ثقافت اور کامیابی

ثقافت کا غوغا تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن ان کی اکثریت نہیں جانتی کہ ثقافت ہوتا کیا ہے اور نہ کسی کو معلوم ہے کہ ہماری قدیم تو بہت دُور کی بات ہے ایک صدی قبل کیا تھی ۔ ثقافت [culture] کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

1 ۔ خوائص یا خصوصیات جو کسی شخص میں اس فکر یا تاسف سے پیدا ہوتی ہے کہ بہترین سلوک ۔ علم و ادب ۔ ہُنر ۔ فَن ۔ محققانہ سعی کیا ہیں
2 ۔ وہ جو علم و ادب اور سلوک میں بہترین ہے
3 ۔ ایک قوم یا دور کے تمدن ۔ تہذیب یا شائستگی کی شکل
4 ۔ دماغ کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ترقی ۔ نشو و نما ۔ تکمیل یا اصلاح
5 ۔ کسی گروہ کا ساختہ رہن سہن کا طریقہ جو نسل در نسل چلا ہو
6 ۔ طور طریقہ اور عقائد جو کسی نظریاتی گروہ یا صحبت کی نمایاں صفت ہو

1. The quality in a person or society that arises from a concern for what is regarded as excellent in arts, letters, manners, scholarly pursuits, etc
2. That which is excellent in the arts, manners, etc.
3. A particular form or stage of civilization, as that of a certain nation or period:
4. Development or improvement of the mind by education or training
5. The behaviors and beliefs characteristic of a particular social, ethnic, or age group
6. The sum total of ways of living built up by a group of human beings and transmitted from one generation to another.

ثقافتی لحاظ سے ساری دنیا کا حال ابتر ہے ۔ جھوٹ ۔ فریب ۔ مکاری ۔ خودغرضی ثقافت بن چکی ہے ۔ خودغرضی میں کوئی جتنا زیادہ دوسرے کو ۔ یا جتنے زیادہ لوگوں کو بیوقوف بنا لے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین اور ہوشیار سمجھا جاتا ہے ۔ جدید ثقافت یہ ہے کہ جھوٹ بولتے جاؤ بولتے جاؤ ۔ اگر کوئی 10 فیصد کو بھی مان لے تو بھی پَو بارہ یعنی 100 فیصد فائدہ ہی فائدہ ۔

ہماری موجودہ ثقافت کیا ہے ؟ یہ ایک مُشکل سوال ہے ۔ متذکرہ بالا ثقافت کی 6 صفات میں سے پہلی 5 صفات تو ہمارے ہموطنوں کی اکثریت کے قریب سے بھی نہیں گذریں ۔ البتہ چھٹی تعریف پر ہماری قوم کو پَرکھا جا سکتا ہے یعنی ہمارے ہموطنوں کی اکثریت کے نمایاں طور طریقے اور عقائد کیا ہیں ؟

وہ وعدہ کر لینا جسے ایفاء کرنے کا ارادہ نہ ہو ۔ جھوٹ ۔ غیبت ۔ بہتان تراشی ۔ رشوت دینا یا لینا ۔ خودغرضی کو اپنا حق قرار دینا ۔ اللہ کی بجائے اللہ کی مخلوق یا بے جان [افسر ۔ وڈیرہ ۔ پیر۔ قبر ۔ تعویز دھاگہ] سے رجوع کرنا۔ وغیرہ ۔ ہموطنوں کی اکثریت کے یہ اطوار ہیں جن کو ثقافت کی چھٹی تعریف کے زمرے میں لکھا جا سکتا ہے ۔ اِن خوائص کے مالک لوگوں کی ظاہرہ طور پر ملازمت میں ترقی یا تجارت میں زیادہ مال کمانے کو دیکھ کر لوگ اِن خوائص کو اپناتے چلے گئے اور غیر ارادی طور پر ناقابلِ اعتبار قوم بن گئےہیں ۔

پچھلی چند دہائیوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ثقافت شاید ناچ گانے اور بے حیائی کا نام ہے ۔ اس میں پتگ بازی اور ہندوآنہ رسوم کو بھی ہموطنوں نے شامل کر لیا ہے ۔ شادیاں ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں ہوتی ہیں ۔ شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کا قابلِ اعتراض بلکہ فحش گانوں کی دھنوں پر ناچنا شادیوں کا جزوِ لاینفک بن چکا ہے جو کہ کھُلے عام ہوتا ہے ۔

جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جس کام پر سب سے زیادہ توجہ اور زور دیا اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی وہ یہی جدید ثقافت ہے اور حکومت بدلنے کے باوجود اس پر کام جاری ہے ۔

کچھ ایسے بھی ہموطن ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اُن کی ثقافت ناچ گانے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔ انتہاء یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی ساری عمر سیدھی راہ کی تبلیغ میں گذار گئے کبھی ناچ گانے کے قریب نہ گئے اُن کی قبروں پر باقاعدہ ناچ گانے کا اہتمام کیا جانا بھی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے ۔ اگر اُن نیک لوگوں کی روحیں یہ منظر دیکھ پائیں تو تڑپ تڑپ کر رہ جائیں ۔

اور بہت سے عوامل ہیں جو لکھتے ہوئے بھی مجھے شرم محسوس ہوتی ہے ۔ ان حالات میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بے حیائی ہماری ثقافت بن چکی ہے ۔ کل کا مؤرخ لکھے گا کہ مسلمان ہونے کے ناطے اپنا ملک حاصل کرنے والے چند ہی دہائیوں کے بعد ہوٹلوں ۔ گھروں اور بازاروں میں اپنے ہی دین کی دھجیاں اُڑاتے رہے اور اتنے کمزور ہو گئے کہ جو چاہتا اُن پر چڑھ دوڑتا ۔

بلا شُبہ ۔ ہموطنوں میں شریف لوگ بھی موجود ہیں جن کی اکثریت ایک جرمن پادری کے قول پر پورا اُترتی ہے جسے ہٹلر کے نازی فوجیوں نے جنگِ عظیم دوم کے دوران قید کر لیا تھا ۔ یہ پادری لکھتا ہے ۔ ۔ ۔

” نازی پہلے کمیونسٹوں کو پکڑنے آئے تو میں کچھ نہ بولا کیونکہ میں کمیونسٹ نہ تھا ۔ پھر وہ یہودیوں کو پکڑنے آئے تو میں کچھ نہ بولا کیونکہ میں یہودی نہ تھا ۔ پھر وہ عیسائی کیتھولکس کو گرفتار کرنے آئے تو بھی میں کچھ نہ بولا کیونکہ میں پروٹسٹنٹ تھا ۔ پھر وہ مجھے پکڑنے آئے ۔ مگر اس وقت تک کوئی بولنے والا ہی باقی نہ بچا تھا “۔

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “ثقافت اور کامیابی

  1. الف نظامی

    قومیں اپنی ثقافت کیسے قائم رکھتی ہیں؟
    ہماری ثقافت کیسے خطرے میں ہے؟
    ہم کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا چاہیے؟

    اس قول کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
    “جو بات جمہور کریں وہی ثقافت ، وہی ثقہ اور وہی مستند”

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    الف نظامی صاحب
    یہ رہے آپ کے چاروں سوالوں کے جواب
    قومیں اپنی ثقافت خود بناتی ہیں ۔ اچھی قومیں ثقافت کی مندرجہ بالا پہلی تعریف کو اپناتی ہیں جس کی مثالیں چین اور جاپان ہیں
    ہماری ثقافت خطرے میں نہیں بلکہ قریب المرگ ہے کیونکہ ہم عرصہ دراز سے اسے زہر کے ٹیکے لگاتے آ رہے ہیں
    ہماری قوم کی اکثریت مادی فوائد کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی منزل کا نشاں کھو چکی ہے
    اس کا جواب ثقافت کی مندرجہ بالا چھٹی تعریف ہے

  3. عتیق

    آج کے دور میں کسی سے پوچھا جائے کہ ہمارے ثقافت کیا ہے ۔ تو ہمیں اس کا جواب شاید کچھ بھی نہ ملے اور اگر ثقافت کی تعریف کی جائے تو آپ نے جو تعریف کی ہے وہ بلکہ ٹھیک ہے کہ
    ’’ ثقافتی لحاظ سے ساری دنیا کا حال ابتر ہے ۔ جھوٹ ۔ فریب ۔ مکاری ۔ خودغرضی ثقافت بن چکی ہے ۔ خودغرضی میں کوئی جتنا زیادہ دوسرے کو ۔ یا جتنے زیادہ لوگوں کو بیوقوف بنا لے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین اور ہوشیار سمجھا جاتا ہے ۔ جدید ثقافت یہ ہے کہ جھوٹ بولتے جاؤ بولتے جاؤ ۔ اگر کوئی 10 فیصد کو بھی مان لے تو بھی پَو بارہ یعنی 100 فیصد فائدہ ہی فائدہ ۔‘‘

  4. ًمحمد ریاض شاہد

    محترم بھوپال صاحب
    السلام و علیکم
    جس مسٰلے کو آپ نے چھیڑا ہے۔ اس پر جانب حنیف رامے نے اپنی کتاب دب اکبر اور ڈاکٹر سلیم اختر نے اپنے مضامین میں کام کیا ہے۔ مگرابھی تک چونکہ ہمارے ہاں ساںنسی طریقہ تحقیق اختیار نہیں کیا جاتا اس لیے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس برای کا تناسب معشرے میں کتنا ہے۔ ہاں مثلا کتنے فیصد آبادی کس رسم رواج عقیدے اور معاشرت کو صحیح سمجھتی ہے۔ میرے خیال میں علم بشریات کے طالب علموں کا یہ کام بنتا یے کہ وہ ان زندہ مساںل کی تحقیق کریں اور اسے ہم سب کے سامنے لاے تاکہ ہمارے معاشرے کی حقیقی تسویر سامنے آ سکے

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد ریاض شاہد صاحب
    سائنس تحقیقی عمل کا ہی نام ہے ۔ ہمارے ملک میں تحقیق کرنا جرم کے برابر ہے اور محقق کو ذلیل کیا جاتا ہے ۔ یہ میں صرف حکمرانوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ عوام کی اکثریت کا رویہ بیان کر رہا ہوں ۔ ہم اپنے سینے پر ہاتھ مار کر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اللہ سبحانہ و تعالی کا قرآن شریف میں بار بار حکم ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ؟ کسی عمل پر درست طریقہ سے غور کرنا ہی تحقیق ہوتا ہے ۔

  6. فرحت کیانی (دریچہ)

    السلام علیکم اجمل انکل!
    آپ نے درست کہا۔ہمارے نزدیک ثقافت ناچ گانوں تک ہی محدود رہ گئی ہے۔ اور ہم آہستہ آہستہ اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ بلکہ مجھے تو اکثر یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانیت کا مطلب بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ یومِ آزادی کے موقع پر بھی تحریکِ پاکستان یا آزادی کے بعد پاکستان کے حالات کے بارے میں بتانے کی بجائے اچھل کود اور ناچ گانے پر سارا زور لگا دیا جائے تو کس کو احساس ہو گا کہ پاکستان کا اصل مطلب کیا ہے۔

  7. احمد

    ہمارے ملک میں تحقیق کرنا جرم کے برابر ہے اور محقق کو ذلیل کیا جاتا ہے —- ہم اپنے سینے پر ہاتھ مار کر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اللہ سبحانہ و تعالی کا قرآن شریف میں بار بار حکم ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ؟۔۔۔

    آپ سے مندرجہ بالا بات کی وضاحت درکار ہے ورنہ کسی شبہ کی طرف دھیان جاتا ہے

    باقی مضمون بہت اچھا ہے۔ اسلام لانے کے بعد زندگی کی ہر بات اور رہن سہن کو اسلام کی حدود میں لانا ہوگا چاہے پہلے کسی کا کیا ہی طرز رہا ہو اور ضروری نہیں ہے جمہور حق پر ہوں بات کا ترازو کوئی اور ہے
    ناچ گانا آپ کے ملک میں یا خطے میں دو لوگ کرتے ہیں (95فیصد) ہندو یا شیعہ ۔آپ کے مکتبہ فکر کے لوگوں کا رجحان اور زہنی میلان دوسرے طبقہ سے ملتا ہے اب آپ کس طرح گانا بجانا ، فلم ، موسیقی، ڈرامہ بازی کو ثقافت سے باہر نکال سکتے ہیں؟`اب ایسا تو ہوگا ایسے کاموں میں

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    احمد صاحب
    میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ نے کیا وضاحت مانگی ہے ۔ فقرہ جو ملک کے متعلق ہے وہ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے اور قرآن شریف کے حوالہ کیلئے قرآن شریف کا مطالعہ کر لیجئے ۔ بات واضح ہو جائے گی ۔

    ناچ گانا ہندؤں نے اپنا دھرم بنا رکھا ہے لیکن شیعہ کے متعلق آپ کا خیال درست نہیں ہے ۔ شیعہ اور سنی دونوں میں سے کچہ لوگ اس خرافات میں شامل ہیں ۔

  9. احمد

    آپ نے کہا کہ تحقیق کرنے کو جرم کہتے ہیں مگر کون کہتا ہے؟ اور کون سی تحقیق پر کہتے ہیں؟ اگر تحقیق کے نام پر فتنہ کھڑا کرنا مقصود ہے جیسے کہ چند صاحبان کرتے رہتے ہیں تو اس کام کو کونسا اچھا نام دیں؟

    اور آپ کے مطالعہ کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے اگر آپ کہیں ناچ گانا ہندؤں نے اپنا دھرم بنا رکھا ہے لیکن شیعہ کے متعلق آپ کا خیال درست نہیں ہے تو آپ کے دینی بھائی کیوں اس فیلڈ بھی مکمل چھائے نظر آتے ہیں؟ ایران میں تو فلم جس طرح بھی بنتی وہ اسکو اسلامی کہتے ہیں خیر تفصیل تو بڑی ہے کہاں تک سنائیں

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    احمد صاحب
    صرف چند فلمی اداکاروں کی بنیاد پر گلوبل رائے بنا لینا درست نہیں ۔ میں اپنے ملک کی بات کر رہا ہوں جہاں کا میرے تجربہ اور مشاہدہ کا دورانیہ 61 سال ہے ۔ آپ بڑے وثوق سے بیان دیئے جا رہے ہیں ۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے تجربہ کا دورانیہ کتنا ہے ؟ ویسے آپ کی اطلاع کیلئے لکھ دوں کہ میں شیعہ نہیں ہوں

  11. Pingback: منظر نامہ » Blog Archive » اکتوبر 2008 کے بلاگ

  12. Pingback: اکتوبر 2008 کے بلاگ

  13. Pingback: اکتوبر 2008 کے بلاگ | منظرنامہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)