ہیں۔ اور کوئی مرد مومن سچ کہے تو اس کیخلاف افواہیں اور بہتان کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔

    صرف شکوک یا افواہوں کی بنیاد پر یقین کر لینا بیوقوفی ہے۔ اور یقیناً کوئی بھی شخص بیوقوف کہلانا تو پسند نہیں کرے گا۔ :smile:

    میرا تعلق ویسے تو حیدرآباد سے ہے مگر کراچی ۔ NED میں میرے کئی لیکچرار اور فارغ و التحصیل طلباء میرے واقف کار ہیں۔ ان سب نے زید حامد کے پروگرامز دیکھے اور کچھ اس کو پہچان بھی گئے ہیں۔ مگر ابھی تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کسی یوسف کے پیروکار رہے یا کسی ایسے فعل میں شامل رہے جو قابل اعتراض رہا ہو۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے۔
    97 اب اتنا دور بھی نہیں ہے۔ کہ ان کے جاننے والے نہ ہوں۔

    اور خود زید حامد صاحب اس سے انکاری ہیں۔اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ان کے خلاف سازش ہے۔ اور نہ ان لوگوں کو جانتے ہیں۔

    کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہے آپ کے پاس اگر تو ہے تو ایک کام کر سکتے ہیں۔ یہاں کے ایک ٹی-وی چینل کے پروڈیوسر سے میں کہہ کر ایک آن لائن پروگرام کا اہتمام کرواتا ہوں- زید حامد کو دعوت دیتا ہوں اور آپ حضرات کی طرف سے جو صاحبان آنا چاہیں ثبوتوں کے ہمراہ ۔ اگر زید حامد غلط ہے تو میری بھی تصیح ہو گی اور ان لوگوں کی بھی جو زید حامد سے متاثر ہیں۔ مہربانی ہوگی اگر آپ لوگ میری تجویز قبول کریں۔

  8. احمد حمزہ

    السلام علیکم
    رضوان شیخ صاحب
    زید صاحب این ای ڈی کے علاوہ جہاں رہتے تھے،جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے وہ بقائمیئ ہوش وہواس اس کو خوب پہچانتے ہیں کہ یہ وہی صاحب ہیں۔آپ اگرنہیں جانتے اور نہیں جاننا چاہتے اور بغیر جانے بحث میں کودناچاہتے ہیں تو اپنے سامنے اپنےآپ کو شرمندہ کریں گے۔اگر آپ صرٍف اتنا مان لیں کہ”جعلی” آوازمیں جو تقریر یوسف کذاب اور زید حامد کے نام سے سنائی گئی ہے ایسی باتیں کوئی دو گمراہ اور جاہل اشخاص ہی کر سکتے ہیں۔اور اگر یہ صحیح ثابت ہو جائیں تو میں ان گمراہوںکا پول کھولنے میں ساتھ دوں گا”۔تو۔۔
    باقی کام وقت خود کرے گا ورنہ آپجس طرح وکالت کر رہے ہیںاور وہ بھی جانے بغیر ،اس روش کا حامل شخص اپنے آپ کو تباہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
    جو اندھا اعتماد آپ دکھا رہے ہیں۔اتنا تو زید کو بھی نہیں۔اپنی آواز اور وابستگیاں اور ان کی گہرائیوں سے وہ خوب واقف ہے۔
    میرے بھائی
    زید جب تک این ای ڈی میں تھا یوسف علی کے ساتھ نہیں بلکہ جہاد والوں کے ساتھ رہتا تھا۔لہٰذاصرف این ای ڈی میں زید سے ملنے والےحضرات اس بات کی تصدیق اور تردید نہیں کر سکتے۔یوسف علی کے ساتھ زید کی وابستگی ۹۲أ۹۳ کے دوران ہوئی۔جب پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے نزدیک افغانسان میں جہاد ممنوع ہو گیا تھا۔
    بھائی پوری کہانی جانےکے بغیر آپ اپنی وکالت ضائع کر رہے ہیں۔
    ورنہ اسلام پاکستان اور اقبال کی حمایت اور اندازِ بیان کے زور کا کون انکاری ہے؟
    جو چیزیں غیر واضح تھیں ان کو یقین کی حد تک پکا کر کے ہی ہم نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے۔ورنہ ہمارے بھائی لوگ تو کمپیوٹر سے متاثر ہو کر اس پر بھی ایمان لا سکتے ہیں۔
    آپ اسکرین سے ذرا دور بیٹھا کریں اور شہید لدھیانوی ڈاکٹر اسرار صاحب اور دیگر مفکرین کے نامون کے علاوہ ان کے لوگوں کی یوسف کذاب کے خلاف جدو جہد سے بھی واقفیت حاصل کر لیں۔
    جب زیدزمان حامداور اس کے ساتھی رضوان طیب وغیرہ جنگ اخبار مین یوسف علی کی بے گناہی کا اشتہار چھپوا رہے تھے تو ًجلسَ ختم نبوت، ڈاکٹر اسرار صاحب کی تنظیم اسلامی کے لاہور کے ذمہ دار ریٹائرڈ میجر جنرل محمد حسین انصاری صاحب،سمیت تمام مکاتبِ فکر کے لوگ یہ آڈیو اور دیگر ریکارڈ سن اور دیکھ کر ان لوگوں کو گمراہ قرار دے چکے۔
    برادرعزیز! ہم اور ہمارے دوست، ذید زمان کو بہت پہلے سے نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ان کی یوسف علی کی نیابت اور گمراہی کے ہاتھوں خاندانون کو اجڑنے کا منظر دیکھ چکے۔
    مقدمہ میں پیش ہونے والے نہایت دیندار گواہان کے خاندان سمیت سب اس زید کو خوب پہچانتے ہیں۔آپ بھی اگر لاہور میں ہیں،تو داتا دربار کے گیٹ کے ساتھ مکتبوں کے بورڈ دیکھ کر “مکتبہ المعارف” میں تشریف لے جائیے اور کتاب “فتنہء یوسف کذاب ” کے مولف راشد قریشی صاحب اور ناشر صاحب ﴿حافظ نصر اقبال ﴾سے ملاقات کر لیں اور دریافت کر لیں کہ یہ ٹی والا زید وہی ہے یا کوئی اور۔یہ خاندان بھی زید اور اس کے مرشد یوسف کذاب کا کاٹا ہوا ہے۔یہ بھی اس محفل کے گواہ ہیں جہاں یہ “جعلی آواز” ریکارڈ کی گئی۔یوسف علی کذاب اور زید زمان حامد کے گروہ کی گمراہی کے عیاں ہونے پرپہلے انہوں نے یوسف علی کو سمجھانے اور ان عقائد سے بازآٓنے اور صاف ستھری ذندگی کی طرف لانے کی کوشش کی۔نہ ماننےپر انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ اس کو طشت از بام کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اللہ اس خاندان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
    مگر اس تصدیق میں وقت صرف ہو گا اور تھوڑی سی زحمت بھی۔آپ کی طرح کئی لوگ بغیر جانے ہمیں گالی گلوچ پر اترے ہوئے ہیں۔ مگر اب الحمدللہ کافی افاقہ ہے۔کیوں کہ وہ لوگ جو اس کو دعوتیں دے رہے تھے اب اس کو لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرنے میں لگ گئے ہیں۔اب دھوکے کے دن ذیادہ نہیں رہ گئے!
    صرف الفاظ کی جگالی اور ہر راستہ بتانے والے کو سی آئی اے ،موساد اور را کا ایجنٹ قرار دے کر آپ تصدیق کی زحمت سے بچ سکتے ہیں مگر اللہ کی گرفت سے نہیں،(اللہ آپ کو جاگنے کی ہمت دے)۔
    میرے بھائی اندھا ایمان صرف خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص رکھیں۔ باقی ہر جگہ آنکھیں کھول کر رکھیں۔اور اس کو قاعدہ بنا لیں۔پھر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔انشاءاللہ
    اللہ تعالٰی ہمیں آپ اور آ پ کی اولاد کو گمراہوں،گمراہ کنندگان اور ان کی ٹیکنیک سے محفوظ رکھے۔آمین
    وماعلینا الالبلاغ

  9. رضوان

    اسلام وعلیکم

    اوہو، پھر اتنی لمبا بھاشن !

    جنابِ اعلیٰ، میری یہی گذارش ہے کہ اگر ایک آدمی جھوٹا ہے تو اس کو گھر پہنچائیں۔ جو حضرات دعویدار ہیں زید حامد کو پہنچانے کے

    ان کے نام ، پتے اور فون نمبر ارسال کر دیں۔ میں ٹی وی چینل کے توسط سے دعوت بمعہ ائیر ٹکٹ کراچی تک کا ارسال کر دوں‌گا۔ رہائش کا انتظام بھی ہے، یہاں کے ایک معیاری ہوٹل میں۔ بس مجھے ایک ہفتہ درکار ہو گا۔ اس سارے انتظام کے لیئے۔

    اگر سید زید زمان حامد صاحب اس پروگرام میں آنے سے انکاری بھی ہوئے تو ہم انکو جھوٹا تسلیم کر لیں گے-

    ہمارے ایمان کیلئے اتنا پریشان نہ ہوں۔ کیوں کہ ہم بھی یہ دعا ” ایاک نعبد و ایاک نستعین” بلاناغہ ورد کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر راستہ بتانے والے ہیں۔

  10. محمد صادق

    میری راے یہ ہے کہ رضون صاھب آپ ان ساھبان کو سمجھانا چھوڑیں۔ فضول لوگ ہیں۔ فضول کام ہیں۔ اور فضول باتیں۔

    مجھے تو یہ لوگ انڈیا کے یا فتنہ گروہ مھسوس ہوتے ہین۔

    آپ اپنا کام کریں ان لوگوں کو یوں ہی بکواس لکھنے دیں۔ اس سے زیادہ یہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

  11. عبدالرحمن

    رٰضوان صاحب
    آپ پروگرام کا انتظام کریٰں، گواہوں کو لانے کی زمہ داری میری ہے

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    تمام مبصرین صاحبان
    اتنی زیادہ معلومات بہم پہنچانے کا شکریہ ۔ ضروری بات ہے کہ اس کیلئے آپ نے محنت کی ہوگی اور مطالعہ بھی ۔

    محمد صادق صاحب
    آپ کے تبصرہ کا شکریہ لیکن جو اثر مہذب زبان کا ہوتا ہے وہ بے ادبی کا نہیں ہوتا ۔ شاید آپ نے تبصرہ کے متعلق میری تنبیہ نہیں پڑی ۔ اب پڑھ لیجئے اور آئیندہ خیال رکھیئے ۔

  13. رضوان شیخ

    سلام صاحبان

    عبدالرحمان / عبدالرحمن صاحب۔ آپ کی طرف سے http://www.chowk.com پر دیا گیا آرٹیکل جو کہ کسی “جئے” صاحب نے تحریر کیا ہے۔ مجھے جئے صا حب پر بھی حیرت ہوئی اور آپ پر بھی۔ کیوں کہ جئے صاحب کے جتنے بھی آرٹیکل ہیں وہ پاکستان کیخلاف ہیں یا کریٹیکل ہیں۔ پھر زید حامد سے انکی دلچسپی سمجھ سے قطعی بالاتر ہے۔ chowk.com ویب سائٹ بھی کنیڈا سے رجسٹر ہوئ ہے۔ کنیڈین پتہ پر۔ اب اسکا مقصد تو انڈو پاک ڈسکشن کیلیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر نا ہے۔ مگر کیوں اور کس مقصد کیلئے۔ واللہ علم۔

    اور آپ پر حیرت اس لئے ہوئی کہ آپ ایک پاکستانی ہوتے ہوئے ایک ایسے آدمی (زید حامد) جو یہود کفار کے راز آشکار کر رہا ہے وہ بھی ان ہی کے مواد اور ان ہی کتابوں سے- آپ ان پر فوقیت دے رہے ہیں۔ زید حامد، عامر لیاقت یا غامدی کی طرح بیٹھ کر درس نہیں دے رہا، کوئی فتویٰ نہیں جاری کر رہا۔ کوئی شر یا فتنہ نہیں پھیلا رہا۔

    اور معاف کیجئے گا، برائے مہربانی یہ جسارت جیسے ڈی گریڈ کے رسالوں یا اخبارات کے حوالئے مت دیا کریں۔ آپ حضرات کے ذوق اور معیار کا اندازہو نے لگ جاتا ہے۔

    باقی رہے گیا پرگرام کا مسئلہ تو رحمان /حمزہ صاحب، وہ چند روز میں انتظام ہو جائے گا۔ پروڈیوسر شفیق الدین ہوں گے۔ ان سے تفصیلات جیسے ہی طے ہوں گی میں اسی بلاگ پر آپ کو مطلع کر دوں گا یا آپ مجھے اپنا ذاتی ای-میل عنایت کر دیں۔ اور مجھے ان صاحبان کی تفصیلات کی ضرورت ہو گی جو آپ کے ساتھ ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ 3 افراد۔

  14. عمر بخش

    رضوان شیخ صاحب
    آپ خفیہ میں نوکری کرتے ہین یا یہ سہولت مفت فراہم کرتے ہیں۔بھئی بات دلائل سے کریں ۔یہ کون سی لائن ہے؟اچھا دیبیٹ میں کیا کرنا چاہتے ہیں آپ؟ کیا اب تک زید صاحب نے کسے بات کو واضھ کیا ہے؟ کبی وہ حلفیہ طور پر یوسف سے تعلق سے انکار کرتے ہیں،کبھی صرف مجلسی تعلق کا اعتراف کرتے ہیں اور کبھی اس کذاب کی مکمل حمایت اور وکالت۔کورٹ میں زید صاحب یوسف کذاب کا استقبال کیسے کرتے تھے یہ بھی لطیفہ ہے۔کذاب کی آمد پر اس کے لئے چادرین تان کر سایہ کرنا اور اس کے آگے بچھتے جانا لوگوں کو یاد ہے اور زید کو بھی۔
    زید اب اس کو چھپانے کی جو بھی کوشش کرے گا وہ اس کو مزید جھوٹا ثابت کرتا جائے گا۔
    اب کرتب نہین ۔جوب چاہیے۔آڈیو کو جعلی قرار دینا زید کے لئے ممکن نہیں۔ اب زید صرف یوسف کذاب کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دے گا اور جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا جائے گا۔۔۔۔۔
    اس کے حامی اس کو مزید جھوٹ پر مجبور کرتے جائیں گے،کیوں کہ شہرت کو اس نے خدا بنا لیا ہے۔
    اب بھی اگر یوسف کذاب سے اعلان براءت اور اعلانیہ توبہ کرے تو عافیت اسی میں ہے۔
    آگے آپ کی مرضی۔

  15. ظفر اقبال

    Zaid Zaman Hamid works for Pakistan army. It is not bad to do a job in Pakistan army. The purpose of Pakistan army is to defend the nation. But when they try to convince the nation through their “special” teachers that “army rule, direct or indirect is the only way of life”, they become ugliest to us.
    Zaid tries to make the image of army, good in the eyes of people through Islamic oriented lectures, while others like MQM, ANP and PPP work on secular lines for the same agenda.
    People like Zaid Zaman Hmaid are the need for establishment as they have lost the blind support of religious mind in Pakistan, which is a dangerous sign for them
    Actually ISI was not aware about the affiliation of Zaid Zaman Hamid with Yousuf Kazzab. But now these facts have to be managed HOWEVER!!!

  16. رضوان شیخ

    السلام و علیکم

    عمر صاحب، پاکستان ہمارا وطن ہے اور اسلام ہمارا مذہب۔ ان کی خدمت ہمارا نصب العین۔ میرے خیال اس کیلئے کسی ظاہری یا خفیہ نوکری کی ضرورت نہیں :smile:

    پروگرام کا مقصد صرف سچ ثابت کرنا ہے۔ اب کون جھوٹ کہہ رہا اور کون سچ۔ مجھے یقین ہے کہ اس پروگرام سے ثابت ہو جائے گا۔ اور بہت سے لوگوں‌ کی اصلاح ممکن ہو گی۔

    اور ظفر صاحب، ماشاءاللہ سے جو نظام جسے ہم جہموریت سے یاد کرتے ہیں۔ اور ہمارے کافی عالم فاضل لوگ اس کو ہر مرض کی دوا قرار دیتے ہیں اور ہر مسئلہ کا حل۔ یہ یاد رہے کہ یہ دین فطرت کا نہیں یہ مغرب کا عطا کردہ نظام ہے۔
    جس کی نہ کوئی بنیاد ہے نہ کوئی تعبیر۔ اس کا مقصد صرف اور صرف امراء و روساء اور سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ۔
    اس میں طاقت کا محور آخر میں صرف ایک تنظیم کے سربراہ اور حوراریوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر طاقت کا توازن بگڑنے لگ جائے تو خرید و فروخت (ہارس ٹریڈنگ) سے معملات طے پائے جا تے ہیں۔ عوام تو بیچارے صرف تقریریں سن کر سر دھنتے رہتے ہیں۔ یا بحث و مباحث میں‌الجھے رہتے ہیں۔ (جیسے کہ ہم اور آپ) :smile:

    اب ایم کیو ایم، اے این پی، یا پی پی پی، کس کے اجینڈے پر کام کرتی ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے۔ ان تمام سیاسی پارٹیوں کا دین ایمان صرف صرف پیسہ، جائز یا نا جائز، اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب عوام یہ جوتے مار مار کر ان کو جہنم واصل کر ے گی۔ انشاء اللہ۔

    اس سلسلہ میں مزید آگے تحریر کروں‌گا۔

    رحمان صاحب آپ کے جواب کا انتظار ہے۔

  17. عمر بخش

    رضوان صاحب
    آپ کی خواہش۔۔۔” ایسے گروہوں” کو جوتے مارنے کی کب پوری ہوتی ہے ۔دیکھتے ہیں۔ ابھی تو وہ پالتو ہیں اور چہیتے بھی۔ اور عوام پر مصنوعی طور پر لادے گئے ہیں ۔دبئی ڈیل کے زریعہ۔آپ جانتے ہیں کن کن کے درمیان اور کس کی ضمانت کے ساتھ یہ ڈیل ہوئی۔ملکی سلامتی کے لئے انہیں ہمارے اوپر لادنا ضروری خیال کیا گیا ہے۔یہ الہام ہمارے فیصلہ سازوں اور قوت کے مراکز اداروں پر باقاعدہ ہوتا رہتا ہے ان کا خیال ہے انہیں یہ سمجھ بوجھ خدا کی طرف سے عطا کی جا چکی ہے لہٰذا قوم کا کام صرف اطاعت ہے۔اور ان کام کاشن دینا۔۔۔بس یہی بات ہماری ناقص عقل میں نہیں بیٹھ پا رہی رضوان صاحب۔ شاید کبی بھی نہ بیٹھ پائے گی۔لہٰذا طے کیا کہ اسی طرح زندگی گزاری جائے۔یہ مجبوری کا فیصلہ نہیں بلکہ طے شدہ ہے۔
    آپ جمہوریت کے نظام پر تنقید کرنا چاہتے ہیں۔یہ ایک علمی بات اور خوبصورت بحث ہے۔ اسے فوجی آمریت اور اس کے جبر کے دفاع کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ اکثر لوگ اپنہ بدمعاشی کا مقابلہ جمہوریت کے ساتھ کر کے اس پر بقدر ضرورت اسلامی مصالحہ ڈال کر نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ “میں اسلام کے نقطہء نظر سے خلیفہ کی طرز کے قریب قریب مقدس حکمران ہوں لہٰذا مجھے سلام کرو” ۔ایسے نتائج کی حامل بحث مقصد نہیں ہے بلکہ اس کی پیش بندی اور ایسی ہر آواز پر خبردار ہونا ضروری ہے۔ یہ آوازوں کو دبانے کے لئے اسلامی طرزِ حکومت کی بحث کافی کارگر ہوتی ہی۔اور اپنا مقصد پورا ہوتے ہی اسلام کو تیل لینے بھیج دیا جاتا ہے۔(موضوع تبدیل ہوتا جا رہا ہے!)
    اپنا خیال رکھیں اور اپنے بچوں کا بھی

  18. رضوان شیخ

    سلام صاحبان

    پہلے تو میں ظفر صاحب کے بیان کی مزید وضاحت کر دوں کہ ایک طرف تو شروع میں وہ زید صاحب کو پاک افواج کے ترجمان کی ذمہ داری دے رہے ہیں۔ بیچ میں “اسٹبلشمنٹ” کی ضرورت اور آئی ایس آئی سے تعلق اور آخر میں لکھتے ہیں کہ حقیقت میں آئی ایس آئی زید حامد کے یوسف سے تعلق کے بارے میں نہیں جانتی :smile:

    ظفر صاحب ہم سب کو اچھی طرح‌ اندازہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی خفیہ ادارہ کتنی چھانٹ پھٹک کے بعد اپنے کام کے آدمی رکھتا ہے۔ اگر بالفرض آئی ایس آئی، زید حامد کو اپنے مقصد کیلئے استعمال بھی کر رہی ہے تو یہ الزام تو آپ کی طرف سے ویسے بھی غلط ثاطت ہوتا ہے کہ زید حامد کا تعلق یوسف سے تھا۔

    اب زید حامد یا کوئی بھی پاکستان کے دفاع اور سالمیت کی بقاء کی بات کرے گا تو ان اداروں کا بھی تذکرہ ہو گا۔ جو دن رات چوکس رہتے ہیں۔ جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ اب وہ واپڈا اور بلدیاتی اداروں کی مثال تو دے نہیں سکتا :smile:

    اب رہی اسٹبلشمنٹ کی بات تو بھائی صاحب یہ بہت سارے ادارے، پاک فوج، دفاعی مبصرین، معاشی ماہرین، محب وطن اور ایماندار سیاستدانوں اور سائنسدانوں پر مشتمل نہایت عاقل اور سمجھدار، ایماندار، ذمہ دار لوگوں پر مشتمل ایک گروہ ہے۔ جن کا مقصد صرف اس سرزمیں کا دفاع ہے، کسی بھی صورت اور کسی بھی حال میں۔ میں صرف دفاع کی بات کر رہا ہوں۔ ترقی اور مساوات کے ذمہ دار عوامی ادارے اور عوام کے رہنما ہیں۔

    اب ہوتا یہ کہ عوامی رہنما عوام کے مسائل چھوڑ کر دولت جمع کرنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے چکر میں لگ جاتے ہیں۔ بلکہ عوام کو بھی نسلی، گروہی، فقہی، علاقائی بنیادوں پر لڑانا، ان میں اختلافات ڈالوا کر اپنی اپنی جماعتوں کو دوام بخشتے ہیں۔ اور یہ ڈرتے ہیں کہ یہ عوام صرف اللہ اور اس کے رسولٌ کے نام پر نہ یکجا نہ ہو جائے۔ اس کیلئے وہ تمام گھٹیا حربے استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ حلف اٹھاتے ہیں۔ جس میں سب سے شروع میں لکھا ہوتا ہے کہ “میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا۔ جس کا اللہ اور رسولٌ نے منع فرمایا ہے” مگر ان سب کا حال ہمارے سامنے ہے۔ بلکہ ملک اور عوام کی آبرو تک بیچ دیتے ہیں۔

    اور جب کوئی ان کے مفادات کے خلاف کوئی آجائے تو اس کو آمر کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ آمریت ہو یا جہموریت عوام پر اس کے کوئی خاص اثرات نہیں پہنچتے۔ کیوں کہ مسئلہ وہی کے یہ سودی اور دجالی نظام جو ہمیں ترکہ میں یہود و نصاریٰ دے گئے ہیں۔ جس کی بنیادیں ہی عدم مساوات اور رباہ پر رکھی گئی ہے۔

    ہمارے مسائل کا حل صرف ایک دیانتدار اور ایماندار حکمراں ہے جو چاہے جہموریت سے ہو یا آمریت سے ہو یا خلافت سے ہے۔

    اس کی چند مثالیں بھی اگلے بلگ میں درج کیئے دیتا ہوں۔

  19. عمر بخش

    رضوان صاحب
    ظفر صاحب کا یہ خیال کہ آئی ایس آئی زید کے ماضی کے کسی گوشے سے ناواقف ہو سکتی ہے مکمل طور پر غلط بھی ہو سکتا ہے۔مگر آپ کا یہ کہنا کہ آئی ایس آئی کسی انتخاب میں غلط نہیں ہو سکتی،محض اس لئے کہ وہ آئی ایس آئی ہے،سمجھ اور عقل سے بالا ہے۔آپ کے علاوہ جو بھی یہ آواز سنتا ہے زید کو پہچان لیتا ہے۔حتٰی کہ زید بھی انکار نہیں کر سکتا۔
    آپ کو کتاب کے مطالئے اور اس کے مندرجات جننے کی فرست نہیں۔وہ افراد جو یوسف کے ڈسے ہوئے ہیں ان سے تصدیق کی فرصت نہیں ،صرف زید کی اندھی حمایت کا جنون ہے۔یہ خطرناک مرض ہے۔نہ جان کر اندھا دھند حمایت پر آپ لاجواب حد تک “بہادری” کا ثبوت دے رہے ہیں۔یہ بہر حال استقامت کا چبوت ہے۔ کاش کچھ علم اور حقائق کی واقفیت اس میں شامل ہو جائے تو انشاءاللہ بہت نفع ہو گا۔
    کچھ ثبوت حشر میں بھی پیش ہوں گے

  20. رضوان شیخ

    سلام

    اور مجھے بلاوجہ اور بغیر کسی ثبوت کے زید صاحب سے مخالفت سمجھ سے قطعی بالاتر ہے۔ اور آپ اس کو علمیت اور عقل سے تعبیر کر رہے ہیں :smile:

    آپ حضرات کوئی ایسا ثبوت نہیں ماسوائے یوسف کذاب کو رونے کے :smile:
    کوئی بھی زید حامد کیخلاف پیش کرنے میں بلکل ناکام رہے ہیں۔ صرف اور صرف آپ حضرات کے بیانات سے بہتان، حسد اور کینہ پروری کا احساس ہوتا ہے- جتنی فکر آپ لوگوں‌ کو حشر کی ہے، اتنی ہی مجھے بھی ہے۔ اس وجہ سے آپ لوگوں کو بھی یہی احساس دلا رہا ہوں کہ اپنے دل سے بغض اور وسوسہ نکال کر صرف اپنے سامنے ایک عظیم مقصد رکھیں۔ اور آپ لوگوں کی بلاوجہ مخالفت اور اس طرح کے زید حامد کے خلاف لکھے گئے فضول بلاگز سے مجھے زید حامد کے سچا ہونے اور اور اسکی صداقت پر مزید یقین ہوا ہے۔ :smile:

    اس پر یقین مزید بڑھ گیا ہے۔ گو اس سے پہلے صرف میں اور میرا حلقئہ آحباب صرف اس کو ایک مقرر کی حیثیت سے سنا کرتے تھے۔

    زید حامد کا مقصد بھی عظیم ہے اور اسکا جذبہ بھی، اس کا خدا پر یقین بھی، اور آنحضرت محمدٌ سے محبت اور عقیدت بھی واضح پیغام ہے۔ اور آپ لوگوں کے پاس کیا ہے؟ سوائے بہتان تراشی اور بے سروپا الزامات کے!

    اب یوسف جو بھی تھا ختم ہو چکا۔ اورآپ حضرات اس کے ڈانڈے زید حامد سے ملانا چاہا رہے ہیں۔ سوائے جذباتی ابال کے آپ لوگوں‌ کی کوئی بھی تحریر کسی بھی ثبوت سے عاری ہے۔ اور آپ لوگ اسکو علمیت اور عقلمندی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ :smile:

    جو آڈیو دی گئی ہے، وہ میرا مشورہ ہے آپ حضرات بھی کسی بھی صوتی آواز کے ماہر سے زید حامد کی آواز اور اس مصنوعی آڈیو کی آواز تصدیق کروا لیں۔
    فرق واضح ہو جائے گا۔

    سستی شہرت، آئی ایس آئی، اسٹبلشمنٹ سے تعلق کے الزامات تو ویسے ہی انتہائی درجے کے احمقانہ اور فضول ہیں۔

    پوری دنیا کے میڈیا پر جتنے بھی فلاسفر، مبصرین آتے ہیں تو ان سب کا مقصد تو صرف سستی شہرت حاصل کرنا ہوا :smile:

    اور دنیا کی کسی بھی اینجنسی یا اسٹبلشمنٹ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنی منصوبوں اور آپریشنز کی صفائی کیلئے مبصرین کو دعوت دیتی پھرے، :!: دنیا کے ہر ملک کی ایجنسیز اپنے اپنے ملکوں کیلئے ہر اقدام کرتی ہیں۔ اسی طرز پر آئی ایس آئی بھی کرتی ہے۔ اس میں کیا بری بات ہوئی۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے ممالک کی عوام وطن دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمارے ہاں‌ماشاءاللہ سے آپ جیسے حضرات کی کمی نہیں۔

    بہرحال میں آپ لوگوں‌کا شکر گذار ہوں‌ کہ آپ کی ان فضول الزامات کی وجہ سے مجھے اور کئی لوگوں کو زید حامد کے بارے میں مزید جاننے کا موقعہ ملا اور اس کی صداقت پر یقین بھی۔ اور ہم سب کو یہ اندازہ بھی اچھی طرح ہورہا کہ سچ بولنے والوں کیلئے کس طرح مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔

    میری یہی دعا ہے کہ اللہ ہمیں اور امت مسلمہ کو میر جعفر، میر صاق، اور الہی بخش جیسے ننگِ ملت اور غداروں سے عافیت اور پناہ عطا فرمائے اور زید حامد جیسے مجاہدوں کو مزید علم و ترقی عطا فرمائے- آمین۔

    والسلام

  21. عمر بخش

    واہ
    رضوان صاحب
    کیا خوب کہا ہے!!!کہ::
    “جو آڈیو دی گئی ہے، وہ میرا مشورہ ہے آپ حضرات بھی کسی بھی صوتی آواز کے ماہر سے زید حامد کی آواز اور اس مصنوعی آڈیو کی آواز تصدیق کروا لیں۔”
    یہ آ پ کا فرمان زید کے لئے بھی ایک لطیفے سے کم نہیں۔
    کیا آپ نے زید سے اس آواز کے بارے میں دریافت کیا ہے؟
    نہیں نا؟
    اسے کہتے ہیں ایمان بالغیب
    وسوسے ریکارڈ نہیں کئے جاتے بھائی! یہ تقریر یوسف اور زید کی ہے۔ آپ کے نزدیک یہ پرانی بات ہو گئی ۔ہمارے خیال میں رہبری کے دعوے دار کا ریکادڈ ضروری ہے۔آ پ کے نزدیک اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ اعتقاد کی بات ہی۔اور اس سلسلے لیں عقل کا کام ختم ہے جاتا ہے۔

    اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔۔۔۔۔
    آپ کے ایمان بالغیب اور ایمان بالزید کوسلام۔۔۔
    وما علینا الالبلاغ

  22. محمد

    سب کو سلام!

    سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب سے زید زمان حامد کے بارے میں انٹر نیٹ اور “بعض اوقات” اخبارات میں میں نے جانا کہ لوگ اس کےبارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ یہ “کیا چیز” ہے تجسس ہے ہی کہ اس کا اصل چہرہ سامنے آئے۔ جسکا کا جواب چاروں طرف سے یہی ملتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس کوملعون یوسف کذاب اپنا “صحابی” بتا کر جہنم رسید ہوا۔ اور مجھے سمجھ نہین آتی کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اس صفحے پر “خود زیدزمان حامد” کو ہی جواب پر جواب دینے پر کمر کسے ہوئے ہیں جو “رضوان قریشی” کے نام سے اپنے مزموم فلسفے سے شیطانی چال چل رہا ہے۔ اس کو مختلف لوگوں نے “ٹو دا پوائنٹ” سوال جواب بھیجے جن کا جواب صرف “ہاں یا نہ” میں پوچھا۔ اور اس کم بخت نے آج تک کسی ایک کو بھی ان “ٹو دا پوائنٹ” سوالوں کا جواب ہاں یا نہ میں نہیں دیا ۔ بلکہ جواب میں اپنے نام سے یا کسی اور (اپنے چیلے) کی وساطت سے وہی ایک رٹا رٹایا جواب داغ دیا جو اس صفحے پر پیسٹ ہوا ہوا ہے۔ رہی بات بحث کی ٹیلی وژن پرتو جو اس نے چال چلی ہے کہ “مجھے پروگرام ارینج کرنے سے پہلے ان تین لوگوں کی جن کو اس پروگرام میں شریک ہونا ہے مکمل تفصیلات چاہئے ہونگی” ، تو کیا اس سے بڑی بھی کوئی شیطانی چال ہوسکتی ہے؟ اس کو بندوں کی تفصیلات سے غرض ہے یا ثبوت کے ساتھ ٹیلی وژن پر کچا چٹھا سامنے لانےسے (چاہے وہ لوگ کوئی بھی ہوں؟ اسکو اگر انتا ہی شوق ہے قوم کے سامنے بحث کرنے کا تو میں فی الحال تو ملک سے باہر ہوں، ایک سال کے اندر میں انشااللہ واپس آوں گا اور میں اکیلا اس کے اپنے ساتھ (اس کے کسی بھی چیلے کے ساتھ نہیں) اس کی حقیقت پر سے نقاب اتارنے کے لیے تیار ہوں۔ اور وہ کسی جاوید چوہدری جیسے غیر جانبدار اینکر پرسن کے ساتھ ایک شرط کے ساتھ کہ میں اس پروگرام میں وڈیو کانفرنس سے شرکت کروں گا اور پروگرام ختم ہونےتک میری “لوکیشن” صرف اینکر پرسن کو ہی معلوم ہو گی۔ تاکہ پردہ اٹھنے سے پہلے کوئی اپنے مکروہ عزایم کی تکمیل میں رکاوٹ جان کر مجھے ٹھکانے نہ لگا سکے کیونکہ میں ابھی6 بیٹیوں اور اپنے والدین کا کفیل ہوں۔ اور پروگرام آن ایر ہونے کےبعد اگر مجھے کچھ ہوا تو پوری قوم جانتی ہو گی کہ اس کے پیچے کون سے ہاتھ ہیں۔ ہاں اگر یہ ایسی صورت میں ٹیلی وژن پر قوم کے سامنے مان لے کہ ہاں اس سے زندگی کے کسی موڑ پر غلطی ہوئی اور اس نے توبہ کر لی ہے اور اپنا مکروہ دھندا چھوڑ دے تہ جی بسم اللہ۔ ایسی صورت میں “شکوک و شبہات” بھی دور ہو جائیں گے اور جو اس پر “لزام” لگتے ہیں وہ بھی بند ہو جائیں گے۔ اور سیدھے لوگوں کے لیے یہی بہتر ہوتا ہے۔

    لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ
    والسلام

  23. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد صاحب
    السلام عليکم و رحمة اللہ و برکاة
    آپ نے درست لکھا ہے ۔ ميں آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے ميری تحرير کو اہميت دي ۔
    ميرا مشورہ ہے کہ آپ اُسے بھول جائيے ۔ ايسے لوگ ہر دور ميں رہے ہيں اور اُن کا طريقہ کار بھی يہی ہوتا ہے کہ آپ بات کچھ کرتے ہيں اور وہ اپنی ہی کہے جاتے ہيں ۔
    ميرے روابط اُوپر رابطہ پر کلک کر کے مل سکتے ہيں ۔ آپ اگر چاہيں تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)